1
0
Sunday 12 Feb 2017 02:15

انقلاب اسلامی ایران کے مقاصد اور ثمرات پر ایک نظر

انقلاب اسلامی ایران کے مقاصد اور ثمرات پر ایک نظر
تحریر: امل موسوی

ہمارے ملک میں کافی عرصے سے سیاسی جلسوں میں لفظ انقلاب کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں بھی دیکھا جائے تو لوگ انقلاب کی خواہش لئے نظر آتے ہیں، ایک ایسی تبدیلی جس سے انکی معاشی، معاشرتی اور سیاسی حالت بہتر ہو جائے۔ انقلاب اور عام سماجی تبدیلی میں فرق کو سمجھے بغیر کئی جلسوں میں انقلاب کی امید دلائی جاتی ہے، حالانکہ یہاں پر انقلاب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں انقلاب آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والے لاوے کی طرح ہوتا ہے، ایک ایسی تبدیلی جو کم وقت میں زیادہ بڑے درجے پر ہوتی ہے۔ انقلاب ایک ایسی تبدیلی ہے جو موجودہ ضابطوں کو ختم کرتی ہے، خصوصاً سیاسی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں لاتی ہے۔ انقلاب کے اثرات کا تعلق انقلاب کے دائرہ کار اور اسکو برپا کرنے والوں پر ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک انقلاب کے نظریات پر پابند رہتے ہیں اور ان نظریات کو پھیلانے اور عملی کرنے میں کتنی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض انقلابات ایسے بھی آئے ہیں جو اپنے آغاز میں ہی اپنے راستے سے منحرف ہوگئے اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے ہیں۔ عموماً انسانی معاشروں میں آنے والے انقلابات کے پس پردہ عوامل اور اسباب ایک ہی ہیں، تاہم زمان، مکان اور عوام کی مشکلات کے حوالے سے ان میں کافی فرق بھی پایا جاتا ہے۔ جیسے روسی انقلاب ایک طرح سے نظریاتی ہے، جس کا مقصد کمیونسٹ معاشرہ بنانا تھا۔ اسی طرح فرانس کا انقلاب بھی بادشاہی نظام کے خلاف تھا اور عوام کا نعرہ بھی آزادی، مساوات اور اخوت تھا۔

انقلابات کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ تقریباً تمام عظیم انقلابات (جیسے فرانس کا انقلاب، روس کا انقلاب، امریکن انقلاب و غیرہ) کا بیشتر حصہ جہاں انسانی حقوق کے لئے تھا، وہاں اپنی نوعیت میں مادی بھی تھا، یعنی صرف روٹی و کپڑے اور دوسرے مادی ضروریات پر زور دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے ایران کا اسلامی انقلاب مختلف ہے، کیونکہ یہاں پر انسان کی مرکزیت ہونے کے بجائے خدا تعالٰی کی حاکمیت پر زور دیا گیا۔ لا شرقیہ اور لا غربیہ کی صدا بلند کی گئی اور صرف اللہ تعالٰی کے حضور جھکنے کے علاوہ ہر قسم کے استکبار کی نفی کی گئی۔ اگر آپ فرانسیسی انقلاب یا پھر روسی انقلاب پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اس میں مذہب کی نفی کی گئی ہے۔ روسی انقلاب جس کی بنیاد کارل مارکس کے نظریات تھے، میں واضح طور پر مذہب کو عوام کی افیون کہا گیا ہے کہ جس سے لوگوں کو چھٹکارا دلانا لازمی ہے، لیکن ایران کا اسلامی انقلاب ایسا نہیں ہے۔ یہاں انسانی کرامت کی بات کی گئی ہے، انسانی حقوق پر بھی زور دیا گیا ہے اور ملکی استقلال اور آزادی کے لئے بھی کوششیں کی گئیں، لیکن ان سب کے ساتھ بندگی اور عبودیت کو بھی محور رکھا گیا۔ اسی وجہ سے اس کو صرف ایران کا انقلاب یا جمہوری انقلاب نہیں کہا گیا بلکہ اسلامی انقلاب کا نام دیا گیا ہے۔

ایک اور اہم فرق جو ایران کے اسلامی انقلاب اور دیگر انقلابات میں دیکھنے کو ملتا ہے، وہ لیڈرشپ ہے۔ قیادت کا فقدان بھی کئی انقلابات میں انحراف کا باعث بنتا ہے۔ اگر قیادت صالح نہ ہوگی، قیادت میں خلوص نہ ہو اور محض دکھاوے کے لئے کام کرے تو انقلاب اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ مثلاً فرانس کے انقلاب عظیم کو ہی لے لیجیے۔ عوام نے کئی مشکلات کے ساتھ ایک بادشاہت کا خاتمہ کیا، لیکن قیادت کے انحراف اور کئی دوسرے مسائل کی وجہ سے جمہوری حکومت قائم نہ ہوسکی۔ ناپلئون کے ذریعے کئی عرصے بعد تک بادشاہت کا سلسلہ چلتا رہا اور پھر کہیں جا کر جمہوری حکومت وجود میں آئی۔ لیکن یہ چیز ایران کے اسلامی انقلاب میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ آیت اللہ خمینی کی قیادت اس لحاظ سے مثالی ہے اور پھر آیت اللہ خمینی کے بعد سید علی خامنہ ای کی قیادت بھی انقلاب سے منحرف نہیں ہوئی۔ انقلاب اسلامی ایران کی انفرادیت کی ایک اور وجہ اسکا اسلامی اقدار کی بنیادوں پر ہونا ہے۔ اس لحاظ سے یہاں پر مذہبی علماء کا کردار قابل ملاحظہ ہے، جنہوں نے انتہائی خوف و خطر کے ماحول میں بھی مساجد و منابر سے لوگوں کو حقائق بتانے کا فریضہ ادا کیا ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کی انفرادیت کے بارے میں خود سید علی خامنہ ای بھی فرماتے ہیں: ’’انقلاب اسلامی ایک استثناء ہے۔ انقلاب اسلامی معین مقاصد کے ساتھ ایک حرکت تھی۔ اگرچہ وہ معین مقاصد جو کئی جگہوں پر کلی تھے، تدریجاً جزئی صورت اختیار کرتے گئے اور ان کا مفہوم و معنی واضح ہوتا گیا، لیکن مقاصد روشن مقاصد تھے۔ اسلام خواہی، استکبار دشمنی، ملک کے استقلال کی حفاظت، انسانی کرامت، مظلوم کا دفاع، علوم و فنون کا حصول اور ملک کی معشیت میں ترقی، یہ سب انقلاب کے مقاصد تھے۔ انسان جب امام خمینی کے بیانات کو دیکھتا ہے اور انقلاب کے اسناد کو بھی دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان سب کی جڑیں اسلامی ہیں۔ عوامی ہونا، عوام کے ایمان، عوامی محرکات اور جذبات پر منحصر ہونا انقلاب کی اصلی بنیادوں میں سے ہیں۔ یہ راہ جاری ہے، منحرف نہیں ہوئی نہ ہی رخ موڑا ہے۔ آج انقلاب کے بتیس سال گزر گئے ہیں، یہ بہت اہم واقعہ ہے۔" (انقلاب کی 32ویں سالگرہ پر خطاب سے اقتباس)

جہاں تک انقلاب اسلامی ایران کے اثرات کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہے کہ خطے میں انقلاب کے بعد طاقت کا توازن ویسا نہیں رہا جیسا کہ استعمار چاہتا تھا۔ فلسطین میں مظلوم فلسطنیوں کی حمایت اور اسلامی مقاومت کو مضبوط کرنا انقلاب اسلامی کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اسی طرح داعش کے مقابلے میں کامیاب اتحاد بننا اور خطے کو اس خطرے سے محفوظ کرنے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششیں اس کے عالمی طاقت ہونے کا ثبوت ہیں۔ یہ اس حال میں ہے کہ انقلاب سے پہلے ایران استعماری طاقتوں کا آلہ کار تھا اور اب یہی مملکت انقلاب اسلامی کی وجہ سے استعماری طاقتوں کے مدمقابل کھڑی ہے۔ انقلاب اسلامی نے صرف ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ جہاں جہاں بھی انقلاب اسلامی کی آواز پہنچی، وہاں پہ بیداری اسلامی کی لہر بنتی گئی۔ مسلم ممالک میں انقلاب اسلامی کی لہر خودی یعنی اپنے اسلامی شناخت کی طرف واپسی اور معنویت کی طرف آنے کا پیغام لے کر آئی۔ عالمی سطح پر بھی ایران کے انقلاب اسلامی کے اثرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت لاطینی امریکہ میں ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ نہ صرف استعمار ستیزی، نظریاتی اور معاشرتی لحاظ سے بلکہ ثقافتی لحاظ سے بھی انقلاب اسلامی نے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ مغربی ثقافت جس کا اہم عنصر سیکولرزم ہے، کی ترویج جو انقلاب سے پہلے ایرانی معاشرے میں کی جاتی تھی (اور اب بھی دیگر ممالک میں کی جا رہی ہے) کے برخلاف انقلاب اسلامی نے اسلامی ثقافت کو ابھارا اور اس کی ترویج کی، جس کا ایک اہم نتیجہ ہم ایران کی فلمی صنعت کی صورت میں دیکھ رہے ہیں، جہاں اسلامی اقدار کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اسی کی طرف امام خمینی ؒ اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "ثقافت، ملت کی اساس ہے، ایک قوم کی قومیت کی بنیاد ہے اور ایک قوم کی خود مختاری کی اساس ہے۔ لہذا یہ شاہی حکومت ہماری ثقافت کو استعماری اور سامراجی بنانے کے درپے ہے۔ ایسی صورت حال میں جب ملت ایران نے اپنی پہچان، اپنی ثقافت اور اپنی ذاتی اقدار کو شاہی حکومت کے استبدادی قدموں تلے روندے جاتے ہوئے دیکھا تو اس مسلط کردہ شاہی نظام حکومت کے خلاف آواز بلند کی اور اغیار کی پیروی کی قید سے آزاد حکومت کے قیام کے لئے انقلاب برپا کیا۔ ایسا انقلاب کہ جس کی جڑیں اس سرزمین کی ثقافت کی گہرائی میں تھیں، ایسا انقلاب کہ جس کا مقصد، اسلامی حکومت کی برقراری، دنیا میں سیکولرزم سے انکار اور الٰہی افکار و نظریات کا زندہ کرنا تھا۔‘‘ (امام خمینی کے بیانات سے اقتباس) کئی مسلم ممالک خاص طور پر پاکستان میں انقلاب اسلامی کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے اس کو شیعی انقلاب کا نام دیا گیا اور اس کی مخالفت میں شیعہ ہراسی اور تفرقہ انگیزی سے کا م لیا جا رہا ہے۔ ہر چند کئی مسلم مفکرین اور رہنماؤں جیسے کلیم صدیقی، قاضی حسین احمد، مولانا مودودی اور شہید عارف حسین الحسینی نے انقلاب اسلامی کو پاکستانی عوام تک پہچانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کے بارے میں پیدا کئے جانے والے شبہات کو دور کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر کوئی انقلاب اسلامی کو جیسے ہے، ویسے ہی سمجھنے کی کوشش کرے اور تعصبات کو چھوڑ کر تحقیق اور حقیقت پسندی سے کام لے۔ تبھی ایک اُمت واحدہ کا تصور عملی شکل اختیار کرسکے گا کہ جو اس انقلاب کا سب سے بڑا مقصد ہے۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی، شاہ کی حکومت کی سرنگونی اور اسی طرح انقلاب کے بعد مشکلات و مصائب پر قابو پانا، تمام دنیا بالخصوص اسلامی ممالک میں وسیع پیمانے پر انعکاس کا سبب بنا۔ اس طرح کہ دنیا کی بڑی طاقتیں پریشان ہوگئیں کہ بیسویں صدی کے اس نئی و عجیب موجود سے کیسا برتاؤ کریں اور وہ اسے ایک ناقابل انکار حقیقت کے عنوان سے قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔ اسلامی انقلاب کی معرفت اور اس کے ساتھ برتاؤ کے سلسلہ میں مغربی ممالک میں سمیناروں، کانفرنسوں اور سیاسی مٹینگوں کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور یہ بذات خود اسلامی انقلاب کے دشمنوں کی توجہ اور پریشانی کی علامت ہے، لیکن آج اسلامی انقلاب کے دوست و دشمن اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اسلامی انقلاب مستحکم و پائیدار ہوا ہے اور اسلامی جمہوریہ کا نظام، عالمی سامراجی طاقتوں کی طرف سے سازشوں، تختہ الٹنے کی بغاوتوں، فوجی حملوں، اقتصادی محاصروں اور دوسری تمام آزمائی گئی ریشہ دوانیوں کے باوجود ناقابل شکست و زوال ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک، اس حقیقت کو قبول کرکے اسلامی جمہوریہ کے طولانی مدت تک باقی رہنے کی بنیاد پر اس کے ساتھ اپنے سیاسی و اقتصادی روابط کو منظم کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب دنیا کی سامراجی طاقتوں کے سامنے اسلامی جمہوری نظام کے فوری نابود ہونے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ زیر بحث ہے کہ اس انقلاب کو کس طرح اپنے ملک کی سرحدوں کے اندر محصور و محدود کیا جائے اور دوسرے معاشروں بالخصوص اس کے ہمسایہ ممالک میں اس کے پھیلنے میں رکاوٹ ڈالی جائے، لیکن وہ اپنے ان عزائم میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اس لئے آج کل اسلامی انقلاب کو اسلامی شدت پسندی کا نام دے کر ایک خطرہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسلامی ممالک مکتب اسلام کی پیروی کرنے کو سامراجی ظلم کے چنگل سے آزادی کا تنہا راستہ سمجھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 608237
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

AHSAN
United Kingdom
Very nicely written