3
0
Monday 3 Oct 2016 13:22

کشمیر، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور

کشمیر، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

کشمیر میں عوامی بیداری اور عام آدمی کے جذبہ آزادی نے پاکستان کے لئے راہ آسان کر دی ہے، لیکن یہ ہمارا امتحان بھی ہے کہ کشمیریوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر حملے غیر متوقع نہیں تھے، ایسا خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ ایسی حرکت ضرور کرے گا، جس سے دنیا کو یہ پیغام ملے کہ بھارت بدلہ لینے کے لئے تیار بھی ہے اور قابل بھی۔ بھارتی ڈی جی ایم او، دفاع کمیٹی اور سیاسی قیادت کے بیانات پہلے سے ہی طے تھے، بھارت اس ڈرامے سے دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اس نے اڑی واقعہ کا بدلہ لیا ہے۔ حالیہ واقعہ لائن آف کنٹرول کی نارمل خلاف ورزی تھی، بھارت نے آزاد کشمیر میں چار جگہ ایسا کیا، جس کا ہماری فوج نے بھرپور جواب دیا، ابھی تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں پڑی اپنے فوجیوں کی لاشیں نہیں اٹھا سکا۔ بھارت اپنی عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے اور اسے سرجیکل سٹرائیک کا نام دے کر بڑا کارنامہ ثابت کرنا چاہتا تھا، مگر اسے منہ کی کھانا پڑی ہے۔ پاکستانی افواج نے نہ صرف اس کی چھاؤنیاں تباہ کی ہیں بلکہ اس کے فوجیوں کو مارا بھی ہے۔ جان کیری نے سشما سوراج کو دو مرتبہ فون کیا، جس کا مطلب پاکستان کو تسلی دینا ہے کہ ہم نے بھارت کو روک دیا ہے، لہٰذا پاکستان اب کارروائی نہ کرے جبکہ پاکستانی افواج اس میں بالکل واضح ہیں کہ بھارت اگر ایسی کوئی خلاف ورزی کرے تو اسے کیسے جواب دینا ہے۔ اس معاملے پر وزیراعظم پاکستان نے جو بیانات دیئے ہیں وہ بہت پہلے دیئے جانے چاہیے تھے، تاکہ دنیا کو علم ہوتا کہ پاکستان بھی اس حوالے سے تیار بیٹھا ہے اور اپنا بھرپور دفاع کرنا جانتا ہے۔ پاکستان کو بیرونی سے زیادہ اندرونی مسائل کا سامنا ہے، ہمارے اندرونی مسائل دو طرح کے ہیں، پہلا یہ کہ ہماری لیڈر شپ باصلاحیت نہیں ہے، دوسرا یہ کہ اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہے۔ لہٰذا جب قیادت کی ساکھ اچھی نہ ہو تو معاملات بہتر نہیں چلتے۔ ہماری سفارتکاری بہت کمزور ہے، دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے، ہمارا قومی ایجنڈا کیا ہے؟ افسوس ہے کہ نہ ہی ہماری کوئی خارجہ پالیسی ہے اور نہ قومی ایجنڈا۔ اگر خارجہ پالیسی ہے تو کسی کو علم نہیں ہے کہ اسے آگے کیسے بڑھانا ہے۔

مودی اپنے ملک میں پاکستان مخالف ایجنڈے پر سرگرم ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کے لئے اجلاس بھی بلایا لیکن ہم نے اس پر کیا کیا؟ ایسی صورتحال میں وزیراعظم کو ملک فوراً واپس آجانا چاہیے تھا مگر وہ اس وقت نہیں آئے۔ 18 ستمبر کو اڑی واقعہ ہوا، آرمی چیف نے اس دن ہی تمام کور کمانڈرز کا اجلاس بلایا اور 19 ستمبر کو فوج نے اس حوالے سے بیان دیا، لیکن سول حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ ایسی صورتحال میں اس موقف کو ہوا دی جا رہی ہے کہ حکومت اور فوج کی سوچ مختلف ہے۔ بھارت عالمی سطح پر اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے، لہٰذا وزیراعظم کو سنجیدگی سے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ کشمیر ہمارا حصہ ہے، لیکن اقوام متحدہ میں ہم اتنے کمزور رہے کہ برہان وانی کا نام تو لیا لیکن اسے شہید نہیں کہہ سکے۔ وزیراعظم وہاں یہ نہیں کہہ سکے کہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے، ان کا قتل عام ہو رہا ہے جبکہ سشما سوراج نے بلوچستان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان وہاں قتل عام کر رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ہم یکسو نہیں ہیں، ہمارے اندر بہت بڑا خلاء ہے، ہمارے رویے درست نہیں ہیں اور پالیسی کا فقدان ہے جبکہ حکومت نے حق حکمرانی ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہماری اندرونی صورتحال بہت خراب ہوچکی ہے، ہم اسلامی دنیا سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم آپس میں کتنے متحد ہیں؟ ہم تو خود تقسیم ہیں۔ مشکل مسئلہ بیرونی نہیں اندرونی ہے۔ بیرونی مسئلہ تو بالکل واضح ہے کہ دنیا بحر ہند کنٹرول کرنا چاہتی ہے، دنیا چاہتی ہے کہ گوادر نہ بنے اور اگر بنے تو اس پر ان کا قبضہ ہو۔ گوادر سے نکلنے والے راستوں پر صورتحال کشیدہ بنا دی گئی ہے، بھارت، امریکہ بیس معاہدہ، پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ بھی اسی لئے ہوا ہے۔ مسئلہ بھارت کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم خود کو ٹھیک کرلیں گے، کیا ہم قومی سطح پر وہ پالیسی بنا لیں گے، جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اگر ہم پاکستان کے مفادات کی نگہداشت کے لئے پالیسی بنا لیں تو آگے چل سکتے ہیں۔

گوادر کے معاملے پر عرب ممالک کو بھی تحفظات ہیں، اگر ہمارے کسی دوست ملک اور ہمارے مفادات میں ٹکراؤ ہے تو ہمیں تمام معاملات کو بہتر طریقے سے حل کرنا چاہیے۔ کشمیر علاقائی نہیں نظریاتی مسئلہ ہے، اگر ہم اسے پس پشت ڈالیں گے تو یہ مسئلہ ختم ہوجائے گا۔ ہمیں چین کی مثال دی جاتی ہے، لیکن چین اور ہمارے حالات مختلف ہیں، چین کے متنازعہ علاقوں سے اس کے وجود کو فرق نہیں پڑتا، مگر آج ہم کشمیر کے مسئلے کو چھوڑ دیں تو پاکستان کے وجود پر سوالیہ نشان آجائے گا۔ لہٰذا ہمیں کشمیر کے موضوع پر اپنا قومی بیانیہ درست کرنا ہوگا، تب ہی دنیا ہماری بات سنے گی۔ کوئی بھی ایسا اسلامی ملک نظر نہیں آتا جو اپنی طاقت پر کھڑا ہو بلکہ اندرونی و بیرونی مسائل بہت بڑھ گئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہمیں خود ان کے پاس جانا چاہیے کہ ہمارے لئے بھی وقت نکالیں، پاکستان کو اس صورتحال میں سعودی عرب، قطر، ایران، ترکی و دیگر دوست ممالک کو ساتھ ملانا چاہیے، لیکن افسوس ہے کہ عالم اسلام میں مسئلہ کشمیر پیچھے چلا گیا ہے اور ہمیں ابھی تک سفارتی محاذ پر کوئی بڑی کامیابی دکھائی نہیں دی۔ پاک، بھارت تناؤ نیا نہیں ہے، مگر حالیہ کشیدگی بھارت کی سیکولر سیاست میں تبدیلی کی وجہ سے ہے۔ مودی ہندوآتہ کی بنیاد پر اقتدار میں آئے اور وہ اسے فروغ دے رہے ہیں۔ مودی نے کشمیر کے حوالے سے جارحانہ رویہ اپنایا، کشمیر اٹوٹ انگ ہے کی شق متعارف کرائی، جس کا کشمیر میں سخت ردعمل آیا، اس وجہ سے بھارت کی اندرونی سیاست تناؤ کا شکار ہے اور یہی تناؤ، پاک، بھارت کشیدگی کی وجہ بن رہا ہے۔

بھارت میں اعتدال پسند لوگ کمزور جبکہ جارحانہ رویہ رکھنے والے طاقت میں نظر آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس وقت فضا کشیدہ ہے، مودی نے اپنے اس طرز سیاست سے خود ہندوستان کے لئے مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں حملے کرکے بنیادی طور نہ صرف لفظوں کی جنگ چھیڑ دی ہے، بلکہ عملی جنگ کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ جس طرح بھارتی ڈی جی ایم او اور حکومتی عہدیداران نے پریس کانفرنس کرکے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا ہے، اس سے نہ صرف وہ اپنی قوم بلکہ اپنے وزیراعظم کو بھی بیوقوف بنا رہے ہیں۔ بھارت کا یہ جنگی عمل ہمارے لئے کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے اور اس صورتحال میں پاکستان کا رویہ مثبت ہے۔ بھارتی میڈیا بھی اپنی قوم کو گمراہ کر رہا ہے اور کشیدگی کی صورتحال کو کم کرنے کے بجائے ماحول کو مزید خراب کر رہا ہے، جبکہ پاکستانی میڈیا کا ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت سکیورٹی کونسل کا اجلاس انتہائی اہم ہے، اس میں سول ملٹری قیادت کی طرف سے واضح پیغام گیا ہے کہ فوج اور سول حکومت بھارتی جارحیت کو کسی بھی طور قبول نہیں کریں گے بلکہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اپوزیشن کی جانب سے قومی اتفاق رائے مثبت ڈویلپمنٹ ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ پیغام آیا ہے کہ وہ بھارتی جارحیت کے خلاف اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر متحد ہے اور عمران خان نے بھی اپنے جلسے میں مودی کو واضح پیغام دیا۔ حالیہ صورتحال میں بھارتی سیاسی اشرافیہ کو بھی چاہیے کہ بھارت میں جو کچھ غلط ہو رہا ہے، اس حوالے سے اپنی حکومت پر دباؤ ڈالے کیونکہ موجودہ حالات بھارت کے مفاد میں بھی نہیں ہیں۔ مودی سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے، اس کے علاوہ سارک کانفرنس ملتوی کرا کر اس نے نہ صرف اپنی دشمنی کا ثبوت دیا ہے بلکہ دیگر سارک ممالک کو بھی پاکستان مخالفت پر اکسایا ہے، حالانکہ سارک ایسا پلیٹ فارم ہے، جس سے اس خطے کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا مود ی نے اپنے اس اقدام سے خطے کی سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس وقت بھارت ہتھیاروں کی جنگ چاہتا ہے جبکہ ہمیں سفارتی محاذ پر جنگ لڑنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تجربہ کار لوگوں سے سفارتکاری کا کام لے کر دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ بھارت خطے کی صورتحال خراب کر رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں خامیاں ہیں، ہم کشمیر اور بھارت کے مسئلے کو علیحدہ تناظر میں دیکھتے ہیں حالانکہ یہ مسئلہ ایک ہے، ہم کشمیر کے حوالے سے تو عالمی فورمز پر بات کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں بھارتی مداخلت و جارحیت پر بات نہیں کی جاتی، لہٰذا ہمیں صرف مسئلہ کشمیر پر ہی نہیں بلکہ بھارت کی مجموعی پالیسی پر بات کرنی چاہیے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں صرف کشمیر پر بات کی، انہیں کل بھوشن یادو اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت سمیت دیگر مسائل پر بھی بات کرنی چاہیے تھی۔ ہم امن اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں، لیکن بھارت اسے ہماری کمزوری سمجھتا ہے جبکہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر علاقائی سیاست کو مضبوط کرنا ہے تو پھر ہمیں ایک دوسرے کے مسائل کو دیکھنا ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔ نریندر مودی سی پیک منصوبے، کشمیر اور پاکستان کے خلاف بیانات سے اپنے لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں، وہ اپنی اندرونی ناکامی کو پاک، بھارت کشیدگی کی آڑ میں چھپانا چاہتے ہیں اور آنے والے چار، پانچ ریاستی انتخابات میں پاکستان مخالف جذبات سے اپنی سیاست کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ افسوس ہے کہ ہم بھارت پر عالمی دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔ بھارت دنیا میں یہ تاثر پھیلا رہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت نہیں ہے جبکہ یہاں معاملات فوج کے کنٹرول میں ہیں، فوج حکومت کو کام نہیں کرنے دے رہی، لہٰذا ہم کس سے بات کریں۔

ایسے حالات میں جب ہم اقوام متحدہ، او آئی سی یا کسی اور عالمی فورم پر جاتے ہیں تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ماضی میں ان فورمز کے ذریعے کتنے مسائل حل ہوئے؟ عالمی دنیا سفارتکاری اور طاقت کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے، چین اور بھارت دنیا کی دو بڑی منڈیاں ہیں، لہٰذا عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پر دباؤ ضرور ڈالے گی، لیکن اس حد تک نہیں جائے گی کہ بھارت ناراض ہو۔ لہٰذا ہمیں عالمی دنیا سے زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہئیں۔ ہمیں اس وقت اپنی اندورنی سیاست کو درست کرنا ہوگا، بھارت کے حوالے سے اپنا بیانیہ درست کرنا ہوگا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔ بھارت، پاکستان کو دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہا ہے، اس پر جنگی جنون سوار ہے، جبکہ ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ پاک، بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں، لہٰذا اب ان کے درمیان جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس وقت ہمیں جارحانہ رویے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کو مستحکم کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا، کیونکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا، تاکہ ایران، چین، افغانستان و دیگر ممالک پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتر طریقے سے آگے نہ بڑھا سکیں۔ پاکستان کا مسئلہ صرف بھارت اور کشمیر نہیں ہے، مسئلہ کشمیر اہم ہے لیکن ماضی میں بھی اسے پس پشت ڈالا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو دیگر معاملات پر بھی کام کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمیں ٹریپ کیا گیا کہ ہم اتنے بڑے فورم پر اپنے معاشی مقاصد و دیگر معاملات پر بات نہیں کرسکے، حالانکہ پاکستان اس فورم کو دیگر ممالک کے سربراہان سے تجارت و دیگر معاملات کے لئے استعمال کرسکتا تھا۔ میرے نزدیک اس فورم پر پاکستان کی توجہ اقتصادی ترقی ہونی چاہیے تھی۔ ہم دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کر رہے ہیں، لیکن ہم امریکہ سمیت دنیا کو یہ باور کرانے میں ناکام ہوئے ہیں کہ ہم دہشت گردی نہیں کر رہے۔

ماضی کی کچھ پالیسیوں کی وجہ سے ہم دفاعی پوزیشن میں ہیں جبکہ بھارت کا رویہ جارحانہ ہے حالانکہ وہ کشمیر میں ظلم کر رہا ہے۔ ہمیں مسئلہ کشمیر کو سیاسی مسئلے کے طور پر اور اس بحث سے نکل کر کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، انسانی ہمدردی کے طور پر لڑنا چاہیے اور اس میں پوری دنیا ہمارا ساتھ دینے پر تیار ہوسکتی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کو مقامی سطح پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مودی گجرات کے سیاستدان ہیں، وہ اسی پالیسی پر کام کر رہے ہیں اور اب وہ پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے کر ملکی سیاست میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ بھارتی پالیسی کا مرکز پاکستان نہیں ہے بلکہ وہ اپنے تمام معاملات کو ساتھ لے کر چل رہا ہے، وہ چین، ایران، امریکہ، افغانستان و دیگر ممالک کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا رہا ہے، ہمیں بھی اپنے تمام مسائل کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت، ایٹمی طاقتیں ہیں، اب ان کے درمیان جنگ کا آپشن نہیں ہے، بھارت بخوبی جانتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرسکتا کیونکہ دفاع کے حوالے سے پاکستان کا شمار مضبوط طاقتوں میں ہوتا ہے، وہ صرف ہماری توجہ معاشی ترقی و دیگر معاملات سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ہمیں دنیا کو باور کرانا چاہیے کہ ہم پر امن ملک ہیں، ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں، لیکن بھارت ہم پر جارحیت مسلط کر رہا ہے۔ موجودہ حالات میں سول، ملٹری ملاقاتیں زیادہ ہونی چاہئیں تھی، دفاع کمیٹی کا اجلاس ہونا چاہیے تھا اور اس پر بھرپور موقف آنا چاہیے تھا۔ اگر پاکستان اپنا کردار خلوص سے ادا کرے، کشمیریوں کی تحریک آزادی کامیاب ہو کر رہے گی، وطن عزیز کے دفاع کے لئے عوام اور مسلح افواج یکجان ہیں اور بھارت اوچھے ہتھکنڈوں سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ نہیں ہٹا سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 572280
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

کریمی
Iran, Islamic Republic of
اصل مسئلہ ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ہے، اگر ہماری حکومتیں۔۔ کیونکہ ہماری ہاں حکومت آتی جاتی رہتی ہے اس لیے۔۔ ایک واضح خارجہ پالیسی بنا لیں کشمیر کے مسئلے پر۔ مسلم ممالک سے کس حد تک تعلقات بارے اور مغربی ممالک سے تعلقات بارے تو شاید ہم کچھ بہتری کر پائیں۔ دوسرا صاف نظر آ رہا ہے کہ کچھ ممالک پاکستان کو اقتصادی طور پر مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے۔ سعودی عرب اور ایران نے سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے، نواز حکومت کو ہر دو طرف سے اقتصادی فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ یہ پاکستان کے فائدے میں ہے اور مسلم ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کا اور مسئلہ کشمیر پر انھیں اپنا بہتر ہمنوا بنانے کا موقع بھی۔ اگر ہماری خارجہ پالیسی بہتر ہو جائے تو شاید ۔۔ ہم پاکستانی بھی ترقی کرسکیں۔
Pakistan
سردار صاحب، ماشاء اللہ پاکستانی سیاسی قیادت زیادہ معاملہ فہم ہے اور بعض امور میں اس کے مینڈیٹ کو کھلے دل سے تسلیم نہ کیا جانا بہت سے مسائل کا سبب ہے۔ کل سیاسی قیادت نے اتفاق رائے سے اپنا پیغام دے دیا ہے۔ شیخ رشید و دیگر بھی مدعو ہوتے تو اچھا ہوتا، اور یہ سوتیلا سلوک اپنی جگہ ایک غلط روش ہے۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم کا خطاب متوازن تھا، ایک مختصر وقت میں جو باتیں کی جانی چاہئیں تھیں، وہ کہہ دی گئیں۔ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی اگر ہوتی تو زیادہ اچھی سفارشات آچکی ہوتیں۔ ہمارے طاقتور ادارے پارلیمنٹ کا جتنا احترام کریں گے، اتنا ہی عسکری محاذ پر انہیں سیاسی قیادت کی اتنی ہی زیادہ حمایت ملے گی۔ کم از کم اس مسئلے پر وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ نے بیانات زیادہ دیئے اور وزیر اطلاعات نے کچھ کم۔ جب مادر وطن کی سرحدوں پر ایسی صورتحال ہو تو اس کے سارے بیٹے میدان میں نکل آتے ہیں اور آج ہم سبھی میدان میں ہیں۔ میرے خیال میں یہ سارا مسئلہ امریکا کا پیدا کردہ ہے، کیونکہ جتنا ہم چین سے نزدیک ہوتے جائیں گے، امریکا کسی نہ کسی کو ہمارے خلاف اکسا کر ہمارے کلائی ضرور موڑے گا۔ سی پیک میں دیگر ممالک کی شمولیت سے ہم پر سفارتی اور عسکری دبائو کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ اس وقت ڈاکٹر ملیحہ لودھی اقوام متحدہ نیویارک، میڈم جنجوعہ جنیوا میں، مشاہد حسین سمیت بہت سے پارلیمنٹیرین دنیا بھر میں کشمیر کے دفاع میں سفارتکاری میں مصروف ہیں، مشیر خارجہ، معاون خصوصی خارجہ، دفتر خارجہ بھی روزانہ ردعمل جاری کر رہا ہے۔ ان شاء اللہ حق و عدالت پر مبنی مظلوم کشمیریوں کے موقف کی فتح ہوگی۔ عرفان
Pakistan
سلام۔ دیکھ لیں سردار صاحب، آج ڈان نے بھی خبر دے دی کہ سویلین قیادت نے کیا کہا ہے۔ بہلے سے اس کی تردید کر دی جائے لیکن اندر کی خبر یہی ہے کہ ریاست کو کالعدم گروہوں سے دوری کی پالیسی کا سبق سکھایا جا رہا ہے۔ ہوتا ہے یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا۔