0
Thursday 30 Jun 2016 19:24

یوم القدس، امام خامنہ ای کی نظر میں

یوم القدس، امام خامنہ ای کی نظر میں
تحریر: مصطفی عباسی

ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہمیشہ جمعہ الوداع یوم القدس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تحریر حاضر میں مختلف مواقع پر یوم القدس سے متعلق امام خامنہ ای کے بیانات کو اکٹھا کیا گیا ہے تاکہ اس اہم اور الہی دن کی اہمیت زیادہ سے زیادہ واضح کی جا سکے۔

1۔ یوم القدس، باطل کے مقابل حق کی صف آرائی کی علامت:
گذشتہ سالوں کے دوران یوم القدس، جو باطل کے مقابلے میں حق کی صف آرائی کی علامت ہے، کو کمزور کرنے کی کس قدر کوشش کی گئی ہے۔ یوم القدس حق اور باطل میں ٹکراو اور ظلم کے مقابلے میں عدل کی صف آرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یوم القدس صرف یوم فلسطین ہی نہیں بلکہ یوم امت مسلمہ ہے۔ یوم القدس، صہیونیت جیسے مہلک سرطان کے خلاف مسلمانوں کی صدائے احتجاج کا دن ہے۔ ایسا سرطان جو ظالم قابض، مداخلہ گر اور عالمی استعماری طاقتوں نے امت مسلمہ میں پیدا کیا ہے۔ یوم القدس ایک عام دن نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی دن ہے۔ ایک عالمی پیغام کا حامل دن ہے۔ یہ دن ظاہر کرتا ہے کہ امت مسلمہ ہر گز ظلم کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی اگرچہ اس ظلم کو دنیا کی طاقتور ترین اور سب سے بڑی حکومتوں کی حمایت ہی حاصل کیوں نہ ہو۔ یوم القدس کو کمزور کرنے کی کس قدر کوشش کی گئی لیکن اتنے عظیم پیمانے پر عوام کی شرکت نے دنیا والوں پر ایرانی قوم کے ارادے کو ظاہر کر دیا اور ثابت کر دیا کہ کوئی سازش اور کسی قسم کے ہتھکنڈے ایرانی قوم کے ایمانی جذبے پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ (20 ستمبر 2009ء)۔

2۔ دنیا کے نقشے سے فلسطین کے محو ہونے میں اہم رکاوٹ:
یوم القدس صحیح معنی میں ایک بین الاقوامی اسلامی دن ہے۔ ایسا دن ہے جس روز ملت ایران دیگر اقوام کی مدد سے جن کی تعداد اب بہت زیادہ ہو چکی ہے، ایسے حق کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہیں جسے چھپانے کیلئے عالمی استعماری طاقتیں گذشتہ 60 برس سے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ البتہ غاصب اسرائیلی حکومت کو تشکیل پائے 60 برس بیت چکے ہیں جبکہ مظلوم فلسطینیوں کے خلاف استعماری سازشوں کو ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ یہ طاقتیں 60 برس سے دنیا کے نقشے سے فلسطین کو محو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور بہت حد تک کامیاب بھی ہو چکی تھیں لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ان کی تمام کوششوں کو خاک میں ملا دیا۔ اسلامی جمہوری نظام کے قیام کے بعد یوم القدس کے اعلان اور تہران میں اسرائیلی سفارتخانے کو ختم کر کے فلسطینی سفارتخانے کا افتتاح ایسے اقدامات تھے جن کے باعث عالمی استعماری طاقتوں کی سازشیں ناکام ہو گئیں۔ خدا کے فضل سے یہ اسرائیل مخالف اقدام روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ (24 اگست 2011ء)۔

3۔ مسئلہ فلسطین کو فراموشی کا شکار ہونے سے بچانے میں اہم کردار:
یوم القدس انتہائی اہم اور فیصلہ کن دنوں میں سے ایک ہے۔ کئی سالوں سے مسئلہ فلسطین کو فراموشی کا شکار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یوم القدس اس سازش کے دل میں ایک تیر ہے اور اس شیطنت آمیز اقدام کو ناکام بنانے کا ذریعہ ہے جس کے تحت عالمی استعمار، صہیونزم اور ان کی حامی قوتیں مسئلہ فلسطین کو مکمل طور پر بھلا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوم القدس ایران سے مخصوص بھی نہیں بلکہ دنیا کے اکثر مقامات پر مومن اور باایمان افراد یوم القدس مناتے ہیں۔ اکثر حکومتیں عوام کو مکمل آزادی نہیں دیتیں لیکن پھر بھی افراد جہاں تک ہو سکے یوم القدس کی مناسبت سے ریلیاں منعقد کرتے ہیں۔ (7 اپریل 1998)

یوم القدس امام خمینی رح کی عظیم یادگاروں میں سے ایک ہے اور بیت المقدس اور مسئلہ فلسطین سے ہماری ملت کے گہرے قلبی لگاو کو ظاہر کرتا ہے۔ یوم القدس کی برکت سے ہم ہر سال فلسطین کے نام کو پوری دنیا میں زندہ کرتے ہیں۔ بہت سی حکومتوں اور قوتوں کی کوشش تھی کہ مسئلہ فلسطین بھلا دیا جائے اور انہوں نے اس مقصد کیلئے بہت پیسہ بھی خرچ کیا۔ اگر ان منحوس کوششوں کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ اپنی پوری طاقت سے اٹھ کھڑا نہ ہوتا اور ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرتا تو بعید نہ تھا کہ وہ مسئلہ فلسطین کو عوام کے ذہن سے نکال دینے میں کامیاب ہو جاتے۔ آج استعماری طاقتیں اور غاصب صہیونی رژیم اس حقیقت کا اعتراف کرتی نظر آتی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ نے فلسطین کے پرچم کو بلند رکھا ہوا ہے اور مسئلہ فلسطین کو بھلا دینے کیلئے ہماری تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ یوم القدس فلسطین کے نام اور اس کی یاد کو زندہ رکھنے کا دن ہے۔ اس سال بھی انشاءاللہ ایران اور دیگر ممالک میں مسلمان بھرپور انداز میں یوم القدس منائیں گے۔ (11 ستمبر 2009ء)

4۔ مظلوم فلسطینی عوام کے حوصلے بڑھانا:
یوم القدس کو اہمیت دیں اور اسے عظیم جانیں۔ البتہ عالمی میڈیا اسے زیادہ کوریج نہیں دیتا، نہ دے۔ وہ افراد جو اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں انہوں نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ قدس ریلی میں آپ کے نعروں اور آپ کی شرکت سے ان کے حوصلے بڑھتے ہیں اور انہیں طاقت کا احساس ہوتا ہے۔ اس شخص کو جو اسرائیلی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہے تنہائی کا احساس نہیں کرنا چاہئے تاکہ وہ مزاحمت کر سکے۔ وہ مرد اور خاتون جو بیت المقدس کے گلی کوچوں، غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر شہروں میں صہیونی بدمعاشوں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں انہیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ آپ ان کے حامی ہیں تاکہ وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کر سکیں۔ (5 اپریل 1991ء)

ان دنوں عالم اسلام میں برپا ہونے والے مظاہرے انتہائی اہم اور موثر تھے۔ آج آپ جو کام کرنے جا رہے ہیں اور فلسطین اسکوائر سے فلسطینی سفارتخانے تک مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انتہائی اہم اور موثر ہے۔ یہ انتہائی گرانقدر اقدام ہے۔ اس کی خبر آخرکار فلسطینی عوام تک پہنچ جاتی ہے اور مظلوم فلسطینی عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اقوام عالم ان کی حامی اور پشت پناہ ہیں۔ عالمی اداروں اور تنظیموں کو بھی اس میدان میں سرگرم ہونا چاہئے۔ انسانی حقوق کے یہ ادارے اور تنظیمیں جو اکثر اوقات استعماری مقاصد کی تکمیل کیلئے کوشاں ہوتے ہیں، انہیں چاہئے کہ کم از کم ایک بار ہی سہی عالمی استعماری طاقتوں کی مرضی کے خلاف اقوام عالم کے حق میں اقدام کریں۔ خود کو عالمی رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بنائیں اور مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت کرتے ہوئے ظالم اور ستمگر قوتوں کی مذمت کریں۔ اگر ان کی طرف سے اسرائیل پر دباو ڈالا جائے تو مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے ایران کا پیش کردہ منصوبہ کامیاب ہو سکے گا اور غاصب اسرائیل اسے ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ اگر عرب حکومتیں، اسلامی حکومتیں، مسلمان اقوام اور عالمی ادارے سب مل کر مسئلہ فلسطین پر توجہ دیں تو ایسا ہونا ممکن ہے۔ جو بھی مسئلہ فلسطین کے بارے میں کوتاہی کرے گا وہ اقوام عالم، تاریخ اور سب سے بڑھ کر خدا کی نظر میں مجرم ہے اور اسے خدا کے حضور جواب دینا پڑے گا۔ ہم سب مسئول ہیں۔ (5 اپریل 2002ء)

مسئلہ فلسطین کی اہمیت کے پیش نظر اور اس بات کو مدنظر قرار دیتے ہوئے کہ اسرائیل کو فلسطینی عوام کے خلاف ظالمانہ اقدامات میں عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے اور اکثر عرب حکمرانوں نے اسرائیل کے ساتھ سازباز کا راستہ اختیار کر لیا ہے، ضروری ہے کہ مسلمانان عالم فلسطینیوں کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائیں۔ میں تمام مسلمانوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ انشاءاللہ یوم القدس کو ماضی سے زیادہ پرجوش انداز میں منائیں۔ یہ اقدام فلسطینیوں کی جدوجہد اور ان کی مشکلات حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ فلسطینیوں کی مشکلات اس صورت میں حل ہوں گی جب انہیں ان کے جائز حقوق ادا کئے جائیں گے اور جلاوطن فلسطینی اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے۔ (17 مارچ 1993ء)

یہ عظیم موومنٹ روز بروز عالم اسلام میں وسعت پیدا کرتی جا رہی ہے اور پھیلتی جا رہی ہے۔ اس سال عالم اسلام کی اکثر مسلمان اقوام نے یوم القدس کو اچھے طریقے سے منایا ہے۔ عالم اسلام کے مشرقی حصے یعنی انڈونیشیا سے لے کر مغربی حصے یعنی افریقہ اور نائیجیریا تک۔ مسلمان ممالک میں جہاں بھی عوام کو اجازت دی گئی ہے انہوں نے یوم القدس پر اپنے ارادے اور نیت کا اظہار کیا ہے اور بڑے پیمانے پر افراد نے ریلیوں اور مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ عوام نے ان مظاہروں میں شرکت کر کے مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کر دیا ہے۔ حتی وہ مسلمان جو یورپی ممالک میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہ وہاں اقلیت کے طور پر رہ رہے ہیں اور مغربی حکومتوں اور اداروں کی طرف سے دباو کا شکار ہیں، انہوں نے بھی یوم القدس پر ریلیوں کا انعقاد کیا ہے۔ یہ امر اس چیز کی واضح علامت ہے کہ غاصب صہیونی رژیم اور اس کے حامیوں کی مرضی کے خلاف مسئلہ فلسطین روز بروز اسلامی دنیا میں زندہ ہوتا جا رہا ہے۔ (1 اکتوبر 2008ء)

5۔ امت مسلمہ کی رگوں میں تازہ خون دوڑانے کا دن:
یوم القدس، یہ عظیم اقدام جس کی بنیاد امام خمینی رح نے رکھی اور الحمدللہ روز بروز بہتر انداز میں اور ہر سال زیادہ پرجوش انداز میں جاری ہے ایک انتہائی گہرا اور بامعنی اقدام ہے۔ یہ صرف ایک مظاہرہ یا ریلی نہیں بلکہ ایسا تازہ خون ہے جو امت مسلمہ کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ ان قوتوں کی مرضی کے خلاف جو مسئلہ فلسطین اور ملت فلسطین کو فراموشی کا شکار کرنا چاہتے ہیں، یہ مسئلہ روز بروز زندہ ہوتا جا رہا ہے اور ہوتا جائے گا۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے کندھوں پر انتہائی سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ امید ہے کہ خداوند متعال سب کو ہدایت دے اور انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (19 اگست 2012ء)

6۔ صحیح معنی میں یوم القدس کا انعقاد اسرائیل کی پسماندگی کا باعث بنے گا:
اگر انشاءاللہ پورے عالم اسلام میں یوم القدس صحیح طریقے سے منایا جانے لگے اور سب مسلمان مل کر غاصب صہیونی رژیم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں تو اسلام دشمن قوتیں شکست کھا کر پسماندگی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ اگر مسلمان حکومتیں اور عوام مسئلہ فلسطین اور یوم القدس سے متعلق اپنے فرائض درست طور پر انجام دیں تو مظلوم فلسطینی عوام اس حقیقت کو درک کر لیں گے کہ دنیا میں ایسے افراد بھی ہیں جو ان پر ہونے والے ظلم و ستم سے بیزار ہیں اور ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ یہ احساس ثابت ہونا چاہئے۔ اسرائیل پر دباو بڑھانا چاہئے۔ فلسطینی عوام کو چاہئے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھیں اور اس راہ میں جدوجہد کریں۔ (4 مارچ 1994)

7۔ ایسا دن جب مسلمان اقوام اپنے موقف کا اظہار کرتی ہیں:
یوم القدس مسلمان اقوام کی بڑی آزمائش کا دن ہے۔ یوم القدس ایسا دن ہے جب مسلمان اقوام اپنے حکمرانوں سے ہٹ کر براہ راست طور پر اپنے موقف کا اظہار کرتی ہیں۔ اس سال بھی یوم القدس انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ غزہ کی جنگ میں پسماندگی اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے بہت بڑی شکست ہے۔ دوسری طرف اس شکست کے بعد اس کے ازالے کیلئے امریکہ اور اسرائیل اپنے اتحادیوں سے مل کر کوششیں کر رہے ہیں اور سازشیں کر رہے ہیں۔ ان سازشوں کا مقصد بعض اسلامی ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنا ہیں۔ اسلامی ممالک کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ مسلمان حکمرانوں کو امریکہ کو راضی کرنے یا کسی اور بہانے سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے تعلقات برقرار نہیں کرنے چاہئیں۔ اسرائیل تمام خطے اور تمام حکومتوں اور اقوام کیلئے خطرہ ہے۔ اسرائیل سے تعلقات برقرار کرنا انتہائی ناپسندیدہ امر ہے جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ وہ ممالک جنہوں نے اسرائیل سے تعلقات قائم کئے ہیں اسے خفیہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (21 اکتوبر 2005ء)

خبر کا کوڈ : 549965
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے