0
Saturday 25 Nov 2017 23:47

داعش، آغاز سے انجام تک

داعش، آغاز سے انجام تک
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان 2006ء میں واقع ہونے والی 33 روزہ جنگ درحقیقت ایک بین الاقوامی اور علاقائی جنگ تھی، جس میں خود اسرائیل کا کردار بین الاقوامی اور علاقائی کھلاڑیوں سے کم تھا۔ 33 روزہ جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی بعد یورپی روزنامے "اٹلانٹک" نے فاش کیا کہ حزب اللہ لبنان کے خلاف شدید جنگ کے آغاز کا فیصلہ 12 جولائی 2006ء کے دن لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر واقع عیتا الشعب نامی گاوں میں حزب اللہ لبنان کے کمانڈو ایکشن کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ یہ فیصلہ پہلے سے کیا جا چکا تھا اور اس کمانڈو ایکشن کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ وہ جنگ جو ستمبر 2006ء میں شروع ہونا تھی، وہ جولائی 2006ء میں شروع ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد خود اسرائیلی حکام نے واضح طور پر اعلان کیا کہ اس جنگ کے تمام تر اخراجات جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ایک عرب ملک اسرائیل کو دے چکا تھا۔ بعد میں شائع ہونے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہان میئر داگان اور بندر بن سلطان کی مشترکہ میٹنگ میں یہ طے پایا کہ اسرائیل حزب اللہ لبنان کے خاتمے کیلئے لبنان کے خلاف جنگ کا آغاز کرے تو اس کے تمام اخراجات سعودی عرب ادا کر دے گا۔

اس جنگ کے بارے میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکام حزب اللہ لبنان کی طاقت اور مہارت کے پیش نظر اس جنگ کے آغاز میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے تھے، لہذا جنگ شروع ہونے کے بعد ابھی 9 روز ہی گزرے تھے کہ اسرائیل نے جنگ روکنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن امریکہ نے اپنی جنگ طلب وزیر کنڈولیزا رائس کے ذریعے اسرائیلی وزیراعظم ایہوٹ اولمرٹ کو پیغام بھجوایا کہ جنگ جاری رکھے۔ یوں 33 روزہ جنگ درحقیقت امریکہ اور سعودی عرب کی حزب اللہ لبنان کے خلاف جنگ تھی۔ جب 33 روزہ جنگ میں بین الاقوامی اور علاقائی حامیوں کی بھرپور مدد کے باوجود اسرائیل کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تو ونگراڈ کے ایک گھاگھ جج کی سربراہی میں بعض تجربہ کار فوجی، انٹیلی جنس، سیاسی اور عدالتی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی، جسے حزب اللہ لبنان کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی شکست کی اصل وجوہات کے بارے میں تحقیق کا ٹاسک دیا گیا۔ اس کمیٹی نے کچھ عرصہ بعد اپنی رپورٹ پیش کر دی، جس میں اسرائیل کے خلاف حزب اللہ لبنان کی فتح کی اصل وجہ شام کے ذریعے ملنے والی فوجی اور سرزمینی مدد قرار دی گئی تھی۔ لہذا اس مسئلے سے نمٹنے اور خطے میں اسرائیل کی فوجی و سکیورٹی برتری برقرار رکھنے کیلئے شام میں "بنیادی تبدیلی" لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ونگراڈ کمیٹی کے اسٹریٹجک نقطہ نظر کی بنیاد پر شام میں سیاسی تبدیلی امریکہ، اسرائیل اور ان کے علاقائی اتحادیوں کے ایجنڈے کا حصہ بنی، جس کے بعد مذہبی دہشت گرد گروہوں کی تشکیل کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس مقصد کیلئے مقبوضہ فلسطین کے جنوبی صوبے بئر السبع کا ایک بڑا علاقہ دہشت گرد عناصر کی فوجی تربیت کیلئے مخصوص کیا گیا۔ اس وسیع ٹریننگ کیمپ میں دنیا بھر کے مختلف ممالک خاص طور پر عراق اور شام سے ہزاروں افراد کو جمع کیا گیا اور ان کی برین واشنگ کی گئی۔ دوسری طرف وہ سعودی وہابی مفتی جنہوں نے 33 روزہ جنگ کے دوران حزب اللہ لبنان کی کامیابی کیلئے دعا کرنے کو بھی حرام قرار دے رکھا تھا، سرگرم ہوگئے اور دہشت گرد عناصر کی برین واشنگ میں بھرپور حصہ لیا۔ ان مفتیوں نے دہشت گرد عناصر کیلئے اپنے مخالف شیعہ اور سنی افراد کے خلاف ہر قسم کا ہتھکنڈہ استعمال کرنے کو جائز قرار دے دیا۔ دوسری طرف امریکی اور اسرائیلی افواج نے ان دہشت گرد عناصر کو فوجی، انٹیلی جنس، ٹیلی کمیونیکیشن اور مدیریتی ٹریننگ فراہم کی۔ 2014ء میں اسرائیل کے ایک اعلٰی فوجی کمانڈر نے چینل 10 کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ہمارے تربیت یافتہ عناصر کا ایک فرد اسرائیل آرمی کے دس افسران سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

2010ء میں شام میں بنیادی تبدیلی لانے کے تمام مقدمات فراہم کر دیئے گئے تھے، لیکن اس منصوبے کا آغاز مناسب وقت تک موخر کر دیا گیا۔ جب نومبر 2010ء میں تیونس سے عرب خطے میں سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہوا تو ان تبدیلیوں نے بہت تیزی سے کئی عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایسے میں امریکہ اور اسرائیل کو اپنے منصوبے کیلئے بہترین موقع نظر آیا، اگرچہ شام حکومت اور دیگر عرب حکومتوں کے درمیان بہت زیادہ فرق پایا جاتا تھا۔ امریکی حکام نے شام کے بعض ہمسایہ ممالک اور متعدد عرب ممالک کی مدد سے تربیت یافتہ تکفیری دہشت گرد عناصر کے ذریعے شام میں سیاسی تبدیلی پر مبنی منصوبے کا آغاز کر دیا۔ عرب دنیا میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے کے ایک سال بعد پہلے مرحلے کے طور پر شام میں سیاسی سطح پر حکومت مخالف سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا، جو بعد میں سکیورٹی سرگرمیوں اور دھیرے دھیرے فوجی سرگرمیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے شام کا بڑا حصہ حکومت مخالف مسلح دہشت گرد عناصر کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ امر بذات خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس قدر شام کے حکومت مخالف عناصر کی ٹریننگ پر محنت کی گئی تھی۔

شام میں داعش کی پیشقدمی جاری تھی، جب 15 ماہ بعد حزب اللہ لبنان نے پہلی مرتبہ صوبہ حمص کے شمال مغرب میں واقع علاقے "القصیر" میں داعش اور النصرہ فرنٹ پر پہلی کاری ضرب لگائی اور اپنی فوجی برتری ثابت کر دی۔ القصیر کی آزادی کے نو ماہ بعد شام کے علاقے قلمون میں واقع قصبہ "یبرود" بھی دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑا لیا گیا۔ ان کامیابیوں کے بعد اسرائیل کے اعلٰی سطحی فوجی حکام شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں حزب اللہ لبنان کی ممکنہ کامیابی کی وارننگ دینا شروع ہوگئے۔ داعش کے بانی ممالک یعنی امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور ترکی نے حزب اللہ لبنان سے بچنے کیلئے اس تکفیری دہشت گرد تنظیم کو عراق میں سرگرمیاں بڑھانے کا حکم دیا۔ ان کے خیال میں عراق میں داعش زیادہ وسیع علاقے پر قبضہ کرسکتی تھی، جبکہ اس طرح شام اور عراق کے سرحدی علاقے داعش کیلئے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوسکتے تھے، کیونکہ ان کی نظر میں حزب اللہ لبنان اپنی سرحدوں سے زیادہ دور آنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی، لہذا عراق میں حزب اللہ لبنان کی موجودگی کا امکان بہت کم تھا۔ یوں یبرود کی جنگ میں حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں داعش اور النصرہ فرنٹ کی شکست کے تین ماہ بعد عراق کے سنی اکثریتی مغربی صوبے داعش کی یلغار کا نشانہ بنتے ہیں اور جون 2014ء میں عراق کے صوبے الانبار، نینوا، صلاح الدین، بابل، کرکوک اور دیالی پر داعش کا قبضہ ہو جاتا ہے۔ عراق میں داعش نے انتہائی شدت پسندی کا ثبوت دیا اور ایسے اقدامات انجام دیئے، جو وہ عام طور پر شام میں انجام نہیں دے رہی تھی، جس کی ایک مثال اسپائکر ایئرفورس اکیڈمی کے 1700 شیعہ کیڈٹس کا بے رحمانہ قتل عام تھا۔ یہ واقعہ 13 جون 2014ء کو عراق کے صوبے صلاح الدین میں پیش آیا اور داعش نے باقاعدہ اس کی ذمہ داری قبول کی۔

جس دن داعش نے عراق کے مرکزی اور مغربی صوبوں میں مجرمانہ اقدامات کا آغاز کیا، وہ ایک مجہول گروہ نہ تھا۔ اس سے پہلے داعش شام میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر چکی تھی اور سب اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کا اہلسنت مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن امریکی حکام نے عراق میں داعش کی سرگرمیوں اور اقدامات کو سنی عراقی شہریوں سے منسوب کرنے کی کوشش کی اور دہشت گرد عناصر کو ایسے سنی جوانوں کے طور پر پیش کیا، جو عراق میں حکمفرما نوری مالکی حکومت سے ناراض اور معترض تھے۔ اس امریکی موقف نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے اس کے تمام تانے بانے ظاہر کر دیئے اور ثابت ہوگیا کہ وائٹ ہاوس، پینٹاگون اور داعش ایک ہی ایجنڈے کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ جب عراق میں حکومت اور عوام نے داعش سے مقابلے کا عزم کر لیا اور جون سے ستمبر 2014ء کے درمیان ایرانی فوجی مشیروں کے ہمراہ عراق آرمی اور عوامی رضاکار فورس نے موثر کارروائیاں انجام دیں تو امریکی حکام نے فوراً پانسہ پلٹا اور نئی چال چلنے لگے۔ امریکہ نے عراق میں جاری فوجی سرگرمیوں پر اثرانداز ہونے کیلئے بین الاقوامی سطح پر داعش مخالف اتحاد تشکیل دے دیا۔ امریکی اتحاد کی جانب سے عراق میں فورس بھیجنے میں ایک سال کا عرصہ بیت گیا جبکہ امریکی اتحاد میں شامل فورسز نے داعش کے خلاف جنگ میں مدد دینے کی بجائے الٹا روڑے اٹکانا شروع کر دیئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ بلد اور تکریت میں داعش کے خلاف سرگرم عمل ایک ایرانی فوجی کمانڈر نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کو متنبہہ کیا کہ اگر ایک بار اور امریکی جنگی طیاروں نے ہوائی حملہ کیا تو وہ آپریشن وہیں ختم کر دیں گے۔

اگر ہم گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران داعش کے خلاف آپریشن میں امریکی فوجی مداخلت کا جائزہ لینا چاہیں تو ایک علیحدہ تحریر کی ضرورت پیش آئے گی، لیکن مختصر انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ داعش کی تشکیل سے لے کر اس کے خلاف فوجی کارروائی تک ہمیشہ امریکہ نے اس گروہ کی درپردہ حمایت اور مدد کی ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ داعش کے خلاف حالیہ فتح جسے رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کے خط کے جواب میں "الٰہی نصرت" اور "انسانیت کی عظیم خدمت" قرار دیا ہے، ایک یا چند ممالک میں سرگرم صرف ایک گروہ کے مقابلے میں حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسے بڑے عالمی اور علاقائی محاذ کے خلاف حاصل ہوئی ہے، جسے عالمی طاغوتی طاقتوں نے خطے میں اسرائیلی تسلط واپس لانے کیلئے تشکیل دیا تھا۔ لہذا یہ کہنا درست ہوگا کہ حالیہ چند ماہ کے دوران خطے میں ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کی مرکزیت میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں، انہوں نے دشمن کی ناکامی اور خطے کے مسائل کو صحیح انداز میں درک نہ کرنے کو ثابت کر دیا ہے۔ داعش کے خاتمے کا مطلب خطے سے متعلق امریکہ، اسرائیل اور ان کی پٹھو حکومتوں کی سازشوں کا خاتمہ نہیں، لہذا ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ ہمیں اپنے محرکات، آپس میں اتحاد اور بصیرت کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں درپیش چیلنجز کا اسی انداز میں مقابلہ کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 685777
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب