0
Thursday 24 May 2018 08:19

ہمارے فلسطینی بھائی اور ہمارا طریقہ احتجاج

ہمارے فلسطینی بھائی اور ہمارا طریقہ احتجاج
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

شک نہیں کہ جو کچھ چند دنوں قبل  فلسطین میں ہوا، اور جس طرح اسرائیل  نے بے گناہوں کو راست فائرنگ کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتارا ، اس سے ہر ایک صاحب احساس بے چین و پریشان ہے؟ کہیں جغرافیائی حدود مانع ہیں تو کہیں حکومتوں کی پالسییاں آڑے آتی ہیں, کہیں نوکر پیشہ افراد ہیں تو کہیں بزنس و تجارت کی مصروفیتوں میں گھرے لوگ۔ ایسے  میں بہت  سے دردمند لوگ بس اسرائیل کے مظالم کے سامنے پیچ و تاب کھا کر اپنا دل مسوس کر دہ جاتے ہیں اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں, البتہ اتنا تو طے ہے کہ ہم دنیا میں رہنے والے ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھ سکتے کہ یہ بات ہماری تعلیمات کے خلاف ہے۔ اب ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا کر سکتےہیں؟ ہم کیا کریں اسکے لئے یوں تو سوچ بچار کے ذریعہ بہت سی راہوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن سر دست ہم چند نکات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو شاید موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مناسب ہیں اور ہم سب
انکو انجام دینے کی پوزیشن میں ہیں:

فلسطینی مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار اور کھل کر انکی حمایت کا اعلان:
اِس سلسلے میں مسلمان اقوام کی ذمہ داری بہت سنگین ہے، اِسی طرح مسلمان حکومتوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کھل کر سامنے آئیں اور فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان فلسطین کے خاص علاقے کے رہائشی کی صورت نہیں بلکہ ایک مسلمان ہونے کی بنیاد پر کریں اور یہ وہ چیز ہے جو واجب و ضروری ہے، چنانچہ رہبر انقلاب ایک بیان میں فرماتے ہیں: "ہماری قوم فلسطین کے دفاع کو ایک دینی واجب جانتی ہے اور راہ خدا میں کوئی ایسا ہدف نہیں جانتی ہے کہ جسے حاصل نہ کیا جا سکے، حضرت امام خمینی کی وصیت اور اسلام کا دستور ہے اور ہم اِسی طرح وفا دار بن کر اُن کا دفاع کرتے رہیں گے"۔

فلسطینی  عوام و مجاہدین کی مدد و نصرت: 
فلسطینیوں کی حمایت کے ساتھ دوسری چیز انکی عملی طور پر مدد کرنا ہے، مدد کے مختلف انداز ہو سکتے ہیں، مثلا ہم اپنے ملکوں میں  قائم فلسطین کے سفارت خانہ جا کر انکی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان سے معلوم کر سکتے ہیں کہ ٓآپ کو کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ امام خمینی (رح) ایک مقام پر اس سلسلہ سے فرماتے ہیں، "اسلامی امت اپنے انسانی وظیفہ، اُخوت و بھائی چارے کے حکم اور اپنے اسلامی اور عقلی معیاروں کے مطابق اِس بات کی پابند ہے کہ وہ استعمار کے اِس گماشتے (اسرائیل) کی جڑوں کو اکھاڑنے کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرے اور محاذ جنگ پر نبرد آزما اپنے فلسطینی مجاہدوں کو اپنی مادی اور روحانی مدد و رسد اور خون کے عطیات، دوائیں، اسلحہ اور اشیائے خورد و نوش بھیجتے ہوئے اُن کی مدد کرے"۔ البتہ  بعض سیاسی مجبوریوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے لئے اسلحوں کی فراہمی شاید مشکلات کا سبب بھی بنے اور اتنی ضروری بھی نہ ہو لیکن شک نہیں کہ دواوں کے ذریعہ اور مالی اعانت کے ذریعہ انکی مدد کی جا سکتی ہے۔

یہ ہمارا اسلامی و انسانی فریضہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی مدد کریں کہ ''المُسلِمُون ید واحدة علٰی من سواھم یسعٰی بذمتھم ادنا ھم۔'' مسلمان ایک ہاتھ کی مانند ہیں ہر اُس کے مقابلے میں جو اُن کی امت کا حصہ ہے اور اِس میں سب ذمہ داری کی حیثیت سے یکساں ہیں۔ یہاں تفرقہ اندازی، فرقہ پرستی اور نسل و نژاد پرستی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور اسلامی امت میں کسی قسم کا کوئی امتیاز اور برتری کا وجود نہیں ہے سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے،''اِنّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقیٰکُمْ وَاللّٰہُ حَسْبُنَا وَنِعْمَ الْوَکِیْل۔'' موجودہ حالات میں جبکہ ماہ مبارک رمضان میں سب لوگ اس ماہ ضیافت کے اہتمام میں لگے ہیں، جگہ جگہ روح پرور مناظر نظر آ رہے ہیں، کہیں تلاوت قرآن کی مترنم آوازیں ہیں تو کہیں دعاوں کے زمزمے، ایسے میں کیا ضروری نہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کے ساتھ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جنہیں ہر وقت اسرائیل کے حملوں  کا دھڑکا لگا رہتا ہے اور وہ نہ چین سے اس مہینہ میں عبادت کر سکتے ہیں، نہ تلاوت قرآن کریم۔ ایسے میں کیا ہماری یہ ذمہ داری نہیں بنتی ہے کہ ہم  انکی  مالی امداد کریں؟ جو پیسے پیسے کے محتاج ہیں اور انکی ناکہ بندی کر دی گئی ہے؟ کیا یہ لوگ مسلمان اور کلمہ گو نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ اپنے انسانی حقوق کیلئے قیام  کا حق نہیں رکھتے  ہیں؟ یہ ذمہ داری وجوب کی حد تک ہے کہ ہم ان کے بارے میں کچھ کریں۔

شہید مطہری اس سلسلہ سے فرماتے ہیں، "تمام مسلمان اقوام اور حکومتوں پر واجب ہے کہ وہ فلسطین کے اسلامی مسئلے کو سچائی کے ساتھ اپنے مسائل میں سرفہرست قرار دیں اور اپنی طاقت و توانائی  کے مطابق اُس کے صحیح راہ حل کیلئے اقدامات کریں"۔ حتٰی امام خمینی (رح) تو زکات اور سہم امام جیسی شرعی وجوہات کو فلسطینی مجاہدین کو دینے کے بارے میں فتویٰ دیتے ہوئے ارشاد فر ماتے ہیں:
 ''بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم''۔ یقیناً یہ بات شائستہ ہے بلکہ واجب ہے کہ شرعی وجوہات مثلاً زکات اور تمام صدقوں کو کافی مقدار میں راہ خدا کے اِن فلسطینی مجاہدوں کیلئے مخصوص کرنا چاہیئے۔ اُن مجاہدوں کیلئے جو میدان جنگ میں نبرد آزما ہیں اور انسانیت کے اِس دشمن اور کافر صہیونیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے سر پر کفن باندھے جہاد کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اسلامی امت کی ہاتھ سے نکل جانے والی عزت و آبرو کو لوٹانے کیلئے جی توڑ کو ششوں میں مصروف ہیں اور اسلام کی عظیم تاریخ کو عظمت و سر بلندی بخشنے کیلئے ہمہ تن سرگرم ہیں۔

اتحاد بین المسلمین کی کوششوں کو فروغ دینا:
فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی ایک وجہ مسلمانوں کا آپس میں متحد نہ ہونا ہے، اب اگر انکی مدد ہماری شرعی ذمہ داری ہے تو یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم انکی مدد کے لئے آپس میں متحد ہوں  اسلئے کہ اگر ہم  اپنے اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں، اسلام کے بلند و بالا اہداف سے آشنا ہو جائیں اور اسلام کی جانب لوٹ آئیں تو کوئی بھی نہ ہمیں اسیر کر سکتا ہے نہ ہمیں ذلیل کر سکتا ہے۔ اگر آج اسلامی  معاشرہ ذلت کا شکار ہے، تو اسی اختلاف کی بنیاد پر کتنی اچھی بات کہی تھی امام خمینی (رح) نے، "یہ اسلامی ممالک کے داخلی اختلافات ہی ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ فلسطین کی روزمرہ کی مشکلات کا سبب بنے ہیں بلکہ خود اسلامی معاشرہ کے گوناگوں مسائل کا سبب بھی ہیں۔ کاش  اسلامی ممالک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ کروڑوں مسلمان سیاسی شعور  اور عقلی بلوغ کے حامل ہوتے، آپس میں ہم آہنگ اور متحد ہوتے اور دشمن کے مقابلے میں ایک صف میں کھڑے ہوتے تو بڑی استعماری حکومتوں کیلئے یہ ممکن ہی  نہیں تھا کہ وہ وہ اِن ممالک میں رخنہ اندازی کرتیں تو پھر مٹھی بھر یہودیوں کی بات تو چھوڑ دیجئے جو استعمار کے ایجنٹ اور گماشتے ہیں۔

صہیونیوں کا اقتصادی بائیکاٹ اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور حقوق انسانی کے اداروں کو احتجاجی مکتوب:
صہیونییت  کے ہاتھوں کو کاٹنے اور اُن کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ مسلمان عوام اپنے تمام تر امکانات و وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کوشش کریں کہ تمام  صہیونیوں سے اپنے ہر قسم کے تجارتی معاملات کو مکمل طور پر کاٹ دیں، شک نہیں کہ جب صہیونیوں کو انکے مفادات خطرے میں دکھیں گے تو انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہ محض ایک بات کی صورت، ایک حرف کی صورت ہے کاش مسلمان صرف باتوں میں نہیں حقیقت میں اس پر عمل کرتے۔ ایک اور طریقہ احتجاج یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل سیکرٹری اور دیگر اداروں کو اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف مکتوب بھیج کر ان سے تقاضا کیا جائے کہ اس سلسلہ سے ضروری کارروائی کریں، او اپنا وقت بےجا معاملات میں صرف کرنے کی بجائے ان باتوں پر کریں جنہیں اگر آج حل نہ کیا گیا تو انسانیت کا مستقبل خطرہ میں پڑ جائے گا۔ انشاءاللہ ماہ مبارک رمضان میں تمام تر عبادت و بندگی کے درمیان ہم اپنے دینی بھائیوں سے غافل نہیں رہیں گے۔

حواشی:
١۔ 9 اکتوبر  ٢٠٠١ء میں رہبر مسلمین کا خطاب
 امام خمینی؛ صحیفہ نور، جلد ،صفحہ ٢١٠
٢ ۔ آیت اللہ شہید مرتضٰی مطہری؛ حماسہ حسینی، جلد٢، از صفحہ ١٦٨ تا ١٧٢
 امام خمینی ، صحیفہ نور، جلد ١، صفحہ  ١٣٦   
ایضا۔
خبر کا کوڈ : 726173
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب