0
Sunday 31 Dec 2017 17:21

موروثی سیاست کی کھوکھ سے تبدیلی کی توقع!!!

موروثی سیاست کی کھوکھ سے تبدیلی کی توقع!!!
تحریر: نادر بلوچ

پاکستان جیسے ملک میں موروثی سیاست کو ختم کرنے کے دعوے کرنا اور بات ہے، لیکن عملی طور پر اس کا ثبوت دینا بہت مشکل ہے۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والے عمران خان نے بھی اب یہ باور کر لیا ہے کہ اس ملک میں پیسے والے ہی سیاست کرسکتے ہیں جبکہ غریب اور عام ورکر نہیں، وہ ورکرز جنہوں نے اپنی زندگیاں ان سیاسی جماعتوں پر وار دیں، ان کیلئے سیاسی جماعتوں میں آگے بڑھنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ یہ درست بات ہے کہ عمران خان تحریک انصاف میں مراد سعید جیسے کئی چہرے سامنے لائے ہیں، لیکن بہت سارے چہرے وہی ہیں جو مشرف کی باقیات کہلاتے ہیں۔ خود جہانگیر خان ترین بھی مشرف ہی کے ساتھی رہے ہیں۔ اسی طرح اور اب تھوک کے حساب سے مختلف جماعتوں سے لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں اور پرانے چہرے پارٹی میں پچھلی صفوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ نظریاتی اور اصولی سیاست پاکستان میں تقریباً ناپید ہوچکی ہے۔ لوکل باڈیز الیکشن میں عمران خان کے نئے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے نعروں کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں، لیکن کپتان کے پاس کھلاڑیوں کو جواب دینے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ اس وقت نئے خیبر پختوخوا کے وزیراعلٰی پرویز خٹک نے اپنے بھائی لیاقت خٹک کو نوشہرہ کا ناظم، وزیر مال علی امین گنڈاپور نے اپنے بھائی عمر امین کو تحصیل ناظم، وزیر قانون امتیاز قریشی نے اپنے بھائی اشفاق قریشی کو تحصیل لاچی کا ناظم اور وزیراعلٰی کے مشیر خلیق نے بھائی کو تحصیل ناظم بنوایا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام کا بیٹا بھی ضلعی ناظم منتخب ہوا، جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد علی شاہ کے بھائی احمد علی شاہ بھی ناظم منتخب ہوئے تھے۔

ملکی سیاست میں چند خاندان شروع سے حاوی رہے ہیں اور سیاست کا مرکز بھی یہی خاندان ٹھہرے ہیں، اس بات سے اندازہ لگائیں کہ نواز شریف نااہل ہوئے تو انہیں پارٹی کی صدارت دینے کیلئے نہ صرف پارلیمنٹ سے آئین میں ترمیم کرائی گئی، حتٰی مسلم لیگ نون کے دستور میں بھی ترمیم لانا پڑی۔ لیگی دستور میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ کسی بھی امیدوار کیلئے آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا اترنا ضروری ہے، عدالت سے نااہل ہونے والا شخص جماعت کے کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا، لیکن جیسے ہی نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نااہلی کا سرٹیفیکیٹ ملا تو فوراً پارٹی کا دستور تک بدل دیا گیا۔ خاندانی سیاست اس ملک پر کتنی حاوی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نواز شریف نے اپنی نشست یعنی حلقہ این اے 120 پر اپنی اہلیہ کو کھڑا کیا اور آئندہ کے وزیراعظم کیلئے بھی اپنے بھائی شہباز شریف کے نام کا اعلان کر دیا ہے، کیا مسلم لیگ نون میں فقط شریف خاندان ہی بڑے عہدوں کیلئے اہل ہے اور باقی پوری جماعت میں کوئی بھی امیدوار وزارت عظمٰی کیلئے اہل نہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی والے خود کو بھٹو خاندان کے بغیر فارغ تصور کرتے ہیں، جے یو آئی (ف) کی بقاء مفتی محمود کا خاندان ہے، اے این پی باچا خان سے نیچے نہیں آسکتی۔

موروثیت، تبدیلی اور انقلاب کے موضوع پر کئی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے کالمز لکھے ہیں۔ ممتاز کالم نگار مظفر اعجاز نے 2011ء میں اپنے تجزيہ کا عنوان "انقلاب کی باتیں اور انقلاب" دیا تھا۔ اپنے تجزیے میں مظفر اعجاز نے لکھا تھا ’’اگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی فوجی حکومت کا مطلب انقلاب ہے، پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت آجانے کا نام انقلاب ہے۔ ان دونوں کی جگہ قاف لیگ کی حکومت آجانے کا نام انقلاب ہے یا کسی امپورٹڈ وزیراعظم معین قریشی کی حکومت کا نام انقلاب ہے، تو ان کے لئے عرض ہے کہ یہ سارے نام نہاد انقلابات گاؤ آمد و خر رفت کے مصداق ہیں اور یہ بار بار عملاً ثابت ہوچکا ہے۔ یہ باتیں کرنے والے بھی جان لیں بلکہ جانتے ہیں کہ انقلاب کسے کہتے ہیں اور کون لاسکتا ہے۔ انقلاب کس تحریک کا نام ہے اور اس کو لانے والے کون لوگ ہیں؟ چنانچہ اسی لئے ہم سب نے مل کر اصل انقلاب کا راستہ روک رکھا ہے۔ ان سب کے لئے ہمارا مشورہ ہے کہ وہ خود ہی انقلاب کو راستہ دے دیں۔ ورنہ وہ سب کچھ ہوگا، جس سے وہ آج کل غریب عوام کو ڈراتے ہیں اور سب سمجھ رہے ہیں کہ اس انقلاب میں ان کو کچھ نہیں ہوگا۔"

مظفر اعجاز آگے لکھتے ہیں کہ ’’اگر وہ انقلاب بھی آگیا جس سے ایک دوسرے کو ڈرا رہے ہیں تو وہ سب لپیٹ میں آجائیں گے۔ یہ سب مل کر اس اصل انقلاب کو روکتے ہیں، کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ جب پیغمبر انقلاب کا لایا والا نظام آئے گا تو عوام کے سامنے یہ جواب دینا ہوگا کہ لوہے کی ایک بھٹی سے فولاد کے کارخانوں تک کا سفر کیسے طے ہوا۔ گلیوں سے ایوانوں تک پہنچنے والوں کی زندگی کی کایا کیسے پلٹی۔ ایک کرایہ کے مکان میں رہنے والے کئی کئی گاڑیوں اور مکانوں کے مالکان کیسے بن گئے۔ اپنے باپ کے سینما کے ٹکٹ بلیک کرنے والے ارب پتی بلکہ کھرب پتی کیسے بن گئے۔ غریبوں، مظلوموں اور پسے ہوؤں کی سیاست کرنے والوں کی دنیا کیسے بدل گئی۔ لاکھوں کی پجارو میں کیسے گھومتے ہیں۔ لسانی سیاست کرنے والا ہر لیڈر پجارو سے کم پر نہیں گھومتا۔ پھر بھلا بتائیں یہ لوگ اصل انقلاب کو راستہ کیسے دیں گے اور تاریخ اور قرآن بھی گواہ ہے کہ اصل انقلاب کا راستہ مترفین (کھاتے پیتے لوگ) ہی روکتے ہیں۔ بہرحال ہمیں یقین ہے کہ اصل انقلاب ضرور آئے گا، خواہ کتنے بڑے بڑے بت راستہ روکیں۔"

اسی طرح سینیئر صحافی اور کالم نگار جناب ڈاکٹر آر اے سید نے پاکستان میں انقلاب یاد تبدیلی کے حوالے سے چھ کالموں کی سیریز بعنوان ’’انقلاب یا انتشار‘‘ لکھی تھی، جس میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سر پر یونیفارم کے بغیر جرنیل اور تاج کے بغیر بادشاہ بیٹھے ہیں۔ یہ کیا شاندار جمہوریت ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کسی نہ کسی "بھٹو" کی محتاج ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون "میاں" خاندان کے بغیر نہیں چل سکتی، پاکستان مسلم لیگ قاف "چودھریوں" کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، عوامی نیشنل پارٹی کا سربراہ ہر صورت میں "باچا" خاندان سے ہوگا، جے یو آئی مفتی محمود کے خانوادے کی دہلیز سے نیچے نہیں اترے گی اور ایم کیو ایم الطاف حسین کے بغیر سروائیو نہیں کرسکے گی۔ آپ مسلم لیگ نون کو بھی دیکھئے۔ میاں نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں، میاں شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں اور حمزہ شہباز شریف پارٹی کا مستقبل ہیں۔ کیا پارٹی کو میاں خاندان سے باہر کوئی لیڈر نظر نہیں آتا۔؟ مسلم لیگ قاف کو بھی دیکھئے۔ چودھری شجاعت حسین پارٹی کے قائد ہیں، چودھری پرویز الٰہی پارٹی کے دوسرے قائد ہیں اور چوھدری مونس الٰہی پارٹی کا مستقبل ہیں۔ ڈاکٹر آر اے سید لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کی سیاسی پارٹیاں سیاسی تربیت اور نئی لیڈرشپ پیدا کرنے کے حوالے سے بانچھ ہوچکی ہیں۔ نظریاتی تربیت کا فقدان، نئی مخلص لیڈرشپ ناپید، سیاسی جماعتوں کے اندر عدم جمہوریت، بیرونی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی غلامی، استقلال و آزادی کے نظریات سے عدم آگاہی، عوام کو بھیڑ بکری سمجھ کر ان سے صرف ووٹ لیتے وقت اہمیت دینا، پاکستانی سیاست کی صرف چند جھلکیاں ہیں اور یہ سب کچھ پاکستانی سیاست کا ایک معمولی سا عکس ہے۔ اس تصویر اور عکس کے پس منظر کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایسے ہولناک حقائق سامنے آئیں گے کہ عوام جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کی سیاست کا نام لیتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانا شروع کر دیں گے۔"

سول سپرمیسی کی دعویدار نون لیگ کی قیادت اس وقت سعودی عرب میں موجود ہے اور کسی نئے این آر او کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہباز شریف کی سعودی یاترا اور ترک وزیراعظم کا بھی اس دوران وہاں پہنچنا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے، دونوں رہنماوں کا ایک ساتھ سعودی عرب میں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اندر کھاتے بہت سارے معاملات طے پا رہے ہیں۔ بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم نامزد کیا جانا بھی دلیل ہے کہ اسٹیبلمشٹ کو اپنی مرضی کا مہرہ مل چکا ہے اور عمران خان کی اگلی باری آتی نظر نہیں آرہی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان عالمی اسٹیبلمشنٹ کو قبول نہیں ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود ایک ریاست کے چیف ایگزیکٹو کو گھاس ڈالے بغیر ایک صوبے کے وزیراعلٰی اور نااہل سابق وزیراعظم کا سعودی عرب جانا دلیل ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں سعودی عرب کتنا وارد ہے، جو کسی بھی آزاد اور خود مختار ریاست کیلئے نگ و عار سے بڑھ کر نہیں۔ کمرشل لبرلز کیلئے تو شرم کا مقام ہے جو نواز شریف کو نظریاتی اور انقلابی بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کئے ہوئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 693102
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب