0
Sunday 16 Apr 2017 09:21

لاہور سے نورین لغاری کی گرفتاری، کواکب ہیں کچھ نظر آتے ہیں کچھ

لاہور سے نورین لغاری کی گرفتاری، کواکب ہیں کچھ نظر آتے ہیں کچھ
ابوفجر کی رپورٹ

لاہور کے علاقے فیکٹری ایریا کی پنجاب سوسائٹی سے گرفتار ہونیوالی خاتون دہشتگرد کی شناخت ہوگئی ہے، گرفتار لڑکی حیدرآباد سے داعش میں شامل ہونے کیلئے گھر سے لاپتہ ہونیوالی نورین لغاری نکلی ہے۔ حساس اداروں نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے پنجاب سوسائٹی میں کئے جانیوالے آپریشن کے ذریعے ایک دہشتگرد کو ہلاک جبکہ نورین لغاری کو حراست میں لے لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق تھانہ فیکڑی ایریا کے علاقے پنجاب سوسائٹی میں حساس اداروں نے خفیہ اطلاع پر دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کیا، جس میں ایک دہشتگرد ہلاک جبکہ اس کی خاتون ساتھی کو گرفتار کر لیا تھا، مبینہ طور پر داعش میں شامل ہونے کیلئے 10 فروری کو لاپتہ ہونیوالی لیاقت یونیورسٹی میڈکل کی سیکنڈ ائیر کی طالبہ نورین لغاری کے طور پر شناخت کی گئی ہے۔ حراست میں لی گئی دہشتگرد خاتون کے والد جامشورہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون نورین لغاری دو ماہ سے پنجاب سوسائٹی میں رہائش پذیر تھی جبکہ یہ ایسٹر کے موقع پر بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ حساس اداروں نے بروقت کارروائی کرئے ہوئے لاہور کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔

دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ مبینہ طور پر گرفتار ہونیوالی خاتون دہشتگرد حیدرآباد سے 2 ماہ قبل لاپتہ ہونیوالی سیکنڈ ائیر کی وہی طالبہ ہے، جس کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ انتہا پسند تنظیم داعش میں شامل ہونے کیلئے شام روانہ ہوگئی ہے۔ حیدرآباد سے لاپتہ ہونے کے بعد نورین لغاری نے اپنے گھر والوں کو پیغام دیا تھا کہ وہ اللہ کے فضل سے خلافت کی زمین پر خیریت سے پہنچ گئی ہے، جبکہ اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ اس کی بہن داعش میں شامل ہونے کیلئے نہیں گئی، اسے اغوا کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اس کے والد کا موقف تھا کہ نورین نمازی پرہیزگار ضرور تھی مگر اُس کی سوچ انتہاء پسندانہ نہیں، وہ 10 فروری کو معمول کے مطابق پوائنٹ میں بیٹھ کر یونیورسٹی گئی، تاہم واپس نہ آئی، خدشہ ہے کہ اُسے اغوا کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی اداروں کو نورین کے قبضے سے اس کے والد کا آئی ڈی کارڈ اور یونیورسٹی کا تعلیمی کارڈ بھی ملا ہے۔ دوسری طرف نورین لغاری کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ نورین لغاری کہاں اور کس حال میں ہے، ہم اب بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ داعش میں شامل ہونے کیلئے نہیں گئی بلکہ اسے اغوا کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نورین لغاری 10 فروری کو خود نجی بس میں بیٹھ کر لاہور روانہ ہوئی، اس کے فیس بک اکاؤنٹ پر انتہا پسندانہ مواد موجود تھا، جس پر فیس بک کی انتظامیہ نے اس کا اکاؤنٹ بھی بند کر دیا تھا، جبکہ حساس اور سکیورٹی ادارے نورین کی پُراسرار گمشدگی کے بعد اس کی تلاش میں کافی سرگرم تھے۔ نورین کے والد نے تھانہ جامشورو میں اس کی اغواء کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ جامشورو سندھ یونیورسٹی سوسائٹی سندھ کا وہ علاقہ ہے، جہاں کا لٹریسی ریٹ 100 فیصد ہے۔ اس سوسائٹی میں اکثریت سندھ کی لبرل کلاس رہتی ہے۔ اگر وہاں کی کوئی لڑکی اس طرح پکڑی گئی ہے تو یہ حیدرآباد والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ سکیورٹی اداروں کے ذرائع نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہشت گرد اب مدارس میں نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی اور لمز میں موجود ہیں۔

ایک اعلٰی افسر کے بقول اب ہمیں دہشتگردوں کی شناخت میں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ دہشتگردوں نے اب غریب طبقے کو استعمال کرنے کے بجائے لبرل کلاس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور بڑی بڑی یونیورسٹیز میں دہشتگردوں کے حامی اور سہولت کار حتٰی خود دہشتگرد بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب غیر جانبدار حلقے یہ کہتے کہ یہ سلسلہ تب سے شروع ہوا، جب سے تبلیغی جماعت تعلیمی اداروں میں داخل ہوئی۔ تبلیغی جماعت تبلیغ کی آڑ میں لوگوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہے اور پھر نوجوانوں کی برین واشنگ کرکے انہیں دہشت گردی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت اگر ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہے تو تبلیغی جماعت پر مکمل پابندی عائد کرنا ہوگی، کیونکہ
کواکب ہیں کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں بازی گر دھوکہ کھلا
خبر کا کوڈ : 628076
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش