0
Friday 2 Sep 2016 16:00

امریکہ گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کے مردہ بدن میں دوبارہ جان ڈالنے کیلئے کوشاں

امریکہ گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کے مردہ بدن میں دوبارہ جان ڈالنے کیلئے کوشاں
تحریر: سید محمد جعفر رضوی

اکیسویں صدی کا آغاز امریکہ اور مغرب کیلئے زیادہ اچھا نہیں تھا۔ 2000ء کا آغاز لبنان سے اسرائیل کے اخراج اور مسجد الاقصٰی میں انتفاضہ کے آغاز سے ہوا۔ اسی سال شام کے صدر حافظ اسد کا انتقال ہوگیا اور ان کی جگہ بشار الاسد نے لے لی، جنہوں نے ماضی سے بھی بڑھ کر اسلامی مزاحمت کی حمایت شروع کر دی اور اس طرح مغربی ممالک مایوسی کا شکار ہوگئے۔ 2002ء میں غاصب صیہونی رژیم غزہ سے بھی نکلنے پر مجبور ہوگئی۔ مغربی کنارے میں یاسر عرفات نے بھی اسرائیلی حکام کے مقابلے میں مزاحمت کا مظاہرہ کیا، جس کا نتیجہ 2004ء میں ان کے قتل کی صورت میں ظاہر ہوا اور اس طرح اسرائیلی حکام کیلئے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ یاسر عرفات کے قتل کے بعد اسرائیلی حکام کی واحد کامیابی ان کی جگہ ابومازن کو لانا تھا۔ لیکن 2005ء میں غزہ میں منعقد ہونے والے الیکشن میں حماس کی واضح کامیابی نے امریکی حکام کو شدید پریشان کر دیا۔ لہذا امریکہ نے مغربی کنارے میں جنرل ڈیٹن کی مدد سے ایک سکیورٹی ادارہ تشکیل دیا، جس کا کام مغربی اہداف کی تکمیل اور ان کے دستورات کو عملی شکل دینا تھا۔ 2006ء کی ابتدا میں ابومازن کی جانب سے مسلسل بدعہدی کے بعد حماس نے غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں حزب اللہ لبنان کی موجودگی اور اب اسرائیل کے اندر حماس کی موجودگی نے صیہونی رژیم کو سراسیمہ کر دیا۔ 2006ء میں ہونے والی 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ لبنان کی کامیابی نے مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کے چھکے چھڑا دیئے اور امریکہ مزید سنجیدگی سے خطے کی صورتحال میں مطلوبہ تبدیلیاں پیدا کرنے کیلئے منصوبے بنانے لگا۔

نئے امریکی منصوبے کا آغاز
سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس کی جانب سے اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان 33 روزہ جنگ کے بعد "جدید مشرق وسطٰی کی پیدائش کے درد زہ" کا اعلان درحقیقت خطے میں نئے مغربی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز تھا۔ اسلامی مزاحمتی بلاک جو ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد 1980ء میں مقبوضہ فلسطین اور لبنان میں اسلامی مزاحمتی تنظیموں کی تشکیل سے معرض وجود میں آچکا تھا، استحکام اور طاقت پکڑنے کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ لہذا امریکہ اور مغربی طاقتوں نے اسلامی مزاحمتی بلاک کو ختم کرنے کی غرض سے مغربی ایشیا میں موجود ممالک کی جغرافیائی سرحدوں میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا۔ مغربی بلاک اس وقت اپنے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کرنے لگا، جب 2009ء میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس نے 22 روزہ جنگ میں اسرائیل کو شکست فاش دے دی۔ حماس کے میزائلوں نے اگلی ممکنہ جنگوں میں امریکہ کیلئے اسلامی مزاحمتی بلاک سے درپیش خطرے کو واضح کر دیا۔ 2009ء کے آخر میں یمن میں سرگرم حوثی قبائل سے سعودی عرب کی شکست نے بھی خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں کو شدید مشکلات سے دچار کر ڈالا۔

پرانا سائیکس – پیکو منصوبہ
خطے سے متعلق امریکہ اور مغربی بلاک کا منصوبہ 1919ء میں برطانیہ اور فرانس میں انجام پانے والے سائیکس – پیکو معاہدے سے ملتا جلتا تھا، جس کے تحت سلطنت عثمانیہ کے زیر قبضہ علاقے 7 نئے ممالک یعنی ترکی، شام، عراق، اردن، سعودی عرب، لبنان اور فلسطین میں تقسیم کر دیئے گئے۔ سائیکس – پیکو معاہدے کے تحت مغربی طاقتوں کی جانب سے اس اقدام کا مقصد مغربی ایشیائی خطے کو چھوٹے چھوٹے اسلامی ممالک میں تبدیل کرکے امت مسلمہ کو مختلف اقلیتوں اور نسلوں کی بنیاد پر تقسیم کرنا تھا۔ اس تقسیم کا نتیجہ مفادات کے ٹکراو اور قدرتی وسائل کی تقسیم کی صورت میں ظاہر ہوا، جس کے باعث نسلی تعصبات نے جنم لیا اور اس طرح خطے میں موجود مسلمانوں کے درمیان مذہبی اور دینی اتحاد نابودی کا شکار ہوگیا۔

جدید سائیکس – پیکو منصوبہ
خطے سے متعلق جدید امریکی مغربی منصوبہ خطے کے ممالک کو مزید چھوٹے ممالک میں تقسیم کرنے پر مبنی ہے۔ اس نئے منصوبے کا اہم ترین حصہ کردستان نامی خود مختار ریاست کی تشکیل پر مشتمل ہے۔ یہ نئی کرد ریاست ایران، عراق، شام اور ترکی میں موجود کرد علاقوں کے اتحاد سے معرض وجود میں آئے گی۔ اسی طرح نیو مڈل ایسٹ نامی اس منصوبے کے تحت عراق کو دو حصوں شیعہ عراق اور سنی عراق میں تقسیم کرنے، شام کو دو ریاستوں علوی شام اور سنی شام میں تقسیم کرنے، سعودی عرب کو دو ریاستوں مدینہ اور مکہ میں تقسیم کرنے، موجودہ آذربائیجان کے ساتھ ایران کے صوبے آذربائیجان کو ملحق کرکے نئی ریاست کے قیام، ایران، افغانستان اور پاکستان میں موجود بلوچ علاقوں کو ملا کر ایک نئی بلوچ خود مختار ریاست کے قیام اور ایران میں خام تیل کے ذخائر سے مالامال علاقے خوزستان کو علیحدہ ریاست بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ "نیو مڈل ایسٹ" یا "گریٹر مڈل ایسٹ" نامی یہ مغربی منصوبہ اگرچہ 1919ء میں طے پانے والے پرانے سائیکس – پیکو معاہدے کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن مغربی طاقتوں، امریکہ اور اسرائیل جس مقصد میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے، وہ اس منصوبے کے ذریعے اسلامی مزاحمتی بلاک کا خاتمہ کرنا تھا۔ خاص طور پر اس وقت جب امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد عراق بھی عملی طور پر اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل ہوچکا ہے۔

اسلامی بیداری کی تحریک سے مغربی طاقتوں کا سوء استفادہ
امریکی – صیہونی مغربی بلاک مغربی ایشیائی خطے کی موجودہ صورتحال سے راضی نہ تھے، لہذا اس خطے میں بڑے پیمانے پر جغرافیائی تبدیلیوں کیلئے موقع کی تلاش میں تھے۔ شمالی افریقہ اور مشرق وسطٰی میں اسلامی بیداری کی تحریک جنم لینے کے بعد انہیں وہ موقع حاصل ہوگیا۔ امریکی حکام نے انتہائی تیزی سے اسلامی بیداری کی تحریک کے آغاز سے ہی اپنے منصوبے پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس منصوبے میں شدت پسند اسلامی گروہوں اور تکفیری عناصر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ موجودہ قرائن و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام نے اپنے بعض عرب اتحادیوں کی مدد سے تکفیری گروہوں کی مدد کرنا شروع کر دی اور انہیں اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف کیلئے خطے میں سرگرمی کا موقع فراہم کیا۔ وہ پہلا گروہ جس کی امریکی حکام نے سعودی عرب سے مل کر مدد اور حمایت کی، مصر اور شام میں موجود اخوان المسلمین سے وابستہ عناصر تھے۔

گذشتہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے اخوان المسلمین کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا اور اس کا اصل ہدف تکفیری عناصر کو منظم کرنا تھا۔ امریکی حکام نے دیکھا کہ تکفیری گروہ ابھی میدان عمل میں آنے کیلئے مکمل طور پر آمادہ نہیں، لہذا انہوں نے وقتی طور پر اخوان المسلمین کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جب تکفیری عناصر ضروری ٹریننگ حاصل کر چکے اور جنگی سازوسامان سے لیس ہو چکے تو امریکہ اور سعودی عرب نے اخوان المسلمین کو ترک کرتے ہوئے اسے گوشہ نشینی کا شکار کر دیا۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت سرنگون ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" نے اپنے وجود کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ اسی طرح قطر کے سابق امیر جو اخوان المسلمین کے بڑے حامی تصور کئے جاتے تھے، بھی اقتدار سے علیحدہ کر دیئے گئے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے کو دے دی گئی۔ ان اقدامات کا اصل مقصد اخوان المسلمین کو میدان سے نکال باہر کرنا تھا، تاکہ داعش اور دیگر تکفیری عناصر اپنا کام کھل کر انجام دے سکیں۔

تکفیری عناصر کی شکست درحقیقت گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کی شکست ہے
شام کے بحران میں ایران اور حزب اللہ لبنان کی مداخلت نے اخوان المسلمین سے تکفیری گروہوں کو طاقت کی منتقلی کے عمل کو سست کر دیا۔ لہذا وہ اقدامات جن کی انجام دہی کیلئے انہوں نے بہت کم عرصہ مقرر کر رکھا تھا، وہ ایک سال تک انجام پائے۔ دوسری طرف سعودی عرب کی بے پناہ ثروت اور مغربی ممالک کی مہیا کردہ انٹیلی جنس معلومات کی بدولت تکفیری عناصر نے شام میں تیزی سے پیشقدمی کرنا شروع کر دی، جبکہ ایران اور عراق کو نئے چیلنجز سے روبرو کرکے مغربی طاقتوں نے شام میں اسلامی مزاحمت کی طاقت کو ایک حد تک کم کر دیا۔ لیکن شام میں روس کی مداخلت سے پوری جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ اسی طرح چین اور ایسے دیگر ممالک جو مغربی ایشیائی خطے میں مغربی طاقتوں کے اثرورسوخ کے مخالف تھے، بھی میدان میں کود پڑے اور اس طرح امریکی – صیہونی منصوبہ خاک میں مل کر رہ گیا۔

امریکی – صیہونی منصوبے کے اہم ترین حصے کی تکمیل کی کوشش
نیو مڈل ایسٹ منصوبے کی ناکامی کے بعد جو امر مغربی بلاک کی نظر میں سب سے زیادہ اہم تھا، وہ اسلامی مزاحمتی بلاک کا طاقت پکڑ جانا اور اس کے خلاف مغربی پروپیگنڈے کے ناکام ہو جانے کا امکان تھا۔ لہذا امریکی حکام آخری کوشش کے طور پر اس منحوس منصوبے کے اہم ترین حصے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ حصہ خطے میں ایک نئی خود مختار کرد ریاست کے قیام پر مشتمل ہے۔ چونکہ کردستان کا علاقہ چار مختلف ممالک یعنی ترکی، عراق، شام اور ایران میں تقسیم ہے اور ان میں سے تین ممالک واضح طور پر اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ ہیں، لہذا اگر امریکہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ اس کی نظر میں نیو مڈل ایسٹ منصوبے کی کافی حد تک تکمیل تصور کی جائے گی۔ امریکہ کا اہم ترین مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کو شکست دینا ہے۔ اگر خطے میں ایک خود مختار کرد ریاست کا قیام عمل میں آجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایران، ترکی، عراق اور شام اپنی سرزمین کا بڑا حصہ کھو دیں گے۔ دوسری طرف ان چاروں ممالک کے کرد نشین علاقوں میں خام تیل اور قدرتی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہونے کے پیش نظر خطے میں ایک نئی طاقت ابھر کر سامنے آئے گی، جو ابھی سے امریکی حمایت حاصل ہونے کی بدولت یقیناً امریکی بلاک کا حصہ قرار پائے گی۔ یہ نئی طاقت اسلامی مزاحمتی بلاک کے قلب میں موجود ہونے کی بدولت اس بلاک میں بڑا شگاف معرض وجود میں آجائے گا، جو اسے کمزور کرنے کیلئے کافی ہے۔ مزید برآں، خود مختار کرد ریاست کے قیام کے بعد خطے کے ممالک میں موجود دیگر قومیتوں میں بھی علیحدگی پسندی کا رجحان بڑھے گا اور اس طرح علیحدگی پسند تحریکیں جنم لیں گی۔ ہمارے اس دعوے کے کئی ٹھوس شواہد موجود ہیں، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔ کرد نشین علاقوں میں امریکی مسلح افواج کی موجودگی:
شام میں بحران کے آغاز سے امریکہ نے اس ملک میں فوجی مداخلت نہیں کی، لیکن مارچ 2016ء میں محدود فوجی مداخلت کا اعلان کر دیا۔ امریکہ کی فوجی مداخلت کا آغاز عراق سے ہوا، جب اس نے اپنے 50 فوجی عراق بھیجے اور اس کے بعد امریکہ کی اسپشل فورسز کے دستے بھی عراق میں داخل ہوگئے۔ کچھ ہی مدت بعد امریکہ کی اسپشل فورسز شام میں بھی داخل ہوگئیں۔ یہاں اہم اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ عراق اور شام دونوں ممالک میں داخل ہونے والے امریکی فوجی کرد نشین علاقوں کے قریب تعینات کئے گئے ہیں۔
2۔ کردوں کے ذریعے موصل آزاد کروانے کی امریکی کوشش: جب عراق کی سکیورٹی فورسز اور عوامی رضاکار فورس نے فلوجہ کی جانب پیشقدمی کا آغاز کیا تو امریکی حکام نے اسے روکنے کی کوشش کی اور اس طرح کردستان سے قریب علاقوں کی آزادی میں طوالت ڈالنے کی کوشش کی۔ فلوجہ کا شہر ایک ماہ محاصرے کے بعد آزاد ہوگیا جبکہ عراقی رضاکار فورس "حشد الشعبی" کو اس شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد موصل کی باری تھی، جس کی آزادی میں امریکی حکام اب تک رکاوٹیں ڈالتے آئے ہیں۔ امریکہ شیعہ سنی تعصب پھیلا کر موصل آپریشن میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ اب جبکہ فلوجہ کو آزاد ہوئے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، عراقی کرد فورسز نے اعلان کیا ہے کہ موصل کو وہ آزاد کروائیں گے اور اس آپریشن میں عراق آرمی کی کوئی ضرورت نہیں۔ دوسری طرف عراق کے وزیر دفاع پر کرپشن کا الزام عائد کرکے انہیں برطرف کر دیا گیا۔ یہ اقدام بھی انہیں اہداف کی تکمیل کیلئے انجام پایا ہے۔ اسی طرح کرد حکام کی جانب سے عراق کے صوبہ نینوا کے بعض حصوں کو کردستان سے ملحق کرنے کیلئے ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان بھی کردوں کی علیحدگی پسندی کا واضح ثبوت ہے۔

3۔ حسکہ میں کرد فورسز اور شام آرمی میں مسلح جھڑپیں: شام کے علاقے کردستان کی کرد فورسز جو اب تک شام حکومت کی اتحادی تھیں اور تکفیری دہشت گردوں کے خلاف شام آرمی کے شانہ بشانہ لڑ رہی تھیں، نے اچانک اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کا رخ شام آرمی کی طرف موڑ لیا ہے۔ شام کے شہر حسکہ میں کرد فورسز نے شام آرمی کے ٹھکانوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں شہر سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے شام حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ حسکہ میں ہوائی حملوں سے گریز کرے اور اگر ان حملوں میں امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچا تو واشنگٹن شدید ردعمل ظاہر کرے گا۔ امریکہ کی اس وارننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرد علاقوں میں موجود امریکی مسلح افواج اور کردوں کے درمیان کچھ مشترکہ مفادات پائے جاتے ہیں، جن کے حصول کیلئے دونوں ایکدوسرے سے تعاون میں مصروف ہیں۔

4۔ ترکی کیجانب سے دہشتگرد گروہوں کی حمایت ترک کر دینا:
ترکی جو خود بھی کرد نشین علاقوں پر مشتمل ہے، گذشتہ 5 برس سے شام میں سرگرم حکومت مخالف مسلح گروہوں اور تکفیری گروہ داعش کی بھرپور سیاسی، فوجی اور مالی مدد اور حمایت میں مصروف تھا۔ لیکن اب اچانک ترکی کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور اس نے ان گروہوں کی حمایت ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ترکی کے اس موقف کی دو بڑی وجوہات ہیں:
الف)۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ ترک حکام نے خود مختار کرد ریاست کے قیام پر مبنی خبروں سے خطرے کا احساس کیا ہے۔ چونکہ ہمیشہ سے ترک حکومت اور کرد باشندوں کے درمیان کشیدہ صورتحال رہی ہے، لہذا ترکی نے شام میں سرگرم حکومت مخالف گروہوں کی حمایت ترک کرکے شام حکومت سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ اس طرح خود مختار کرد ریاست کے قیام کی روک تھام کرسکے۔ اگرچہ ترک حکومت کی یہ پالیسی عارضی بھی ہوسکتی ہے، لیکن ترکی کا یہ اقدام امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے خطے میں آزاد کردستان ریاست کے قیام کی منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے۔

ب)۔ دوسری وجہ حال ہی میں ترکی میں انجام پانے والی ناکام فوجی بغاوت ہے۔ تقریباً سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس فوجی بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا اور باغی عناصر امریکی حمایت سے برخوردار تھے، لہذا اس کے ردعمل کے طور پر ترک حکومت نے خود کو امریکی پالیسیوں سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ترکی میں فوجی بغاوت کی امریکی کوشش کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکی حکام نے اپنی اسٹریٹجی تبدیل کرتے ہوئے اخوان المسلمین کی حمایت ترک کرکے شدت پسند اسلامی گروہوں کی حمایت اپنے ایجنڈے میں شامل کر لی ہے۔ لہذا مصر میں سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ اور قطر میں سابق امیر کی اقتدار سے علیحدگی اسی جدید امریکی اسٹریٹجی کا نتیجہ ہیں۔ ترکی کی موجودہ حکومت خطے میں اخوان المسلمین کی واحد حامی حکومت تصور کی جاتی ہے، لہذا امریکہ اور مغربی طاقتیں اسے بھی راستے سے ہٹانے کے درپے تھیں۔ امریکی حکام گولن پارٹی کو ترکی میں برسراقتدار لانا چاہتے ہیں۔ لہذا ان حقائق کی وجہ سے ترک حکومت نے نہ صرف اپنی پارٹی بلکہ ملک کی قومی سلامتی کو خطرہ محسوس کیا ہے، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی لائی ہے۔

نتیجہ:

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی حکام اس وقت اپنی پوری توجہ شام اور عراق کے کرد نشین علاقوں پر مرکوز کرچکے ہیں اور ان دونوں ممالک میں موجود کرد نشین علاقوں کو ملا کر ایک نئی خود مختار کرد ریاست تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امریکہ اس اقدام کے ذریعے اپنے شکست خوردہ نیو مڈل ایسٹ منصوبے میں دوبارہ جان ڈال کر خطے سے متعلق مطلوبہ سیاسی اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔
خبر کا کوڈ : 564631
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے