0
Friday 6 Apr 2018 16:47

سعودی عرب کا اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنیکا اعلان؟

سعودی عرب کا اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنیکا اعلان؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

سعودی عرب کے اسرائیل کیساتھ تعلقات کی بحالی کی باتیں تو زبان زدعام تھیں ہی، مگر اب سعودی پرنس نے امریکی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں تمام حقیقت کھول کر رکھ دی ہے اور واضح الفاظ میں اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کر لیا ہے۔ امریکہ کے تین ہفتے کے دورہ کے دوران ایک جریدے ’’اٹلانٹک‘‘ کے ایڈیٹر جیفری گولڈ برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ میرے خیال میں دنیا میں کہیں بھی لوگوں کو پُرامن قوم کے طور پر زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ ہمیں بیت المقدس میں مسجد اقصٰی کے حوالے سے مذہبی تشویش ہے اور ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے بارے میں متفکر ہیں۔ اس اصول سے قطع نظر ہمیں کسی قوم کیخلاف کوئی اعتراض نہیں۔ سعودی ولی عہد کے اس بیان کو اسرائیل کے بارے میں سعودی عرب کے بدلتے ہوئے رویئے کی تصدیق کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بات اب عیاں ہوچکی ہے کہ سعودی عرب نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا ہے۔ شہزادہ محمد چونکہ شاہ سلمان کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ بنیں گے اور خادم حرمین شریفین بھی ہوں گے، اس لئے اس بیان کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے۔

سعودی عرب پہلے تو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور 2002ء سے سعودی حکام نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ کو ختم کروانے کیلئے دو ریاستی اصول کو منوانے کیلئے کام شروع کر رکھا ہے۔ لیکن بنجیمن نیتن یاہو کی حکومت خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتی ہے اور تسلسل سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ہر آنیوالے دن کیساتھ فلسطینیوں سے ان کے علاقے چھینے جا رہے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق سے بھی محروم کرنے کیلئے جبر اور استحصال کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ متعدد قراردادوں کے ذریعے یہودی بستیاں بسانے کے اقدام کو غیر قانونی، فلسطینی لوگوں کے بنیادی حقوق اور عالمی ادارے کی قراردادوں کے علاوہ بنیادی انسانی اصولوں سے متصادم قرار دیتی ہے۔ دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ کے علاقے میں محصور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ اسرائیل نے اس علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع کر رکھا ہے۔ اسرائیل برسوں سے فلسطینیوں کیساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی کسی بڑی کوشش کا حصہ بننے سے بھی گریز کرتا رہا ہے۔ گذشتہ دو امریکی صدور کے سولہ سالہ دور میں فلسطینیوں کیلئے سہولت حاصل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

اسرائیل یہودی بستیوں کی آباد کاری کی پالیسی تبدیل کرنے اور دو ریاستی بنیاد پر مسئلہ طے کرنے کے بارے میں امریکہ کا مشورہ ماننے سے بھی انکار کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ مضبوط یہودی لابی کی وجہ سے اسرائیل پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں۔ واشنگٹن کی طرف سے ہمیشہ اسرائیل کی حفاظت کو عذر بنا کر اسرائیلی حکومت کی ہر بے اعتدالی کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے فلسطینیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کی سکیورٹی کا نعرہ لگا کر فلسطینی عوام کو مسلسل محروم کیا جا رہا ہے۔ بیشتر ہمسایہ عرب ممالک میں امریکہ نواز حکومتیں قائم ہیں اور وہ اپنی کمزوری اور امریکہ سے وابستگی کی بنا پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کیساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہوچکی ہیں۔ ان میں کسی حکومت میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ کمزور لفظوں میں اسرائیل کے اقدامات پر ’’ناراضگی‘‘ کا اظہار کرنے کے علاوہ کوئی ٹھوس قدم اٹھا سکیں۔

ایران نے ’’امت مسلمہ جسد واحد ہے‘‘ کی حدیث کے پیش نظر مظلوم فلسطینیوں کے حق کیلئے ضرور آواز اٹھائی ہے، لیکن امریکہ اور سعودی عرب کی طرف سے ایران کو مشرق وسطٰی میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کا گڑھ قرار دینے کی وجہ سے ایران کا اثر و رسوخ بھی محدود ہے اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو دہشتگرد کہا جاتا ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب ایک ملک ہے، جو سیاسی، سفارتی اور معاشی لحاظ سے ایران کی نسبت کچھ مستحکم ہے اور حرمین شریفین کی وجہ سے اسے بیشتر اسلامی ملکوں میں اہمیت بھی حاصل رہی ہے۔ تاہم یکے بعد دیگرے سعودی بادشاہ فلسطین کے مسئلہ کو حل کروانے میں سنجیدگی نہیں دکھا سکے۔ صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد سعودی عرب کو مشرق وسطٰی میں اسرائیل کے بعد امریکہ کے سب سے قابل اعتماد حلیف کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ ٹرمپ سابق صدر باراک اوباما کے برعکس ایران کیساتھ مفاہمت کی پالیسی کو مسترد کرتا ہے۔ یہی رویہ سعودی عرب اور اسرائیل کا بھی ہے۔ یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اسرائیل اور سعودی عرب میں تعاون کیلئے پیشرفت ہوئی ہے۔ اس کا مظاہرہ صدر ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد مسلمان ملکوں کے سخت ردعمل کے مقابلے میں سعودی قیادت کے متوازن اور معتدل طرز عمل سے بھی ہؤا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلہ پر احتجاج کرنے کیلئے جب ترکی کے صدر طیب اردوان نے اسلامی سربراہ کانفرنس بلوائی تو سعودی شاہ نے خود یا اپنے کسی معتمد کو اس کانفرنس میں بھیجنے کی بجائے کم تر سطح کے سرکاری اہلکاروں نے نمائندگی کی تھی، تاکہ یہ نہ کہا جا سکے کہ سعودی عرب نے عالم اسلام کے امریکی فیصلہ کیخلاف احتجاج کا ساتھ نہیں دیا۔ لیکن عملی طور پر وہ اس احتجاج کا حصہ نہیں رہا۔ سعودی عرب اپنی حیثیت اور امریکہ کیساتھ تعلقات کی بنیاد پر فلسطین کا مسئلہ بہتر طریقے سے حل کروانے کی پوزیشن میں ہے، گذشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل کیساتھ سیاسی، سفارتی اور معاشی مفادات میں اضافہ کی بنیاد پر وہ اسرائیل کو بھی کسی قابل قبول حل پر آمادہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اگر سعودی قیادت تہہ دل سے اس مسئلہ پر کام کرتی تو اس بات کا امکان تھا کہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن سعودی عرب نے اس قسم کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔ اس کی وجہ فسطینی قیادت کے بارے میں سعودی عرب کے تحفظات ہیں۔ سعودی رہنما سمجھتے ہیں کہ فلسطینی لیڈر خود مختاری ملنے کے بعد ان کے مفادات کی حفاظت کرنے کی بجائے اخوان یا ایران کے اثر کو زیادہ قبول کریں گے۔ اسی الجھن کی وجہ سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کیلئے سعودی عرب نے چشم پوشی کو ہی بہتر پالیسی سمجھا ہے۔ اب وہ ایران کو کمزور کرنے کیلئے امریکہ کے علاوہ اسرائیل کیساتھ بھی ہر قسم کا تعاون کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ شہزادہ محمد کا بیان اسی سعودی پالیسی کا عماض ہے۔

فلسطین کی سرزمین کے بارے میں فیصلہ کا حق صرف فلسطینی عوام کو ہے۔ سعودی ولی عہد اسرائیل سے کوئی رعایت حاصل کئے بغیر یک طرفہ طور پر اسرائیل کے حقوق کو تسلیم کرنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ زیر نظر بیان میں بظاہر شہزادہ محمد بن سلمان نے فلسطینیوں کے ادھورے حق کی بات بھی کی ہے، لیکن وہ اس حق کیلئے اس جذبہ سے بات نہیں کرسکے، جس کیساتھ اسی انٹرویو میں انہوں نے سعودی عرب میں مطلق العنان بادشاہت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسرائیل نے اسلحہ کا انبار لگا رکھا ہے، جبکہ اس کے برعکس فلسطینی نسل در نسل پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں، یا اپنے ہی گھروں میں مجبور شہریوں کی زندگی گزارتے ہیں۔ بیت المقدس پر ان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے اور اب امریکہ نے دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب اس فیصلہ کو رکوانے یا اس کے بدلے فلسطینیوں کو کوئی رعایت لے کر دینے میں ناکام رہا ہے۔
سعودی عرب کو فلسطینی عوام کا نمائندہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے بادشاہ خادم حرمین شریفین کے طور اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ گذشتہ ستر برس میں فلسطینی بے وطنی کا عذاب جھیل رہے ہیں اور اپنے ہی علاقوں میں زندہ رہنے کے حق کی جدوجہد میں انہوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ سعودی ولی عہد ایران دشمن ایجنڈے کی تکمیل کیلئے فلسطینیوں کے اس بنیادی حق کی بات کرنے کی بجائے اسرائیل کے وجود اور یہودیوں کے فلسطین پر حق کو تسلیم کرکے فلسطینیوں کا مقدمہ کمزور کرنے کا سبب بنے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 715804
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب