0
Friday 9 Feb 2018 00:12

پشاور، انقلاب اسلامی کی 39 ویں سالگرہ کی تقریب

پشاور، انقلاب اسلامی کی 39 ویں سالگرہ کی تقریب
رپورٹ: ایس این حسینی

انقلاب اسلامی کی 39ویں سالگرہ کے حوالے سے آج 8 فروری کو پشاور میں خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کے زیر اہتمام فارسی، اردو، پشتو اور ہندکو یعنی چار زبانوں پر مشتمل ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں صوبے بھر کے نامور فارسی، اردو، پشتو اور ہندکو شعراء نے حصہ لیا۔ پروگرام شام چار بجے شروع ہوا اور اذان مغرب کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوگیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ اس موقع پر ٹی وی اور اسٹیج شو کے معروف اداکار جناب عزیز اعجاز صاحب اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اعجاز صاحب نے باری باری شعراء کو اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی۔ جن میں استاد بشیر نے پشتو، ڈاکٹر فقیرا خان فقری نے اردو، ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان اردو، ڈاکٹر نذیر تبسم اردو، معروف کالم نویس مشتاق شباب اردو، پروفیسر حسام حُر ہندکو، ملک ارشد حسین ہندکو، بشریٰ فرح اردو، سلمٰی قاصر اردو، ثمینہ قادر پشتو، اباسین یوسفزئی پشتو، اسیر منگل پشتو، سلیم بنگش پشتو، فاروق خان بابر آزاد صاحب پشتو جبکہ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی جناب ڈاکٹر سید عباس موسوی اور پروفیسر غیور حسین صاحب بنگش نے فارسی میں پنجہ آزمائی کی۔ تمام شعراء نے متعلقہ زبانوں میں انقلاب اسلامی، خصوصاً امام خمینی کی ہمہ جہت شخصیت کو خراج تحسین پیش کرکے شرکاء محفل سے داد وصول کی۔

شعراء نے انقلاب اسلامی کو دنیا کی تمام اقوام کے لئے قابل تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں درجنوں انقلابات برپا ہوچکے ہیں، تاہم ان میں سے ایک بھی انقلاب اسلامی کے معیار اور مرتبہ کا نہیں، کیونکہ وہ سارے انقلابات اپنے مخصوص علاقوں اور مخصوص وقت تک محدود رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی انکی اہمیت حتٰی اپنے علاقے میں بھی ختم ہوگئی، جبکہ انقلاب اسلامی ایران کی اہمیت اور افادیت آج بھی اسی طرح زندہ و تابندہ ہے، جس طرح شروع کے ایام میں ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی نے انسانیت کے ہر پہلو کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور دنیا کے مسلمان نہیں بلکہ ہر مظلوم و مستضعف انسان کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ شعراء نے امام خمینی کو ایک بین الاقوامی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام خمینی کو ایرانی نہیں کہا جاسکتا بلکہ وہ ایک انٹرنیشنل شخصیت کے مالک تھے، کیونکہ انہوں نے اس انقلاب کے ذریعے دنیا کی ہر مظلوم اور کمزور قوم کے حقوق کی جنگ لڑی۔ انہوں نے اسلام کا نام دنیا میں ایک بار پھر بلند کر دیا۔ انہوں نے دنیا خصوصاً امریکہ و اسرائیل کے اس نظریئے کو غلط ثابت کر دیا کہ اسلام اور مسلمانوں میں حکومت کرنے کی صلاحیت اب موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں ہر قسم کی صلاحیت موجود ہے، مگر ہم مسلمان انحطاط اور زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ چنانچہ اسلام کی نہیں بلکہ یہ سب ہم مسلمانوں کی کمزوری ہے۔ آخر میں ڈائریکٹر خانہ فرہنگ جناب ڈاکٹر سید عباس موسوی نے امام خمینی کا عرفانی کلام پیش کیا اور تمام مہمانوں کو پروگرام میں شرکت کرنے پر انکا شکریہ ادا کیا۔ اختتام پر کونسلر جنرل اسلامی جمہوریہ ایران نے شعراء میں انعامات تقسیم کئے اور تمام معزز مہمانوں کو ڈنر سے نوازا۔
خبر کا کوڈ : 703398
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے