0
Tuesday 31 Jul 2018 18:13

اسرائیل کی ریاستی نسل پرستی

اسرائیل کی ریاستی نسل پرستی
تحریر: رحمان نعیمی

اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ کے اراکین نے حال ہی میں ایک نیا بل منظور کر کے اسے قانون کا درجہ دے دیا ہے جسے نسل پرستانہ قانون کا بہترین نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بل "یہودی ریاست کے قانون" کے نام سے پیش کیا گیا جس کے حق میں 62 ووٹ، اس کی مخالفت میں 55 ووٹ اور بے طرفی میں دو ووٹ ڈالے گئے۔ غاصب صہیونی رژیم اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اس بل کے پرزور حامیوں میں سے تھے۔ انہوں نے یہ بل منظور ہو جانے کے بعد کہا کہ تھیوڈور ہرٹزل کے نظریات منظرعام پر آنے کے 122 سال بعد اس نئے قانون نے اسرائیل کے حقیقی تشخص کا تعین کیا ہے یعنی یہ بتایا ہے کہ "اسرائیل یہودی قوم کیلئے ایک قومی ریاست ہے۔" اسی طرح کینسٹ کے اسپیکر یولی ایڈلشٹائن نے بھی اس بل کی منظوری کو ایک اہم تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا: "یہ قانون آئندہ نسلوں کیلئے قومی ترانے، قومی پرچم اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے حق کے ساتھ اسرائیل کے یہودی قوم کے بطور ایک ملک کی گارنٹی فراہم کرتا ہے۔"
 
ان دو اعلی سطحی اسرائیلی عہدیداروں نے اپنے ان بیانات کے ذریعے بہت اچھی طرح اس قانون کا معنی و مفہوم واضح کر دیا ہے۔ یہ معنی و مفہوم اس منظور شدہ قانون کی نسل پرستانہ نوعیت پر دلالت کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ نے ایک خاص نسل کو مخصوص مراعات دینے پر مبنی نسل پرستانہ قانون تیار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس قانون کی پرزور مخالفت کی ہے۔ یہ تنظیم اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے اس نسل پرستانہ قانون کی منظوری کو گذشتہ 70 برس سے اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں اور مقبوضہ فلسطین کے خلاف جاری نسل پرستانہ اقدامات اور حق تلفی کو قانونی حیثیت دیئے جانے کے مترادف قرار دیتی ہے۔ یاد رہے اس وقت اسرائیل کے زیر قبضہ مقبوضہ فلسطین کی آبادی کا پانچواں حصہ عرب باشندوں پر مشتمل ہے جو عرب اسرائیلی کے نام سے مشہور ہیں۔
 
کینسٹ میں مذکورہ بالا قانون کی منظوری سے پہلے بھی عرب اسرائیلی باشندوں سے انتہائی ناروا اور غیر منصفانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔ اب جبکہ یہ نسل پرستانہ قانون منظور ہو چکا ہے تو اسرائیلی حکومت کے یہ غیر منصفانہ اقدامات اور رویے قانونی حیثیت اختیار کر جائیں گے۔ اسی وجہ سے کینسٹ کے تمام عرب اراکین نے اس بل کی شدید مخالفت کی تھی اور اعتراض کے طور پر اس بل کو پھاڑ کر پھینک دیا تھا جس کے نتیجے میں کینسٹ کے اسپیکر ایڈلشٹائن نے انہیں نکال باہر کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ ان عرب اراکین کا اعتراض یہ تھا کہ اس بل کی منظوری کے بعد نسل پرستی کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ اس حقیقت کا اعتراف ایوی دیختر بھی کرتے ہیں جنہوں نے یہ بل کینسٹ میں پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودی ریاست کے قانون میں اقلیتی آبادی کی ثقافتی اقدار، ان کی چھٹیوں اور عربی زبان کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
 
شاید نسل پرستانہ دور کے خاتمے کے بعد اس قدر نسل پرستانہ قانون کی منظوری کچھ عجیب دکھائی دے لیکن اس نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم ستر برس پہلے اپنی پیدائش کے آغاز سے ہی اس مقصد کی تکمیل کیلئے کوشاں تھی۔ اس رژیم نے ہمیشہ یہودی قوم سے مخصوص ریاست کے طور پر یہودی ریاست کا نعرہ لگایا ہے اور اس کے حصول کو اپنا فلسفہ وجودی قرار دیا ہے۔ امن مذاکرات کے دوران بھی غاصب صہیونی رژیم اسی مقصد کے حصول کیلئے کوشاں رہی ہے اور چار سال پہلے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس پر حد سے زیادہ اصرار ہی امن مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ ثابت ہوا ہے۔ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اسرائیلی حکام میں یہ امید زندہ ہو گئی کہ وہ اب کسی پریشانی کے بغیر اپنے اس مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کئے جانے کا اعلان اور مقررہ وقت پر اس وعدے کی تکمیل، صدی کی ڈیل نامی منصوبہ پیش کئے جانے اور پورے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے نے اسرائیلی حکام کو مزید شہہ دی اور وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے زیادہ سرگرم ہو گئے۔
 
لہذا اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ میں یہودی ریاست کے قانون کی منظوری درحقیقت اس سودے بازی کا مقدمہ ہے جس کی توقع اسرائیلی حکام نے لگا رکھی ہے جبکہ یہ توقع پیدا کرنے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اور بیانات نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کینسٹ میں اس نسل پرستانہ قانون کی منظوری پر سعودی عرب جیسے بعض عرب ممالک کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اس قانون کو سودے بازی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور چونکہ وہ خود اسرائیل سے سازباز کے عمل میں شریک ہیں لہذا اس قانون کی منظوری پر مخالفت کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی سیاسی اور جہادی گروہوں نے اس قانون کی واضح مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح کینسٹ کے عرب اراکین نے بھی اس قانون کے مسودے کو پھاڑ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ حتی وہ فلسطینی بھی اس نئے قانون سے راضی نہیں ہیں جو اب تک اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ میں بیٹھ کر اسرائیلی حکام کے کان میں کوئی بات ڈال سکتے ہیں۔ بہرحال، نسل پرستانہ انداز میں یہودی ریاست کے قانون کی منظوری اسرائیل سے سازباز کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا نتیجہ ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف فلسطینی جہادی گروہ اور تنظیمیں ہی اس عمل کی مذمت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 741506
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے