0
Friday 20 Apr 2018 18:10

پاراچنار، تحریک حسینی کے زیراہتمام جلسہ ولادت امام حسین علیہ السلام

پاراچنار، تحریک حسینی کے زیراہتمام جلسہ ولادت امام حسین علیہ السلام
رپورٹ: ایس این حسینی

آج 3 شعبان، بمناسبت ولادت امام حسین علیہ السلام تحریک حسینی کے زیراہتمام ایک پروقار جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں کثیر تعداد میں علاقائی عوام کے علاوہ مذہبی اور سیاسی تنظیموں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ جلسے سے علاقائی علماء، شعراء اور نعت خوانوں کے علاوہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہلسنت علمائے کرام مولانا حافظ احمد نواز چشتی اور سنی علماء کونسل لاہور کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حسین گولڑوی نے بھی خصوصی خطاب کیا۔ علمائے کرام نے سیرت امام حسین علیہ السلام پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حسینیت کا دعوٰی کرنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ سیرت امام حسین علیہ السلام پر کاربند رہتے ہوئے انکے مشن کو جاری و ساری رکھیں۔ اہلسنت علماء نے امام حسین علیہ السلام کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقام جنت کے سردار ہیں، جنت انہی کو ملے گی، جو امام حسین کے ساتھ محبت ہی نہیں بلکہ انکو اپنا رہنما اور پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ تحریک حسینی کے سپریم لیڈر علامہ سید عابد حسین الحسینی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام صرف ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک کردار کا نام ہے۔ ہر حسینی کو چاہیئے کہ وہ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے اسکے خلاف آواز بلند کرنے کے علاوہ اسکے خلاف قیام کرے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ تحریک یا عابد حسینی کو حکومت مخالف قرار دیتے ہیں، حالانکہ ہم ہر عادل حکمران کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خصوصا مقامی انتظامیہ نے طوری بنگش قبائل کے ساتھ کب انصاف کیا ہے، حالانکہ بعض حکمران خصوصا کرم میں متعین فوجی بریگیڈئیر نے کافی حد تک ہمارے مسائل کو سن کر حل کرنے کی اپنی سطح پر مخلصانہ کوشش کی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں فوجی بریگیڈیئر جناب اختر علیم صاحب کا شکریہ ادا کیا۔
 
انہوں نے کہا کرم اب بھی مسائلستان کا منظر پیش کررہا ہے، کوئی مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ایجوکشن سے لیکر ایگریکلچر تک اور دیگر تمام محکموں میں طوری قبائل بلکہ اپر کرم کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاراچنار یا طوری قبائل کے لئے جب بھی کسی ترقیاتی پراجیکٹ کی منظوری دی جاتی ہے تو دیگر قبائل شور مچاتے ہیں جبکہ ہمارا یہ شیوہ نہیں، ہم انکے لئے منظور ہونے والوں منصوبوں پر خوش ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے علیزئی لوئر کرم کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علیزئی میں نادرا آفس کی منظوری دی جاچکی ہے، جس پر بگن والوں نے شور مچا رکھا ہے۔ حالانکہ علیزئی پاراچنار اور صدہ کی طرح تحصیل ہیڈ کوارٹر ہے۔ جسطرح صدہ اور پاراچنار میں نادرا آفس کام کر رہا ہے۔ اسی طرح علیزئی میں بھی ہوا، مگر بگن جو کہ ایک گاؤں کا درجہ رکھتا ہے، اعتراض کرکے حقیقت کو پائمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس وسائل موجود ہوں تو بگن کے لئے علیحدہ دفتر فراہم کرے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، تاہم علیزئی کا حق دینے پر کسی صورت میں خاموشی اختیار نہیں کرسکتے، ہاں ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے کہ علیزئی کی تمام اراضی واگزار کرا کے پورا ہیڈ کوارٹر بگن تبدیل کرائے تو پھر نادرا تو کیا سب دفاتر نیز جو جو انکا دل چاہے انہی کو دے دیں۔

جلسے سے تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے دیگر مسائل کے علاوہ مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرکے عوام سے تائید حاصل کی۔ 
1۔ 3 شعبان 2016ء کو صدارہ میں ہونے والے حادثے میں ملوث افراد کو کڑی سزا دی جائے، اور اس سانحے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کو جلد از جلد معاوضہ دیا جائے، نیز تحریک اور حکومت کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق متاثرین کو سرکاری مراعات اور نوکریاں دی جائیں۔ 
2۔ پاک افغان سرحد پر ہونے والے واقعے پر ہم افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ نیز حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاک سرزمین کی ایک انچ سے بھی دستبردار نہ ہوں، نیز سرحد کو مزید محفوظ بنایا جائے۔ 
3۔ آباد کاری مہم کے دوران ہر فریق (شیعہ، سنی) کو مری معاہدہ کے عین مطابق بلا تفریق حقوق دلاکر اپنے اپنے آبائی علاقوں میں آباد کرایا جائے۔
4۔ علیزئی میں حال ہی میں نادرا آفس کی منظوری دی جا چکی ہے، جس پر بگن والوں نے اعتراض معطل کردیا ہے، حالانکہ علیزئی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہے، اور تحصیل ہیڈکوارٹر کی حیثیت سے اہلیان علیزئی نے ایف سی اور سرکاری دفاتر کے لئے کروڑوں کی اراضی مفت فراہم کی ہے۔ چنانچہ حکومت سے گزارش ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلہ صادر کرکے علیزئی کو اپنا حق فورا دیں۔ حکومت کے پاس وسائل ہوں تو بیشک بگن کو اپنا علیحدہ آفس فراہم کرے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم اپنا حق کسی  کو دینے کے لئے ہم ہرگز تیار نہیں۔ سوائے اس صورت کے کہ علیزئی کو اپنی اراضی واپس کرکے سب کچھ بگن منتقل کردیں۔
5۔ کرم ایجنسی کو مفلوج کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں جن میں سب سے خطرناک، جوانوں کو منشیات کی جانب ترغیب دلانا ہے، چنانچہ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ منشیات پر پوری طرح پاپندی لگائی جائے اور اسکے سمگلروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ 
6۔ مقامی حکومت اکثر غلط اطلاعات کو بنیاد بناکر ایکشن لیتی رہی ہے چنانچہ حکومت کسی بھی کارروائی سے قبل معاملے کی جامع تحقیقات کرائے، نیز گھروں پر چھاپوں سے گریز کرتے ہوئے، رواج کرم کے مطابق عمائدین کے مشورے سے مجوزہ مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے۔  
7۔ کرم ایجنسی کے نام پر منظور شدہ ترقیاتی فنڈز کا 90 فیصد حصہ سنٹرل کرم اور لوئر کرم میں استعمال کیا جاتا ہے، جوکہ اپر کرم کے ساتھ واضح ناانصافی ہے، چنانچہ مختلف ترقیاتی فنڈز کی تقسیم آبادی کے تناسب سے کرائی جائے اور اس سلسلے میں تعصب اور ناانصافی کو ترک کرکے، منصفانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
8۔ موجودہ پولیٹیکل ایجنٹ محمد بصیر خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 2011ء میں اپنے ہی کئے ہوئے فیصلے اور آرڈر کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بالش خیل اور خار کلی کے مشترکہ شاملات میں غیر داخل کار پاڑہ چمکنی قوم کی ناجائز آباد کاری کی مسماری کے فوری احکامات صادر فرمائے جائیں۔ 
9۔ شام دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک مقدس منطقہ ہے، چنانچہ اس پر امریکہ اور اسکے حواریوں کے حملے کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ نیز ان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے شیعیان حیدر کرار بشمول پاکستان مکہ، مدینہ، کربلا، نجف اور زینبیہ (دمشق) کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہیں، جسکا تعلق کسی سیاست سے نہیں بلکہ ہمارے عقیدے سے ہے۔ 
10۔ عالم اسلام میں آل سعود کی اس منفی اور اسلام دشمن سیاست کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں اپنی وہابی پالیسیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکہ اور یورپ کی خاطر دنیا بھر میں وہابی مدارس کا جال پھیلایا ہے۔ نیز محمد بن سلمان کے اس واضح اعلان کی ہم مذمت کرتے ہیں جسکے تحت انہوں نے سعودی اور اسرائیلی مفادات کو مساوی قرار دیا ہے۔ 
11۔ کرم ایجنسی کے متاثرین (آئی ڈی پیز) میں سے غیر طوری اقوام کو حکومت کی جانب سے ہر ماہ باقاعدہ ATM کارڈ کے ذریعے مراعات ملتی رہتی ہیں، انکی بحالی اور آبادکاری کے لئے تمام تعمیراتی سامان فراہم کیا گیا جبکہ طوری قوم کے متاثرین، اہلیان صدہ، چاردیوال، جیلمئے، خیواص، دڑادڑ، خونسیدئے، آڑاولی (سیدانو کلے) اور گوبزانہ وغیرہ کو آج تک کسی قسم کی مراعات ملیں، نہ ہی تعمیراتی سامان کی فراہمی ہوئی۔ اس حوالے سے جب پشاور میں موجود FDMA کے مین آفس سے رابطہ کیا گیا تو انکا دعوٰی تھا اور انکا دعوٰی انکے کمپیوٹر ریکارڈ میں بھی موجود تھا، وہ یہ کہ خیواص کا سارا گاؤں وہاں سے کلئیر ہے۔ اور کرم سے اوکے رپورٹ ملی ہے، کہ خیواص کو سب کچھ فراہم کیا جاچکا ہے،حالانکہ اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی خیواص کو کسی قسم کے مراعات ملی ہیں۔
12۔ فاٹا کو جلد از جلد صوبے میں ضم کیا جائے، اس معاملے میں روڑے اٹکانے والوں کی ہم شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں قبائلی سیاست سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 
13۔ سرکاری سکولوں میں سٹاف کی شدید کمی ہے، نیز پچھلے سال کی طرح اس سال بھی طلباء کو پوری طرح کتابیں فراہم نہیں کی گئیں، چنانچہ سٹاف کا مسئلہ فوری طور پر حل کرایا جائے، نیز تمام طلباء کو کتابوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔ 
14۔ پاراچنار شہر بجلی کی عدم ترسیل کے باعث پانی کے قطرے قطرے کو ترس رہا ہے، چنانچہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دیرینہ مسئلہ حل کرانے کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی اور نکاس کا مسئلہ فوری طور پر حل کرایا جائے۔
خبر کا کوڈ : 719260
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب