0
Saturday 4 Aug 2018 08:43

شہید قائد، ہمارا عشق، ہماری عقیدت

شہید قائد، ہمارا عشق، ہماری عقیدت
تحریر: ارشاد حسین ناصر

میرے قائد، میرے مرشد، میرا عشق، میرے پیر کو ہم سے جدا ہوئے تیس برس گذر گئے، وقت کتنا ظالم ہے، اتنی تیزی سے گذر گیا، اگر نہیں بدلے تو حالات نہیں بدلے، قوم کی امیدیں نہیں بدلیں، قوم کی توقعات نہیں بدلیں، قوم کی تلاش نہیں بدلی۔ آج بھی ہماری نگاہیں متلاشی ہیں، آج بھی ہماری آنکھیں پیاسی ہیں، آج بھی محبت کے مارے اپنی پہلی محبت کو کھونے کے بعد کسی دوسرے کی طرف مائل نہیں ہوئے یا کوئی دوسرا نگاہ میں جچا ہی نہیں۔ یہ تیس برس ایسے ہی گذر گئے، تڑپتے، سسکتے اور دعائیں مانگتے، کسی حسینی کو مانگتے، کسی فرزند خمینی کو مانگتے، کسی عارف کو مانگتے، مگر ہم بدقسمت قوم نکلے۔ ہماری دعائیں رائیگاں چلی گئیں، ہماری امیدیں دم توڑتی رہیں، ہماری نگاہیں کسی کو بھی نہ پا سکیں اور ہم آج تیس برس گذر جانے پہ بھی ایک امید رکھتے ہیں، ایک آس لیئے ہوئے ہیں، ایک سوچ رکھتے ہیں کہ شائد وہ یا اس کی کوئی شبیہ ہمیں دکھائی دے گی۔

شائد ہم پھر سے کسی ایسے کو پالیں، جس کے ہاتھ چومتے ہوئے آئمہ کی جھلک کا نظارہ ہو، جس کی صحبت اور قربت میں ایسے محسوس ہو، جیسے واقعی کسی اللہ والے کے پاس بیٹھے ہوں، جس کا چہرہ نورانی ہو اور دل کرے کہ اس سے نگاہ ہی نا ہٹے۔ جس کی قربت کا احساس وقت کے احساس کو نگل جائے، جس کی باتوں کی شیرینی اور چاشت دل موہ لے اور انسان کے دل میں اترتی چلی جائیں، جو خلوص کا مرقع ہو، جو عرفان سے مزین ہو، جو عمل کا نمونہ ہو، جو سادگی کی تمثیل ہو، جو بولے تو سب سننے والوں کی کوشش ہو کہ اس کی فرمائش کو پورا کرکے سعادت حاصل کریں، جس کی موجودگی سے ہر انسان بڑے سے بڑا خطرہ مول لینے کیلئے بلا جھجھک آمادگی دکھا دے، جو کربلائی مزاج رکھتا ہو، جو خمینی فکر کا وارث ہو، جو شہداء اور شہادت کو عزیز از جان رکھتا ہو۔
شائد اسی کا نام محبت ہے شیفتہ
اک آگ سی ہے سینے میں لگی ہوئی
 
اک ایسا درد مند جو انسانوں سے بے لوث محبت کرتا ہو، جسے عوام کا درد گھر نہ بیٹھنے دے، جسے مظلوموں کی آہیں چین کے بستر پہ نہ سونے دیں، جسے قوم کے مسائل پیواڑ کے دور دراز اور سرحدی گائوں سے نکال کر بلوچستان کے سنگلاخ اور بے آب و گیاہ صحراہوں اور گوٹھوں میں پہنچا دیں اور وہ تھکے نہیں، ماتھے پر شکن نہ لائے۔ وسائل کی عدم دستیابی، ساتھیوں کی کمی اور استعماری طاقتوں کی جانب سے خطرات کی پروا کئے بغیر جو گلگت بلتستان کے بلند و بالا، برف پوش پہاڑوں میں بسنے والے بنیادی انسانی و آئینی حقوق سے محروم اپنی قوم کی آواز بن جائے اور جسے کراچی کے نوجوانوں سے محبت اور خلوص اپنے پشاور کے مدرسہ سے نکال کر کراچی پہنچا دے اور وہ مخلص انقلابی نوجوانوں کو دیکھ کر ایک ہی بات کہے کہ میری تھکاوٹ اتر جاتی ہے آپ نوجوانوں کی زیارت کرکے۔۔۔ ہم آج بھی تلاش میں ہیں، ہم آج بھی منتظر ہیں، ہم آج بھی اس نعمت کے چھن جانے پہ خدا سے دست بہ دعا ہیں کہ ہمیں اس کا نعم البدل عطا فرما۔ بار الھا! تیس برس ہوگئے تڑپتے، تیس برس ہوگئے سسکتے، تیس برس ہوگئے متلاشی نگاہوں کو کوئی جچا ہی نہیں۔۔۔!
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے، سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
شہید قائد کی زندگی کے صرف ساڑھے چار سال کو ہی سامنے لائیں تو اتنے عناوین ہیں کہ جن پہ الگ الگ کتب تحریر کی جاسکتی ہیں اور مجھے تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے بیسیوں شخصیات کے ویڈیو انٹرویوز کئے اور ان کی ایک ایک بات میرے ذہن میں موجود ہے، ان کی سادہ زیستی کی بہت سی مثالیں جو ان کے قریب رہنے والوں کی زبانی سنیں، ان کی جرات و استقامت کے بہت سے واقعات ہیں، جو ان کیساتھ سفر و حضر میں رہنے والوں نے سنائے۔ ان کے تقویٰ، للہیت، خدا سے لگائو، اہلبیت سے توسل، ان کی دعائیں، ان کی مناجات، ان کی عبادت و ریاضت اور ان کی بارگاہ خداوندی میں کھڑے ہو کر ملکوتی مقامات کے سلوک کے چشم دید و چشم کشا واقعات، ان سے فیض پانے والے ان کے قرب میں رہنے والے ان کے ملازمین۔ ان کے گارڈ، چوکیدار، مدرسہ میں کام کرنے والے برادران، دفتر کو سنبھالنے والے مخلصین سے برتائو اور اپنائیت کے واقعات۔

یہ سب ان گنت اور لامحدود ہے، بہت سی باتیں کہی اور زیادہ تر ان کہی ہیں، بہت سے واقعات سامنے آئے ہیں اور ڈھیروں کسی ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکے، ان پر کام کرنے والوں نے بہت محنت کی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اپنی معرفت اور عشق کی منزل کے مطابق کام کیا۔ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں بالخصوص سفیر نور لکھنے والے جناب محترم تسلیم رضا خان کو جنہوں نے اس ہستی کی پہچان کروانے میں بہت اہم کردار ادا کیا، انہوں نے جو مواد، جس جانفشانی، خلوص، لگائو، عشق اور معرفت سے جمع کرکے ملک بھر کے دورے کرکے اکٹھا کرنے کے بعد کتابی شکل میں قوم کے سامنے پیش کیا، وہ شہید کی شخصیت کو آج تیس برس گذر جانے کے بعد بھی نوجوانوں میں متعارف کروانے کا سب سے بہترین ذریعہ اور ان کیلئے توشہ آخرت، شہید کی کتاب سفیر نور پڑھ کے احساس ہوتا ہے:
فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدود وقت سے آگے نکل گیا کوئی
 
امام خمینی (رہ) نے شہید کے چہلم پہ اپنے تعزیتی پیغام میں جو فرمایا تھا کہ میں تاکید کرتا ہوں کہ اس شہید راہ حق کے افکار کو زندہ رکھیں اور اسی پیغام میں دو اور اہم باتیں بھی فرمائیں کہ میں اپنے عزیز فرزند سے محروم ہوا ہوں، جبکہ انہوں نے شہید کو "فرزند راستین سیدالشھداء" بھی کہا، یہ دونوں باتیں بہت اہم ہیں۔ امام خمینی جیسی شخصیت کا شہید کو اپنا فرزند کہنا اور اس کیساتھ سیدالشھداء کے فرزند صادق سے ملقب کرنا۔ یہ ہم سب کیلئے ماتم اور رونے کا مقام ہے کہ ہم سے اتنی بڑی شخصیت اٹھ گئی، ہم اتنی بڑی ہستی سے محروم ہوگئے، ہم نے کربلا والوں کو نہیں دیکھا، ہم نے کربلا کے واقعات سنے ہیں، پڑھے ہیں، جب امام خمینی جیسی ہستی ہمارے زمانے کے ایک شخص کو امام حسین  کا فرزند صادق کہہ رہے تھے تو ہمیں احساس کرنا چاہیئے تھا، ہمیں ماتم کرنا چاہیئے تھا کہ اے خدایا یہ کون تھا، جو اس قدر بلند مقام و منزلت رکھتا تھا اور ہم نے اس کی قدر ہی نہ کی، ہم اس سے مستفید ہی نہ ہوئے، ہم نے اسے نجانے کتنے دکھ دیئے کہ چند سال گذر جانے کے بعد بھی وہ فرماتے تھے کہ مجھے خود کو شیعہ ثابت کرنے کیلئے اتنا وقت لگ گیا، شائد یہی وجہ ہے کہ تیس برس ہوگئے، ہمیں کوئی دوسرا حسینی نہیں ملا، ہمیں کوئی فرزند خمینی نہیں ملا۔
وہ کون تھے ان کا پتہ تو کرنا تھا
خود اپنے لہو میں نہا کر جنہیں نکلنا تھا
خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن
میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا
 
ہماری نوحہ خوانی اپنی جگہ درست، ہمارا شہید سے عشق اور محبت کا رشتہ بالکل درست، ہمارا ان سے لگائو اور رغبت اپنی جگہ درست اور بالکل صحیح، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے، نہ ہی یہ طعن کا باعث ہونا چاہیئے، یہ من کا سودا ہے، یہ دل کی بات ہے، یہ معرفت کا معاملہ ہے، مگر اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ امام خمینی کا پیغام کہ شہید کے افکار کو زندہ رکھیں، دراصل امام خمینی نے بھی شہید سے اپنے تعلق اور ان کے مقام و مرتبہ کو واضح کرکے اصل بات کی طرف متوجہ کیا ہے اور وہ شہید کے افکار کو ہمارے لئے سند و تصدیق کیساتھ انہیں پھیلانے، انہیں عام کرنے اور انہیں زندہ رکھنے کا حکم ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ کون اس آئینے میں پورا اترتا ہے، پہلے تو ہر ایک اپنے آپ کو دیکھے، پھر دوسروں کی طرف نگاہ اٹھائے۔ میرا خیال ہے ہم میں سے کوئی بھی اس سے مبرا نہیں۔۔۔!
خبر کا کوڈ : 742241
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب