0
Tuesday 8 Aug 2017 12:49

سانحہ 8 اگست، کیا سپریم کورٹ اپنے وکلاء کو انصاف دے پائیگی؟

سانحہ 8 اگست، کیا سپریم کورٹ اپنے وکلاء کو انصاف دے پائیگی؟
رپورٹ: نوید حیدر

بعض اوقات زہن میں یہ سوچ ابھرتی ہے کہ کہیں سلطنت روما کا ڈراما اکیسویں صدی میں ایک نئے انداز سے تو نہیں کھیلا جارہا۔؟ وہ ماضی کے روما کا ڈرامہ پہلے میلینیم کا وحشیانہ کھیل تھا۔ جہاں جنگ کیلئے تربیت یافتہ قیدیوں (Gladiators) کو شیروں اور چیتوں سے لڑایا جاتا تھا اور بعض اوقات ان قیدیوں کو آپس میں بھی لڑایا جاتا تھا۔ تاکہ وہاں پر موجود ہجوم کو مشغول رکھا جائے۔ چونکہ اس وقت کی روما سرکار بیروزگاروں کو روزگار نہیں دلا سکتی تھی۔ ایسا وحشتناک ڈرامہ رچا کر انکی توجہ بھوک اور بیروزگاری سے ہٹا دی جاتی تھی۔ جسکی تصدیق اسوقت کے تاریخ دانوں اور دانشوروں نے کی ہے۔ اسی لئے مجھے ایسا لگتا ہے کہ آج کے سیاسی گلیڈئیٹرز کو میدان میں ایک نادیدہ قوت نے اتارا ہے اور خود اس دھنگا مشتی کا نظارہ دور سے دیکھ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پانامہ لیکس کا مقدمہ کچھ اس طرح کا کھیل ہے، تاکہ بیروزگاروں اور محروموں کی توجہ روزگار کے مسائل سے ہٹاکر پانامہ کیس پر مرکوز کرائی جائے۔ کیونکہ پانامہ کے ایک دو دن کا مقدمہ آٹھ مہینے تک چلتا رہا۔ شروعات پامانہ سے ہوئی اور اختتام خیلجی ملک پر ہوا۔ جہاں پر وزیراعظم نواز شریف بے تنخواہ بورڈ کے چئیرمین نکلے اور آخر کار یہ الزام لگایا گیا کہ اس اہم راز کو چھپانے کی بناء پر نواز شریف صادق اور امین نہ رہے۔ اب اس مقدمے کو ایک دو دن کا کام اس لئے کہا گیا کیونکہ بلوچستان کے علاقے ژوب اور مغل کوٹ روڈ (N-50) پر جاکر صادق اور امین کا فیصلہ باآسانی ہوسکتا تھا۔ کیونکہ مذکورہ روڈ ایشیائی ترقیاتی فنڈ سے تعمیر ہورہا ہے، جبکہ اسے نواز شریف صاحب نے سی پیک کا مغربی حصہ قرار دیا تھا۔ اگر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چئیرمین سے اس بات کی تصدیق ہوتی تو اس طرح صادق اور امین کا فیصلہ دو دن میں ہوجاتا۔ نہ خلیجی ملک جانے کی کوئی ضرورت پڑتی اور مہینوں کے بحث وتکرار سے بھی نجات مل جاتی۔

اس طرح آئین کے آرٹیکل 62 (f) کی گرفت میں بھی آجاتے۔ وقت کی اہمیت کو یہاں پر اس لئے اجاگر کیا گیا کیونکہ پانامہ کیس سے تو زیادہ مقدم کوئٹہ کے شہید وکلاء اور دہشتگردی کے دیگر واقعات میں شہید ہونے والے سینکڑوں شہریوں کا مقدمہ ہے۔ جسکا سو موٹو نوٹس ایک سال کے لگ بھگ سپریم کورٹ نے لے رکھا ہے۔ اس پانامہ کیس کیوجہ سے کوئٹہ کے وکلاء شہداء اور شہری شہداء کا کیس دب کر رہ گیا ہے۔ یہاں پر اُسی وکلاء کیس کی بات ہورہی، جو ٹھیک ایک سال قبل 8 اگست 2016ء کو کوئٹہ میں رونماء ہوا تھا۔ اس دن صبح 8 بجکر 45 منٹ پر دن دہاڑے منو جان روڈ پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک بلال انور کاسی کو انکی گاڑی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اسکے بعد جب مقتول کی لاش کو سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا تو وکلاء برادری کی بڑی تعداد کی موجودگی میں ایک خودکش دھماکہ ہوا، جسکے نتیجے میں 56 وکلاء شہید اور 90 کے قریب زخمی ہوئے۔ اس سانحے کے ماسٹر مائنڈ کی منصوبہ بندی کو نظر انداز نہیں جاسکتا۔ اس سانحے کے سہولتکاروں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ 13 اگست 2016ء کو وکلاء برادری یعنی بلوچستان بار اسوسی ایشن کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ جس میں چار پینل حصہ لے رہے تھے۔ ان میں سے ایک پینل کی سربراہی شہید باز محمد کاکڑ ایڈوکیٹ کر رہے تھے، جوکہ ایک معروف وکیل تھے۔ جنہوں نے وکلاء تحریک اور بلوچ مسنگ پرسنز کے حوالے سے بھی خاصی جدوجہد کی تھی۔ دوسرے پینل کے سربراہ عبدالرؤف عطا ایڈوکیٹ تھے، جوکہ دو پینلوں کے مشترکہ امیدوار تھے۔ اسی طرح تیسرے پینل کے سربراہ بلال کاسی ایڈوکیٹ تھے، جنہیں سب سے پہلے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس سانحے میں جو وکلاء شہید ہوئے، انکا تعلق بھی انہیں پینلز سے تھا۔ وکلاء کو نشانہ بنانے والے اس بات کا ادراک رکھتے تھے، کہ انتخابی مہم کے سلسلے میں تمام سینئیر وکلاء ہائیکورٹ میں موجود ہونگے اور ایک ساتھی کی ٹارگٹ ہونے کی خبر سنتے ہی سب ہسپتال میں جمع ہوجائینگے۔ دھماکے کے بعد ہمیشہ کی طرح حکومت نے واقعے کا سارا ملبہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" پر ڈال دیا۔ جبکہ بعض حکومتی حلقوں کیجانب سے اسے پاک چین اقتصادی راہداری کیخلاف سازش قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونیوالے تحقیقاتی کمیشن کی بھی کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے اور سانحہ آٹھ اگست کا ازخود نوٹس کیس آج بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ بدقسمتی سے ایک سال گزرنے کے باوجود بلوچستان ایسوسی ایشن کے صدر شہید بلال انور کاسی کے ٹارگٹ کلروں کو اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ جب گرفتاری عمل میں نہیں‌ آئی، تو مقدمہ کیا خاک چلے گا۔؟ 10 دسمبر 1948ء کے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کے آرٹیکل 3 میں ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے اور وہ جان کی حفاظت اور آزادی کا حق رکھتا ہے۔ یہی حقوق آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 میں بھی درج ہیں۔ جسکے مطابق کسی شخص کو اس کے زندہ رہنے کے حق اور آزادی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔

مگر اسکے باوجود 56 وکلاء اور 26 شہریوں کو زندہ رہنے کے حق سے ایک خودکش حملہ آور نے محروم رکھا۔ خودکش حملہ آور کے پرخچے تو اڑ گئے، لیکن اسکے سہولت کار آج تک گرفتار نہ ہوسکے۔ ازخود نوٹس کیس کے جج صاحبان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ بلال انور کاسی کی شہادت کے بعد سول ہسپتال جانے کے تمام راستے بند کردینے چاہیئے تھے۔ اور یہ ذمہ داری پولیس اور ایف سی کی بنتی تھی کہ ہسپتال جانے کے تمام راستے بند کردیئے جاتے۔ اگر اسطرح ہوتا تو وکلاء اور شہریوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھی۔ وکلاء صاحبان اور سول سوسائٹی خصوصاً سپریم کورٹ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وکلاء کا مقدمہ جو سپریم کورٹ نے اپنے سر لیا ہے، یعنی سپریم کورٹ نے جو سو موٹو نوٹس لیا ہے، اسے بغیر کسی تاخیر کے آخری نتیجہ تک پہنچایا جائے گا۔ اور واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزاء دی جائے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو شہداء کے لواحقین یہی سمجھے گے کہ انکے پیاروں کا اصل قاتل ہماری ہی قوم کی اجتماعی بے حسی ہے۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان سے یہ توقع ہے کہ وہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے نقش قدم پر چلیں گے، نہ کہ چیف جسٹس منیر احمد کی راہ اپنائینگے۔ جس میں چیف جسٹس منیر احمد نے خود تسلیم کیا تھا کہ انکا فیصلہ مولوی تمیز الدین خان کیس میں سیاسی تھا۔
خبر کا کوڈ : 659503
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب