0
Thursday 27 Oct 2016 11:17

کشمیر، الحاق پاکستان کی لہو رنگ جدوجہد

کشمیر، الحاق پاکستان کی لہو رنگ جدوجہد
تحریر: سرادر تنویر حیدر بلوچ

آج 27 اکتوبر ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں بھارتی جارحیت کے خلاف مظاہرے کئے جا رہے ہیں، کشمیر بنے گا پاکستان کے ولولہ انگیز نعرے لگ رہے ہیں،  27 اکتوبر 1947ء کی بھارتی جارحیت درحقیقت ریاست جموں و کشمیر پر نہیں بلکہ براہ راست پاکستان پر تھی۔ یہ پاکستان کو تنہا اور ختم کرنے کی اوّلین کوشش تھی۔ 27 اکتوبر 1947ء تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے، جب بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی اور خواہش کے برعکس اپنی فوجیں ریاست جموں و کشمیر میں داخل کرکے اس پر قبضے کی کوشش کی۔ ریاست جموں و کشمیر 80 فیصد مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھی، چنانچہ برصغیر کی تقسیم اور ریاستوں کے الحاق کا جو فارمولہ وضع کیا گیا، اس کی رُو سے ریاست کا الحاق صرف اور صرف پاکستان سے ہی ہوسکتا تھا۔ کشمیری مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے 19 جولائی1947ء کو قراداد کے ذریعے اپنا فیصلہ الحاقِ پاکستان کے حق میں دیتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ اگر کشمیر کے مسلمانوں کے الحاق کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے۔ اس کے بعد برطانوی حکومت اور کانگریس پر لازم تھا کہ وہ اہل کشمیر کے الحاقِ پاکستان کے جائز مطالبے کو تسلیم کرتے، لیکن برطانوی حکومت اور آل انڈیا نیشنل کانگریس نے ہندوستان کی جغرافیائی تقسیم کے وقت مسلمانوں کی وسیع آبادیوں کے حقوق کا احترام اور تحفظ نہ کیا۔

بھارتی فوج نے ریاست میں قتل عام، خون ریزی، خواتین کی عصمت دری اور آبادیوں کو مسمار و نذر آتش کرنے کی وسیع پیمانے پر شرمناک مہم شروع کر دی، جس پر انسانیت آج بھی شرمسار اور انصاف کا دامن داغدار ہے۔ اس انسانیت کُش اقدام کے نتیجہ میں اڑھائی لاکھ کشمیری مسلمان شہید اور پانچ لاکھ افراد بے گھر کر دیئے گئے۔ آج جبکہ ان انسانیت سوز واقعات کو 69 سال ہوچکے ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے اور ظلمتوں کے اندھیرے دن کے اجالوں میں بھی قائم ہیں۔ 1989ء سے تحریک آزادی کشمیر نے نیا جنم لیا اور اب تک ایک لاکھ پچیس ہزار مسلمان شہید، 23 ہزار سے زائد خواتین بیوہ، ایک لاکھ سات ہزار چار سو بچے یتیم، ایک لاکھ سے زائد گھر خاکستر اور 700 ایسے قبرستان آباد ہوچکے ہیں، جن میں صرف شہداء مدفون ہیں۔ بھارتی ظلم کا تازہ شکار 22 سالہ کشمیری نوجوان برہان مظفر وانی ہے، جس کی شہادت کشمیری قوم کے جذبہ حریت کے لئے مہمیز اور چراغ راہ ثابت ہو رہی ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا اور ہر سو اجالا پھیلتا جا رہا ہے۔ برہان وانی کی شہادت کو آج 111 دن ہوچکے ہیں، مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجی حقِ آزادی مانگنے کی پاداش میں لوگوں کو بلٹ، پیلٹ اور آنسو گیس کے شیلوں کا نشانہ بنا رہے ہیں، معصوم بچوں اور بچیوں کے چہروں کو بگاڑ رہے ہیں، آنکھوں کی بینائی چھین رہے ہیں اور اپاہج و معذور کرکے ان کی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔

روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کا نشانہ بنا کر لوگوں کو زندان میں ڈال رہے ہیں اور مساجد کو تالے لگا کر لوگوں کو عبادات کے حق سے محروم کر رہے ہیں۔ 3 ماہ اور 21 دن سے مسلسل ہڑتال اور کرفیو ہے۔ بازار، مارکیٹیں، منڈیاں، ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے بند ہیں، جس کی وجہ سے روزانہ ایک ارب چالیس کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ حریت کانفرنس کے تمام رہنما سید شبیر شاہ، میر واعظ عمر فاروق، مسرت عالم بٹ، محترمہ آسیہ اندرابی اور دیگر پابند سلاسل ہیں۔ بیمار قائد کشمیر سید علی گیلانی کئی ماہ سے گھر میں نظر بند اور محاصرے میں ہیں۔ بے رحمی کی انتہا ہے کہ سید علی گیلانی کی عیادت کے لئے آنے والے ان کے بیٹے ڈاکٹر نعیم گیلانی بھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ یٰسین ملک کی حالت مسلسل بیماری اور دوران حراست غلط انجیکشن لگنے کی وجہ سے انتہائی تشویشناک ہے۔ لیکن اہل کشمیر سخت ترین حالات میں بھی تحریک جاری رکھے اور آزادی کا پرچم تھامے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں بھارت کے جبری قبضے کو تسلیم کیا نہ اور نہ مستقبل میں کرینگے۔ وہ طویل جدوجہد سے تھکے، نہ ہارے، نہ ڈرے، نہ بھارت کی نفرت ان کے دلوں سے کم ہوئی اور نہ ہی ان کے دلوں میں پاکستان سے محبت کم ہوئی۔

انہیں مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے 8 لاکھ سے زیادہ قاتلوں، لٹیروں اور سفاک درندوں کا سامنا ہے، جن کا ایجنڈا مقبوضہ وادی سے اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ اور بھارتی تسلط کو مستحکم کرنا ہے۔ جولائی1947ء میں انہوں نے الحاق پاکستان کا جو عہد باندھا تھا، وہ آج بھی اس پر قائم ہیں، اس عہد کی پاسداری کے لئے وہ لازوال جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا پرچم تھام کر سینوں پر گولیاں کھاتے ہوئے جام شہادت نوش کر رہے اور پاکستان کے پرچموں میں سپرد خاک کئے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر سے اٹھنے والا ہر جنازہ پاکستان کے حق میں ریفرنڈم اور بھارت کے اٹوٹ انگ کے دعوے پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔ اس مرتبہ کشمیری، خاص طور پر اس کے نوجوانوں نے گلیوں میں نکل کر معاملے کو اپنے ہاتھ لے لیا ہے۔ یہ اس تحریک کی نسلی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ ان نوجوانوں کو اپنے عوامی احتجاج کی طاقت کا اندازہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سر اٹھا کر، باوقار طریقے سے اپنے حق کی بات کرنے اور اپنے حق ِخود ارادیت کے مطالبے کو دہرانے کے قابل ہوگئے ہیں۔ ریاستی ظلم و جبر اب اُنہیں اُن کے حق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ حتیٰ کہ موت کا خوف بھی اُن کے ارادوں کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔ یہ اُن کا قانونی حق ہے، جو وہ ہر قیمت پر لینے کا عزم کرچکے ہیں۔ وہ گذشتہ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے قتل و غارت، کرفیو، میڈیا بلیک آئوٹ اور بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔

بھارت نے ہر ستم ڈھا کر دیکھ لیا، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس مرتبہ بھارتی حکومت کشمیریوں کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ کشمیری نوجوان گلیوں میں جانیں دے رہے ہیں۔ اُن کا مطالبہ ملازمتیں یا تعلیم یا کتابیں نہیں، وہ آزادی مانگ رہے ہیں۔ ان کا نعرہ ہے ''ہمیں صرف اور صرف آزادی چاہیے۔‘‘ اب یہ نعرہ وادی میں پھیل چکا ہے۔ یہ نعرہ لگاتے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے وہ ایک واضح پیغام دے رہے ہیں۔ وہ بھارتی تسلط سے آزادی کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے۔ ایک حوالے سے بھارت کا بھی بھلا اسی میں ہے کہ وہ نوشتہ ٔ دیوار پڑھ لے، جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا: ''بھارت کو کشمیر سے آزادی چاہیے، جیسے کشمیریوں کو بھارت سے۔‘‘ یہ بات بھارت کے بھی مفاد میں ہے کہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے اور بطور سب سے بڑی جمہوریہ، دنیا کے سامنے اپنی ساکھ مستحکم کرنے کے لئے کشمیریوں کی آواز پر کان دھرے۔ اُسے علم ہونا چاہیے کہ مقبول عوامی تحریکوں کو طاقت سے نہیں دبایا جاسکتا۔ اس وقت دنیا کی واحد سپرپاور نے بھی اپنی آزادی طویل جنگ کے بعد ہی حاصل کی تھی۔ انڈیا اپنے تاریخی حقائق کو نظر انداز یا مسخ نہیں کرسکتا۔ یہ 1857ء کی جنگ ِ آزادی تھی، جس نے بھارت کی بطور ریاست آزادی کی پہلی اینٹ رکھی۔

انڈیا طاقت کے ذریعے کشمیر کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے، جبکہ کشمیریوں کو بھارت سے کوئی سروکار نہیں۔ انڈیا کے لئے ضروری ہے کہ وہ انصاف اور منصفانہ طرز عمل اپنائے اور معقولیت کے تقاضوں پر دھیان دے۔ جہاں تک وزیراعظم نوازشریف کا تعلق ہے، اُنھوں نے جنرل اسمبلی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اچھی باتیں کی تھیں۔ یہ دونوں تقاریر تحریر شدہ تھیں۔ تاہم کشمیریوں کو بیانات کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے۔ اس وقت روایتی بیان بازی کام نہیں دے گی اور نہ ہی اس سے کشمیریوں کا کچھ بھلا ہوگا۔ شروع سے ہی ہماری کشمیر پالیسی مختلف جہتیں تبدیل کرتی رہی۔ تاہم اس میں ایک غیر متبدل عامل یہ تھا کہ یو این چارٹر کے تحت کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت دیا جائے۔ ہمیں اسی پوزیشن پر قائم رہنا چاہیے۔ دنیا کی توجہ کشمیریوں کی ناقابل ِبیان تکالیف کی طرف مبذول کراتے ہوئے ہمیں کشمیر کے مسئلے کو تقویت دینی چاہیے۔ اس کے لئے مربوط اور منظم سفارتی کوشش درکار ہوگی، تاکہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں ہم اپنی بات کہہ سکیں۔ اس کے لئے موجودہ اور ریٹائرڈ سفارت کاروں کی خدمات حاصل کی جائیں اور یہ کام جنگی بنیادوں پر کیا جائے۔ دنیا کو علم ہونا چاہیے کہ کشمیر کا واحد، قانونی اور اخلاقی حل وہی ہے، جو اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہو۔

کشمیر کاز میں ہمارا عزم قانونی اور اخلاقی دونوں پہلو رکھتا ہے۔ اسے محض اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ ہمارے خطے میں امن ''مشکوک پس پردہ ڈیل‘‘ کے ذریعے کبھی بحال نہیں ہوگا، اس لئے کھلے ماحول میں مثبت اور بامقصد مذکرات کرنے پڑیںگے۔ جس امن کی ہمیں تلاش ہے، وہ اپنے قومی مقاصد سے انحراف کے راستے پر نہیں ہے۔ ہم اپنے قومی مفاد کو سرنڈر نہیں کرسکتے۔ اس کے لئے ہمیں طاقتور پوزیشن پر رہتے ہوئے مذکرات کی میز پر مساوی طور پربیٹھنا ہوگا۔ یہ مقصد کمزوری سے حاصل نہیں ہوگا۔ چنانچہ اپنی داخلی کمزوری کا اظہار کرنے کی بجائے ہمیں اتنی آب و تاب حاصل کرنی اور دکھانی ہے، جس کے ذریعے ہم کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کو واضح کر دیں۔ اس وقت بھارت اسے دہشت گردی کے ساتھ گڈ مڈ کرنے اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ ہم اس مسئلے سے صرف اس صورت میں ہی نمٹ سکتے ہیں، جب بھارت کا غرور توڑا جائے اور وہ بات چیت کے میز پر بیٹھنے کے لئے آمادہ ہو۔ اس کے لئے ہمیں سفارتی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ انڈیا کی طرف بے مقصد دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس دوران صدر اوباما، جن کی مدت تمام ہوا چاہتی ہے، کو بھی سرینگر کی گلیوں سے آنی والی بارود کی بو سونگھنی چاہیے۔ یہ اُن کے پاس اپنے نوبل انعام برائے امن کو درست ثابت کرنے کا آخری موقع ہے۔
خبر کا کوڈ : 578735
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب