0
Tuesday 1 Nov 2016 00:00

بغداد میں منعقدہ اسلامی بیداری کانفرنس، اہمیت اور پیغامات

بغداد میں منعقدہ اسلامی بیداری کانفرنس، اہمیت اور پیغامات
تحریر: فرزان شہیدی

اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا نواں اجلاس ہفتہ 22 اکتوبر کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں شروع ہوا۔ عالمی اسمبلی کا نواں اجلاس پہلی بار ایران سے باہر منعقد ہوا ہے اور دو روز تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی، عراق پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری، سابق عراقی وزیراعظم اور قانونی حکومت اتحاد کے سربراہ نوری المالکی، عراق قومی اتحاد کے سربراہ سید عمار حکیم، اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل علی اکبر ولایتی اور اسلامی دنیا کی دیگر اہم سیاسی و مذہبی رہنماوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں 22 اسلامی ممالک سے مسلم علماء اور مفکرین بھی شریک تھے جن میں سے اکثریت کا تعلق اہلسنت سے تھا۔ ان میں سے کئی شخصیات نے اس دو روزہ اجلاس میں تقاریر بھی کیں جن میں انہوں نے خطے اور دنیا کی موجودہ حساس صورتحال میں اسلامی بیداری کی اہمیت پر زور دیا۔

اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل علی اکبر ولایتی نے اجلاس کے افتتاحی خطاب میں کہا: "آج خطے میں بیشمار مواقع حاصل ہو چکے ہیں اور مسلمان مفکرین کو چاہئے کہ وہ تکفیری سوچ کے مقابلے میں اسلامی بیداری کے پرچم کو تھام کر آگے بڑھیں۔ خطے میں اسلامی بیداری کی پیدائش کو پانچ برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس عرصے میں ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی مدبرانہ اور حکیمانہ سرپرستی میں اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی تشکیل دی گئی جس کے باعث اسلام دشمن عناصر اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسلام دشمن قوتوں نے اسلامی بیداری کی تحریک کو اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنے کیلئے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش بنایا لیکن وہ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پائیں"۔

اسلامی بیداری کی نئی لہر:
اسلامی بیداری کی نئی لہر پانچ برس قبل شمالی افریقہ میں معرض وجود میں آئی اور بہت ہی مختصر مدت میں تیونس، مصر اور لیبیا کے ڈکٹیٹر حکمرانوں کی سرنگونی کا باعث بن گئی۔ اس کے بعد اس لہر نے مغربی ایشیا کا رخ کیا اور یمن اور بحرین میں بھی آمرانہ نظام حکومت کے خلاف عوامی تحریکیں زور پکڑ گئیں اور انقلابی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی اس لہر کو اسلامی انقلاب کا تسلسل جانتا ہے جبکہ مغربی ذرائع ابلاغ نے اس تحریک کو "بہار عربی" کا نام دیا۔ وہ اس نام سے یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ یہ تحریکیں صرف جمہوریت پسند تحریکیں ہیں اور اس طرح ان تحریکوں کے مذہبی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مغربی طاقتوں نے عرب ممالک میں اٹھنے والی ان تحریکوں کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی اور اپنے میڈیا کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ جمہوریت پسندی کی وہ تحریک جس کا آغاز مغربی دنیا میں ہوا تھا اب مشرق تک آن پہنچی ہے۔ ان کے اس پروپیگنڈے کا مقصد خطے کے انقلابی عوام اور رہنماوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا تاکہ وہ مغربی اقدار کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔ حقیقت اس وقت کھل کر سامنے آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی بیداری کی اس تحریک، جسے مغربی ذرائع ابلاغ جمہوریت پسندی کی تحریک قرار دیتے ہیں، سے سب سے زیادہ خائف خطے میں ان کے اپنے اتحادی خاص طور پر سعودی حکومت ہے۔ لہذا ان کی طرف سے ان انقلابی تحریکوں کو کنٹرول کرنے کیلئے طرح طرح کی سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مغربی طاقتوں نے اگلے قدم کے طور پر اسلام پسندی کا چہرہ مسخ کرنے کی خاطر جعلی اسلامی گروہوں کی تشکیل کا کام شروع کر دیا اور اس مقصد کیلئے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو معرض وجود میں لایا گیا۔ داعش کی تشکیل کا بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں ایک نیا نام نہاد اسلامی نظام متعارف کروانا تھا جبکہ دوسری طرف خطے میں ابھرتی ہوئی اسلامی بیداری کی تحریک کو بھی داعش کے ذریعے اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنا تھا۔ اسی طرح نام نہاد اسلامی حکومت نامی دہشت گرد گروہ تشکیل دینے کا مقصد اسلام کے خوبصورت چہرے کو بگاڑ کر دنیا والوں خاص طور پر مغربی عوام کے سامنے پیش کرنا تھا تاکہ مغربی دنیا میں اسلام کی طرف تیزی سے بڑھتے ہو رجحان کو روکا یا کم کیا جا سکے۔ داعش سمیت دیگر تکفیری گروہوں کی تشکیل سے مغربی طاقتیں اسلامی دنیا میں عظیم فتنہ برپا کرنا چاہتی تھیں۔ ان گروہوں کے ذریعے شام اور عراق میں جنگ کی آگ پھیلائی گئی اور امت مسلمہ میں مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ تکفیری گروہوں کی تشکیل درحقیقت اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے طے شدہ منصوبے کے تحت اسلامی دنیا کے خلاف نرم جنگ کا آغاز تھا۔ ان کی اس خطرناک شیطانی سازش کا مقابلہ صرف اور صرف مسلمانوں اور دنیا والوں کو اصلی حقائق سے آگاہی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا تھا۔ لہذا ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 6 سال قبل اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا۔ اس اسمبلی کا آغاز اسلامی دنیا سے 700 بزرگ شیعہ اور سنی علماء دین کی شرکت سے ہوا۔ اب تک اس اسمبلی نے متعدد کانفرنسز منعقد کروائی ہیں جو مختلف موضوعات جیسے اسلامی بیداری اور جوان، اسلامی بیداری اور خواتین، اسلامی بیداری اور علماء وغیرہ کے تحت منعقد ہوئی ہیں۔ ان کانفرنسز کے انعقاد کا مقصد اسلامی بیداری کے فکری، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی پہلووں کو واضح کرنا ہے تاکہ اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے اسلامی بیداری کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا مناسب انداز میں جواب دیا جا سکے اور اسلامی بیداری کے حقیقی نظریے کو واضح کیا جا سکے۔

بغداد کانفرنس کے چند اہم پیغامات
بغداد میں "اسلامی بیداری جاری رہے گی" کے عنوان سے اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا نواں اجلاس مندرجہ ذیل پیغامات کا حامل تھا:
1)۔ یہ پہلا اجلاس ہے جو ایران سے باہر منعقد ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی بیداری کی تحریک صرف ایران تک ہی محدود نہیں۔

2)۔ اس اجلاس کا عنوان بھی ایک انتہائی اہم پیغام کا حامل ہے۔ "اسلامی بیداری کے جاری رہنے" کا اظہار درحقیقت اسلام دشمن قوتوں کی اس نفسیاتی جنگ کا جواب ہے جو انہوں نے خطے میں تکفیری دہشت گرد عناصر جنم لینے کے بعد شروع کر رکھی ہے۔ اسلام دشمن قوتیں اس پروپیگنڈے میں مصروف ہیں کہ تکفیری دہشت گردی کی پیدائش کے بعد اسلامی بیداری کی تحریک نابود ہو چکی ہے اور مسلمان گہری نیند سو چکے ہیں۔ وہ اپنے اس دعوے کو صحیح ثابت کرنے کیلئے لیبیا اور مصر جیسے ممالک کی مثالیں پیش کرتے ہیں جو اس وقت بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ اسی طرح ان کی جانب سے عراق، شام اور یمن میں جاری خانہ جنگی اور سیکورٹی بحران کو بھی اسلامی بیداری کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے کے مختلف ممالک میں موجود شدید بدامنی اور سیکورٹی بحران درحقیقت خود مغربی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کی ہی پیدا کردہ ہے۔ انہوں نے اپنی اس منحوس سازش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تکفیری دہشت گرد گروہوں کو جنم دیا ہے جن کا مقصد اسلامی بیداری کی تحریک کو اپنے اصلی راستے سے ہٹانا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر اپنے اصلی دشمن سے غافل کرنا ہے۔

لہذا بغداد میں منعقدہ اسلامی بیداری کانفرنس کا اصلی پیغام یہ ہے کہ اسلامی بیداری کا سلسلہ جاری ہے اور وہ نابود نہیں ہوئی۔ دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت حقیقی محمدی اسلام کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں۔ اس کانفرنس میں اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز جیسے تکفیری دہشت گردی کا جائزہ لیا گیا اور اسلام دشمن طاقتوں کی جانب سے نرم جنگ کے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اسی طرح اس کانفرنس میں دنیا والوں کو حقیقی محمدی اسلام سے متعارف کروانے کی کوشش کی گئی اور امت مسلمہ کی وحدت پر زور دیا گیا۔

بغداد میں منعقدہ اسلامی بیداری کانفرنس کی جگہ اور موضوع کے علاوہ اس اجلاس کے انعقاد کا وقت بھی انتہائی سوچ سمجھ کر انتخاب کیا گیا تھا۔ آج کل عراق میں داعش کے آخری ٹھکانے کے طور پر موصل شہر کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن جاری ہے۔ عراق آرمی اور رضاکار فورسز بہت تیزی سے پیشقدمی کر رہی ہیں۔ ایسے وقت جب پورے عالمی میڈیا کی توجہ موصل پر مرکوز ہے، بغداد میں مسلمان علماء اور مفکرین جمع ہو کر تکفیری دہشت گردی کے خلاف اپنے موقف کا اظہار کرتے ہیں۔ اس خاص وقت نے اس اجلاس کی اہمیت کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر یہ کانفرنس کسی اور وقت یا کسی اور ملک میں منعقد ہوتی تو میڈیا اور رائے عامہ میں اس کی ایسی اہمیت نہ ہوتی۔ لہذا اسلامی بیداری کانفرنس کے انعقاد کیلئے بغداد کا انتخاب، وہ بھی ایسے وقت جب موصل میں داعش کی نابودی قریب ہے عراقی گروہوں کی ذہانت اور ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔

نتیجہ:
ایران میں جنم لینے والے اسلامی انقلاب کے تسلسل کے طور پر خطے میں پیدا ہونے والی اسلامی بیداری کی لہر اسلامی ممالک کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی سیٹ اپ کو دگرگوں کرنے ہی والی تھی کہ عالمی استعماری طاقتوں اور ان کے شیطانی چیلوں نے اسے روکنے کیلئے بڑے پیمانے پر سازشوں کا جال بچھانا شروع کر دیا۔ انہیں سازشوں میں سے ایک تکفیری دہشت گردی کا فروغ تھا۔ استعماری طاقتوں نے پہلے مرحلے پر اسلامی بیداری کی عظیم عوامی تحریک کو ہتھیا کر اسلامی ممالک میں لبرل ڈیموکریٹک نظام متعارف کروانے کی کوشش کی۔ لیکن جب انہیں اپنے اس مقصد میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے تکفیری گروہوں کی تشکیل کے ذریعے اسلام کا خوبصورت چہرہ بگاڑ کر پیش کرنا شروع کر دیا تاکہ حقیقی اسلامی بیداری کی تحریکوں کو دہشت گردی اور تکفیریت کے بہانے کچلا جا سکے۔ ایسی صورتحال میں بغداد میں اسلامی بیداری کانفرنس کا انعقاد ایک انتہائی مثبت اور موثر اقدام تھا۔ اس کانفرنس میں دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش دی گئی کہ اسلامی بیداری کی تحریک ختم نہیں ہوئی اور اسلام کی سنہری تعلیمات اور اقدار اب بھی دنیا بھر کے انسانوں کو اپنی طرف جذب کر رہی ہیں۔ عراق میں اس کانفرنس کے انعقاد اور موصل میں داعش کے خلاف فیصلہ کن فوجی کاروائی کے آغاز کا ایک ساتھ ہونا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ داعش اور اس جیسے دیگر گروہوں کو جنم دینے والی تکفیری سوچ کا مقابلہ صرف اور صرف اسلامی بیداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عراق میں داعش کا خاتمہ اسلامی بیداری کے تسلسل اور حقیقی محمدی اسلام کے پیش کردہ نظام کو متعارف کروانے کا سنہری موقع ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو مسلمانان عالم کو وحدت اور اتحاد کا پیغام دیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 580026
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب