0
Tuesday 22 May 2018 13:02

ماہ مبارک رمضان اور ہمارے فلسطینی بھائی

ماہ مبارک رمضان اور ہمارے فلسطینی بھائی
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی
 
ماہ مبارک رمضان میں جہاں انسان کو ایک بہترین موقع نصیب ہوتا ہے کہ خدا کے ساتھ خلوت کے ذریعہ اپنے دل کو جلا بخشے، وہیں یہ بھی  ضروری ہے کہ ہم اپنے برادران دینی سے غافل نہ ہوں، یقینا مستحب یا واجب کو اس مہینہ میں چھوڑنے والا ایک انسان خسارہ اٹھانے والا ضرور ہے اور اپنے عمل کی نسبیت کی بنیاد پر ممکن ہے گناہگار بھی ہو، لیکن ایسا نہیں کہ کسی مستحب یا واجب کو ترک کرنے کی بنیاد پر کہا جائے کہ اب یہ مسلمان نہیں رہا، لیکن یہ اپنے برادران ایمانی کے ساتھ طرز سلوک کیسا ہو اسکی اہمیت اتنی ہے، انکے سلسلہ سے خیال رکھنے کی تاکید اتنی ہے کہ روایت کے جملے ہیں کہ ایسا شخص  مسلمان ہی نہیں ہے جو اپنے بھائیوں کے بارے میں نہ سوچے۔ ایسا شخص جو ماہ مبارک رمضان کی دعاوں میں مشغول رہا اور اپنے دیگر بھائیوں سے غافل رہا، ایسا انسان جو قرآن کی تلاوت میں مشغول رہا لیکن اسے خبر نہیں تھی کہ امت مسلمہ کس بحران سے گزر رہی ہے اور اس نے امت مسلمہ کے مسائل کی کوئی چارہ جوئی نہیں کی، ایسا شخص دین کی نگاہ میں مسلمان کہے جانے کے لائق نہیں۔
 
اب ممکن ہے کوئی بہت بڑا عابد ہو ،ساجد ہو تلاوت قرآن کرنے والا ہو، دعائیں پڑھنے والا ہو لیکن دین کی عمیق نظر میں وہ حقیقی مسلمان تب ہی کہلائے گا جب ان تمام اعمال کے ساتھ مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں سوچتا ہو، انکے سلسلہ سے غافل نہ ہو۔ ماہ مبارک میں فردی عبادتوں کے ساتھ فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ ہماری ایک اجتماعی ذمہ داری اپنے بھائیوں کے مسائل کا حل بھی ہے جس کے بغیر  ہم نام کے مسلمان تو ہو سکتے ہیں لیکن دین کی نگاہ میں حقیقی اسلام سے ہم دور ہیں، لہذٰا ہم سب پر لازم ہے کہ ماہ مبارک کے نورانی لمحوں سے استفادہ کے ساتھ ساتھ اپنے گرد و پیش میں دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے اور امت مسلمہ کس بحران کا شکار ہے اور اس کے مقابل ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ آج جہاں عالم اسلام کے اپنے بہت زیادہ گوناگوں مسائل ہیں وہیں ایک بڑا مسئلہ فلسطینی عوام کے ساتھ غاصب اسرائیل کا جارحانہ سلوک اور ان پر ایسے وقت میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دینا ہے، جب وہ ماہ مبارک کے استقبال کے لئے  آمادہ ہو رہے تھے، آپ نے سنا ہوگا کہ ان پر تمام انسانی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کر دیا اور ٹھیک ماہ رحمت سے چند روز قبل فلسطینیوں کو خاک و خون میں اس لئے غلطاں کر دیا کہ وہ اپنے حق کے مطالبہ کے سلسلہ سے ایک احتجاج کر رہے تھے۔  

سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی عوام کو یہ بھی حق نہیں کہ اپنے حق کے چھینے جانے پر احتجاج کریں ؟ گذشتہ چند دنوں قبل جو کچھ ہوا اسے کون فراموش کر سکتا ہے؟ جب غزہ کی پٹی میں مظلوم فلسطینیوں پر سفاکانہ اورحشیانہ فائرنگ میں انسٹھ افراد شہید اور دو ہزار سات سو اکھتر افراد زخمی ہوگئے۔ فلسطینیوں کے ساتھ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے، بلکہ اس سے قبل بھی صیہونیوں نے مغربی اردن کے کفر قاسم دیہات کی خواتین اور تیئیس بچوں کو بلاسبب فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔ علاوہ ازیں دو دہشتگرد صیہونی گروہوں ایرگون اور اشٹرون نے مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی علاقے دیر یاسین میں تین سو ساٹھ نہتے دیہی باشندوں کا قتل عام کیا تھا اور اس کے بعد سے لیکر اب تک نہ جانے کتنی جگہوں پر دیر یاسین کے خوفناک قتل عام کی تکرار ہوئی ہے، جو اب تک جاری ہے جس کی ایک مثال گذشتہ چند دنوں کی اسرائیلی جارحیت ہے، ایسے میں کبھی کبھی جب گوشہ و کنار سے کج فہمی کے شکار کچھ لوگوں کی یہ آواز کانوں کو بہت گراں گزرتی ہے کہ جو بھی ہو رہا ہے فلسطین میں ہو رہا ہے ہم سے کیا مطلب؟ جبکہ  ہم سے کیا مطلب؟  وہی کہہ سکتا ہے جسکو فرمان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مطلب نہ ہو، یہ انکا اپنا مسئلہ ہے بس وہی کہہ سکتا ہے جو دین سے نا آشنا ہے، اسکی آفاقیت سے ناواقف ہے۔

سو ممکن ہے بعض لوگ فلسطینی عوام پر ہونیوالے حالیہ مسلسل حملوں اور اسرائیلی مظالم کے سلسلہ سے اپنا دامن جھاڑ لیں لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، اپنا دامن جھاڑ لینے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے، اسلئے کہ جس حسین علیہ السلام کا ہم نام لیتے ہیں جس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہم بات کرتے ہیں کیا وہ یہ صورتحال دیکھتے تو یہی کہتے  کہ ہم سے کیا مطلب ؟ ایسے میں  سوچنا چاہیئے کہ اگر آج حسین ابن علی ہوتے تو کیا کرتے؟ کیا امام حسین (ع) یہ کہتے کہ یہ فلسطینی ہیں، ہمارا تعلق مدینہ اور عراق سے ہے ہمیں ان سے کیا مطلب؟ یا پھر فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے؟ آج دشمن نے مسلسل منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر کے جہاں ایک طرف ہمیں ایک دوسرے کے خلاف اکسا کر ایک دوسرے میں الجھا دیا ہے، وہیں اس نے اپنی مکروہ چالوں سے بعض سادہ مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ یہ مسئلہ ایک داخلی مسئلہ ہے جو عربوں اور اسرائیل سے مربوط ہے جبکہ واضح اور روشن ہے کہ یہ عربوں اور اسرائیل کا مسئلہ نہیں ہے اس کے اندر دینی محرکات ہیں اور ''عبد الرحمان فرامرزی'' کے بقول کہ اگر مشکل صرف یہی ہے اور یہ ایک مذہبی مسئلہ نہیں ہے تو دنیا کے دوسرے ممالک میں یہودی اسرائیل کو مسلسل مالی امداد کیوں کرتے ہیں؟

یہ تو دشمن کی ایک چال ہے کہ ہمارے درمیان تصادم پیدا کر کے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھا کر ہمیں عرب و عجم میں تقسیم کر کے ہم پر دن بہ دن مسلط ہو رہا ہے اور ہم غفلت کا شکار ہیں، جبکہ اگر ہم  دینی دستور کو دیکھیں اور آئمہ طاہرین کی سیرت کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہمارے آئمہ کا دل صرف اپنوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ان سب کے لئے روتا تھا جن پر کسی نے ظلم کیا ہو، چنانچہ ایک روز حضرت علی ابن ابیطالب نے سنا کہ دشمن نے ایک اسلامی ملک پر حملہ کر دیا ہے، آپ نے فرمایا میں سنا ہے کہ ایک کافر ذمی عورت جو مسلمان معاشرے میں مسلمان حکومت کے زیر سایہ زندگی بسر کر رہی تھی، کو پکڑ لیا گیا ہے، میں سنا ہے کہ دشمن نے مسلمانوں کی سر زمین پر حملہ کیا ہے، مردوں کو قتل کیا ہے، بہت سوں کو اسیر بنایا ہے، اُس نے وہاں کی خواتین کی عزت و آبرو پر حملہ کیا ہے، اُن کے کانوں اور ہاتھوں سے زیورات کو اتار لیا ہے۔ جب یہ خبر امام علی (ع) کو ملی تو آپ نے فرمایا، اگر ایک مسلمان مرد اِس خبر کو سننے کے بعد مر جائے تو وہ اِس کیلئے سزاوار ہے اور اِس کی اس مسئلے میں ملامت نہیں کی جا سکتی۔ سیرت علی ابن ابی طالب کی روشنی میں اتنا تو واضح ہے کہ ہماری ذمہ داری ایک شیعہ علی (ع) ہونے کے اعتبار سے یہ ہے کہ دنیا اس ظلم کے خلاف بولے یا نہ بولے لیکن ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ لہذٰا جہاں اس ماہ مبارک میں اپنی روح کو پاکیزہ بنانے کے لئے اور ادعیہ و اذکار و تلاوت قرآن ضروری ہے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے درد میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ ان کے غم کو ہلکا کرنے کے ساتھ عملی طور پر بھی کچھ کر سکیں تاکہ حقیقی طور پر دین کی نظر میں ہم مسلمان ہونے کے تقاضوں کو پور ا کر سکیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
[1] مَنْ أَصْبَحَ لا یَهْتَمُّ بِأُمورِ الْمُسْلمینَ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ»، کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، ج 2، ص 163، تهران، دار الکتب الاسلامیه، 1407ق.
[1] شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری؛حماسہ حسینی  ،جلد ٢ ،صفحہ از ١٦٨ تا ١٧٢
خبر کا کوڈ : 726174
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب