0
Monday 11 Jun 2018 16:02

ٹرمپ کا اپنے اتحادیوں کیخلاف تجارتی جنگ کا آغاز

ٹرمپ کا اپنے اتحادیوں کیخلاف تجارتی جنگ کا آغاز
تحریر: ثاقب اکبر
 
مارچ 2018ء کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمد پر 10 سے 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد سے آہستہ آہستہ صورت حال تندی اور شدت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے اور اس وقت جی سیون کے تمام ممالک امریکہ کے سامنے صف آراء ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جی سیون میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ جرمنی، فرانس، اٹلی، جاپان اور کینیڈا شامل ہیں۔ اس سے پہلے عالمی اداروں جن میں ایم آئی ایف بھی شامل ہے، کی طرف سے امریکی فیصلوں پر تنقید کی جا چکی ہے۔ میکسیکو، چین اور برازیل بھی امریکہ کو جوابی اقدامات کی دھمکی دے چکے ہیں۔ تازہ ترین دھماکہ 9 جون کی شام کو کینیڈا میں ختم ہونے والے جی سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد ہوا۔ اس اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہوں کا لہجہ امریکہ کے مقابلے میں بہت تلخ تھا۔ بہرحال آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق ہوگیا لیکن کینیڈا سے سنگاپور کی طرف جاتے ہوئے راستے میں امریکی صدر نے اس اعلامیے کی حمایت سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد جرمنی اور فرانس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کی ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکوماز نے کہا کہ امریکی صدر نے یورپ اور امریکہ کے مابین اعتمادکو تباہ کر دیا ہے۔ فرانس کے صدر نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کا انحصار غصے اور زبانی حملوں پر نہیں ہوتا۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے یورپ اور کینیڈا کی مصنوعات پر امریکہ کی طرف سے نئی محصولات کے اقدام کو قطعی ناقابل قبول قرار دیا۔
 
کینیڈا کے وزیراعظم کے بیانات پر امریکی صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم نے ان کی پیٹھ پر وار کیا ہے اور وہ شمالی کوریا کے راہنما سے ملاقات سے قبل کمزور دکھائی نہیں دینا چاہتے۔ انہوں نے جسٹن ٹروڈو کو کمزور اور بددیانت کے القاب سے نوازا۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کی جانب سے درآمدی محصولات کے فیصلے کی مزاحمت کرے گا اور کینیڈا یکم جولائی سے امریکہ کی 13 ارب ڈالر کی برآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین لوگ نرم اور معقول ہیں لیکن ہمیں ادھر ادھر دھکیلا نہیں جاسکتا۔ سربراہی اجلاس سے پہلے کینیڈا میں جی سیون کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں بھی یورپی یونین اور کینیڈا نے امریکی فیصلے کے خلاف جوابی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تجارتی جنگ چند دنوں میں شروع ہوسکتی ہے۔ اس اجلاس کے موقع پر بھی مشترکہ بیان جاری نہیں ہوا تھا، جو اس امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین سخت اختلافات موجود ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخوان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال کرکے امریکہ کی طرف سے عائد کی گئی محصولات کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ قبل ازیں یورپی یونین کی ٹریڈ کمشنر سیلسیلیا مالمسٹورم کہہ چکی ہیں کہ امریکہ نے مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے جون کے آغاز میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی صدر کے اقدام کے یورپ کی اقتصادی بحالی اور خود امریکی صارفین کے لئے خطرناک نتائج ہوں گے۔ برطانیہ کے انٹرنیشنل ٹریڈ سیکرٹری لائن فوکس بھی کہہ چکے ہیں کہ سٹیل پر 25 فیصد محصول صاف طور پر مضحکہ خیز ہے۔

یہ امر دلچسپ ہے کہ اب امریکہ اپنے اتحادیوں کے احتجاج اور جوابی اقدامات کو اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دینے لگا ہے۔ تاریخی طور پر امریکہ جب کسی ملک کے کسی اقدام کو اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ اس ملک کے خلاف ہر طرح کے ممکنہ اقدام کی توقع کی جانا چاہیے۔ شاید امریکہ کے نزدیک اس کا سب سے زیادہ حقدار اب کینیڈا ہوگیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکہ ایک ایک کرکے اپنے اتحادیوں کے خلاف یلغار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس امریکی دعوے کو مسترد کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر امریکی صدر کی ذہنی حالت کے حوالے سے بحث ایک مرتبہ پھر گرم ہوگئی ہے کیونکہ امریکی صدر جس کے خلاف چاہتے ہیں، الل ٹپ بیان جاری کر دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں، دھمکی دیتے ہیں اور جس وعدے سے جب چاہتے ہیں، مکر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ میڈیا کے افراد اور اداروں تک کو اپنے غضب کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں جی سیون کے اجلاس کے بعد انہوں نے سی این این کے نمائندے کو جس طرح سے ڈانٹا اور خود سی این این کے خلاف جس طرح کے الفاظ استعمال کئے، اس سے ان کی ذہنی کیفیت کا کچھ مزید اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
 
واشنگٹن ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 جون ہفتے کے روز سی این این کے نمائندے سے جی سیون کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ سی این این کی رپورٹیں جعلی ہوتی ہیں اور یہ ایک بدترین نیوز چینل ہے۔ سی این این کے خبر نگار نے امریکی صدر ٹرمپ سے کہا کہ یہ خیال تقویت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے کہ امریکہ کے قریبی ترین اتحادی بھی آپ سے ناامید اور مایوس ہوگئے ہیں اور آپ کے اقدامات پر غصے میں ہیں، جبکہ آپ سنگاپور جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ شمالی کوریا کے راہنما سے دوستانہ مذاکرات کرسکیں۔ سی این این کے خبر نگار نے مزید کہا کہ کیا آپ کو بھی اس کا کچھ احساس ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکی اتحاد کا نظام تبدیل ہو رہا ہے؟ سی این این کے نامہ نگار کی بات کاٹتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: میں تم سے پوچھتا ہوں تم کس چینل سے تعلق رکھتے ہو، جب خبر نگار نے کہا کہ میں سی این این کے لئے کام کرتا ہوں تو ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سی این این کی خبریں جعلی اور بدترین ہوتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ طرز عمل امریکی اتحادیوں کو آخر کار کن فیصلوں پر پہنچائے گا؟ کیا وہ صدر ٹرمپ کی دھونس کے سامنے سر جھکا دیں گے یا داخلی طور پر امریکہ کے تھینک ٹینکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر قائل کرسکیں گے؟ اگر ان میں سے کوئی ایک کام نہ ہوسکا اور طرفین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو دنیا بہت جلد نئے معرکوں کا تماشا دیکھے گی۔
خبر کا کوڈ : 731045
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب