1
2
Friday 27 Jul 2018 02:00

طاقتور "سٹیٹس کو" کے انہدام کی وجوہات

طاقتور "سٹیٹس کو" کے انہدام کی وجوہات
تحریر: لیاقت تمنائی

لوہے کے چنے اتنے نہیں تھے جتنے بتائے جا رہے تھے، عام انتخابات کے نتیجے میں بڑے بڑے برج الٹ گئے ہیں، "نیا پاکستان" کے بیانیے کے ساتھ عمران خان ملک کے اگلے وزیراعظم بننے والے ہیں، آخری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو واضح برتری حاصل ہے, ساتھ کے پی کے میں بھی تاریخ رقم ہو رہی ہے، جب پہلی مرتبہ کسی پارٹی نے مسلسل دوسری مرتبہ اکثریت حاصل کرلی ہے ،جے یو آئی اور جماعت اسلامی کا صفایا ہو چکا ہے، پی ٹی آئی تنہا حکومت بنانے کی واضح پوزیشن میں ہے، سندھ میں ایم کیو ایم کا خلا پی ٹی آئی نے پر کرلیا، گوکہ مائنس الطاف کا فائدہ پیپلزپارٹی کو بھی ہوا لیکن تحریک انصاف بھی پہلے سے بہتر پوزیشن میں آ گئی، کراچی کی 21 میں سے 12سیٹوں پر پی ٹی آئی نے میدان مار لیا، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اتنی کارکردگی نہ دکھا پائی جتنی بتائی جا رہی تھی۔ سب سے اہم معرکہ پنجاب کا تھا جہاں پر پی ٹی آئی اور نون لیگ میں گھمسان کی جنگ جاری ہے، شنید ہے کہ آزاد امیدواروں کو شامل کرکے کہ جن کی تعداد 28ہے تحریک انصاف حکومت بنائے گی، قومی اسمبلی کی سیٹوں پر نون لیگ کے تقریباً تمام لوہے کے چنوں کو شکست ہو چکی ہے۔ حالیہ الیکشن ملکی تاریخ کا سب سے سنسنی خیز اور حساس نوعیت کا تھا۔ یہ مختلف جماعتوں کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کیلئے انتہائی پریشانی کا باعث بھی بنا رہا۔

نواز شریف کا نعرہ "ووٹ کو عزت" دو اصل میں "نواز شریف کو بحال کرو" کا نعرہ تھا جس کی بنیاد پر نواز شریف اور پارٹی کی یہ کوشش تھی کہ کم از کم دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی جائے، اور اردگان طرز پر آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر شریف خاندان کی سزا کو ختم کرنا اور پھر سے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کرنا مقصود تھا شریف فیملی کی منشا کے مطابق اکثریت حاصل ہو جاتی تو اصلاحات کے نام پر ملٹری اور جوڈیشری میں کریک ڈاؤن کا لمبا سلسلہ شروع ہونا تھا، سپریم کورٹ کے ججوں کی تبدیلی کے ساتھ پاک فوج اور آئی ایس آئی میں اہم عہدوں کی اکھاڑ پچھاڑ بھی یقینی تھا۔ اداروں کو اپنے لالے پڑ جاتے اور نوازشریف مینڈیٹ کے بل بوتے پر سول سپرمیسی کے نام پر وسیع تر سیاسی اور انتظامی اصلاحات عمل میں لاتے جس کے نتیجے میں ملک میں انارکی یقینی تھی۔ نوازشریف نے گذشتہ سال ستمبر میں پانامہ کیس کے فیصلے کے فوری بعد ہی جلسوں کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع کیا، جس میں سپریم کورٹ پر اعلانیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر دبے لفظوں میں حملے کسے جاتے رہے۔ نون لیگ کے دیگر رہنما بھی اعلان کرتے پھر رہے تھے کہ مسلم لیگ نون الیکشن جیتنے کی صورت میں آئینی ترمیم کے ذریعے نوازشریف کی سزا کو ختم کروائے گی، لیکن انتخابات کے نتیجے میں نوازشریف بیانیہ والے سارے لیگی رہنماؤں کو اپ سیٹ شکست ہوئی، شہباز شریف بمشکل اپنی سیٹ بچا پائے۔25سال تک کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں رہنے والی جماعت کی شکست کی بنیادی وجوہات آخر ہیں کیا؟

مضبوط سٹیٹس کو:
نوازشریف پاکستان کی سیاست میں طاقتور سٹیٹس کو کی حیثیت رکھتے ہیں، انتخابات میں پارٹی کی شکست کے ساتھ نوازشریف کے مقبول بیانیے کی بھی ہار ہوئی، شریف فیملی جنرل ضیاءالحق کے دور سے اب تک لگ بھگ 25سال تک کسی نہ کسی صورت میں حکومت میں رہی ہے، پنجاب میں مسلسل دس سال تک بلاشرکت غیرے حکومت کی، اس سے پہلے جنرل ضیاء کے دور میں وزیراعلٰی پنجاب رہے، بعد میں تین مرتبہ وزیراعظم رہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں ایک مضبوط سٹیٹس کو وجود میں آیا۔ پاکستان میں دیکھا جائے تو جمہوریت دو فیصد طبقے کی نمائندگی کا نام ہے ان میں ایک شریف فیملی ہے ،ایک لمبے عرصے تک اقتدار میں رہنے کی وجہ سے شریف فیملی کا وسیع انتظامی اور سیاسی نیٹ ورک وجود میں آ چکا ہے جسے ایک دم شکست دینا انتہائی مشکل کام ہے اور اسی نیٹ ورک کے ذریعے شریف فیملی ہر برے وقت سے بچتی رہی ہے۔ پاناما کا فیصلہ آنے کے بعد اداروں پر حملہ کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، مریم نواز کے میڈیا سیل کے ذریعے فوج اور عوام میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئیں، جس کی ایک جھلک حنیف عباسی کو سزا سنانے کے بعد ہی راولپنڈی میں دیکھنے کو ملی، جب نون لیگی کارکنوں نے آئی ایس آئی کیخلاف کھلم کھلا سڑکوں پر نعرے بازی کی، جس کی انڈین میڈیا نے خوب تشہیر کی، فوج اور عوام میں یہ تقسیم ملک کی سلامتی کیلئے خطرے کی گھنٹی تھی، شریف فیملی کا یہ عمل اداروں اور عوام کیلئے کسی بھی صورت میں قبول نہیں تھا۔

بھارت کے معاملے پر مشکوک پالیسی:
پانامہ کیس سے پہلے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نوازشریف کی پالیسی یکطرفہ اور مشکوک رہی، بھارت کے ساتھ تعلقات پر نواز پالیسی پر فوج کو پہلے ہی شدید تحفظات تھے تاہم بھونچال اس وقت آیا، جب بھارت کے مشہور بزنس مین سجن جندال اپریل 2017ء کو اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ کابل سے خصوصی طیارے پر اچانک اسلام آباد پہنچے اور وہاں سے مری گئے اور نوازشریف سے پراسرار ملاقات کی اور دوپہر کا کھانا بھی ساتھ کھایا، جس کے بعد بغیر کسی اعلامیہ کے بھارت کو اڑن چھو ہو گئے، سجن جندال ایسے وقت میں اسلام آباد میں نمودار ہوئے تھے جب بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملے پر بھارت پاکستان کیخلاف عالمی سطح پر تمام تر ہتھکنڈے استعمال کر رہا تھا، سجن جندال کی آمد کا پتہ بھی مریم نواز کے ٹویٹر کے ذریعے ہی پاکستانیوں کو چلا، جندال کی آمد کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس صرف اسلام آباد کا ویزہ تھا پھر بھی سرکاری پروٹوکول میں مری لے جانا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی تھی بلکہ ملکی سالمیت کیلئے بھی خطرہ ہوسکتا تھا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملے پر نوازشریف کی پراسرار خاموشی بھی اہم سوالیہ نشان بن گیا، اس سے پہلے یہ خبریں بھی آتی رہیں کہ شریف برادران کے شوگر ملوں میں موجود 40بھارتی انجینئرز مبینہ طورپر راء کے جاسوس تھے انہیں نوازشریف نے خصوصی سہولیات دے رکھی تھیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر مقتدر حلقوں کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے کیونکہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگرد کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کے بارے میں ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جس کو کئی مرتبہ مختلف عالمی فورمز پر پیش بھی کیا جا چکا ہے۔ نااہلی کے بعد نوازشریف نے انگریزی اخبار کو انٹرویو کے ذریعے اپنے ہی ملک کیخلاف بھارت کو چارج شیٹ فراہم کی، یہ اتنا غیر ذمہ دارانہ انٹرویو تھا کہ فوری طور پر ہی قومی سلامتی کا اجلاس بلانا پڑا۔

ناکام معاشی پالیسیاں:
نواز حکومت ابتداء سے ہی معاشی پالیسی گراس روٹ لیول کی بجائے ایلیٹ کلاس کیلئے بنائی جاتی رہی ہے، نوازشریف چونکہ کاروباری آدمی ہیں، ایک کاروباری آدمی کیلئے 20 کروڑ عام انسانوں کی بجائے 200 کاروباری لوگوں کے مفادات عزیز ہوتے ہیں، انہوں نے کاروباری طبقے کی نمائندگی ضرور کی، لیکن پاکستان کے 20 کروڑ عام لوگوں کے لئے کوئی معاشی پالیسی نہیں بنائی، نوازحکومت کے پانچ سالہ دور میں 38ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لئے گئے، اتنی بڑی رقم پاکستان نے گذشتہ پچاس سال میں بھی نہیں لی تھی، اس وقت پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا حجم 92 ارب ڈالر سے زائد ہے، اس پر سالانہ کھربوں روپے سود کی شکل میں ادا کرنا پڑتا ہے، غیر ملکی قرضے ایسے منصوبوں کیلئے لیے گئے جس کا فائدہ عام آدمی کیلئے نہ ہونے کے برابر ہے، نون لیگ کو چونکہ سیاسی جوڑ توڑ اور عوام کی مجموعی نفسیات کا بخوبی علم ہے ان کی کوشش ہے کہ ایسے منصوبوں پر توجہ دی جائے جو لوگوں کی زیادہ سے زیادہ نظروں میں آئے اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کیلئے توجہ کا باعث بنے، اس کی مثال میٹرو منصوبوں اور اورینج لائن ٹرین ہیں، تین میٹرو بس اور ایک اورینج ٹرین منصوبے پر مجموعی طور پر ساڑھے چار سو ارب روپے خرچ کئے گئے۔

غیر ملکی قرض میں ڈوبے ملک کیلئے یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ جس سے پورے پنجاب کے سرکاری سکولوں کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا جاسکتا تھا، یا پنجاب میں کم از کم 50 جدید ترین ہسپتال بنائے جا سکتے تھے۔ بھاری بھرکم غیر ملکی قرضہ نہ صرف پاکستان کی معاشی تنزلی کی بنیادی وجہ ہے بلکہ یہ سکیورٹی تھرٹ بھی ہے۔ اسی طرح سستی روٹی سکیم، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم، دانش سکول ایسے ناکام منصوبے ہیں جن پر اربوں روپے لٹائے گئے، لیکن عوام کو ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں ہوا۔ نوازشریف نے عام آدمی کی حالت بدلنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ مسلم لیگ نون اسحاق ڈار کے اندھا دھند اعداوشمار کے برعکس ملک کی معیشت کو ٹریک پر لانے میں کامیاب نہ ہو سکی، بڑ ے بڑے قومی ادارے تباہی کے دہانے پہنچ گئے، پی آئی اے آخری سانسیں لے رہی ہے، پاکستان سٹیل ملز کی حالت ابتر ہوتی گئی، حالانکہ خود نوازشریف سٹیل کے کاروبار سے منسلک ہیں، انہیں سٹیل ملز کو ٹریک پر لانے میں دوسروں کی نسبت آسانی ہونی چاہیئے تھی۔ پاکستان ریلوے کے سابق وزیر خواجہ سعد رفیق میڈیا پر الفاظ کی جادوگری کے ذریعے قوم کو گمراہ کرتے رہے، جس کا بھانڈا دو دن پہلے پھوٹا، جب سپریم کورٹ میں آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی جس میں انکشاف کیاگیا کہ ریلوے کا سالانہ خسارہ 40ارب روپے سے زائد ہے، ادارہ تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ اس رپورٹ پر سپریم کورٹ نے لوہے کے چنے والے کو طلب کر رکھا ہے۔

مریم نواز فیکٹر:
مسلم لیگ نون کی شکست کی بنیادی وجوہات میں سے ایک مریم نواز ہیں جس نے جذباتی اور غیر سنجیدہ رویہ کے ذریعے اپنے والد کو جارحانہ سیاست پر لگا دیا، مریم نواز نے ملک کے تمام اداروں کو نہیں بخشا، ٹویٹر اور جلسوں میں عدالت اور فوج پر لفظی حملے کرتی رہی، مریم نواز ہی ووٹ کو عزت دو نعرے کی خالق تھیں، جس کی جارحانہ پالیسی سے نون لیگ کے اندر کئی سینئر رہنماؤں کو شدید تحفظات تھے لیکن موروثی سیاسی ڈھانچے کی وجہ سے یہ لوگ کھل کر اظہار نہ کرسکے۔ صرف چوہدری نثار ہی میدان میں آئے، نون لیگ کے صدر شہباز شریف کو بھی مریم نواز کی پالیسی سے شدید اختلاف تھا، کئی مواقع پر نوازشریف اور مریم نوازکو اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کا مشورہ دیا گیا لیکن دونوں باپ بیٹی سیاسی جنگجو بننے پر مصر رہے، میڈیا پر مریم نواز کے میڈیا سیل کا بھی کافی چرچا رہا، مریم نواز نے سوشل میڈیا سیکشن کو انتہائی فعال رکھا، جس کے ذریعے فوج اور عدلیہ پر سنگین حملے کئے گئے، اداروں کی پگڑی اچھالنے میں مریم نواز کے میڈیا سیل نے ہی سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ نوازشریف بیانیے اور نون لیگ کی شکست کی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مضبوط ترین سٹیٹس کی حامل پارٹی کی کہانی اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 740505
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

زین رضا
Pakistan
بہترین، رپورٹ۔ زبردست
منتخب
ہماری پیشکش