0
Saturday 5 Mar 2011 17:01

مشرق وسطی کی سیاسی صورتحال کے بارے میں چند سوال اور انکے جواب

مشرق وسطی کی سیاسی صورتحال کے بارے میں چند سوال اور انکے جواب

 تحریر: سعداللہ زارعی
اسلام ٹائمز- مسلمان عرب ممالک میں اکٹھے رونما ہونے والے انقلابات اور وہاں حاکم سیاسی نظاموں کی سرنگونی نے انکی وجوہات، محرکات، تشخص، عملکرد اور اصلی ہدف کے بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے جنکے مختلف سیاسی تجزیہ نگاروں نے اپنی معلومات اور ذوق کے مطابق کئی جواب دیئے ہیں اور خطے کی سیاسی تبدیلیوں پر اظہار نظر کیا ہے۔ ان میں سے کچھ سوال جنکا جواب دینا ضروری ہے درج ذیل ہیں:
1۔ ان سیاسی تبدیلیوں کو ایک لفظ میں کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟۔
اگر ہم تیونس، مصر، بحرین، یمن اور لیبیا کی حکومتوں پر ایک نظر دوڑائیں جہاں باقی عرب ممالک سے پہلے سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں تو دیکھیں گے کہ مغربی ممالک کے ساتھ وابستگی، کرپشن، آمریت، ناکامی اور دین اور دیندار افراد کے ساتھ دشمنی میں یہ سب حکومتیں مشترکہ خصوصیات کی حامل تھیں۔ لہذا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ تمام وہ ممالک جہاں یہ خصوصیات موجود ہیں سیاسی تبدیلیوں کی زد میں ہیں۔ البتہ وہاں موجود سیاسی نظام کی نوعیت اور ان پانچ خصوصیات کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے سیاسی تبدیلیوں کی رفتار میں فرق پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ خصوصیات "عزت" کے ساتھ بھی مربوط ہیں اور کہا جا سکتا ہے کہ جو چیز عوام کو سڑکوں پر لانے کا باعث بنی ہے وہ ان حکومتوں کی جانب سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نیز دینی، ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی میدان میں حکمرانوں کی جانب سے قومی عزت اور وقار کو پامال کرنا ہے۔ یہ وہی عوامل ہیں جو ایران میں اسلامی انقلاب کا باعث بنے تھے۔
حضرت امام خمینی رح کی جانب سے عوامی راہنما اور رہبر کے طور پر پہلا باقاعدہ اقدام اس وقت انجام پایا جب ایران کی پارلیمنٹ میں "کپٹلائزیشن" کا قانون پاس ہوا۔ اس موقع پر امام خمینی رح کا واضح موقف یہ تھا کہ ہماری عزت کو بیچ دیا گیا ہے اور پامال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک موقع پر فرمایا: "میں نے اپنے سینے کو تمہاری بندوقوں کیلئے تیار کر لیا ہے لیکن تمہارا ظلم و ستم برداشت نہیں کر سکتا"۔ لہذا ایران، شمالی افریقہ اور مشرق وسطی

کے عرب ممالک میں انقلابات کی اصلی وجہ "عزت" ہے۔ عزت خواہی کا براہ راست تعلق اسلام سے ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کفار کے ساتھ جو سب سے پہلی بات کی وہ یہ تھی کہ "قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا"۔ آپ ص نے نہیں فرمایا کہ "قولوا لا الہ الا اللہ تسلموا" یا تومنوا۔ اسکی وجہ واضح ہے۔ فلاح اور رستگاری ایمان اور اسلام کا نتیجہ ہے۔ لہذا آپ ص نے فلاح (آزادی اور کمال یا دوسرے الفاظ میں عزت) کا لفظ استعمال کیا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ عزت، اسلام کا پھل ہے اور خداوند متعال نے اسکے بارے میں فرمایا ہے:
"ان العزۃ للہ جمیعا ھو السمیع العلیم"۔ [سورہ یونس، آیہ 56]۔
یعنی عزت صرف اور صرف خدا پر ایمان اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کر کے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
2۔ ان ممالک میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کی وجوہات کیا ہیں؟۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کے انفرادی یا اجتماعی رویے میں ظاہر ہونے والی ہر تبدیلی بغیر کسی مقدمے اور سابقے کے ممکن نہیں۔ انسانی معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں جس قدر ہمہ گیر ہوں اسی قدر پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہیں جنکے تجزیہ و تحلیل کیلئے زیادہ مقدمات اور سوابق کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عرب دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ انقلابات میں بھی کچھ اہم اور سبق آموز واقعات موجود ہیں جو یقینا ان حالات پر بہت حد تک اثرانداز ہوئے ہیں۔
پہلا واقعہ ایران میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب ہے جو درحقیقت مغربی دنیا کے ایک اہم اسٹریٹجک اڈے پر عوام کا قبضہ تھا اور اس نے ایک خودسر حکومت کا خاتمہ کر دیا جو ایک طاقتور فوج کی حامل تھی۔ دوسرا واقعہ 1979 سے 1988 تک روسی فوج کے مقابلے میں افغان مجاہدین کی مزاحمت تھی جس میں کم ترین وسائل کے حامل عوام نے ایک بے رحم سپر پاور کے گھٹنے ٹکا دیئے۔ تیسرا واقعہ 1983 میں لبنان پر اسرائیلی قبضے سے لے کر 2007 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 33 روزہ جنگ کے دوان لبنانی عوام کی مزاحمت اور افسانوی طاقت کی حامل آرمی، نیوی اور ائرفورس سے لیس اسرائیل کے مقابلے میں
کامیابی ہے۔ چوتھا واقعہ یمن میں 2004 سے 2010 تک الحوثی گروپ کی جانب سے یمن، سعودی عرب اور اردن کے درمیان اسلام مخالف اتحاد کے مقابلے میں مزاحمت ہے۔ حوثی گروپ نے اس دوران کمترین وسائل کے ذریعے چھ بار اتحادی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخرکار تین صوبوں صعدہ، عمران اور حجہ پر قبضہ کرنے کے علاوہ شمالی یمن میں موجود سعودی عرب کے 53 فوجی اڈوں کا بھی خاتمہ کر دیا۔ پانچواں واقعہ عراق میں 2003 سے 2011 تک عوام کی 3 لاکھ امریکی سیکورٹی فورسز کے مقابلے میں فتح ہے جو ایک لمبی مدت کیلئے عراق میں رہنے کیلئے آئے تھے۔ عراقی عوام ملک میں قبائلی اور مذہبی اختلافات اور قابض قوتوں کی مخالفت کے باوجود اپنی مرضی کی جمہوری حکومت لانے اور اپنا دلخواہ قانون بنانے میں کامیاب رہے۔ یہ پانچ بڑے واقعات کچھ چیزوں کو ثابت کرتے ہیں: ایک یہ کہ اسلام اور اسلامی لیڈرشپ میں افراد کو انقلاب پر آمادہ کرنے اور ان میں اتحاد پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسلام ایک مفید اور ذمہ دار نظام وجود میں لانے کی طاقت رکھتا ہے جو اپنے مخالفین کا مقابلہ کرنے کی صلاحت رکھتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ کہ مغربی طاقتوں کا مقابلہ اور ان کو شکست دینا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ، صدر اسلامی جمہوریہ ایران محمود احمدی نژاد اور فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک کی محبوب ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ تجزیہ نگار ان حقائق کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ دعوا کرتے ہیں کہ خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیاں صرف اور صرف انٹرنیٹ پر موجود کچھ ویب سائٹس کی بدولت انجام پا رہی ہیں۔
3۔ آیا ان سیاسی تبدیلیوں پر "انقلاب" کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے؟۔
انقلاب کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے کہ "کسی ملک میں حاکم نظام، اقدار اور قوانین میں بنیادی اور اچانک تبدیلی"۔ کچھ سیاسی ماہرین نے اس میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ یہ تبدیلی شدت پسندی اور قتل و غارت کے ہمراہ ہونا چاہئے تاکہ
اسے انقلاب کہا جا سکے لیکن کچھ ماہرین انقلاب کو شدت پسندی کے ساتھ مشروط نہیں کرتے۔
اب تک عرب ممالک میں جو واقعات رونما ہو چکے ہیں اگرچہ انہیں "بنیادی تبدیلی" نہیں کہا جا سکتا اور اگر کوئی ان تعاریف کو سامنے رکھتے ہوئے بات کرنا چاہے تو وہ یہی کہے گا کہ ابھی انقلاب رونما نہیں ہوا لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ کیونکہ ان ممالک میں فی الحال سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہوا ہے اور عوام ابھی تک میدان میں ہیں۔ ان ممالک میں جو تبدیلی رونما ہوئی ہے اسے وہاں پر حاکم رژیموں میں "بنیادی تبدیلی" کہا جا سکتا ہے۔
یہ بنیادی تبدیلی کیا ہے اور کیسے انجام پاتی ہے؟۔ مثال کے طور پر اگر مصر میں موجودہ رژیم جو صدارتی ہے ختم ہو جائے اور اسکی جگہ پارلیمانی رژیم برسر اقتدار آ جائے اور الیکشن بھی مکمل طور پر آزادانہ برگزار ہوں تو ہم کہ سکتے ہیں کہ مصر کے سیاسی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ کیونکہ ایک خودسر حکومت جا چکی ہے اور جمہوری حکومت نے اسکی جگہ لے لی ہے۔ ایسی رژیم مکمل طور پر نئی رژیم ہو گی کیونکہ آزاد الیکشن یقینی طور پر اسلام پسند عناصر کی فتح پر منتج ہوں گے اور اسلام قانون سازی کا بنیادی محور بن جائے گا۔
مصر میں اب تک کیا تبدیلی آئی ہے؟، سیاسی نظام کا سربراہ سرنگون ہو گیا ہے اور ایک اعلی فوجی کونسل معرض وجود میں آئی جو اگرچہ گذشت صدر کی جانب سے منصوب کی گئی ہے لیکن اس نے طارق البشری کی قیادت میں قانون دانوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جنکی ذمہ داری ملک کے نئے قانون کا ابتدائی مسودہ تیار کرنا ہے جو صدر سے پارلیمنٹ کو طاقت کی منتقلی پر مبنی ہو۔ اس کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال ستمبر تک آزاد الیکش کی برگزاری کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مصر میں انجام پانے والی تبدیلی ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ البتہ مصری عوام کو سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی تبدیلی اگلے 6 ماہ سے ایک سال تک وجود میں آئے گی۔ پس امریکہ اور اسرائیل کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ نئے مصر میں انکی کوئی جگہ نہیں۔ ڈیلی عکاظ نے کچھ
دن پہلے فاش کیا کہ حسنی مبارک نے امریکہ کی جانب سے جھنڈی کرانے کے ایک دن بعد متحدہ عرب امارات کے امیر جنہوں نے انہیں اپنے ملک آنے کی دعوت کی تھی کے ساتھ ٹیلی فون ملاقات میں غصے سے کہا: "امریکی احمق ہیں اور نہیں جانتے کہ اگر میں برکنار ہو گیا تو مصر اور مشرق وسطی میں کیا ہو جائے گا"۔
4۔ امریکی حکومت عرب دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر کسی قسم کا کنٹرول رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ وہ اگرچہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ صورتحال مکمل طور پر اسکے کنٹرول میں ہے لیکن امریکی حکام کے متضاد دعوے ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ وہ ان سیاسی تبدیلیوں کی پیش بینی کر رہے تھے لیکن ان تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے یا انکا رخ تبدیل کرنے کیلئے کوئی جامع منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں اگرچہ انہوں نے خطے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے لیکن اب بھی انکے پاس کوئی موثر پلاننگ نہیں ہے۔ وہ کوئی منصوبہ بندی بنا بھی نہیں سکتے کیونکہ ان انقلابات کی نوعیت انٹی مغرب ہے اور وہ مجبور ہیں کہ انقلابیوں کے حق میں موقف اختیار کریں۔
ایک موثقہ رپورٹ کے مطابق مصر میں عوامی مظاہروں کے تیسرے دن یعنی 28 جنوری کو حسنی مبارک امریکہ سے 48 گھنٹے کی مہلت مانگتے ہیں تاکہ قتل و غارت کے ذریعے عوامی احتجاج کو ختم کر سکیں اور امریکہ بھی انہیں یہ مہلت دے دیتا ہے لیکن 48 گھنٹے کے بعد 300 مصری شہریوں کی شہادت کے بعد جن میں سے بعض افراد کی لاشیں دریای نیل کے آس پاس پائی گئیں، عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا اور امریکیوں نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے عمر سلیمان کی صدارت پر زور دیا اور مذاکرات پر تاکید کی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کی کوشش یہ ہے کہ وہ عوامی احتجاج کی شدت میں کمی لائے اور اپنے لئے زیادہ سے زیادہ وقت خرید سکے لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب ممالک میں رونما ہونے والے انقلابات اسلامی ہیں جو اپنے مطلوبہ نتائج یعنی سیاسی نظام اور ملکی و بین الاقوامی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کو ضرور حاصل کر پائیں گے۔

خبر کا کوڈ : 56568
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے