1
Thursday 31 Aug 2017 11:59

دعائے عرفہ کے چند اقتباسات کی تشریح

دعائے عرفہ کے چند اقتباسات کی تشریح
تحریر: ساجد مطہری

دعائے عرفہ کا شمار ماثور اور معتبر دعاؤں میں ہوتا ہے، جو مفاتیح الجنان سمیت دعاؤں کی تمام معتبر کتابوں میں نقل ہے، امام حسین (ع) نے اس دعا میں دینی تعلیمات کو کوزے میں سمندر کی مانند سمو دیا ہے، اس دعا کی اہمیت بہت زیادہ ہے، یہاں تک کہ احادیث میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے، تاہم اگر کوئی شخص بیماری اور ضعف و ناتوانی کی وجہ سے یہ دعا نہیں پڑھ سکتا تو اسے روزہ رکھنے کے بجائے دعائے عرفہ پڑھنی چاہیے۔ اس دعا کا ہر لفظ اور ہر کلمہ بے شمار معارف سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ ’’کلام الامام امام الکلام‘‘ ہوتا ہے، ہم اس وقت دعائے عرفہ کے چند اقتباسات کی تشریح پر اکتفاء کرتے ہیں۔

1۔ معرفت شھودی
معرفت، دلیل اور برھان کی دو قسمیں ہیں، انی اور لمّی، جب معلول کے ذریعہ علت کا ادراک ہو جائے تو اسے برھان انّی کہا جاتا ہے، جیسے دھویں سے آگ کا پتہ لگانا اور جب علت سے معلول کا کھوج لگایا جائے تو اسے برھان لمّی سے تعبیر کیا جاتا ہے، شھود اور معرفت کی سب سے اعلٰی قسم یہی ہے۔ اللہ تعالٰی کے وجود پر بھی دلیلیں دو طرح کی ہیں، عام طور پر کہا جاتا ہے کہ برھان نظم و ۔۔۔ خدا کے وجود پر دلیل ہیں، لیکن یہ معرفت کا ادنٰی مرتبہ ہے، امام حسین (ع) دعائے عرفہ میں فرماتے ہیں کہ اے میرے معبود! میں اس کائنات میں جو کچھ بھی دیکھتا ہوں، مجھے ہر شے میں تیرا ہی جلوہ نظر آتا ہے، یہ ساری مخلوق تیری ہی ذات کی کرشمہ سازی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ آپکے علاوہ دوسری کسی شے کا وجود ہی نہیں ہے کہ میں اس کے ذریعے آپکے وجود کا ادراک کرسکوں اور کیونکر وہ دوسری شے آپ تک پہنچنے کے لئے دلیل بن سکتی ہے، حالانکہ وہ وجود میں آنے کے لئے بھی تیری عطا کی محتاج ہے،"كَيْفَ يُسْتَدَلُّ عَلَيْكَ بِما هُوَ فى وُجُودِهِ مُفْتَقِرٌ اِلَيْكَ اَيَكُونُ لِغَيْرِكَ مِنَ الظُّهُورِ ما لَيْسَ لَكَ حَتّى يَكُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَكَ مَتى غِبْتَ حَتّى تَحْتاجَ اِلى دَليلٍ يَدُلُّ عَليْكَ وَمَتى بَعُدْتَ حَتّى تَكُونَ الاْ ثارُ هِىَ الَّتى تُوصِلُ اِلَيْكَ" کیونکر وہ چیز تیری رہنمایی کرسکتی ہے، جو اپنے وجود میں ہی تیری محتاج ہے، آیا تیرے سوا کسی اور شے کے لئے ایسا ظہور ہے، جو تیرے لئے نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ تجھے ظاہر کرنے والی بن جائے؟ تو کب غائب تھا کہ کسی ایسے نشان کی حاجت ہو، جو تیری دلیل ٹھرے، تو کب دور تھا کہ آثار اور نشان تجھ تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنیں، پروردگار! میں تو جہاں بھی دیکھتا ہوں وہاں تیری ہی ضیاء آفشانی ہے۔ پروردگار! عَمِيَتْ عَيْنٌ لا تَراكَ عَلَيْها رَقيباً، اندھی ہے وہ آنکھ جو تجھ کو اپنا نگھبان نہیں پاتی، جیسا کہ ایسے ہی کلمات امام زین العابدین (ع) نے دعائے ابوحمزہ ثمالی میں ارشاد فرمائے ہیں: الھی بِکَ عَرَفْتُکَ وَ أَنْتَ دَلَلْتَنِی عَلَیْکَ وَ لَوْلا أَنْتَ لَمْ أَدْرِ مَا أَنْتَ، پروردگار! میں نے تجھے تجھ ہی کے واسطے سے پہچانا اور اس راہ میں آپ نے ہی میری رہنمائی فرمائی، اگر آپ نہ ہوتے تو میں ہرگز نہ پہچان پاتا کہ آپ کون ہیں!

2۔ حقیقی محبت
عشق اور محبت، انسانی فطرت میں شامل ہے، ہر انسان کمال کی حامل شے سے محبت کرتا ہے، کمال حقیقی اللہ تعالٰی کی ذات ہے، لٰہذا امام حسین (ع) اللہ تعالٰی کے عشق میں فانی ہو کر دنیا کی ہر شے پر اپنے محبوب کی رضا کو مقدم کرتے ہیں، فرماتے ہیں: ماذا وَجَدَ مَنْ فَقَدَکَ وَمَا الَّذی فَقَدَ مَنْ وَجَدَکَ، پروردگار! اس نے کیا پایا جس نے تجھے کھویا اور اس نے کچھ نہ کھویا، جس نے تجھ کو پایا، یعنی اگر کسی شخص کو بظاہر پوری کائنات ہی نصیب ہو، لیکن جب اس سے اللہ راضی نہیں ہے تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں، اس کا خزانہ خالی ہے، لیکن اگر اسے اپنے ربّ کی رضا حاصل ہو جائے اور بظاہر دنیا کے مال و متاع سے اس کا ہاتھ خالی ہے تو گویا اسے سب کچھ مل گیا ہے۔ امام عالی مقام نے کربلا کے میدان میں محبوب کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنے محبوب کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا دیا۔ فرمایا:
تَرَکْتُ الْخَلْقَ طُرّافی هَواکا
وَاَیْتَمْتُ الْعِیالَ لِکَیْ اَراکا

میں نے ساری مخلوق کو آپ کی محبت میں چھوڑ دیا اور میں نے اپنے بچوں کو یتیم کیا، تاکہ تجھے پاؤں۔ البتہ بعض اوقات انسان کمال کی تشخیص میں غلطی کرتا ہے اور وہ ایک ایسی شے کو کمال سمجھ بیٹھتا ہے، جو کمال نہیں ہوتی اور شیطان سبز باغ دکھا کر دنیا کے لالچ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ امام عالی مقام اس نکتے کی طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں: خَسِرَتْ صَفْقۃُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَهُ مِنْ حُبِكَ نَصيباً! اس بندے کا سودا خسارے والا ہے، جس کو تو نے اپنی محبت کا حصہ نہیں دیا۔ یعنی کتنا بدنصیب اور بدقسمت ہے وہ شخص، جو دنیا کی رنگینیوں میں محو ہوکر ساری زندگی گناہوں اور عیاشیوں میں صرف کرتا رہے، لیکن اسے اس خالقِ یزداں کی محبت کا تھوڑا حصہ بھی نصیب نہ ہو، جو سراسر کمال ہی کمال ہے۔

3۔ خوف الٰھی
عام طور پر انسانوں سے گناہ تب سرزد ہو جاتے ہیں، جب وہ یاد الٰہی سے غافل ہو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی دیکھ رہا ہے، لٰہذا سیدالشھداء حضرت امام حسین (ع) نے ہمیں گناہ نہ کرنے اور خدا کو حاضر و ناظر جاننے کا ایک بہترین فارمولہ بتا دیا ہے، فرماتے ہیں: اَللَّهُمَّ اِجْعَلْنِي أَخْشَاكَ كَأَنِّي أَرَاكَ، اے اللہ! مجھے ایسا ڈرنے والا بنا دے گویا تجھے دیکھ رہا ہوں، یعنی جب بھی میرا نفس گناہ کی طرف رغبت پیدا کرے اور شیطان مجھے گناہ کرنے پر اکسائے تو اس وقت میں تجھ سے ایسے ڈروں گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں، اگر کسی شخص کو یہی تفکر اور توجہ عبادت میں بھی نصیب ہو جائے تو یہی عبادت انسان کو معراج پر پہنچاتی ہے، امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں: أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُفَإِنْ لم تَکُنْ تَرَاہُ فإنہ یَرَاکَ، اپنے ربّ کی ایسی عبادت کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور تو اسے دیکھ نہیں سکتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔

4۔ شکرگزاری
نعمت دینے والے کا شکر ادا کرنا عقل سلیم اور انسانی فطرت کا تقاضا ہے، تاہم امام حسین (ع) ایک باریک اور ظریف نکتے کی طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں کہ انسان بھلا ایسے منعم کا شکر کیسے بجا لا سکے گا، جس کے بدن کے اعضاء بھی ذات کردگار کی دی ہوئی امانت ہیں اور چہ بسا انسان اسی امانت کا بھی لحاظ نہیں رکھتا اور اسے منعم کی نافرمانی میں استعمال کرتا ہے۔ فرماتے ہیں: پروردگار! پس کیا چیز لے کر تیرے سامنے آوں، آیا اپنے کان، اپنی آنکھ، اپنی زبان یا اپنے پاؤں، کیا سب میرے پاس تیری نعمتیں نہیں ہیں؟ اور ان سب کے ساتھ میں نے تیری نافرمانی کی، پس تیرے پاس میرے خلاف حجت اور دلیل ہے، کیف و انیٰ ذالک و جوارحی کلھا شاھدۃ علی بما قد عملت، حالانکہ یہی اعضاء میرے اعمال پر شاھد اور گواہ ہیں۔ درحقیقت! انسان جب اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے اور شیطان کے جال میں پھنس جاتا ہے تو وہ اپنے عظیم ترین گناہ بھی بھول جاتا ہے یا اس کی توجیہ کرنے لگتا ہے اور اس کے مقابلے میں اسے اپنی معمولی نیکیاں بھی بہت بھلی لگتی ہیں، حالانکہ اسکا یہ کم عمل بھی ریا اور دکھاوے سے خالی نہیں ہوتا، امام عالی مقام (ع) فرماتے ہیں: من کانت محاسنہ مساوی فکیف لاتکون مساویہ مساوی، جس شخص کی خوبیاں بھی برائیاں تو اس کی برائیاں کیوں نہ برائیاں شمار کی جائیں گی۔

5۔ عیبوں کی پردہ داری
کتنا ستارالعیوب ہے وہ ربّ جو بار بار گناہ کرنے پر بھی انسان کا عیب آشکار نہیں کرتا، حالانکہ اگر انسان کے یہ گناہ اسکے اپنے قریبی عزیر و آقارب کے سامنے ظاھر ہو جائیں تو وہ ضرور اس کے ساتھ تعلقات اور ناطہ توڑ دیں گے، امام حسین (ع) فرماتے ہیں: عَظُمَتْ خَطیئَتی فَلَمْ یفْضَحْنی وَ رَآنی عَلَی الْمَعاصی، عظیم گناہ مجھ سے سرزد ہوئے، لیکن آپ نے مجھے رسوا نہیں کیا اور مجھے گناہ کرتے دیکھ لیا، لیکن پھر بھی میرے گناہ کو برملا نہیں کیا۔ البتہ یہ پردہ داری اس دنیا تک محدود ہے، تاکہ انسان توبہ کرلے، لیکن آخرت کو ’’تبلی السرایر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، جس میں تمام مخفی اور پوشیدہ راز آشکار ہو جائیں گے اور ’’فزع اکبر‘‘ عظیم رسوائی کا نام بھی کہا گیا ہے، جب سب انسان ایک دوسرے سے بھاگنے لگیں، کیونکہ مخفی راز کھل جائیں گے۔ دعا ہے! اللہ تعالٰی امام حسین (ع) کے صدقے دنیا اور اخرت میں ہمیں عظیم رسوائی سے حفظ و امان میں رکھے!
خبر کا کوڈ : 665774
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے