2
0
Thursday 21 Dec 2017 22:30

ٹرمپ، تجھے تیری ماں روئے

ٹرمپ، تجھے تیری ماں روئے
تحریر: طاہر یاسین طاہر

تاریخی عمل جاری رہتا ہے، جمود سے تاریخ کو سخت بیزاری ہے۔ یہ ہم ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تاریخ کا دھارا ہماری مرضی سے بہہ رہا ہے۔ ایسا قطعاً نہیں، تاریخ خود بنتی اور قصے تراشتی چلی جاتی ہے۔ انسان، فرد، قوم، قبیلے، ریاستیں اور حکومتیں تاریخ کا ورق ہوتے ہیں۔ ٹرمپ بھی ایک دن تاریخ کا رزق ہو جائے گا۔ مگر کیا ٹرمپ اور امریکہ تاریخ کے ایک ہی صفحے پہ کسی افسوس ناک سطر کا نقش ہوں گے؟ کیا ٹرمپ کا بھی وہی انجام ہوگا، جو دنیا کے ہر متکبر شخص کا ہوتا آیا ہے؟ کیا امریکہ بھی اسی انجام سے دو چار ہونے ولا ہے، جو ہر طاقت اور عروج کا منطقی مقدر ہے؟ کیا ایک طاقت کے ردعمل میں دنیا کے نقشے پر ایک دوسری بڑی طاقت کا ظہور ہوچکا ہے؟ کیا ٹرمپ کے انتہا پسندانہ مزاج کے باعث امریکہ دنیا بھر سے مزید نفرت سمیٹے گا؟ کیا امریکی معیشت و حکمرانی کا زوال قریب ہے؟ کیا اسرائیل کی سرپرستی امریکہ کی سفارتی مجبوری ہے؟ کیا واقعی ٹرمپ اپنی طبع میں ایک متعصب شخص ہے؟ کیا واقعی ٹرمپ سفارتی آداب سے بالکل نابلد ہے؟ مذکور اور ان سے جڑے کئی ذیلی سوالات علمی و قلمی حلقوں میں ضرور زیر بحث آنے چاہیے۔ ہر سوال دوسرے سے مربوط اور اپنے ساتھ تاریخ کا ایک پورا باب رکھتا ہے۔

ان سوالوں کے جواب مگر اس قدر آسان بھی نہیں۔ عالمی سیاسیات کے طالب علم، قوموں و تہذیبوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے محققین، سماجی علوم کے اساتذہ، دفاعی و علاقائی تبدیلیوں اور انگڑائیوں پر نظر والے کہنہ مشق تجزیہ کار اور عدل پسند قلم کار بے شک مذکور سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دے سکتے ہیں، لیکن ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں۔ امریکہ ابھی تک ایک تسلیم شدہ عالمی طاقت ہے اور بے شک ہے، کوئی پانچ درجن کے قریب مسلم ممالک بھی امریکہ کو ہی قلب و جاں سے "اصل" طاقت جانتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں۔ اپنے تنازعات میں بھی اسی مردہ باد امریکہ سے مدد مانگی جاتی ہے۔ استثنٰی موجود ہے مگر آٹے میں نمک کے برابر۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مسلم ممالک اپنی معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی، حتٰی کہ زیر زمین خزانے تلاش کرنے تک میں امریکہ اور یورپی ممالک پہ انحصار کریں اور پھر امریکہ و اس کے یورپی اتحادیوں کو کسی عالمی تنازع پر ڈیڈ لائن بھی دے دیں۔ یہ حسِیں خواہش کی تو جا سکتی ہے مگر زمینی حقائق عالم ِاسلام کی اس خواہش کے لئے مدت سے مددگار نہیں ہیں۔ ہم مسلم ممالک اپنی سکیورٹی تک کے لئے یورپی ٹیکنالوجی اور تھینک ٹینکس کی رپورٹس و تجزیوں پہ انحصار کرتے ہیں۔ آج بھی مسلم دنیا کے "مقدس ممالک" میں امریکی اڈے موجود ہیں۔

کیا او آئی سی یا عرب لیگ، یا کوئی اور پلیٹ فارم امریکی سفارتی جارحیت کا مقابلہ کرسکے گا؟ اگرچہ یورپی ممالک نے بھی یروشلم پہ امریکی فیصلے کے خلاف آواز بلند کی، لیکن جب کوئی تحریک اٹھائی جائے گی تو کیا مذہب کے نام پر چلنے والی تحریک میں یورپی ممالک مسلم دنیا کے ساتھ ہوں گے یا امریکہ کے ساتھ؟ غیر مقبول باتیں قارئین اور تجزیہ کے نام پہ بیانیے بیچنے والوں کے سینے پہ مونگ دلتی ہیں۔ ہمارا المیہ مگر یہ ہے کہ ہم زمینی حقائق کو درک نہیں کر پاتے۔ اس وقت عالمی تجارت کا ایک ہی پیمانہ ہے اور اس پیمانے کا نام ڈالر ہے۔ ٹیکنالوجی پہ امریکہ کی حکمرانی ہے۔ فضائوں کا سینہ چیرنے والے جہاز امریکی و یورپی ایجاد کا مظہر ہیں۔ جنگی میدان میں امریکہ و نیٹو کی مہارت قابل رشک ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ نیٹو یا امریکہ کو افغانستان میں، شکست ہوئی ہے تو اسے اس صدی کی بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔ افغانستان میں بیٹھ کر امریکہ جو کرنا چاہتا تھا، وہ کر رہا ہے۔ امریکہ افغانستان کو مکمل فتح کرنے تو آیا ہی نہیں تھا۔ وہ افغانستان میں بیٹھ کر بھارت کے ذریعے پاکستان کو زخم لگا رہا ہے۔ وہ افغانستان میں بیٹھ کر چین کو گھور رہا ہے، وہ افغانستان میں بیٹھ کر روس پر نظریں جمائے ہوئے ہے، وہ افغانستان میں بیٹھ کر ایران کو آنکھیں دکھا رہا ہے، وہ افغانستان میں بیٹھ کر داعش کی مالی و تکنیکی سرپرستی کر رہا ہے۔ البتہ داعش کا فکری بیانیہ بالکل اپنا اور خالص مذہبی بیانیہ ہے، جسے امریکہ اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ یہ کسی اور نشست کا موضوع ہے۔

جب امریکہ افغانستان میں بیٹھ کر خطے کے معاملات کو براہ راست دیکھ رہا ہے تو اسے واپس جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ القاعدہ ہو یا داعش، النصرہ یا افغانی و پاکستانی طالبان، سب اپنے اپنے "جہادی" بیانیے میں امریکی مفادات کے امین ہیں اور یہی زمینی حقیقت بھی ہے۔ اس سے قبل کالم میں بھی یہی لکھا تھا کہ مسلم دنیا کے پاس سوائے سفارتی محاذ کے کوئی محاذ موجود ہی نہیں اور سفارتی محاذ بھی ہنر مندی کا تقاضا کر رہا ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر امریکہ نے عالمی سطح پہ تسلیم شدہ تنازع میں براہ راست، اسرائیل کے حق میں سفارتی دخل اندازی کرکے اپنی عالمی حیثیت پر خود ہی سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔ اس پہ ٹرمپ کا مسلم دنیا کے لئے بیان، کہ جو ملک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے مسئلے پر امریکہ مخالف ووٹ دیں گے، ان کی امداد بند کر دی جائے، امریکہ کی خطے، دنیا اور اسرائیل دوستی کی آئندہ کی پالیسی کا عکاس ہے۔ بے شک افسوس ناک حقیقت یہی ہے کہ مسلم ممالک آپس میں الجھے ہوئے ہیں، فروعی و علاقائی اختلافات اس قدر گہرے ہیں کہ باوجود خواہش کے انہیں کم نہیں کیا جا رہا اور مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ اجتماعات، جمعہ کے خطبات اور دعائیہ تقاریب میں امریکہ و عالم ِکفر کی بربادی کی دعائیں تو کی جا سکتی ہیں اور بڑے "لحن" سے کی بھی جا رہی ہیں، مگر ابھی تک کوئی دعا باب ِتاثیر کو چھو کر نہیں آئی۔

بے شک فلسطین کا مسئلہ عربوں کی اپنی کوتاہیوں اور سیاسی کج فہمیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فی الواقع عالم انسانیت کی توجہ اس مسئلے کی طرف لانے کے لئے کسی ایسے تھینک ٹینک کی ضرورت ہے، جو امریکہ، یورپ اور دنیا بھر سے عدل پسند انسانوں اور بیدار مغز تجزیہ کاروں کو اپنا ہمنوا بنا سکے۔ جو امریکی تھینک ٹینکس کے تجزیوں کو دلائل سے رد کر سکے۔ ٹرمپ کے جارحانہ رویے اور یروشلم پہ امریکی فیصلے کے عالم ِانسانیت پر پڑنے والے منفی اثرات سے دنیا کو آگاہ کرسکے۔ ابھی تک میری نظر میں مسلم دنیا میں ایسا کوئی تھینک ٹینک نہیں، جو اس زاویے پہ کام کر رہا ہو۔ ہاں البتہ ٹرمپ کو بد دعائیں دے کر عالمِ اسلام کے درد مند سمجھتے ہیں کہ وہ علم و ہنر اور اقتصادیات میں کوسوں آگے امریکہ و یورپ کو رام کر لیں گے۔ ایسا ممکن نہیں۔ اسرائیلی و یورپی اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے نعرے میں دلکشی تو ہے، لیکن کیا مسلم ممالک کے لئے ایسا کرنا ممکن ہے؟ کیا صرف گوگل کے مقابل مسلم دنیا کے کسی طالب علم نے کوئی سرچ انجن بنا لیا ہے؟ اگر بائیکاٹ ہی کرنا ہے تو پھر مکمل بائیکاٹ کریں۔ بار ِدگر عرض ہے ایسا ممکن ہی نہیں۔ دستیاب امکانات کو استعمال کرنے کے سوا مسلم ممالک کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں۔ ٹرمپ کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ اپنی ذات میں امریکہ کا اسامہ اور ابوبکر البغدادی ہے۔ سخت گیر، متعصب اور دنیا کو  خواہ مخواہ فتح کرنے کا آرزو مند۔ اسے سفارتی زبان سے زیادہ براہ راست دھمکیاں دینے میں مزا آتا ہے۔ ایسے شخص کے امریکی صدر ہوتے ہوئے دنیا اور امریکہ پہ کیا اثرات پڑیں گے؟ یہی بات ہنر مندی سے عالم ِانسانیت کو بتانے کی ضرورت ہے۔ نعرے اور بددعائوں سے کوئی کام نہیں ہونے والا۔ حقیقت یہی ہے کہ ابھی تک تو عربوں کے سرکردہ ممالک تک میں فلسطین کے معاملے پر یکسوئی و یک رنگی نہیں۔
خبر کا کوڈ : 691645
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
طاہر صاحب اتنا غصہ بھی ٹھیک نہیں۔ فلسطین کے حق میں اور ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکا کے اتحادیوں برطانیہ، فرانس، بھارت اور ان سارے عرب ممالک نے ووٹ ڈالے ہیں، جن کے بارے میں آپ ابھی تک کہہ رہے ہیں کہ ان میں یکسوئی نہیں ہے۔ سائنس ٹیکنالوجی میں آگے ہونے کا فلسطین سے جو تعلق آپ نے جوڑنا چاہا ہے، اول تو اسکا کوئی آپس میں ربط میں نہیں تھا۔ دوسری بات یہ کہ جنہوں نے کل ووٹ دیا ہے، یہ کم از کم مسلمان ممالک کی طرح پسماندہ نہیں ہیں۔ یہ بددعائوں، جمعہ کے خطبات یا اجتماعات کے ہی اثرات ہیں کہ ٹرمپ جنرل اسمبلی میں ہارا ہے اور یہ اجتماعات امریکہ اور یورپ میں بھی اسی طرح ہوتے ہیں، وہ تو مسلمانوں کی طرح جذباتی نہیں ہیں ناں! سکیورٹی کائونسل میں بھی امریکہ ویٹو کی وجہ سے بچا ہے۔کم از کم فلسطین کے ایشو پر دنیا کی اکثریت امریکہ کے ساتھ نہیں ہے۔ فلسطین کا ایشو مسلح جدوجہد سے ہی حل ہو رہا ہے اور سفارتکاری بھی تبھی ہوتی ہے، جب میدان میں فلسطینی مزاحمتی گروہ کچھ کرکے دکھاتے ہیں۔ یہ وہ تاریخ ہے جو اسی گوگل سرچ انجن سے بھی ڈھونڈی جاسکتی ہے، جو مسلمان ممالک نے نہیں بنائی۔ البتہ جمعہ کے خطبے میں ایسا کچھ کہنے کا حکم مسلمانوں کو ان کے رسول اعظم ص نے اور امام علی رضا ع نے دیا ہے۔ ہر دور میں فرعون، نمرود قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں اور ان سے کس طرح نمٹا جاتا ہے، یہ بھی تاریخی حقیقت ہے۔ یہ سنت الہی ہے کہ باطل نے مٹنا ہے، حق نے آنا ہے۔ یہ قران کا حکم ہے۔ کب سفارتکاری کرنی ہے اور کب مسلح جدوجہد، یہ فلسطینی بہتر جانتے ہیں۔ اب ٹرمپ بھارت، برطانیہ ، فرانس سے اتحاد توڑ کر دکھائے، ووٹ تو انہوں نے بھی دیا ہے۔
طاہر یاسین طاہر
Pakistan
سلام و رحمت، مزاج بخیر
یقیناً میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ ہونے سے پہلے کالم لکھا، مگر ووٹنگ کے بارے ہم سب کو علم تھا کہ قرارداد کے حق میں آئے گی۔۔ مجھے احساس ہے کہ میرے کالم سے جذبات بھی ٹپک رہے ہیں، مگر واللہ، مجھے فلسطینیوں کی کم نصیبی پہ اتنا ہی دکھ ہے، جتنا دیگر مومنین کو ہے۔ القدس کی آزادی، یوم القدس، اسرائیلی بربریت اور اس کے ناجائز ریاست ہونے پہ میرے مضامین/کالم گواہ ہیں۔ بے شک گذشتہ روز مسلم ممالک نے بہتر حکمت عملی اپنائی اور سفارتی محاذ پہ کامیابی سمیٹی ۔میں مسلمانوں کے لئے ایسی ہی شاندار کامیابی کا متمنی ہوں۔۔ میرا دکھ مگر یہ ہے کہ ہمیں حربی میدان کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے میدان میں تیز قدم چلنا چاہیے۔ امید ہے آپ/ایڈمن اور قارئین میری جسارت پہ در گذر فرمائیں گے۔