0
Wednesday 20 Jun 2018 16:22

امریکہ اور چین میں تجارتی جنگ کا آغاز

امریکہ اور چین میں تجارتی جنگ کا آغاز
تحریر: حسین احمدی

وائٹ ہاوس کی جانب سے چین سے آنے والی 50 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کئے جانے کے بعد جمعہ کے روز چین نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے چین سے درآمد ہونے والی صنعتی مصنوعات جن میں ایروسپیس، روبوٹیکس اور خاص طور پر آٹوموبائل انڈسٹری سے متعلق مصنوعات شامل ہیں، پر نئے بھاری ٹیکس عائد کر دیئے ہیں۔ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کی چنگاریاں اس وقت پھوٹیں جب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس مارچ کے مہینے میں یہ اعلان کیا کہ وہ مستقبل قریب میں چین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا دیں گے۔
 
امریکی صدر کے اس اعلان کے ردعمل میں چین نے بھی دھمکی دی کہ ایسی صورت میں وہ بھی درآمد ہونے والی امریکی مصنوعات پر عائد ٹیکس میں اضافہ کر دے گا۔ کچھ عرصے تک دونوں جانب سے اس بارے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ لیکن ابھی چند دن پہلے امریکہ کی جانب سے چین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے حتمی فیصلے کے بعد چین کے وزیر تجارت نے بھی اعلان کیا ہے کہ: "امریکہ بدستور اپنے قدیمی طرز فکر پر عمل پیرا ہے اور اسی بنیاد پر اس نے ہمارے خلاف تجارتی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔" اس بیان میں چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ہر قسم کی تجارتی جنگ کا مخالف ہے اور اسے اپنے قومی مفادات، گلوبلائزیشن اور عالمی تجارت کے خلاف تصور کرتا ہے۔
 
چینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے امریکہ برآمد ہونے والی اپنی 1100 مصنوعات پر نئے ٹیکس عائد کئے جانے کے مقابلے میں امریکہ سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر بھی نئے ٹیکس عائد کرے گا۔ چین کے اقتصادی حکام کے مطابق امریکہ سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر ٹیکس دو مرحلوں میں عائد کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے پر امریکہ سے درآمد ہونے والی 545 مصنوعات پر ٹیکس عائد کیا جائے گا جن کی مالیت 34 ارب ڈالر ہے اور ان میں زراعت، آٹوموبائل انڈسٹری اور سی فوڈز سے متعلق اشیاء شامل ہیں۔ ان اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ 6 جولائی سے کیا جائے گا۔ امریکہ سے درآمد ہونے والی دیگر 114 قسم کی مصنوعات جن میں کیمیکلز، میڈیکل آلات اور انرجی سے متعلق مصنوعات شامل ہیں پر ٹیکس میں اضافہ دوسرے مرحلے میں انجام پائے گا۔
 
امریکہ نے بھی پہلے مرحلے پر چین سے درآمد ہونے والی 800 مختلف قسم کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کیا ہے۔ ان اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ 6 جون سے آغاز ہو چکا ہے۔ امریکہ دوسرے مرحلے میں چین سے درآمد ہونے والی دیگر 280 مختلف قسم کی اشیاء پر ٹیکس بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کی جانب سے بڑی تعداد میں امریکہ درآمد ہونے والی مصنوعات کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس کا مقابلہ ان مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کر کے کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق اس وقت چین سے امریکہ درآمد ہونے والی مصنوعات کی مالیت سالانہ 524 ارب ڈالر ہے جبکہ امریکہ سے چین برآمد ہونے والی مصنوعات کی مالیت صرف 187 ارب ڈالر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ چینی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ چین کو امریکی ٹیکنالوجی چرانے کی سزا دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر چینی مصنوعات کی حالیہ مقدار میں درآمد جاری رہی تو وہ ان پر ٹیکس میں مزید اضافہ کریں گے۔
 
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ چینی مصنوعات کے خلاف امریکی حکومت کا اقدام عالمی تجارت اور امریکہ میں چینی مصنوعات کے صارفین کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کے پہلے دن ہی امریکی اسٹاک ایکسچینج میں ڈاو جونز انڈیکس کی مقدار میں دو سو یونٹ کی کمی واقع ہو گئی۔ اسی طرح جرمنی کے اسٹیٹ بینک نے امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی مسائل پیدا ہونے کے پیش نظر جرمنی کی اقتصادی ترقی کے بارے میں اندازے کے مطابق بتائی گئی مقدار میں کمی کا اعلان کر دیا۔ امریکی حکومت نے اس سے پہلے کینیڈا، میکسیکو اور یورپی یونین سے درآمد ہونے والی فولاد کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے ردعمل میں یورپی یونین کے 28 رکن ممالک نے گذشتہ ہفتے جمعرات کے دن امریکی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے پر اتفاق رائے کیا تھا۔
 
خبر کا کوڈ : 732521
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے