0
Wednesday 16 May 2018 21:29

اہمیت ماه رمضان

اہمیت ماه رمضان
تحریر: محمد اشرف ملک
malikashraf110@gmail.com
 

اقبل الیکم شهر الله بالبرکة والرحمة
پیغمبر اکرم (ص) نے ماہ شعبان کے آخری جمعہ کے خطبہ میں ماہ رمضان کی عظمت کے بارے میں فرمایا: اے لوگو، تمہارے پاس اللہ کا مہینہ، برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ آ چکا ہے، یہ وہ مہینہ ہے کہ جو اللہ کے نزدیک سب مہینوں سے افضل ہے، اس کے دن سب دنوں سے افضل ہیں، اس کی راتیں سب راتوں سے افضل ہیں، اس کے لحظات سب لحظات سے افضل ہیں۔ وہ مہینہ ہے جس میں تم اللہ کی دعوت کی طرف مدعو کئے گئے ہو اور اس میں تم کرامت خدا کے مستحق افراد میں سے قرار پا چکے ہو۔

سانس لینا عبادت:
اللہ کے بعض خاص بندے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی زندگی کو اللہ ایسا با برکت بناتا ہے کہ جب ان کا ہاتھ کاغذ پر، وٹس ایپ کے کسی گروپ میں یا کسی بھی سوشل میڈیا میں لکھتا ہے تو ایک ذمہ دار شخص کی طرف سے، ایک مسلمان و مومن کی طرف سے اللہ کے دین کے ایک ادنٰی سے ورکر اور امام زمانہ کے ایک سپاہی کی طرف سے لکھتا ہے۔ جب اس کی زبان بولتی ہے تو اس کی حالت یہی ہوتی ہے گویا اس کا ہر کام اللہ کی رضا اور اعلٰی مقاصد کے لئے ہوا کرتا ہے۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو مسلسل کوشش کی بنیاد پر اور اللہ تعالی کی خصوصی عنایت کے سبب اس منزل پر پہنچتے ہیں اور کتنے بدبخت ہیں وہ افراد جن کا قلم اور زبان تو کیا پورے کا پورا وجود گناہوں اور خطاوں میں غرق ہوتا ہے۔ ہمیں اس مہینہ کے تمام لمحات کا حساب کرتے ہوئے ان سے صحیح استفادہ کرنا چاہیئے اس لئے کہ اللہ کا رسول (ص) فرماتا ہے کہ: "انفاسکم فیه تسبیح و نومکم فیه عبادة و عملکم فیه مقبول و دعاؤکم فیه مستجاب"۔ اس مہینے میں تمہارے سانس تسبیح ہیں، تمہارا سونا عبادت ہے، تمہارا عمل مقبول ہے اور اس میں تمہاری دعا مستجاب ہے۔ پس تم سب کو اللہ سے کہ جو تمہارا رب ہے نیتوں کے صادق ہونے، دلوں کے پاک و پاکیزہ ہونے کا سوال کرنا چاہیئے تاکہ وہ تم کو روزہ رکھنے اور اپنی کتاب کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اخلاق یعنی اپنی باطنی کیفیات کی اصلاح:
کتنے خوش قسمت ہیں وہ  افراد جو اپنے باطن کی اصلاح کر لیتے ہیں  اور انہیں باطنی کیفیات کے نتیجہ میں جس نے ان پر احسان کیا ہو اس کا بدلہ بہتر کی  صورت میں اگر نہ ہو سکے تو کم از کم اس کے برابر تو احسان کرتے ہیں۔ ایسے افراد کسی پر ظلم کرنے کی بجائے رحم، ہمدردی اور مہربانی و شفقت کرتے ہیں۔ تکبر و غرور کی بجائے ادب و تواضع ان کا شعار ہوا کرتا ہے۔ ان کاموں کے لئے انسان کو تمرین اور کوشش کرنا ہوتی ہے تب جا کر یہ ملکات انسان کو نصیب ہوا کرتی ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) ماہ رمضان میں ان ملکات کو حاصل کرنے کے لئے فرماتے ہیں: "تصدقوا علی فقرائکم و مساکینکم و وقروا  کبارکم و ارحموا  صغارکم و صلوا ارحامکم"۔ اپنے فقیر افراد اور مساکین افراد  کو صدقہ و خیرات دو، اپنے بزرگوں کا احترام کرو اور اپنے چھوٹوں پر رحم کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ "ایها الناس! من حسن منکم فی هذا الشهر خلقه کان له جواز علی الصراط یوم تزل فیه الاقدام"۔ اے لوگو! تم میں سے جس نے بھی اس مہینہ میں اپنے اخلاق کو درست کر لیا تو یہی اس کے لئے  صراط سے گزرنے کا جواز و ٹکٹ ہو گا اس دن کہ جس میں لوگوں کے قدم لڑکھڑا جائیں گے۔ ایسا شخص اپنے اخلاق حسنہ کی بنیاد پر مولائے کائنات  کے دست مبارک سے لکھا ہوا یہ جواز نامہ لے گا۔

مومن کا روزہ افطار کروانا:
دنیا میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا باطن، جن کے احساسات مجروح ہو چکے ہیں، کوئی ان کی بات کو سننے والا نہیں ہے، کوئی ان سے محبت کرنے  والا نہیں ہے۔ ایسے افراد کو زندگی میں احترام و وقار نہیں ملا ہے، کبھی کسی نے ان کے پاس بیٹھ کر ان کی باتوں کو سنا ہی نہیں ہے۔ ایسے لوگوں یا اس طرح کے افراد کے دل میں خوشی اور شادابی کون ایجاد کرے؟ کون ان کی باتوں کو سنے، کون ان کے سامنے جا کر محبت سے بیٹھے؟  اس کام کے لئے بھی انسان کو ماہ رمضان میں تمرین اور مشق کروائی جاتی ہے جس کی طرف اللہ کے رسول نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "ایها الناس!من فطر منکم صائما مؤمنا فی هذا الشهر کان له بذلک عند الله عتق رقبة و مغفرة لما مضی من ذنوبه". اے لوگو! جو تم میں سے اس مہینہ میں ایک مومن کو روزہ افطار کروائے اس کا اجر اس کے لئے اللہ کے نزدیک ایک غلام کو آزاد کروانے کا اور جو  کچھ گناہ ہو چکے ہیں ان کی مغرفت ہے۔ "قیل: یا رسول الله! و لیس کلنا یقدر علی ذلک فقال (ص): اتقوا النار و لو بشق تمرة، اتقوا النار و لو بشربة من ماء"۔ کہا گیا اے اللہ کے رسول! ہم سب اس کی (یعنی ایک مومن کو روزہ افطار کروانے کی) قدرت نہیں رکھتے تو آنحضرت نے فرمایا: ڈرو آگ سے (اور روضہ افطار کرواو) چاہے ایک کھجور سے یا پانی کے ایک گھونٹ ہی سے ہو۔

ایک آیہ کی تلاوت ختم قرآن کے برابر:
ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں اللہ نے قرآن مجید نازل کیا۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ کہ جن کو قرآن مجید سے انس ہے، قرآن مجید سے محبت ہے۔ ایسے لوگ قرآن سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ ہر روز قرآن مجید کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور اس کی زیارت بھی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی عمر بابرکت ہوتی ہے، یہی لوگ اپنا فیض اسی قرآن مجید کی بدولت پورے عالم میں پہنچاتے ہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی نے کس قدر قرآن مجید کے ساتھ انس رکھنے پر زور دیا ہے۔ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی زید عزہ اپنی ہر مجلس و محفل میں کس قدر قرآن مجید سے انس رکھنے، اسے سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا امر فرماتے ہیں۔ آیت اللہ محمد حسین نجفی زید عزہ کس قدر قرآن مجید کی اس عمر میں بھی تلاوت کیا کرتے ہیں جسے بندہ نے قریب سے درک کیا ہے۔ اسی انس و محبت کی بنیاد پر اللہ نے ان کو قرآن مجید کی کامل تفسیر فیضان الرحمٰن کے نام سے لکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔

ماہ رمضان قرآن مجید کی بہار کا مہینہ ہے، پیغمبر اکرم فرماتے ہیں کہ: "من تلا فیه آیة من القرآن کان له مثل اجر من ختم القرآن فی غیره من الشهور"، جو شخص ماہ رمضان میں قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت کرے، اس کے لئے ماہ رمضان کے علاوہ جتنا ایک ختم قرآن کا ثواب ہے اتنا اللہ اسے عطا کرتا ہے۔ "ایها الناس!ان ابواب الجنان فی هذا الشهر مفتحة"۔ پیغمبر اکرم (ص)  فرماتے ہیں اے لوگو! اس مہینہ میں جنت کے دروازے کھولے جا چکے ہیں اللہ سے سوال کرو کہ وہ ان کو تمہارے لئے بند نہ کرے  اور جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے ہیں اللہ سے سوال کرو کہ وہ ان کو تمہارے لئے نہ کھولے، شیطان کو اس مہینہ میں جکڑا جا چکا ہے، اللہ سے دعا کرو کہ وہ اسے تم پر مسلط نہ کرے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ماہ مبارک رمضان کی برکتوں اور رحمتوں سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خبر کا کوڈ : 725251
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے