0
Thursday 17 Aug 2017 23:21

کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز اور گاڑی چور بے لگام

کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز اور گاڑی چور بے لگام
رپورٹ: ایس ایم عابدی

کراچی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا چھیننا یا چوری کیا جانا اسٹریٹ کرائم کے بعد دوسرا بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے، اس جرم کو روکنے کیلئے اے سی ایل سی کے نام سے ایک خصوصی سیل بھی بنایا گیا، مگر شہریوں کو اس عذاب سے چھٹکارا نہیں ملا۔ رواں سال اب تک 923 گاڑیاں اور 16 ہزار کے لگ بھگ موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کی جا چکی ہیں۔ گاڑی یا موٹر سائیکل کا چھن جانا اور چوری ہونا بھی کراچی میں معمول کی بات ہے۔ پولیس کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ 2013ء میں 4 ہزار 497، 2014ء میں 3 ہزار 844، 2015ء میں 2 ہزار 131، 2016ء میں ایک ہزار 749 جبکہ اس سال 923 گاڑیاں چھینی یا چوری کی گئیں۔ 2013ء میں 23 ہزار 197، 2014ء میں 22 ہزار 456، 2015ء میں 20 ہزار 953، 2016ء میں 24 ہزار 853 جبکہ اس سال اب تک 15 ہزار 823 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کی جا چکی ہیں۔ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق 2014ء میں 3 ہزار 843، 2015ء میں 2 ہزار 142، 2016ء میں ایک ہزار 781 جبکہ اس سال اب تک 955 گاڑیاں چھینی یا چوری کی جاچکی ہیں، جبکہ 2014ء میں 22 ہزار 430، 2015ء میں 20 ہزار 930، 2016ء میں 24 ہزار 848 جبکہ اس سال اب تک 16 ہزار 303 موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی جا چکی ہیں۔ کراچی سے چوری یا چھینے جانے والی گاڑیوں کی بڑی منڈی بلوچستان یا خیبر پختونخوا ہے جبکہ موٹر سائیکلیں اندرون سندھ اور دوسرے شہروں میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق چنگ چی رکشے بھی چھینی یا چوری شدہ موٹر سائیکلوں سے بنتے ہیں۔

شہر کے 52 مقامات کو اسٹریٹ کرائم کیلئے حساس ترین قرار دیدیا گیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے 52 مقامات کو اسٹریٹ کرائم کے لئے حساس ترین قرار دے دیا ہے۔ ان میں ضلع غربی کے 8، وسطی کے 10، جنوبی کے 12، شرقی کے 14 اور ضلع ملیر کے 8 مقامات شامل ہیں۔ ضلع غربی میں 8 مقامات کو ڈاکووں کا آسان ترین ہدف قرار دیا گیا ہے، ان میں افضاء الطاف برج، ہینو برج، ضیاء موڑ، میٹرویل کے علاوہ رشید آباد، دربار موڑ، ماڑی پور روڈ، غنی چورنگی اور شیر شاہ چوک بھی حساس مقامات میں شامل ہیں۔ ضلع وسطی کے 10 مقامات کو ڈاکووں کا پسندیدہ مقام قرار دیا گیا ہے، ان میں قلندریہ چوک، فائیو اسٹار چورنگی، عائشہ منزل، مینا بازار کریم آباد اور سخی حسن چورنگی، ناگن چورنگی، شفیق موڑ، سہراب گوٹھ، واٹر پمپ چورنگی اور ناظم آباد گول مارکیٹ شامل ہے۔ کراچی کے ضلع جنوبی کے 12 مقامات کو اسٹریٹ کرائم سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے، جن میں دو دریا، پنجاب چورنگی، بوٹ بیسن چورنگی، گزری، خیابان مجاہد اور شاہین انٹرسیکشن، زمزمہ پارک، خیابان شاہین اور شہباز کا انٹرسیکشن، خیابان شمشیر کھڈا مارکیٹ، سی ویو، چارٹڈ اکاونٹنٹ ایونیو اور گزری بلیوارڈ شامل ہیں۔

اسٹریٹ کرائم کے لئے حساس ترین قرار دیئے ضلع شرقی کے 14 مقامات میں ٹیپو سلطان شہید ملت انٹرسیکشن، ناہید اسٹور ٹریفک سیکشن، نیپا فلائی اوور، ابوالحسن اصفہانی روڈ، ڈالمیا روڈ، بلوچ کالونی برج، حسن اسکوائر سے عیسٰی نگری تک، پرانی سبزی منڈی، بہادر آباد چورنگی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طارق روڈ اور اطراف کا علاقہ، دھوراجی، جیل چورنگی اور اطراف، ملینیئم مال اور خالد بن ولید روڈ بھی حساس قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں ضلع ملیر کے بھی 8 مقامات اسٹریٹ کرائم کے لئے بدنام ہیں، ان میں بکرا پیڑی روڈ، نیشنل ہائی وے پر منزل پمپ، میمن گوٹھ، بھینس کالونی، سنگر چورنگی 9000 روڈ کے علاوہ فیوچر کالونی موڑ سے داود چورنگی جانے والا راستہ، کورنگی کریک اور اطراف کا راستہ جبکہ مزار کورنگی کے قریب شاہ فیصل برج شامل ہے۔
خبر کا کوڈ : 662105
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے