0
Thursday 26 Oct 2017 00:14

ٹلرسن کا دورہ عراق اور امریکی اہداف

ٹلرسن کا دورہ عراق اور امریکی اہداف
تحریر: میر قاسم مومنی

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا دورہ سعودی عرب اور ریاض میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی موجودگی اور امریکہ، عراق اور سعودی عرب کا سہ فریقی اجلاس عرب امریکی محاذ ایجاد کرنے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ جدید امریکی ڈاکٹرائن کے تحت مشرق وسطی ممالک سے متعلق ٹرمپ حکومت کی پالیسی اپنے بقول دشمن ممالک کے مقابلے میں دوست ممالک کو متحد اور منظم کرنے پر استوار ہے۔ امریکہ کا سب سے بنیادی مقصد عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعمیری رابطہ استوار کرنا ہے لہذا ہم خطے میں ایک عربی صہیونی امریکی محاذ تشکیل پاتا دیکھ رہے ہیں جس کا اصل مقصد خطے میں ایران کی سیاسی اور فوجی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

جیسا کہ امریکی وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے اس سہ فریقی اجلاس کا اہم مقصد عراق کو سعودی عرب کے قریب لانا اور ایران سے دور کرنا تھا۔ داعش کے خلاف جنگ کے بعد عراق ایک کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے اور اسے اپنے شہروں، کارخانوں اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کیلئے بین الاقوامی سطح پر مالی اور ٹیکنیکل مدد کی ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ اور سعودی عرب کی کوشش ہے کہ وہ عراق کو مالی مدد فراہم کرنے کے عوض خطے میں امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں میں اس کا ساتھ دینے جیسے مطالبات ماننے پر راضی کریں۔ امریکی حکام کے حالیہ دوروں کا مقصد حیدر العبادی کی سربراہی میں موجودہ عراقی حکومت کی جانب سے عراق کے سیاسی اور فوجی مستقبل اور حشد الشعبی کے بارے میں امریکہ اور سعودی عرب کی اعلان کردہ پالیسیوں کے بارے میں ردعمل کا جائزہ لینا تھا۔

ایک اور اہم نکتہ عراق میں 12 مئی 2108ء کو منعقد ہونے والے 14 ویں پارلیمانی انتخابات ہیں۔ عراق کی تمام سیاسی جماعتیں ان انتخابات میں حصہ لیں گی اور پارلیمنٹ کی زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کر کے آئندہ حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں گی۔ اس دوران سعودی عرب کی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد عراق کی سیاسی جماعتوں خاص طور پر شیعہ جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔ سید مقتدی صدر، عمار حکیم اور حیدر العبادی کو سعودی عرب آنے کی دعوت اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کو ریاض میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی دعوت انہیں کوششوں کا حصہ ہے جو مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے عراقی پارلیمانی انتخابات سے متعلق وسیع منصوبہ بندی کو ظاہر کرتے ہیں۔

دوسری طرف عراق کے زیر انتظام کردستان میں علیحدگی کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والی مشکلات عراقی عوام کے خلاف جدید اسرائیلی سازش کی نشاندہی کرتی ہیں۔ عراق اور عراقی عوام کے خلاف شروع ہونے والا یہ نیا منظرنامہ اصل میں عراق میں ایران کی موجودگی کے خلاف تشکیل پایا ہے اور اس کی بنیاد ایران فوبیا پر مبنی ہے۔ ریاض میں منعقدہ اجلاس میں عراقی رضاکار فورس حشد الشعبی کے خاتمے کی باتیں سنائی دیں۔ یہ درحقیقت سعودی صہیونی امریکی محاذ کی جانب سے عراق اور ایران کے خلاف نئی نفسیاتی جنگ کا آغاز ہے۔ اس سازش کا مقابلہ کرنے کیلئے عراق کی تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے آواز اٹھنی ضروری ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی جانب سے حشد الشعبی کے بارے میں بیان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی نے ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنانے کیلئے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ اسی طرح حشد الشعبی کے ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں صرف عراقی ہی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ بیان کہ ایرانی فوجی عراق میں داعش کے خلاف برسرپیکار ہیں درحقیقت ہمارے شہداء کی توہین ہے۔

اس تناظر میں ضروری ہے کہ عراقی عوام کو اس نئی صہیونی امریکی سازش سے آگاہ کیا جائے۔ عراق کی محب وطن سیاسی جماعتوں کو بھی پارلیمانی انتخابات سے پہلے آپس میں وسیع اتحاد تشکیل دینا چاہئے۔ امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کے اتحادی عراق میں بڑی سیاسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد عراق میں اقتدار شیعہ جماعتوں کے ہاتھ سے نکال کر سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی بعث پارٹی سے وابستہ عناصر کو سونپنا ہے تاکہ اس طرح ایران کے اثرورسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔
خبر کا کوڈ : 679262
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب