0
Saturday 8 Sep 2018 19:27

تہران میں شام بحران سے متعلق سہ فریقی سربراہی اجلاس

تہران میں شام بحران سے متعلق سہ فریقی سربراہی اجلاس
تحریر: محمد علی دستمالی

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں تین ممالک ایران، ترکی اور روس کے سربراہان مملکت کا انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد شام میں امن کی بحالی تھا۔ یہ اجلاس خطے میں جاری سیاسی تبدیلیوں میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف جاری بھرپور اقتصادی جنگ کے دوران تہران میں اس اہم اجلاس کا انعقاد ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی ممالک سے ایران کے مستحکم تعلقات اور علاقائی تعاون کے ذریعے خطے کی سیاسی مساواتوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے پیش نظر اب بھی خطے کی سیاسی تبدیلیوں میں ایران کے کردار سے چشم پوشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
 
تہران میں منعقدہ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی اہمیت دو پہلووں پر مشتمل ہے۔ ایک ایران، روس اور ترکی کا ایسے گروپ کے طور پر علاقائی تعاون جو مغربی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسیوں کا مخالف ہے اور یہ موقف رکھتا ہے کہ شام میں جاری سکیورٹی بحران بیرونی فوجی مداخلت کے ذریعے قابل حل نہیں۔ دوسرا یہ کہ اس اجلاس میں شام حکومت اور اس کے سیاسی مخالفین کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کو ایسے انداز میں کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس ملک میں موجود بحران مزید پیچیدگی اور شدت اختیار نہ کرے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ تہران کے سہ فریقی اجلاس، آستانہ مذاکرات اور سوچی بات چیت کے دوران ترکی ایران اور روس کے ساتھ بیٹھا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ شام سے متعلق ان تین ممالک کے تمام نقطہ نظرات اور پالیسیاں ایک ہی ہیں۔
 
حقیقت تو یہ ہے کہ شام کے مستقبل اور اس ملک میں موجود بحران کا مقابلہ کرنے سے متعلق نہ صرف ترکی اور ایران کے درمیان بلکہ ایران اور روس کے درمیان بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس بارے میں ترکی کے نقطہ نظرات اور آراء ایران اور روس سے بہت زیادہ مختلف ہیں۔ ایران اور روس دونوں شام حکومت کا برسراقتدار رہنے کے حق میں ہیں لیکن ترکی اب بھی اپنے تمام ذرائع ابلاغ میں صدر بشار اسد کی حکومت کو ایک ظالم اور غیر قانونی حکومت قرار دیتا ہے۔ اگرچہ ترکی عارضی طور پر شام بحران سے متعلق جاری مذاکرات میں ایران اور روس سے تعاون کر رہا ہے لیکن وہ اب بھی اس موقف کا حامی ہے کہ شام حکومت کے بعض مسلح اور غیر مسلح مخالف گروہوں کی حمایت کر کے انہیں برسراقتدار لانا چاہئے۔
 
ترکی کا صدر ہونے کی حیثیت سے رجب طیب اردگان شام میں جاری عظیم معرکے کے دوران اخوان المسلمین کی عرب شاخوں کے علاوہ دیگر لبرل عرب گروہوں، بارزانی کے حامی کرد گروہوں، ترکمن اور دیگر جماعتوں کی حمایت کر کے شام کے حکومت مخالف مختلف گروہوں کو اپنے پرچم تلے اکٹھا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ شاید یہ وہی مسئلہ ہے جس نے رجب طیب اردگان کو ادلب کے مستقبل کے بارے میں پریشان کر رکھا ہے اور ان کی یہ پریشانی تہران اجلاس میں واضح طور پر مشاہدہ کی گئی ہے۔ رجب طیب اردگان نے تین بار اجلاس کے اختتامی بیانئے میں "جنگ بندی" کا لفظ شامل کرنے کی کوشش کی لیکن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ان کے جواب میں کہا کہ اس اجلاس میں شام کے حکومت مخالف گروہ موجود نہیں ہیں لہذا جنگ بندی کے اعلان اور اس پر دستخط کی ضرورت نہیں۔
 
آج ترکی کے ذرائع ابلاغ نے صدر رجب طیب اردگان کی اس کوشش کو ادلب کے سویلین شہریوں کی بھرپور حمایت کے طور پر پیش کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ رجب طیب اردگان ادلب کے سویلین شہریوں کے تحفظ کی آڑ میں شام حکومت کے مخالف گروہوں اور دھڑوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران ترکی نے کئی بار اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات میں انقرہ تحریر الشام اور النصرہ فرنٹ جیسے گروہوں کو خطے کے دیگر ممالک کی طرح دہشت گرد گروہ سمجھتا ہے لیکن ساتھ ہی اس موقف کا حامی ہے کہ صدر بشار اسد کے تمام مخالفین دہشت گرد نہیں اور بعض گروہوں سے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہئے۔ تہران اجلاس میں بھی رجب طیب اردگان نے خود کو ادلب کے شہریوں اور حکومت مخالف گروہوں کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
 
ایران، ترکی اور روس کے درمیان سامنے آنے والا ایک اہم اتفاق رائے دریائے فرات کے مشرقی حصے میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور اثرورسوخ سے متعلق ہے۔ تینوں ممالک نے اس علاقے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی مخالفت کی ہے۔ ماسکو اور تہران نے شام کے شہروں حسکہ، کوبانی اور دیگر علاقوں سے امریکی فوجیوں کے فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران اور روس اصولی طور پر شام میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے مخالف ہیں لیکن ترکی کی مخالفت صرف اس حد تک ہے کہ امریکہ ترکی کے مخالف کرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ رجب طیب اردگان ایک طرف امریکہ سے ڈیل کر کے اور دوسری طرف ایران اور روس سے تعاون جاری رکھتے ہوئے ایسی پوزیشن اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ دونوں طرف ترکی کے مفادات یقینی بنا سکیں۔ لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں ایسا ممکن نہیں اور مستقبل میں ترکی اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی شدت میں اضافہ آئے گا جبکہ روس بھی شام میں ترکی کے مفادات کی مکمل حمایت نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 748841
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب