0
Friday 1 Jun 2018 20:23

دعا کی فضیلت، قبولیت کے اوقات و مقامات اور آداب

دعا کی فضیلت، قبولیت کے اوقات و مقامات اور آداب
تحریر: مولانا محمد جہان یعقوب

الحمدللہ! رمضان المبارک ہم پر اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے وعدوں کے ساتھ ایک بار پھر سایہ فگن ہے۔ مسلمان اس مہینے کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مہینے کی خاص عبادات میں دعا بھی ہے۔ عموماً افطاری کے وقت ہر گھر میں دعا کی ایک روحانی فضا دیکھنے میں آتی ہے، کیوںکہ حدیث مبارکہ کے مطابق افطاری کا سامان سامنے رکھ کر دعا میں مشغول بندے کے حوالے سے اللہ تعالٰی فرشتوں پر فخر فرماتا ہے، اسی طرح یہ وقت دعا کی قبولیت کا بھی خاص وقت ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ دعا مانگیں، کہ اس سے اس کی رحمت جوش میں آتی ہے۔

قرآن کریم کی روشنی میں دعا کی فضیلت:
دعا کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے متعدد جگہ ہدایت دی ہے، ان آیات مبارکہ سے دعا کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ سورة البقرة ، آیت نمبر 186 میں ارشاد باری تعالی ہے: وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِىْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۖ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِـىْ وَلْيُؤْمِنُـوْا بِىْ لَعَلَّهُـمْ يَرْشُدُوْنَ۔ ترجمہ :  اور (اے پیغمبر)جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ)میں تو (تمہارے) پاس ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں۔ قرآن مجید کی سورہ اعراف، آیت نمبر 55،56 میں اللہ تعالٰی ارشاد فرما تا ہے۔: اُدْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَ خُفْیَةً ِانَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ ِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَ طَمَعاً اِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْب مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(56) ترجمہ: لوگو! اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو، وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

حدیث نبوی کی روشنی میں دعا کی فضیلت:
اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی عظمت، اس کی برکتیں، دعا کے آداب اور دعا کرنے کے بارے میں واضح ہدایات دی ہیں۔ ایسی بے شمار احادیث ہیں، جن میں دعا کا ذکر ہے اور دعا کی اہمیت و فضیلت کو واضح کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "دعا کارآمد اور نفع مند ہوتی ہے اور ان حوادث میں بھی جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے، پس اے خدا کے بندو! دعا کا اہتمام کرو"۔ (جامع ترمذی)۔ ایک اور حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مردی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  "اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ اللہ کو یہ بات محبوب ہے کہ اس کے بندے اس سے دعا کریں اور مانگیں۔ اللہ تعالی کے کرم سے امید رکھتے ہوئے اس بات کا انتظار کرنا کہ وہ بلا اور پریشانی کو اپنے کرم سے دور فرمائے گا اعلٰی درجہ کی عبادت ہے"۔ (جامع ترمذی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں"۔ (ترمذی، سنن ابن ماجہ)۔ حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: "دعا مانگنا بعینہ عبادت کرنا ہے"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور دلیل قرآن کریم کی سورہ المؤمن کی آیت نمبر60 کی تلاوت فرمائی: و قال ربّکم ادعونی استجِب لَکم ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے فرما دیا ہے کہ مجھ سے دعا مانگا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، النسائی)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "دعا عبادت کا مغز اور جوہر ہے"۔ (جامع ترمذی)۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں وہ عمل (نہ) بتاؤں جو تمہارے دشمنوں سے تمہارا بچاؤ کرے اور تمہیں بھرپور روزی دلائے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے اللہ سے دعا کیا کرو،
رات میں اور دن میں، کیونکہ دعا مؤمن کا خاص ہتھیار یعنی اس کی خاص طاقت ہے"۔ (بحوالہ معارف الحدیث،مولانا محمد منظور نعمانی)

کون سی دعا نہیں مانگنی چاہیئے؟ اور وہ کون سا عمل ہے، جو دعا کو بےاثر کر دیتا ہے؟ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری دعائیں اس وقت تک قابل قبول ہوتی ہیں جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لیا جائے۔ جلد بازی یہ ہے کہ بندہ کہنے لگے کہ میں نے دعا مانگی تھی مگر وہ قبول نہیں ہوئی"۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم کبھی اپنے حق میں یا اپنی اولاد اور مال و جائیداد کے حق میں بددعا نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ وقت دعا کی قبولیت کا ہو اور تمہاری وہ دعا اللہ تعالی قبول فرما لے(جس کے نتیجے میں خود تم پر تمہاری اولاد یا مال و جائیداد پر کوئی آفت آ جائے)۔ (مسلم شریف)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنی موت کی تمنا نہ کرے، نہ جلدی موت آنے کے لئے اللہ سے دعا کرے۔ (مسلم شریف)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ موت کی دعا اور تمنا نہ کرو، اور کوئی آدمی ایسی دعا کے لئے مضطر ہو (اور کسی وجہ سے زندگی اس کے لئے دو بھر ہو) تو اللہ کے حضور میں یوں عرض کرے: اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ، اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو دنیا سے مجھے اٹھا لے۔ (سنن نسائی)

دعا کے آداب:
فقہائے کرام نے دعا مانگنے کے آداب میں درج ذیل امور بطورِ خاص بیان فرمائے ہیں:
(1)۔ کھانے، پینے، پہننے اور کمانے میں حرام سے بچنا۔ (2)۔ دعا مانگنے سے پہلے کوئی نیک کام مثلاً صدقہ دینا، یا نماز پڑھنا وغیرہ کرنا۔ (3)۔ سختیوں اور مصیبتوں کے وقت خاص طور پر اپنے نیک اعمال کے واسطے دعا مانگنا۔ (4)۔ ناپاکی اور نجاست سے پاک ہونا۔(5) باوضو ہونا۔(6) قبلہ رخ ہونا۔ (7) دعا سے پہلے اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء کرنا، شروع اور آخر میں رسول اللہ ۖ پر درود و سلام بھیجنا۔ (8)۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر اور اوپر اٹھا کر دعا مانگنا۔(9) عاجزی و انکساری اختیار کرنا۔ (9)۔ گڑگڑانا۔ (10)۔ ابنیائے کرام  اور اللہ کے نیک بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا۔

دعا کی قبولیت کے مخصوص اوقات اور مقامات:
دعا اللہ اور بندے کے درمیان ایک ایسا مخصوص تعلق اور مانگنے والے اور اس کے خالق کے درمیان براہ راست رابطہ ہے، جس میں بندہ اپنے معبود سے اپنے دل کا حال سیدھے سادہ طریقے سے بیان کر دیتا ہے۔ بندہ اپنے پروردگار سے دن یا رات کے کسی بھی حصے میں دعا مانگ سکتا ہے، کوئی خاص وقت اس مقصد کے لئے مقرر نہیں، تاہم احادیث مبارکہ سے دعا کے لئے درج ذیل خاص اوقات ثابت ہیں، ان وقتوں میں دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں: (1)۔ رات کا آخری حصہ (یعنی پچھلی شب بیدار ہوکر نماز تہجد پڑھنے کے بعد کی دعا۔ (2)۔ جمعہ کے دن میں بھی ایک قبولیت کی ساعت(گھڑی) ہے، اس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ (3)۔ شب قدر میں مانگی جانے والی دعا۔ (4)۔ اذان کے وقت کی دعا۔ (5)۔ فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔ (6) سجدے کی حالت میں مانگی جانے والی دعا۔ (7)۔ قرآن مجید کی تلاوت اور ختم قرآن کے وقت مانگی جانے والی دعا۔ (8) رمضان شریف کے مہینے میں افطارکے وقت کی دعا۔

اسی طرح دعا کے لئے مخصوص مقامات کی بھی کوئی قید نہیں، البتہ احادیث و آثار میں درج ذیل مقامات پر دعائیں قبول ہونے کی صراحت ہے؛ (1) بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے۔ (2)۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں۔ (3)۔ ملتزم، یعنی وہ جگہ جو جو حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے درمیان ہے، اس پر چمٹ کر دعا کرنا۔ (4)۔ میزاب رحمت کے نیچے۔ (5)۔ بیت المقدس میں۔ (6)۔ رکن و مقام ابرہیم کے درمیان۔ (7)۔ صفا و مروہ پر۔ (8)۔ مقامِ ابراہیم کے پیچھے۔ (9)۔ اس جگہ، جہاں سعی کی جاتی ہے۔ (10)۔ عرفات میں۔ (11)۔ زمزم کا پانی پیتے وقت۔ (12)۔ مشعرِ حرام ،مزدلفہ میں۔ (13)۔ رکنِ یمانی اور حجرِا سود کے درمیان۔ (14)۔ جمرہ ٔصغریٰ اور جمرۂ وسطٰی کے پاس کنکریاں مارنے کے بعد۔ اللہ تعالٰی ہمیں اِن آداب کی رعایت کرتے ہوئے، قبولیتِ دعا کے کامل یقین کے ساتھ، خوب دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
خبر کا کوڈ : 728784
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب