0
Thursday 5 Apr 2018 00:36

محمد بن سلمان کی ہرزہ سرائی کے پس پردہ عوامل

محمد بن سلمان کی ہرزہ سرائی کے پس پردہ عوامل
تحریر: سید ہادی افقہی

سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے میگزین اٹلانٹک کو دیا گیا انٹرویو، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش اور اسلامی مزاحمتی بلاک کو نشانہ بنائے جانا کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے بھی اعلی سطحی سعودی حکمران ایسے اقدامات انجام دے چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک سلمان بن عبدالعزیز کا بھانجا شہزادہ ترکی فیصل جو لمبے عرصے تک سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ رہ چکا ہے یا آل سعود دربار کا سکیورٹی مشیر انوار عشقی جس نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اعلی سطحی اسرائیلی حکام کے ساتھ متعدد تصاویر بنوائیں جن میں سے بعض منظرعام پر بھی آئیں۔ سعودی حکام کی جانب سے اسلامی مزاحمتی محاذ کو نشانہ بنائے جانے اور حزب اللہ لبنان، فلسطینی جہادی تنظیموں اور انصاراللہ یمن کو دہشت گرد قرار دینے اور خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کیلئے سرگرم دہشت گرد عناصر کی حمایت کا اعلان کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب ایک عرصے سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے قریبی تعاون کرنے میں مصروف ہے لیکن آج یہ حقیقت منظرعام پر آنا شروع ہو گئی ہے۔

یہاں اس اہم نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ غاصب صہیونی رژیم اور آل سعود رژیم کی جانب سے اس قسم کے بیانات اعلانیہ، واضح اور گستاخانہ انداز میں سامنے آنے کی کیا وجہ ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہے اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان مسلسل اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں مصروف ہے؟ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر اجمالی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطے سے متعلق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے منصوبوں کی مسلسل ناکامی اور آل سعود رژیم کی جانب سے ان منصوبوں کی حمایت نے عالمی سطح پر سعودی عرب اور اس کے اتحادی اسرائیل کی پوزیشن بہت خراب کر ڈالی ہے۔ امریکی حکام نے خطے میں مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے بھاری اخراجات کئے ہیں۔ اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہی اعتراف کافی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے مشرق وسطی میں 7 ارب ڈالر خرچ کئے ہیں جبکہ ہمارے تمام منصوبے ناکامی کا شکار ہو گئے ہیں۔

آج سعودی حکمران یمن کے خلاف جاری جنگ کی دلدل میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور یہ جنگ ان کیلئے ایک گہرے زخم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسی طرح اندرونی سطح پر بھی سعودی ولیعہد محمد بن سلمان حق حکومت کے جواز میں بحران کا شکار ہیں۔ وہ اپنے چچازاد بھائیوں کے ساتھ طاقت کی جنگ کو کرپشن کے خلاف جنگ ظاہر کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی مشروعیت کا بحران انتہائی شدید ہے۔ کوئی بھی تجربہ کار سیاست دان محمد بن سلمان کی طرح احمقانہ اور بچوں والی باتیں نہیں کرتا۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلامی مزاحمتی محاذ اور خطے میں اس کی شاندار کامیابیوں سے شدید خوفزدہ ہیں۔ سعودی حکمران دیکھ رہے ہیں کہ ان کی دولت ختم ہوتی جا رہی ہے اور انہوں نے نہ صرف مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے بلکہ الٹے نتائج نکل رہے ہیں۔ لہذا اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور آل سعود رژیم ایک طرف ایران کی سربراہی میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی کامیابیوں سے پریشان ہے جبکہ دوسری طرف اپنی گوشہ نشینی سے بھی خوفزدہ دکھائی دیتی ہے۔

محمد بن سلمان اس خام خیالی کا شکار ہے کہ وہ اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنے تاج و تخت کی حفاظت کر سکتا ہے لیکن اسے چاہئے کہ وہ خطے کے حقائق کو تسلیم کر لے۔ کوئی بھی سعودی عرب پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا اور کوئی بھی سعودی عرب کے اندر جنگ شروع کرنا نہیں چاہتا۔ محمد بن سلمان اس وہم کا شکار ہے کہ ایران سعودی عرب میں خانہ جنگی پیدا کرنا چاہتا ہے لہذا اس نے اعلان کیا کہ ہم ایران کی جانب سے سعودی عرب میں خانہ جنگی شروع کرنے سے پہلے ایران میں ہی خانہ جنگی شروع کر دیں گے۔ سعودی ولیعہد کے اس قسم کے بیانات اور اوہام امریکہ، غاصب صہیونی حکام اور متحدہ عرب امارات کے شیطانی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے اس شیطانی پروپیگنڈے کا مقصد سعودی عرب کو ایک دودھ دینے والی گائے کی طرح زیادہ سے زیادہ دوہنا ہے جسے دودھ ختم ہونے کے بعد ذبح کر دیا جائے گا۔ ماضی پر ایک نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ محمد بن سلمان سے بڑے آمر جیسے صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا لیکن آخرکار انہیں بھی شکست قبول کرنا پڑی۔ خاص طور پر یہ کہ اس وقت دنیا کی تمام سپر پاورز صدام حسین کے ساتھ تھیں اور اس کی ہر طرح سے مدد کر رہی تھیں۔

سعودی ولیعہد جس کی ایک ٹانگ یمن بجکہ دوسری ٹانگ جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے الزام میں عالمی عدالتوں میں پھنسی ہے کس طرح ایران کے خلاف فوجی محاذ آرائی کر سکتا ہے اور جنگ کو ایران کے اندر تک پھیلا سکتا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض قوتیں اسے اکساتی رہتی ہیں تاکہ وہ ایران سے خوفزدہ ہوتا رہے کیونکہ وہ جتنا ایران سے خوفزدہ ہو گا اسی قدر ان قوتوں کی گود میں پناہ لے گا اور اسی قدر اسلحہ خریدنے کیلئے پیسہ خرچ کرے گا۔ خطے کی عوام بھی محمد بن سلمان کی ہرزہ سرائی پر یقین نہیں رکھتی۔ عوام سعودی حکمرانوں کے اقدامات، وہابی گروہوں کے کرتوت اور تکفیری دہشت گرد عناصر کے جرائم سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ ایک زمانہ ایسا تھا جب یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی تھی کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ شیعہ اور سنی کے درمیان جنگ ہے لیکن جب سعودی عرب اور قطر کے درمیان تناو اور ٹکراو شروع ہوا اور اچانک مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب نے قطر جیسے سنی اور وہابی ملک جو خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کا رکن بھی تھا ہر طرف سے پابندیوں کا شکار کر دیا تو ساری حقیقت سامنے آ گئی اور شیعہ سنی جنگ کا ڈھونگ اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔
خبر کا کوڈ : 715713
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب