1
0
Thursday 15 Feb 2018 17:47

اسلامی معاشرے کی اصلاح میں قیام امام خمینیؒ کا کردار

اسلامی معاشرے کی اصلاح میں قیام امام خمینیؒ کا کردار
تحریر: نادم شگری
nadim.shigri@gmail.com

دین خاص طور پر دو لحاظ سے ہمیشہ خطرے میں رہا ہے اور رہے گا۔ ایک یہ کہ تنگ نظر اور غلط سوچ والے افراد یہ کوشش کرتے ہیں کہ دین کے حوالے سے اپنے خام و ناقص ادراک کو دین کی خالص اور مطلق حقیقت کی جگہ لائیں، زمانے کی ذہنی عادات و مانوس آداب کو تقدس کا رنگ دیں اور دین کے دفاع کے نام پر یا بعض دفعہ دینی خدمات کے عنوان سے دین خدا کو تنگ نظری اور ظاہری کھوکھلے دائرے میں بند کر دیں، دوسرا یہ کہ ’’دین‘‘ ایک طرف سے دنیا طلب اور غلط افکار والوں کی طرح طرح کی دخالتوں سے بھی دوچار رہا ہے، کیونکہ جب ان دنیا طلب افراد نے دیکھا کہ دین ان کی خواہشات اور طاقت آزمائی کی راہ میں رکاوٹ ہے تو یہ لوگ تو دین کو اپنے ماتحت افراد کے اذہان اور ان کی زندگی سے بالکل دور کرنے کی کوشش کرنے لگے اور ایسا نہ کرسکنے کی صورت میں دین کی تحریف کرکے ایسی شکل و صورت ملک و معاشرے میں رائج کرنے لگے جو ان کی خواہشات اور پسند کے مطابق ہو۔ ان دونوں لہروں کے مقابلے میں ہمیشہ دین کا پختہ عقیدہ رکھنے والے حقیقت بین اور جرأت مند افراد تھے، جنہوں نے دین کے دفاع، اس کے احیاء اور دینی معاشرے کی اصلاح کے لئے قیام کیا۔ انہوں نے سختیوں کو برداشت کیا اور کبھی تو اس نیک راستے پر اپنی جان بھی قربان کر دی ہے۔

حضرت امام خمینیؒ اکیسویں صدی کے ایک عظیم مصلح ہیں، جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ایران میں اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اپنی ہمہ جانبہ جدوجہد اور علمی سعی و کوشش کے ذریعے اسلام کے تصور حکومت کا احیاء کیا، انقلاب لاتے ہی اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی اور ایران سمیت پوری دنیا کے اسلامی معاشروں پر اصلاح کے گہرے نقوش چھوڑے۔ قیام امام خمینیؒ کے ذریعے معاشرے میں دو طرح کی اصلاح کا عمل انجام پایا: 1۔ فکری اصلاح؛ 2۔ عملی اصلاح۔ لوگوں کی فکری اصلاح پورے معاشرے کی اصلاح کے لئے مقدمہ بنی۔ امام خمینیؒ نے تاریخ اور کتابوں میں گم شدہ دینی نظریات کو لوگوں کے ذہنوں میں دوبارہ پروان چڑھایا، جس کی وجہ سے لوگ دین کی حقیقت سے آگاہ ہوگئے۔ اس آگہی کو زینہ بناتے ہوئے عملی اصلاح کی بنیادیں رکھی گئیں۔ اسلامی معاشرے کی اصلاح میں حضرت امام خمینیؒ نے ابتدائی اقدام کے طور پر دینی افکار اور تصورات کو دوبارہ زندگی عطا کی، لوگوں کے اذہان میں دینی حکومت کا نظریہ مردہ ہوچکا تھا، دین کی جامعیت کی فکر ناپید ہوچکی تھی؛ ایسے میں انہوں نے اسلامی متون سے نکال کر دینی حکومت کا نظریہ پیش کیا اور اسے لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کر دیا۔ دین کو صرف چند اذکار اور اوراد کا مجموعہ سمجھنے والی فکر کی حقیقت کو طشت از بام کرکے دین کی جامعیت کا نظریہ لوگوں تک پہنچایا، دین اور سیاست کی عدم جدائی کو استدلال سے ثابت کرکے دنیا کو باور کرنے پر مجبور کر دیا اور نظریہ انتظار کو نیا مفہوم عطا کیا، جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ ظلم و ستم کو برداشت کرنے، آواز کو گلے میں دبا کر رکھنے اور مختصر الفاظ میں غیب سے ایک ہاتھ کے نکلنے کے انتظار میں ایک جگہ پر جامد پڑے رہنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ اس دفعہ انتظار کو معاشرے کی  باغی روح کو سلا کر رکھنے والے عنصر کی حیثیت سے نہیں بلکہ موجودہ حالات کو دگرگوں کرتے ہوئے آنے والے "مہدی موعود ؑ" کی طرف حرکت کے ایک وسیلے کے طور پر بروئے کار لایا گیا ہے۔

اصلاح کے عمل میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید نے اصلاح کی ذمہ داری اٹھانے اور برائیوں کی روک تھام کرنے کو امت مسلمہ کی خصوصیت کے طور پر بیان فرمایا ہے، حضرت امام خمینیؒ نے اپنے قیام کی ابتداء سے ہی اس فریضے کو پیش نظر رکھا اور معاشرے میں ایک اصل کے طور پر اس فریضے کو متعارف کرایا۔ چونکہ امام خمینیؒ کا عقیدہ یہ تھا کہ جب تک معاشرے کی باگ ڈور اور زمام اختیار نیک اور صالح افراد کے ہاتھوں میں نہ ہو، اس وقت تک معاشرے کا صحیح رخ متعین نہیں کیا جا سکتا، دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت کے قیام کے بغیر اسلامی معاشرے کی اصلاح نہیں ہو سکتی؛ لہٰذا آپ نے انقلاب کے فوراً بعد مسلمانوں کو ایک قابل نمونہ حکومت کا تحفہ دیا، جس کے باعث معاشرے کی کایا پلٹ گئی اور الحمدللہ اسلامی حکومت کے اثرات دنیا کے گوشے گوشے میں دکھائی دیتے ہیں۔ حضرت امام خمینی ؒ نے اپنے قیام کے ذریعے ایرانی قوم کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے محروم افراد کو بھی بیداری کے دھارے میں شامل کر دیا۔ آپ سے پہلے لوگوں کے اندر ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے کی فکر تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، یہاں تک کہ دینی متون سے آشنا افراد بھی اجتماعی شعور کی بیداری سے لاشعوری طور پر دامن بچائے رہتے تھے؛ لیکن انقلاب اسلامی کی کامیابی نے ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں دنیا کے مستکبرین اور غاصبوں سے متعلق آگہی کا عنصر بیدار ہوا۔ انقلاب سے پہلے دنیا پر امریکہ اور صہیونی ذرائع ابلاغ کی اجارہ داری تھی (اگرچہ آج بھی ہے، لیکن پہلے کے مقابلے میں کم ہے) اسی لئے وہ عام آدمی تک حقائق پہنچانے میں رکاوٹ بنتے تھے،  مسلمانوں میں بھی ایسی جرائت نہ تھی کہ ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں؛ لیکن بحمدللہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد یہ صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔

اسلام میں مسجد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ حضور اکرم ؐ کی حکومت کا مرکز مدینہ منورہ تھا اور اس شہر کا مرکز وہ مسجد تھی، جس کی بنیاد آپ ؐ نے مدینہ پہنچتے ہی رکھی تھی۔ پیغمبر اکرم ؐ اسی مسجد میں اہم ترین فیصلے اور بنیادی مسائل طے کرتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں لوگوں کی دنیوی سعادت اور اخروی فلاح کا سرچشمہ یہی مسجد تھی۔ قیام امام خمینیؒ کی برکت سے مساجد کی دینی اور سماجی حیثیت ابھر کر سامنے آگئی، جمعہ اور جماعت کے عبادی پہلو کے ساتھ ان کی سماجی اور سیاسی پہلو بھی واضح ہوگئے، مسجدوں کو مرکزیت حاصل ہوئی، جس کے باعث معاشرے کے افراد کا دینی تعلیمات اور عبادی امور سے تعلق بڑھتا چلا گیا۔ امام خمینی ؒ نے مسجدوں کو مورچہ کہا تھا، یقیناً آج مسجدیں ہی وہ مورچے بن گئی ہیں، جن سے دشمن عناصر خوفزدہ ہیں اور انہی مورچوں کو سنبھالے ہوئے مجاہد ہی معاشرے کی خرابیوں اور برائیوں کا قلع قمع کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ اسلام ایسا دین ہے، جس کی آسمانی کتاب کا نام پڑھی جانے والی کتاب ’’قرآن‘‘ ہے اور اس کی نازل ہونے والی پہلی آیت کی ابتدا ہی ’’اقراء" سے ہوتی ہے۔ یہ ایسا آئین ہے، جس میں علم و دانش اور معرفت و بصیرت کے حصول کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی مختلف آیات شریفہ میں (تزکیہ نفس کے ساتھ) علم و دانش کے حصول کی تعریف کی گئی ہے۔ احادیث و روایت کی کتب میں بھی بہت سی احادیث ملتی ہیں کہ جن میں علم و دانش کے حصول کی تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ حضور اکرم ؐ کی حیات طیبہ کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ؐ پڑھے لکھے قیدیوں کو دس مسلمانوں کو تعلیم دینے کے عوض رہا کر دیتے تھے۔

عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی کے کچھ عرصے کے بعد تعلیم کی مذہبی روایت کا احیاء کرنے کے لئے (دسمبر 1979ء) میں امام خمینیؒ کے تاریخی حکم کے ذریعے تعلیم بالغان کی مہم شروع ہوئی، اس طرح ایران کی مسلمان قوم کی ترقی و پیشرفت کا بند راستہ، حضرت امام خمینیؒ کے عزم وارادے کے ساتھ کھل گیا۔ اسلامی معاشرہ اگرچہ رحلت پیغمبر اکرم (ص) کے بعد ہی سے مشکلات اور مصائب و آلام سے دوچار رہا ہے؛ لیکن معصوم ائمہ ؑ کی لازوال قیادت اور رہنمائی کے باعث ہر دور میں اس کی اصلاح کا عمل جاری رہا۔ جب بارہویں ہادی برحق کی غیبت کبریٰ کا زمانہ شروع ہوا تو اصلاح کا عمل انتہائی کٹھن مرحلے میں داخل ہوگیا۔ فرض شناس اور دین شناس مجاہدین اسلام نے انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں بھی معاشرے کی درستگی اور اصلاح کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں؛ لیکن جو کام دست قدرت نے حضرت امام خمینیؒ سے لیا وہ انتہائی منفرد تھا۔ امام خمینیؒ کے کردار کے ذریعے معاشرے کی طویل المیعاد اور پائیدار اصلاح کا عمل انجام پایا اور ان شاء اللہ یہ باعظمت کامیابی امید مستضعفین جہاں حضرت ولی اللہ الاعظم حضرت امام مہدی ارواحنا لہ الفداء کے ظہور کے دن تک اسلام اور مسلمانوں کے حصے میں رہے گی۔ اللہ تعالٰی کی بے کراں رحمت ہو اس روح خدا پر۔
خبر کا کوڈ : 705059
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ما شاء اللہ