0
Thursday 26 Apr 2018 17:08

مسلم لیگ (ن) سندھ نصف درجن گروپوں میں تقسیم ہوگئی

مسلم لیگ (ن) سندھ نصف درجن گروپوں میں تقسیم ہوگئی
رپورٹ: ایس ایم عابدی

مسلم لیگ (ن) سندھ نصف درجن گروپوں میں تقسیم ہوگئی، پہلی بار پنجاب گروپ بھی عملاً قائم ہوگیا ہے، شہباز شریف آئندہ چند روز میں پھر 5 روزہ دورے پر سندھ پہنچ رہے ہیں، جب کہ قومی اسمبلی کے نئے حلقے این اے 249 کے دعوے داروں کی بھرمار سامنے آگئی ہے۔ (ن) لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سندھ جو پہلے ہی کئی گروپوں میں تقسیم تھی، اب مزید گروپ بندی کا شکار ہوگئی ہے اور پرانے لیگیوں کی جگہ نئے لیگی میدان میں کود پڑے ہیں۔ اس وقت عملاً مسلم لیگ (ن) سندھ 6 گروپوں میں تقسیم ہے، جن میں شاہ محمد شاہ گروپ، سلیم ضیاء گروپ، بابو سرفراز جتوئی گروپ، نہال ہاشمی گروپ، خواجہ شعیب (پنجابی) گروپ اور غیر فعال گروپ شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر گروپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کوشاں ہے۔ گزشتہ 5 سال میں مسلم لیگ (ن) سندھ بدترین گروپ بندی کا شکار رہی، جس کے باعث کئی اہم رہنما اور نصف درجن کے قریب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ امکان تھا کہ حالیہ مشکل حالات اور شہباز شریف کے صدر بننے کے بعد پارٹی میں گروپ بندی ختم نہیں تو کم ضرور ہوگی مگر ایسا نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صوبائی صدر اسماعیل راہو کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد نواز شریف نے اس وقت کے صوبائی سینئر نائب صدر شاہ محمد شاہ کو صدر بنانے کے بجائے پارٹی کے دیرینہ رہنما بابو سرفرازجتوئی کو صدر اور نہال ہاشمی کی برطرفی کے بعد شاہ محمد شاہ کو جنرل سیکریٹری بنایا، مگر روز اول سے ہی صدر اور جنرل سیکریٹری تنظیم کے حوالے سے ایک نکتے پر متفق نہ ہوسکے اور اندرون خانہ گروپ بندی میں تیزی آئی۔ بابو سرفراز جتوئی گروپ کے ذرائع کا الزام ہے کہ ان اختلافات کو ہوا دینے میں خواجہ شعیب نامی نئے رہنما کا اہم کردار رہا ہے، جو تقریباً ایک سال قبل سندھ میں وارد ہوئے اور پھر اپنا گروپ بنایا، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے قریبی عزیز ہیں اور ان کو مرکز کی حمایت حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارکنوں کے مسائل کے حوالے سے بابو سرفراز جتوئی گورنر سندھ محمد زبیر کے سامنے ڈٹ جاتے تھے، جس کی وجہ سے بعض رہنما ان سے نالاں تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گروپ بندی میں گورنر سندھ کے بیٹے احسن زبیر بھی پیش پیش ہیں، اس وقت سب سے مضبوط گروپ پنجابی گروپ ہے، جس کو خواجہ شعیب کا گروپ بھی کہا جاتا ہے۔

لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ شعیب تقریباً ایک سال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 239 (جو اب نیا حلقہ این اے 249 بن چکا ہے) سے الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے وہ اس حلقے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ چند ماہ قبل اسی حلقے میں خواجہ سعد رفیق، امیر مقام، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی جاوید عباسی اور دیگررہنما جلسے سے خطاب کر چکے ہیں، جب کہ 22 اپریل کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف دو مقامات پر جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں، اس حوالے سے پارٹی میں شدید اختلافات ہیں۔ پرانے لیگیوں کا کہنا ہے کہ ان جلسوں کے انتظامات کی ذمہ داری ضلعی صدر امان خان آفریدی کو ملنی چاہیئے تھی مگر خواجہ شعیب کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ اسی حلقے سے ماضی میں دو بار میاں اعجاز شفیع انتخابات جیت چکے ہیں اور اب ان کے فرزند میاں بلال اعجاز شفیع بھی اُمیدوار ہیں، جب کہ 2013ء کے اُمیدوار آصف خان، صوبائی نائب صدر علی اکبر گجر، ضلعی صدر امان خان آفریدی، ضلع وسطی کے سرگرم رہنما اسلم خٹک اور دیگر کئی رہنما بھی امیدوار ہیں۔ (ن) لیگی رہنما اس حلقے کو (ن) لیگ کے لئے آسان سمجھتے ہیں ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حالیہ تنظیم سازی میں غیر اعلانیہ طور پر مسلم لیگ (ن) سندھ کی تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کراچی کے سوا باقی پورے سندھ کی تمام تر ذمہ داری صوبائی صدر شاہ محمد شاہ اور کراچی کی ذمہ داری صوبائی جنرل سیکریٹری سینیٹر سلیم ضیاء کو دی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 720688
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے