0
Thursday 23 Nov 2017 19:49

پاراچنار، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیلئے درپیش مسئلہ

پاراچنار، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیلئے درپیش مسئلہ
رپورٹ: روح اللہ طوری

کرم ایجنسی میں بیسیوں دیگر مسائل کے علاوہ ایک پیچیدہ مسئلہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مقامی رجسٹریشن کا بھی ہے۔ یہاں افغانستان سے گاڑیاں سمگل ہوکر خرلاچی، تری منگل، انزرکی کنڈاؤ، شہیدانو ڈنڈے اور شورکی بارڈر پر پاکستان میں لائی جاتی ہیں۔ کسٹم شدہ بیس تیس لاکھ کی گاڑی یہاں عام طور پر 4 سے لیکر 5 لاکھ روپے میں دستیاب ہوتی ہے، مگر یہاں کے عوام بھی کچھ عجیب مزاج کے مالک ہیں کہ اپنی پسند کی نئی نویلی گاڑی سال دو سال استعمال کرنے کے بعد نہایت کم قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں اور ہر ایک اسی تگ و دو میں ہوتا ہے کہ نئی سے نئی گاڑی خریدے، جبکہ ان گاڑیوں کی کوئی کسٹم رجسٹریشن نہیں ہوا کرتی۔ تاہم مقامی انتظامیہ نے تقریباً دس پندرہ سال قبل گورنر وقت کی اجازت سے مقامی سطح پر ایک ریکارڈ سا بنا دیا، جس میں غیر قانونی طور پر وارد شدہ تمام مقامی گاڑیوں کی تفصیلات درج کی گئیں۔ ہر گاڑی کا ماڈل، رنگ، انجن نمبر، چیسیس نمبر اور مالک کا نام وغیرہ لکھ کر اسے مقامی سطح پر ایک نمبر پلیٹ ایشو کی گئی۔ یوں ان گاڑیوں کو کرم ایجنسی کے اندر ایک طرح سے قانونی راستہ اور حل مل گیا۔ پہلی مرتبہ جو نمبر ایشو کئے گئے، وہ تحصیل کی بنیاد پر تین طرح سے تھے۔ یعنی UK123 ،LK123 اور CK123۔ اسکے بعد ایک مرتبہ پھر یہ مسئلہ پیدا ہوا تو پورے کرم کے لئے مشترکہ ایک نمبر جاری کیا گیا۔ جو B123 کے طرز کا ہے، جو اب بھی گاڑیوں پر لگا ہوا ہے۔

مگر اسکے بعد بھی ہزاروں نئی گاڑیاں وارد ہوئیں، جنہیں کسٹم شدہ تو درکنار، مقامی سطح پر بھی کوئی نمبر جاری نہیں ہوا۔ چند سال پہلے مقامی انتظامیہ نے ان گاڑیوں پر چھاپے مارنا شروع کئے۔ متعدد گاڑیوں کو پکڑ کر ضبط کر لیا گیا، مگر عوام خصوصاً بااثر لوگوں کے احتجاج پر ایک بار پھر اسکے لئے ایک طریقہ نکالا گیا۔ چنانچہ گذشتہ سال کرم ایجنسی میں چلنے والی تمام گاڑیوں کے لئے انٹری نمبر جاری کیا گیا۔ اس تازہ طریقے کے مطابق دیگر ضروری کوائف کے علاوہ گاڑی اور اسکے مالک کی تصویر کو بھی ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔ صرف نان کسٹم پیڈ ہی نہیں بلکہ اس انٹری نمبر کو کسٹم شدہ گاڑیوں کے لئے بھی لازمی قرار دیا گیا۔ اس مقصد کے لئے پاراچنار ائیر پورٹ میں ایک دفتر کھولا گیا۔ یوں تمام گاڑیوں کی رجسٹریشن یہاں پر ہوئی۔ مگر جس طرح ذکر کیا کہ نئی سے نئی گاڑی رکھنا بلا تفریق قوم قبیلہ یہاں کے لوگوں کی مشترکہ کمزوری ہے۔ چنانچہ اسے یہاں کے لوگوں کے مزاج اور تنوع پسندی پر حمل کریں یا حکومت کی کوتاہی کہ معاملہ ان قانونی گاڑیوں اور انکے لئے جاری شدہ نمبر پر رک نہیں گیا، بلکہ مزید نئی گاڑیوں کی درآمد جاری رہی۔ چنانچہ اسکے بعد بھی آج تک سینکڑوں مزید گاڑیاں کرم ایجنسی وارد کی جاچکی ہیں۔ تاہم اس مسئلے کی سب سے بڑی ذمہ داری مقامی سول بالخصوص فوجی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، جو پاکستان داخل ہوتے وقت بارڈر پر، کنڈیشن کے مطابق ہر گاڑی پر مخصوص حد تک فیس وصول کرتی ہے۔ اس وقت خرلاچی بارڈر پر 68 بلوچ رجمنٹ متعین ہے۔ خیال رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ایف سی کو مبینہ طور پر اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی کی بنیاد پر یہاں (پاک افغان بارڈر) سے بے دخل کرکے اسکی جگہ باقاعدہ فوج (68 بلوچ) کو تعینات کیا گیا ہے۔

مذکورہ بلوچ رجمنٹ نے دوبارہ ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ وہ یوں کہ پورے پاراچنار کے بجائے صرف خرلاچی جانے والے مین روڈ پر جپکی کلی اور کنج علی زئی پل کے مقام پر گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جاتی ہے اور کرم نمبر نہ رکھنے والی گاڑیوں کو روک کر حراست میں لیا جاتا ہے۔ حتٰی کہ ان گاڑیوں کو بھی پکڑا جاتا ہے جنہیں 68 بلوچ کی جانب سے انٹری نمبرز الاٹ کئے جاچکے ہیں، جو کہ ناانصافی پر مبنی اور ظالمانہ اقدام ہے۔ وہ یوں کہ پاکستان میں داخل ہوتے وقت ان گاڑیوں کو بارڈر پر ضبط کیوں نہیں جاتا، بلکہ اس وقت تو فی گاڑی 20 تا 40 ہزار روپے وصول کئے جاتے ہیں، پھر چند دن بعد انہیں انٹری پاس اور نمبر بھی فراہم کر دیا جاتا ہے اور کچھ ہی دن بعد انہی گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے۔ اب اس منطق کی کچھ سمجھ نہیں آتی۔ یہ بات اپنی جگہ پر اہم ہے کہ قانون قانون ہی ہوتا ہے۔ تاہم قانون کی پاسداری کا ذمہ سب سے زیادہ سرکار پر ہی عائد ہوتا ہے۔ وہ خود قانوں کا احترام نہ کریں تو عوام اسکا کیا لحاظ رکھیں گے۔ چنانچہ اس حوالے سے حکام و افسران بالا سے گزارش ہے کہ کرم ایجنسی میں اس نئی صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ گاڑیوں کے لئے ایک نیا قانون وضع کرے اور پھر ایک سرکولر جاری کرکے واضح کر دے کہ فلاں تاریخ کے بعد کسی گاڑی کو پاس جاری نہیں کیا جائے گا اور پھر عملاً بھی حکومت سب سے پہلے خود اس پر عمل پیرا ہوکر بارڈر پر کسی بھی گاڑی کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے۔ یوں نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
خبر کا کوڈ : 685306
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے