0
Sunday 20 May 2018 20:56

فلسطین کی آزادی کیلئے درکار خود مختاری

فلسطین کی آزادی کیلئے درکار خود مختاری
تحریر: سید اسد عباس

دنیا مذمت کرتی رہے، امت مسلمہ جو مرضی کہتی رہے، اسرائیل اور امریکہ نے تو وہی کرنا ہے، جو ان کا جی چاہے گا اور اس کے لئے انہیں اس بات کا بھی ڈر نہیں کہ ایک ہی دن میں انہیں دسیوں انسانوں کو قتل کرنا پڑے، ہزاروں زخمی کر دیئے جائیں اور لاکھوں بے گھر ہو جائیں۔ دنیا بھی ایسی بے بس ہے کہ ان دونوں ممالک کے اقدامات کی مذمت کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی۔ امت مسلمہ کے بڑے بڑے ممالک بھی فلسطینیوں کی بس اتنی ہی مدد کرسکتے ہیں کہ ایک مذمتی قرارداد جاری کر دیں۔ او آئی سی، عرب لیگ اور دیگر مسلم تنظیمیں امریکہ اور اسرائیل کے سامنے لاچار ہیں۔ عملی اقدام کی جرات کسی ایک میں بھی نہیں ہے۔ سفارتی تعلقات، سفارت خانے، اقتصادی لین دین سب جوں کا توں جاری و ساری ہے۔ ان حالات میں بھلا امریکہ یا اسرائیل کو کیا خطرہ ہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالخلافہ بنائیں یا فقط ایک ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیں۔ یقیناً فلسطینی بھی ان حالات کو دیکھ رہے ہوں گے کہ پوری دنیا اسرائیل اور امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ فلسطین میں بہنے والا خون انسانیت کے ضمیر کو جگانے میں ناکام رہا ہے۔ فلسطینی ریاست کے لئے ستر برس سے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہیں۔ یقیناً یہ صورتحال لوہے کے اعصاب رکھنے والے انسانوں کو بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ امریکہ نے گذشتہ برس اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی اتفاق رائے کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مذمت، اقوام متحدہ کی قراردادیں اس کا کیا بگاڑ سکیں۔؟

15 مئی 2018ء کو امریکہ نے اپنے اعلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کر دیا۔ ایک مرتبہ پھر مذمت، قراردادیں اور مظاہرے۔ اگرچہ یہ اقدامات بھی اہم ہیں، تاہم اس وقت جب ان کا کوئی عملی اثر ہو۔ جب ان اقدامات کا مقصد فقط اپنے غصے کا اظہار، یا اپنے عوام کو مطمئن کرنا ہو اور اس سے عملی طور پر کوئی فرق نہ پڑے تو یہ قراردادیں اور مذمتی بیانات بے معنی اور بے وقعت ہو جاتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کو ہر واقعے کا ذمہ دار قرار دے کر اپنی جان خلاصی کا وطیرہ اب زیادہ دیر چل نہیں سکتا۔ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں مرنے والے چند افراد جن کی موت کو یقینی بھی نہیں کہا جاسکتا، پر ہونے والا ردعمل پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ دسیوں کروز میزائل شام کے کیمیائی مراکز پر داغے گئے، شام عالمی سطح پر پابندیوں کا شکار ہے۔ ایران کو فقط نیوکلیائی شعبے میں کام کرنے کی پاداش میں تیس برسوں سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔ شمالی کوریا کو بھی میزائل ٹیکنالوجی، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے جرم میں دنیا سے کاٹ کر رکھا گیا ہے، کیوبا، وینیزویلا اور بہت سے دیگر ممالک دہائیوں سے عالمی اقتصادی پابندیوں کے سبب ترقی کرنے کے لئے مسائل سے دوچار ہیں۔ مگر دنیا میں جسے انسانی قتل کا لائسنس حاصل ہے، جس کو ہتھیار سازی، قتل و غارت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اجازت ہے، وہ فقط ایک لاڈلا ہے۔ ایک روز میں ستر افراد قتل کر دے، لوگوں سے زندہ رہنے، گھر بنانے، کاروبار کرنے کا حق چھین لے، اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کو اس اقدام پر کوئی روکنے والا نہیں بلکہ الٹا اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

ظلم و بربریت کی اس سیاہ رات میں جہاں امریکہ اور اسرائیل کا کردار ہے، وہیں دنیا بھی کسی نہ کسی سطح پر اس کی ذمہ دار ہے۔ مسئلہ فلسطین اور کشمیر امت مسلمہ کے قدیم ترین مسائل ہیں۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ان مسائل کو امت مسلمہ نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا، نہ ہی ان کے حوالے سے کبھی کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔ مذمتی بیانات اور قراردادیں پاس کرکے ہمیشہ یہی سمجھا گیا کہ حق ادا ہوگیا ہے۔ اگر امریکہ حق رکھتا ہے کہ شام، عراق، افغانستان، یمن، مصر، لیبیا، قطر، بحرین، سعودیہ، کویت، عرب امارات کے مسائل میں مداخلت کرے، وہاں فوجی کارروائیاں انجام دے تو مسلم امہ کو کیوں حق نہیں پہنچتا کہ وہ بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے فلسطین اور کشمیر میں کارروائی کریں۔ سعودیہ کو اگر یہ حق ہے کہ وہ بحرین میں اپنی فوجیں بھیجے اور یمن پر بمباری کرے تو اسے یہ حق اسرائیل اور ہندوستان کے حوالے سے کیوں حاصل نہیں ہے؟ یا وہ اپنے اس حق کا استعمال ان ممالک کے خلاف کیوں نہیں کرتا، جہاں ریاستی جارحیت مصدقہ ہے اور مسئلہ اقوام عالم کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ اگر امریکہ شمالی کوریا، کیوبا، وینزویلا، شام، عراق، ایران پر اقتصادی اور سفری پابندیاں لگا سکتا ہے تو مسلم ممالک اسرائیل اور ہندوستان کے خلاف یہ پابندیاں لگانے کا حق کیوں نہیں رکھتے۔؟

یقیناً مسئلہ آزادی اور خود مختاری کا ہے۔ اسرائیل دنیا کی آزاد اور خود مختار ریاست ہے، چاہے اس کے وجود کو مانا جائے یا نہ مانے جائے۔ وہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے جو اور جب چاہتا ہے اقدام کرتا ہے۔ امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک اس کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک بالخصوص مسلم ریاستیں اس آزادی اور خود مختاری کی حقیقی نعمت سے محروم ہیں۔ ظاہری آزادی اور خود مختاری کی سرحدیں وہیں تک ہیں، جہاں سے اسرائیل اور ہندوستان کی جارحیت کا آغاز ہوتا ہے۔ ہاں اتنی آزادی ہے کہ اسرائیل یا ہندوستان کے کسی اقدام پر مذمتی بیان جاری کر دیا جائے۔ ان بیانات سے نہ تو فلسطین آزاد ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ صدی میں اس کے آزاد ہونے کی کوئی توقع ہے۔ نظر یہی آتا ہے کہ مسلمانوں سے مذمتی قراردادوں کی یہ آزادی بھی طریقے سے سلب کر لی جائے گی۔ فلسطین یا کشمیر کی آزادی جن عملی اقدامات کی متقاضی ہے، اس کے لئے کم از کم مسلم ریاستوں کی حقیقی خود مختاری لازم ہے۔ ایک ایران میں حقیقی خود مختار ریاست کے قیام نے اس امر کو واضح کیا کہ امت کے اہم ممالک جب تک ایسی خود مختاری حاصل نہیں کر لیتے، ان کا آزادی اور انسانی حقوق کے حصول کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
خبر کا کوڈ : 726177
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب