0
Friday 17 Mar 2017 13:29

دہشتگردی کیخلاف اتحاد کی قیادت کا معاملہ، پارلیمنٹ کو بائی پاس کر دیا گیا؟؟

دہشتگردی کیخلاف اتحاد کی قیادت کا معاملہ، پارلیمنٹ کو بائی پاس کر دیا گیا؟؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی یہ خدشات سر اُٹھا چکے تھے کہ جنرل راحیل شریف (پاکستان) کی سعودی عرب کیساتھ ڈیل ہوچکی ہے، وہ ریٹائرڈ ہوتے ہی سعودی عرب چلے جائیں گے اور سعودی قیادت میں بننے والے دہشتگردی کیخلاف نام نہاد اتحاد کی کمان سنبھال لیں گے۔ اس حوالے سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا میں اس پر کافی بحث چلی جو ہنوز چل رہی ہے۔ اب وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ چیزیں واضح ہو رہی ہیں کہ یہ سب کچھ ایک منظم پالیسی کے تحت کیا گیا۔ اب یہ چیز بھی کھل کر سامنے آچکی ہے کہ جنرل راحیل شریف کو اعتماد میں لے کر میاں نواز شریف صاحب پہلے ہی یہ ڈیل کرچکے تھے۔ یعنی میاں نواز شریف نے سعودی عرب کو یقین دہانی کروا دی تھی کہ جنرل راحیل شریف کو ریٹائرڈ ہوتے ہی سعودی عرب بھجوا دیا جائے گا۔ نواز شریف کی اس پالیسی کی بھنک جن لوگوں کو پہلے پڑی تھی، انہوں نے "جانے کی باتیں جانے دو" کے شعار بلند کئے، پینا فلیکسز لگوائے جن پر گرفتاریاں بھی ہوئیں، لیکن یہ وہ حقائق تھے جن کا مقصد راحیل شریف کو سعودی عرب جانے سے روکنا تھا۔ واقفانِ حال تو یہ کہتے ہیں کہ فوج میں بھی اس حوالے سے تفریق موجود ہے، فوج کے کچھ حکام جنرل راحیل شریف کے سعودی عرب جانے اور دہشتگردی کیخلاف اتحاد کی کمان سنبھالنے کے مخالف ہیں، جبکہ کچھ حکام چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف لازمی جائیں۔ یہ سعودی عرب کے حامی فوجی حکام اکثریت میں ہونے کے باعث اپنی بات منوا لیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ضیاء دور میں خصوصی طور پر "جہاد" کیلئے تیار کیا گیا تھا اور ان کا کسی نہ کسی انداز میں افغان جہاد میں حصہ رہا۔ اب یہ فوجی افسران ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں جبکہ کچھ ریٹائر بھی ہوچکے ہیں اس کے باوجود ان کا اثر و رسوخ فوج میں موجود ہے۔ اس لئے یہ لوگ پالیسی سازی میں اثرانداز ہوتے ہیں۔

اب جبکہ وزیر دفاع بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ فوج سعودی عرب بھجوائی جا رہی ہے اور ہمارے فوجی وہاں موجود بھی ہیں، وزیرِِ دفاع اور وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے اپنے طور پر ہی یہ فیصلہ کر لیا اور اس پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔ ملک میں آپریشن ضرب عضب جاری تھا، اس آپریشن کو جنرل راحیل شریف نے ہی شروع کیا تھا اور وہی اس کو موثر انداز میں آگے بھی بڑھا سکتے تھے، راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر جنرل راحیل شریف آرمی چیف ہوتے تو آپریشن ردالفساد کی ضرورت پیش نہ آتی، کیونکہ آپریشن ضرب عضب ہی مقاصد پورے کر لیتا، جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کیساتھ ہی آپریشن ضرب عضب بھی ریٹائر ہوگیا اور اس کی جگہ نئے آپریشن "ردالفساد" نے لے لی۔ اب ردالفساد کہاں تک کامیاب ہوتا ہے، یہ تو وقت بتائے گا، لیکن جنرل راحیل شریف نے نواز شریف کی ایماء پر مدت ملازمت میں توسیع نہیں لی، مقصد صرف یہ تھا کہ ان کا "عہدہ" نہیں بلکہ جگہ تبدیل ہو رہی تھی، وہ جی ایچ کیو راولپنڈی کی بجائے ریاض میں نئی کمان اور کرسی سنبھالنے جا رہے تھے۔ اب باقاعدہ یہ "معاہدہ" بے نقاب ہوچکا ہے۔ پاکستانی حکومت اس حوالے سے دوہرے معیار کا شکار ہے، ایک طرف پارلیمنٹ میں پاس شدہ قرارداد موجود ہے کہ ہم کسی مسلم ملک کیخلاف کسی دوسرے مسلم ملک کی حمایت نہیں کریں گے، بلکہ 2 مسلمان ملکوں کے معاملے میں غیر جانبدار رہیں گے، قیام پاکستان کے مقاصد میں بھی یہ بات شامل تھی کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنیوالی ریاست ہے اور یہ اسلام کا قلعہ ہوگی، مگر افسوس کے مسلم لیگ کے نام پر اقتدار کے ایوانوں میں گھسنے والوں نے مسلم لیگ کے نصب العین کو ہی فراموش کر دیا اور پارٹی آئین کو الماری میں بند کرکے اپنے بنیادی مقاصد سے روگردانی کر لی ہے۔ وہ قومیں یا تحریکیں جو اپنے مقاصد سے ہٹ جائیں، وہ ٹوٹ پھوٹ جایا کرتی ہیں۔ پہلے نواز شریف نے دو قومی نظریے کی مخالفت کی، اب وہ قائداعظم کے افکار کو پس پشت ڈال کر سعودی عرب کی اس جارح حکومت کی گود میں بیٹھ گئے ہیں، جس نے تلوار کے زور پر حجاز مقدس کے اقتدار پر قبضہ کیا۔

اگر دنیا میں جاری دہشتگردی اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کا کھوج لگائیں تو "کُھرا" ریاض ہی پہنچتا ہے، القاعدہ ہو یا داعش، کسی بھی دہشتگرد جماعت کے مالی معاونین کو دیکھیں تو امریکہ کیساتھ ساتھ سعودی عرب کا نام آتا ہے۔ جو خود دہشتگردی کے سپانسر ہوں، وہ کیسے دہشتگردی کو ختم کریں گے؟ اپنے پالے ہوؤں کو کون مارتا ہے؟ سعودی عرب سے یہ امید لگانا کہ دہشتگردی کو ختم کرے، خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ سعودی عرب نے جس اتحاد کو تشکیل دیا ہے، اس کا مقصد صرف اور صرف یمن کے نہتے عوام کو نشانہ بنانا ہے، جو اپنے وطن کے دفاع کیلئے جمہوری جدوجہد کر رہے ہیں، جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنیوالوں کو "باغی" کہا جا رہا ہے اور اس اتحاد کا مقصد بھی انہی کو ہی نشانہ بنانا مقصود ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے سعودی عرب کو اپنا اسلحہ فروخت کرنے کیلئے ایران کو بطور "ہوا" پیش کیا ہے، سعودی عرب کو سی آئی اے کی بے بنیاد اور فرضی رپورٹس دکھا کر ڈرایا جا رہا ہے کہ ایران سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک پر قبضے کا خواہاں ہے جبکہ ایران نے اس کی واضح الفاظ میں تردید کی ہے کہ اس کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں ہیں۔ اس کے باوجود سعودی عرب ایک خوف کا شکار ہے اور اسی لئے ہی "دہشتگردی کیخلاف اتحاد" پر اربوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ یہاں تشویشناک امر یہ ہے کہ حکومت نے سعودی مفادات کیلئے پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا ہے۔

دنیا ٹی وی کے پروگرام میں سینیئر صحافی کامران خان کے سوالوں کے جواب میں پاکستانی وزیرِدفاع نے اعتراف کر ہی لیا کہ ہم سعودی عرب فوج بھجوا رہے ہیں، جو صرف سعودی عرب کے اندر دہشتگردی کا مقابلہ کرے گی۔ (اس سے قبل موصوف وزیر نے اسمبلی میں اس کی تردید کی تھی) اس کی تاویل موصوف نے یہ پیش کی کہ ہمارا سعودی عرب کیساتھ دفاعی معاہدہ ہے، اس معاہدے کی رُو سے ہم سعودی عرب کے دفاع کے ذمہ دار ہیں اور اس حوالے سے ہی ہم فوج سعودی عرب بھجوا رہے ہیں۔ یہاں یہ ساری باتیں مفروضے ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ یمن مسلمان ملک ہے، وہ کبھی بھی حرمین شریفین پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتے، سعودی عرب روزِاول سے یہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ یمن نے حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب یمن کی جانب سے ریاض کے ایئربیس کو نشانہ بنانے کیلئے میزائل مارا گیا تو سعودی عرب نے شور مچا دیا کہ یہ حرمین شریفین پر حملہ کیا گیا ہے، جبکہ یمن کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ میزائل دفاع میں چلایا گیا تھا، کیونکہ سعودی طیاروں نے یمن میں بمباری کی تھی اور وہ طیارے اسی ایئربیس پر اُترے تھے، جس پر میزائل داغا گیا۔

اب تک سعودی بمباری سے یمن میں 15 ہزار سے زائد بے گناہ عام شہری شہید چکے ہیں۔ ان بیگناہوں کے خون کا ذمہ دار کون ہے، ہزاروں مساجد کو تباہ کیا گیا، ان میں قرآن مجید شہید کئے گئے۔ ان یمنیوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے حق کیلئے جمہوری جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ کا پاکستان میں کیا مقام رہ گیا ہے، یہ ارکان پارلیمنٹ کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان روزِاول سے کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف ملک میں بادشاہت قائم کئے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ اقدام سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو خاطر میں لائے بغیر بالا بالا ہی فیصلے کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں مباحثے کی ضرورت ہے کہ کیا ایک قرارداد (قانون) کی موجودگی میں یہ ممکن ہے کہ وزیراعظم ذاتی حیثیت میں فیصلہ کریں اور آرمی چیف کو سعودی اتحاد کی کمان کیلئے بھیجیں؟ پارلیمنٹ ایک بار اپنی حیثیت کا جائزہ ضرور لے، اب بھی اگر پارلیمنٹ نے خاموشی اختیار کئے رکھی تو پھر اس کی حیثیت محض "بنانا پارلیمنٹ" کی ہی رہ جائے گی۔ بنانا ریاست ہو یا بنانا پارلیمنٹ، اس کی حیثیت راستے کی اس پتھر کی سی ہوتی ہے، جسے ٹھوکر مارنا ہر راہگیر اپنا فرض اولین سمجھتا ہیں۔
خبر کا کوڈ : 619039
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب