0
Tuesday 21 Aug 2018 12:34

افغانستان میں طالبان کی خاموش واپسی پر مشتمل امریکی سازش

افغانستان میں طالبان کی خاموش واپسی پر مشتمل امریکی سازش
تحریر: نعمان رحیمی

تقریباً ایک ماہ پہلے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے خبر شائع کی کہ جنوب اور وسطی ایشیا سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے مشیر ایلس ویلز نے قطر کا دورہ کیا ہے جہاں وہ طالبان کی سیاسی شوری کے اراکین سے ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اس دورے کو افغانستان میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے امریکی کوششوں کی ایک کڑی قرار دیا اور کچھ عرصہ بعد خبررساں ادارے رویٹرز نے اس دورے کی مزید تفصیلات شائع کیں جس سے معلوم ہوا کہ طالبان کے نمائندوں اور امریکی وزیر خارجہ کے مشیر میں صرف ایک ملاقات انجام نہیں پائی بلکہ اس دورے میں کم از کم دو ملاقاتیں انجام پائی ہیں۔ اب جبکہ اس دورے کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے کابل میں افغان حکمران حکومت کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے اس ملاقات سے متعلق شائع ہونے والی تفصیلات کو جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
افغان حکومت کی قوہ مجریہ کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے چند دن پہلے ملک کی شوری کے اجلاس میں اس دورے کی تصدیق کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ افغان حکومت اس کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ تھی اور امریکی وزیر خارجہ کے مشیر اور طالبان کے سیاسی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا موضوع صرف افغان حکومت سے طالبان کے براہ راست مذاکرات کروانے کیلئے مناسب مقدمہ سازی تک محدود تھا۔ اسی طرح افغانستان کے صدارتی ترجمان شاہ حسین مرتضوی کا کہنا ہے کہ صرف افغان حکومت ہی طالبان سے مذاکرات کا قانونی حق رکھتی ہے جبکہ دیگر ممالک جیسے امریکہ صرف "امن مذاکرات میں سہولت کار کا کردار" ادا کر سکتے ہیں۔ افغان حکام کی جانب سے اس قسم کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے دوران افغان حکومت کو نظرانداز کرنے پر خوش نظر نہیں آتے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ نے طالبان سے سمجھوتہ کرتے وقت افغان حکومت کو یکسر طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔
 
یہ ایسا نکتہ تھا جس پر گذشتہ ہفتوں کے دوران کافی بحث اور گفتگو سامنے آئی۔ طالبان کے سابق سرگرم رکن اور دفاعی تجزیہ کار وحید مژدہ نے بھی چند دن پہلے طالبان کے سابق عہدیداروں سے ملاقت کی غرض سے اعلی سطحی امریکی عہدیداروں کی کابل آمد و رفت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بذات خود چند میٹنگز میں شریک تھے اور امریکی حکام واضح طور پر اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ "کابل کی شمولیت کے بغیر" طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ افغان حکام کے بیانات حقیقت واضح ہونے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے طالبان سے براہ راست مذاکرات شروع کر کے نہ صرف افغان حکام کو اس کھیل سے نکال باہر کیا ہے بلکہ طالبان سے سودے بازی بھی کر چکا ہے جس کی وجہ سے اس وقت افغان حکومت کی سیاسی حیثیت اور اعتبار بھی مشکوک ہو گیا ہے۔ اسی طرح امریکہ کا یہ اقدام ملک کے ایک حصے پر مرکزی حکومت کی گرفت اور رٹ ختم ہونے کا باعث بھی بنا ہے۔
 
افغانستان کے بعض صوبوں میں طالبان جنگجووں کی آزادانہ آمد و رفت جاری ہے۔ خبررساں ادارہ روئٹرز اس سے پہلے اپنی رپورٹ میں افغان حکومت میں طالبان کے کئی نمائندوں کی موجودگی اور حتی حکومت کی جانب سے بعض صوبے طالبان کے حوالے کر دیئے جانے جیسے حقائق سے پردہ اٹھا چکا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ یا افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان کی جانب سے حالیہ بیانات کا بنیادی مقصد افغان حکومت کی حیثیت اور اعتبار بچانا ہے اور وہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات یا ممکنہ سودے بازی سے متعلق حقائق واضح کرنا نہیں چاہتے۔ جیلانی زواک کا شمار ان تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے جو افغان حکومت کی جانب سے بعض صوبوں کا کنٹرول طالبان کے حوالے کئے جانے کو امریکی سازش کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ امریکی منصوبہ اس سے پہلے 2009ء میں طالبان کو پیش کیا گیا تھا لیکن اس وقت طالبان نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور امریکہ اس منصوبے کو دوبارہ جامہ عمل پہنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس وقت یہ امریکی سازش "دور افتادہ علاقوں سے افغان فورسز کے انخلاء" کے نام پر جامہ عمل پہن رہی ہے۔
 
جب دور دراز علاقوں خاص طور پر گاوں دیہاتوں سے افغان سکیورٹی فورسز کے انخلاء کی خبریں شائع ہوئیں تو اکثر تجزیہ کار اور سیاسی ماہرین نے اس اقدام کو طالبان کو سرزمین عطا کرنے کے مقابلے میں جنگ بندی قبول کر لینے پر مشتمل ڈیل قرار دیا۔ لیکن صوبہ ارزگان کے سابق گورنر امان اللہ ہوتکی اسے ایک اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ افغان حکومت کی جانب سے بعض علاقے طالبان کے سپرد کئے جانے کو افغانستان میں دو حکومتوں کا قیام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ طریقہ ملک کو درپیش مسائل کا مناسب راہ حل نہیں بلکہ اس سے جنگ میں مزید شدت آئے گی۔ ان بیانات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں خود کو درپیش 17 سالہ مسئلہ سے جان چھڑانے کیلئے طالبان سے براہ راست مذاکرات پر مجبور ہوا ہے اور طالبان کو کچھ خاص مراعات دے کر انہیں اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ خاموشی سے ملک کے ایک حصے کا کنٹرول سنبھال لیں اور اس کے بعد امریکی فوجیوں پر حملہ ور نہ ہوں۔
 
افغانستان میں اپنائی جانے والی یہ امریکی حکمت عملی افغان حکومت اور عوام کیلئے انتہائی نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ امریکہ نے طالبان سے براہ راست مذاکرات اور ڈیل کر کے ایک طرف افغانستان کی مرکزی حکومت کی حیثیت اور اعتبار پر سودے بازی کی ہے جبکہ دوسری طرف ملک کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک حصہ مرکزی حکومت کے زیر کنٹرول ہے جبکہ دوسرا حصہ طالبان کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔ اس طرح اس امریکی سازش کے نتیجے میں افغانستان عملی طور پر دو حصوں میں بٹ گیا ہے اور وہاں دو قسم کی حاکمیتیں وجود میں آ گئی ہیں۔ اس تقسیم کا نتیجہ یقینی طور پر پائیدار امن کی صورت میں نہیں نکلے گا بلکہ افغانستان میں جنگ کی آگ مزید شعلہ ور ہو جائے گی۔ حاکمیت کی تقسیم نہ صرف افغانستان میں جنگ جاری رہنے کا باعث بنے گی بلکہ اس کی شدت میں بھی مزید اضافہ ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 745721
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے