1
0
Sunday 15 Oct 2017 14:08

متحدہ مجلس عمل کو ضرور بحال ہونا چاہیے مگر۔۔۔

متحدہ مجلس عمل کو ضرور بحال ہونا چاہیے مگر۔۔۔
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کے لئے کی جانے والی تمام کوششیں وقت کا تقاضا ہیں۔ خطے میں پچھلے پنتیس سال سے مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں، نفرت آمیز مواد پر مبنی کتابیں اور تقریریں معاشرے کے سکون کو غارت کر رہی ہیں۔ بین الاقومی قوتیں بھی وطن عزیز میں کھل کر اپنے کھیل کا آغاز کرچکی ہیں، امریکہ پہلے اندرونی میٹنگوں میں ڈو مور کا کہتا تھا، اب اس نے علی الاعلان آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔ افغانستان کے راستے انڈیا نے بلوچستان میں مداخلت شروع کر رکھی ہے، کئی ایسے گروہ  پکڑے جا چکے ہیں، جن کے تانے بانے جلال آباد کے انڈین قونصل خانے اور کابل کے انڈین سفارتخانے سے ملتے ہیں۔ داعش کو افغانستان باقاعدہ منصوبے کے تحت لانچ کیا جا رہا ہے۔ سابق افغان صدر کا بیان امریکہ کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں انہوں نے افغانستان میں داعش کے پھیلاؤ کا براہ راست ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے الیکشن اصطلاحات جاری ہیں، جن میں قادیانیوں کے حوالے سے طے شدہ امور کو چھیڑا گیا، اگرچہ بعد میں یہ اسے اصلی حالت میں بحال کر دیا گیا، اب صورتحال یہ ہے کہ بعض گروہ اس مسئلہ کو لیکر انتہا پسندانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، بات ابھی تک تقریر و تحریر تک محدود ہے، ایک لاوا پک رہا ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ کر سابق گورنر کے قتل جیسے کسی واقعہ پر منتج ہوسکتا ہے۔ اسی واقعہ کی آڑ میں کچھ مسلکی اختلافات بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں، شیعہ سنی اختلاف کے لئے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا اور وصال ٹی وی اردو جیسے چینلز کا استعمال ہو رہا ہے، جس سے نفرتیں جنم لے سکتی ہیں۔

اس گھمبیر صورتحال کے پیش نظر مذہبی قائدین کے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ چھوٹے موٹے اختلافات کو نظر انداز کرکے بڑا مقاصد کے حصول کیلئے متحد ہو جائیں۔ ان کا یہ اتحاد حکم قرآنی کے تحت ہونا چاہیے۔ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔" متحدہ مجلس عمل پاکستان کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے درمیان موجود دوریوں کو ختم کرنا ہونا چاہیے۔ جب ایم ایم اے بنی تھی تو اس مقصد پر کافی کام ہوا تھا، جس کے اثرات نچلی سطح پر منتقل ہوئے تھے، جو آج تک برقرار ہیں۔ آج متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اجلاس اتنے خوشگوار موڈ میں منعقد ہو جانا بھی اسی کے اثرات میں سے ہے۔ نئے چیلنجز درپیش ہیں،  پہلے لوگ چند مسالک کی حد تک تقسیم تھے، اب تقسیم کا یہ عمل مزید گہرا ہوچکا ہے، مسالک سے نئے مسالک نکل رہے ہیں، اس لئے متحدہ مجلس عمل کو ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے،جو اس توڑ پھوڑ کو روکے۔

کوئٹہ کے حالات کئی سالوں سے مسلسل خراب چلے آ رہے ہیں، کچھ وقفہ آتا ہے اور اس کے بعد پھر سے معصوم انسانوں کا قتل عام شروع ہو جاتا ہے۔ اب وہ چہرے، ادارے اور علاقے پوشیدہ نہیں رہے، جہاں سے یہ لوگ آتے ہیں اور جہاں قتل عالم کرنے کے بعد پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔ اب سوشل میڈیا پر وہ ویڈیوز بھی موجود ہیں، جن میں وہ سینچریاں کرنے پر فخر کر رہے ہیں اور مزید کرنے کے اعلانات بھی کر رہے ہیں۔ ہزارہ برادری کے قتل عام کی کئی اور وجوہات ہوں گی، مگر بنیادی وجہ مذہبی اور مسلکی اختلاف ہی بیان کی جاتی ہے۔ اسی طرح کراچی اور  گلگت میں بھی ٹنشن موجود ہے۔ متحدہ مجلس عمل اپنے بنیادی منشور میں یہ بات طے کرے کہ وہ ان مسائل کی مذہبی بنیادوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی، جن کی وجہ سے معصوم لوگوں کا قتل عام ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا اور عام حالات میں دیکھا گیا ہے کہ تکفیری اور دوسرے مسالک کے قتل عام کے اعلان کرنے والے گروہ بھی متحدہ مجلس عمل میں شامل گروہوں کا کندھا استعمال کرتے ہیں، ایسے گروہوں سے لاتعلقی بہت ضروری ہے، تاکہ انہیں عملی طور پر معاشرے میں تنہا کر دیا جائے۔

متحدہ مجلس عمل کے مقاصد میں یہ بات ہونی چاہیے کہ گلی گلی میں کفر کے فتووں کی جو دکانیں کھلی ہیں، ان کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ نفرت جس مقام سے پھیل رہی ہو، اسے جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے۔ ہر مکتب فکر ایسے لوگوں کی بیج کنی کرے، جو اس اتحاد میں شامل کسی بھی مسلمان مسلک کی تکفیر کرتا ہے اور ایسے اداروں و شخصیات سے اجتماعی طور پر اعلان لاتعلقی کیا جائے، تاکہ کسی کو ایسے فتوے دینے کی جرات نہ ہو۔ خطے میں داعش کے ذریعے مذہبی بیانیہ پر بڑی جنگ کی تیاریاں ہو رہی ہیں، افغانستان میں طالبان کو بہت سے علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا ہے، افغان فوج بھی وہاں داخل نہیں ہوسکتی، بڑی تعداد میں جنگجو قوتیں داعش کے نام پر جمع ہو رہی ہیں اور یہ سب پاکستان سے ملحقہ علاقوں میں ہو رہا ہے، جیسے ہی انہیں وہاں تھوڑی مزید قوت حاصل ہو جائے گی، یہ فوراً عالمی استعمار کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی سرحد کو غیر محفوظ کرنے کی کوشش کریں گے، ابھی سے کئی چوکیوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ داعش کا مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان کے سیاسی و مذہبی روابط پاکستان کی سیاسی مذہبی قیادت سے کسی حد تک رہے ہیں، اس لئے وہ ایک حد سے آگے نہیں بڑھتے، مگر داعش کے پاکستان کی مقامی کسی مذہبی طاقت کے ساتھ اس طرح کے روابط نہیں ہیں۔ داعش کا بیانیہ ہی بے رحمانہ قتل و غارت ہے، حلب اور موصل اس کی بدترین مثالیں ہیں، جہاں شہری اور شہر دونوں برباد کر دیئے گئے۔ داعش کی تکفیری اور انسان دشمنی پر مبنی فکر کے سامنے مذہبی بیانیہ کو پیش کرنا متحدہ متحدہ مجلس عمل کے بنیادی مقاصد میں سے ہونا چاہیے۔

آپ سیاست کیجئے، تمام سیاسی جماعتوں کی طرح آپ کا بھی حق ہے، مگر ایک بات جو سیاست سے پہلے آپ کی ذمہ داری ہے اور جو سیاست سے بڑا مقصد ہے، وہ امت میں وحدت کا قیام ہے۔ امت میں وحدت تمام مذہبی قوتوں کی طاقت ہے، امت کا انتشار ملک و مذہب دونوں کے لئے خطرناک ہے، مگر متحدہ مجلس عمل کی بحالی فقط اور فقط سیاست کے لئے ایک بہت چھوٹا مقصد ہوگی، ویسے بحالی کا یہ فیصلہ اگر کچھ عرصہ پہلے ہو جاتا تو بہتر تھا۔ الیکشن کے نزدیک آنے پر اکٹھے ہونا یہ تاثر دے رہا ہے کہ سب اقتدار کے لئے اکٹھا ہو رہے ہیں۔ ایک اہم بات کی طرف توجہ رہنی چاہیے کہ جب آپ سیاست کر رہے ہیں تو اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کو ان کا حصہ دیں، مار سب لوگ کھائیں اور فروٹ صرف دو بڑی پارٹیاں کھا رہی ہوں، یہ اچھا نہیں۔ چھوٹی جماعتوں کو ابھی سے اس پر منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ ٹکٹوں سے لیکر حکومت کا اتحادی یا اپنی حکومت بننے کی صورت میں ان کو کیا ملے گا۔؟ ایک بات طے ہے کہ مسلمانوں کے قومی اور بین الاقوامی مسائل کا حل اتحاد میں ہے۔ امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ’’یدّ واحدہ‘‘ بن کر رہیں، تاکہ اپنے ممالک میں مداخلت کرنے والے مستکبرین و مستعمرین اور غیروں کے ہاتھ کاٹ سکیں۔ وطن عزیز میں جاری اضطراب کا حل بھی باہمی اتحاد میں ہے اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی اس خواہش کی تکمیل بھی:
منفعت ایک ہے اِس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
خبر کا کوڈ : 676814
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

اشرف حسین سراج گلتری
Europe
بالکل درست اور حق بات پر تجزیہ کیا ہے محترم ڈاکٹر نے