0
Monday 17 Sep 2018 07:05

وزیراعظم عمران خان کے پہلے دورہ کراچی کا احوال

وزیراعظم عمران خان کے پہلے دورہ کراچی کا احوال
ترتیب و تدوین: ایس حیدر

وزیراعظم عمران خان گذشتہ روز 16 ستمبر اتوار کو ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ 18 اگست 2018ء کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کا کراچی کا یہ پہلا دورہ تھا۔

وزیراعظم کی مزار قائدؒ پر حاضری و فاتحہ خوانی
وزیراعظم عمران خان کراچی ایئرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مزار قائدؒ پہنچے، حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ عمران خان نے حلف اٹھانے کے 4 ہفتے بعد مزار قائد پر حاضری دی۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی عمران خان کے ہمراہ تھے۔ عمران خان نے مہمانوں کیلئے تاثرات کی کتاب میں اپنے خیالات تحریر کئے۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی قبر پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

وزیراعظم کی مزار قائد آمد پر لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور نادرا کے برطرف ملازمین کا احتجاج
وزیراعظم عمران خان کراچی آمد کے بعد مزار قائد پر حاضری کیلئے پہنچے، تو مزار قائد کے باہر لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی اور انہیں لاپتہ کئے جانے کے خلاف احتجاج کیا، خواتین مظاہرین اور بچوں نے بینرز تھامے ہوئے تھے اور وہ مسلسل اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے نعرے بلند کر رہے تھے، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ان کے پیاروں کو بازیاب کرایا جائے، اگر وہ ریاست کی نظر میں ملزم ہیں، تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ دوسری جانب نادرا کے برطرف ملازمین نے بھی اپنی برطرفی کے خلاف احتجاج کیا، تاہم مظاہرین کو وزیراعظم کی طرف بڑھنے سے روکنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو حصار میں لئے رکھا اور انہیں مزار قائد کے گیٹ کی طرف بڑھنے نہیں دیا۔ مظاہرین مزار قائد کے وی آئی پی گیٹ کے سامنے احتجاج کیلئے اس امید پر موجود تھے کہ وزیراعظم کی وی آئی پی گیٹ سے آمد کے موقع پر وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے، مگر وزیراعظم کی بذریعہ ہیلی کاپٹر مزار قائد آمد کے باعث مظاہرین ناامید ہو کر واپس چلے گئے۔

وزیراعظم کی شجر کاری، صدر مملکت، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقاتیں
وزیراعظم عمران خان ہیلی کاپٹر کے ذریعہ مزار قائد سے گورنر ہاﺅس کے پڑوس میں واقع گورنمنٹ کامرس کالج کے گرﺅانڈ میں پہنچے، جہاں سے وہ بذریعہ سڑک اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کیلئے روانہ ہوئے۔ عمران خان کے اس مختصر سفر کے دوران ڈاکٹر ضیاالدین احمد خان روڈ، مولوی تمیز الدین خان روڈ اور کلب روڈ نامی سڑکوں کو عام ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد پہلے سے طے پروگرام کے تحت عمران خان نے شجرکاری مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔ وزیراعظم عمران خان سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر آئی جی سندھ سید کلیم امام، ڈی جی رینجرز، فردوس شمیم نقوی بھی ملاقات میں شریک تھے۔ وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ کی جانب سے وزیراعظم کو صوبے کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیراعظم کو وفاق کے تعاون سے جاری منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔

وفاقی حکومت کیجانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس
وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کراچی میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، چیف سیکرٹری سندھ میجر (ر) اعظم سلیمان خان، کمشنر کراچی صالح فاروقی، میئر کراچی وسیم اختر، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مئیر کراچی اور متعلقہ حکام نے کراچی میں وفاقی حکومت کے جاری ترقیاتی منصوبوں باالخصوص گرین لائن بس اور کراچی کو پانی کی فراہمی کیلئے K4 منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گرین لائن بس پروجیکٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نمائندے کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیراعظم نے کراچی میں پانی کی قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر کراچی کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شہر کراچی میں وفاقی حکومت کے تحت جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔

ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس کی اندرونی کہانی، سندھ حکومت وزیراعظم کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوگئی
اتوار کو اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس میں وزیراعظم عمران خان کو ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ سندھ حکومت وزیراعظم عمران خان کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوگئی، کیونکہ سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر مطلوبہ تنائج حاصل نہ کرسکی۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مراد علی شاہ صاحب آپ منصوبوں کیلئے وفاقی وزیر خزانہ کے ساتھ بیٹھیں، صدر مملکت، گورنر سندھ اور وزیر خزانہ آپ کی بھرپور مدد کریں گے۔ وزیراعظم کو وفاقی منصوبوں کے فور اور ایس تھری پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے بریفنگ دی۔ ایم ڈی واٹر بورڈ صرف وفاق سے پیسے نہ ملنے کا رونا روتے رہے۔ وزیراعظم نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے سوال کیا کہ کام کی پیشرفت بتائیں، پیسے کا رونا چھوڑیں، لگتا ہے صرف کاغذوں میں پیشرفت ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کمشنر کراچی صالح فاروقی سے سوال کیا کہ گرین لائن بس کا کیا ہوا۔ صالح فاروقی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کام مکمل ہوگیا ہے، ہم نے پیسے بچا لئے ہیں۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ آپ کمشنر بھی ہیں اور گرین بس کے سربراہ بھی۔

اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس، بریفنگ
اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کراچی میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں عمران خان کو کراچی سمیت سندھ کی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں دہشتگردی، غیر قانونی ہتھیاروں کے خاتمے، اسٹریٹ کرائمز اور سیف سٹی پروجیکٹ سمیت دیگر اہم امور پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائمز اور بچوں کے اغوا پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، نئے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں سعید، چیف سیکریٹری میجر (ر) اعظم سلیمان، کمشنر کراچی صالح فاروقی، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید، آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام، سیکرٹری داخلہ عبدالقادر قاضی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس نے وزیراعظم کو امن و امان سے متعلق صورتحال پر مکمل بریفنگ دی۔ ڈی جی رینجرز نے وزیراعظم کو کراچی آپریشن میں رینجرز کے کردار اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کراچی میں اسلحہ درہ آدم خیل سے آتا ہے اور بیشتر خودکش حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ نو منتخب وزیراعظم نے اپنے پہلے دورہ کراچی میں انٹیلیجنس حکام سے دوران بریفنگ استفسار کیا کہ کراچی میں اسلحہ کہاں سے آتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ خودکش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں۔ اعلیٰ انٹیلیجنس اور سکیورٹی حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ گرفتار 12 خودکش حملہ آوروں میں سے 9 کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا ہے۔ دوران بریفنگ حکام نے بتایا کہ عدالتوں سے ملزمان کو سزائیں ملنے کا تناسب بہت کم ہے۔ سکیورٹی حکام کی جانب سے درہ آدم خیل کی اسلحہ مارکیٹ کو ریگولرائز کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی۔ سندھ کے نئے آئی جی پولیس کلیم امام نے بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کو بتایا کہ گذشتہ چند دنوں میں اسٹریٹ کرائمز میں ملوث 18 گینگز کا خاتمہ کیا ہے اور 32 سے زائد کرمنلز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ نے دعویٰ کیا کہ کراچی آپریشن سے جرائم میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ وزیرِاعظم نے اجلاس میں آئی جی سندھ کو امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کے خلاف آزادانہ کارروائیوں کیلئے پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کیا جائے۔

وزیراعظم نے آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس میں افسران میرٹ پر لائے جائیں۔ انہوں نے فورسز کی قربانیوں کی بھی تعریف کی۔ عمران خان نے ماضی کی ٹارگٹڈ آپریشن کی حکمت عملی کو جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ جرائم کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن اور ٹارگٹڈ ترقی حکومت کا ویژن ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سکیورٹی حکام کی قربانیوں، رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں کی بدولت کراچی میں امن و امان کا قیام عمل میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور معاشی حب میں امن و امان کی صورتحال حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیام امن کے بغیر ملک میں معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔ کراچی میں امن و امان کے مستقل قیام کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور سکیورٹی ادارے باہمی رابطوں کے نظام کو بہتر بنائیں، رابطوں کے نظام میں بہتری سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے کراچی میں امن قائم کرنے میں رینجرز، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔

اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے باہر مشکوک گاڑی کی پارکنگ
اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کراچی کے باہر بغیر نمبر پلیٹ کی مشکوک گاڑی کھڑی رہی، جبکہ سکیورٹی پر مامور ادارے اور اہلکار اس سے لاعلم رہے۔ ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی وی ایٹ گاڑی اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کے باہر موجود رہی، جبکہ اس پر نمبر پلیٹ بھی موجود نہیں تھی۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کے باہر موجود گاڑی پر چیمبر آف کامرس بلوچستان کی تختی لگی ہوئی تھی۔ گاڑی پر موجودہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا بھی لگا ہوا تھا۔ جس وقت گاڑی باہر موجود تھی، اس وقت اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس میں ملک کی اعلیٰ ترین اہم شخصیات موجود تھیں۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق بنا نمبر پلیٹ کی گاڑی کا وی وی آئی پی علاقے میں آنا اور پھر انتہائی حساس عمارت کے قریب کھڑے رہنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

وزیراعظم سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد اور مئیر کراچی کی الگ الگ ملاقات
اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کراچی میں وزیراعظم عمران خان سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد اور میئر کراچی وسیم اختر نے الگ الگ ملاقات کی اور کراچی سمیت شہری سندھ سے متعلق اپنے مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ ایم کیو ایم کے وفد میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید جمیل اور نسرین جلیل شامل تھے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی کی ترقی سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔

وزیراعظم سے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے وفد کی ملاقات
وزیراعظم عمران خان سے اتوار کو اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے وفد نے پیر صدرالدین شاہ راشدی کی سربراہی میں ملاقات کی۔ وفد میں سابق وزیراعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور سید مظفر شاہ و دیگر شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعظم کے مشیر نعیم الحق و دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال اور سندھ کیلئے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جی ڈی اے کے وفد نے وزیراعظم سے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کے تمام اضلاع کیلئے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرے۔ وفد نے سندھ حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ ملاقات میں باہمی رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

میڈیا مالکان، اینکرز اور نمائندگان سے ملاقات
وزیراعظم عمران خان نے دورہ کراچی کے دوران میڈیا مالکان، نمائندوں، اینکرز سے بھی ملاقات کی، وزیراعظم نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امید ہے پاکستانی میڈیا اور اینکرز سچ سامنے لاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیمز بنانے میں میڈیا ہمارا ساتھ دے، ڈیمز ہر صورت بنیں گے، ملک میں ڈیم بننا بہت ضروری ہے، میڈیا کو ڈیم سے متعلق شہریوں کو آگاہی دینی چاہیئے۔

وزیراعظم کی کراچی میں مصروفیات کا شیڈول لیک ہونیکا انکشاف
وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی سے متعلق مصروفیات کا شیڈول لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیراعظم کی سکیورٹی میں بڑے نقص کا پتہ چلا ہے، عمران خان کب کراچی کیلئے روانہ ہوں گے، کب لینڈ کریں گے، سب شیڈول پہلے ہی لیک ہوگیا۔ شیڈول کے مطابق کراچی کے دورے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کب، کس سے اور کہاں ملاقات کریں گے، یہ معلومات بھی لیک کر دی گئیں۔ وزیراعظم کے اجلاسوں سے متعلق معلومات بھی باہر آگئیں۔ شیڈول لیک کرنے میں کون ملوث ہے اور اس کا مقصد کیا ہے، یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

گورنر ہاؤس میں نئے ڈیمز کی تعمیر کیلئے فنڈ ریزنگ تقریب میں شرکت و خطاب
وزیراعظم عمران خان نے گورنر ہاؤس کراچی میں ملک میں تعمیر کئے جانے والے نئے ڈیمز کی تعمیر کیلئے فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل و دیگر بھی شریک تھے۔ وزیراعظم نے کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ڈی سیلینشن پلانٹ نصب کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ملک میں بڑے ڈیم ملٹری ڈکٹیٹر کے دور میں بنے، ملک میں ڈیمز ہر صورت بنیں گے، میں پاکستان میں سب سے بڑا فنڈ ریزر ہوں۔ وزیراعظم نے کراچی کیلئے نئے ماسٹر پلان بنانے اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا، جن میں نادرن بائی پاس کی اپ گریڈیشن، لوکل ریلوے نظام کی بحالی، کورنگی میں ری سائیکلنگ پلانٹ، کراچی میں شجرکاری اور صفائی مہم شامل ہیں۔

وزیراعظم کی تقریر کے اہم نکات
پانی پر سب سے زیادہ کام ایوب خان کے دور میں ہوا
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین میں 84 ہزار چھوٹے بڑے ڈیمز ہیں، جن میں پانچ ہزار ڈیمز بڑے ہیں، جبکہ پاکستان میں صرف دو بڑے ڈیم ہیں، حالاںکہ پاکستان میں ڈیمز بنانا ناگزیر ہے، پاکستان میں پانی پر سب سے زیادہ کام ایوب خان کے دور میں ہوا، اس کے علاوہ توانائی کے حصول کیلئے ماضی میں کسی نے نہیں سوچا۔

ڈیم بنانے کیلئے حکومت کے پاس رقم نہیں ہے
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیم بنانے کیلئے حکومت کے پاس رقم نہیں ہے، اس کیلئے فنڈنگ کی جا رہی ہے، ہم نے پانچ سال کا ٹارگٹ رکھا ہے، بھاشا ڈیم کے بعد ہم مہمند ڈیم پر کام شروع کرینگے۔

کراچی میں سب سے زیادہ سیاسی شعور والے لوگ ہیں
عمران خان نے کہا کہ کراچی تحریک انصاف کا شہر ہے، کراچی کی ایک تاریخ ہے، یہاں سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سیاسی شعور رکھنے والے لوگ رہتے ہیں، یہ شہر پورے پاکستان کا سیاسی ایجںڈا طے کرتا تھا، جب کراچی تنہا ہوا تو پورے پاکستان کو نقصان پہنچا، ایک دور تھا کہ ہم کراچی میں سیاست کرنا چاہتے تھے، لیکن خوف تھا کہ گھر سے نکلیں گے تو واپس پہنچیں گے بھی کہ نہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

شہر کراچی کیلئے سندھ حکومت کیساتھ ملکر کام کرینگے
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کام اس لئے نہیں کریں گے کہ ہمیں ووٹ ملے، بلکہ ہم پاکستان کے استحکام کیلئے کراچی میں کام کریں گے، کیونکہ کراچی کو نقصان پہنچا تو پورے پاکستان کو نقصان پہنچے گا، اسے دوبارہ روشنیوں کا شہر بنائیں گے، تاکہ پاکستان ترقی کرے، کراچی کے مسائل پر بریفنگ لی ہے، حل کیلئے سندھ گورنمنٹ کے ساتھ مل کر بھرپور کام کریں گے، پانی اور کچرا کراچی کے بڑے مسائل ہیں۔

اسٹریٹ کرائمز غربت کیوجہ سے ہیں
عمران خان نے کہا کہ کراچی میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر پوری بریفنگ لی ہے، ٹارگٹ کلنگ بہت کم ہوگئی، لیکن اسٹریٹ کرائم کا معاملہ ابھی باقی ہے، جس کی وجہ غربت اور ناخواندگی ہے، جرائم میں ایسے لوگ ملوث ہیں، جو یہاں دیگر ممالک اور شہروں سے آئے، یہاں بنگلہ دیشی اور افغانی موجود ہیں، جن کے شناختی کارڈ نہیں بنتے اور نوکری نہیں ملتی اور وہ جرائم کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

برسوں سے مقیم تارکین وطن کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی ہدایت
وزیراعظم نے کہا کہ وزارت داخلہ سے گزارش کروں گا کہ جو لوگ یہاں کئی دہائیوں سے موجود ہیں اور ان کے بچے پیدا ہوئے اور بڑے ہوگئے، انہیں شناختی کارڈ جاری کئے جائیں، اگر آپ امریکہ میں پیدا ہوں تو آپ کو قومیت ملتی ہے، تو یہاں کیوں نہیں؟ انہیں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دیئے جائیں اور ان کی مدد کرکے اس طبقے کی بحالی کیلئے کام کیا جائے، بالکل اسی طرح جس طرح چین نے چند برس میں 70 کروڑ افراد کو غربت کی دلدل سے باہر نکالا۔

سیوریج ٹریٹمنٹ اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس لگانے کا اعلان
وزیراعظم نے کورنگی میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا اعلان کیا اور کہا کہ کراچی میں ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی لگائیں گے، تاکہ پانی کی بچت ہو۔

سرکلر ریلوے کا آغاز اور ناردرن بائی پاس کو ڈیولپ کیا جائیگا
انہوں نے کہا کہ کراچی میں سرکلر ریلوے چلائیں گے، ناردرن بائی پاس کو ڈیولپ کریں گے، تاکہ شہر کا ٹریفک کا دباؤ کم ہوسکے، کراچی کا ماسٹر پلان بنائیں گے، جہاں خالی جگہیں موجود ہیں، وہاں درخت اگا کر شہر کو گرین کراچی بنائیں گے۔

دو ماہ میں کچرا ختم نہ ہوا تو وفاقی حکومت اقدامات کرے گی
کراچی کے کچرے سے متعلق انہوں نے کہا کہ شہر کا کچرا ختم کرنا ضلعی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، اگر دو ماہ میں کچرا ختم نہ ہوا تو وفاقی حکومت اس ضمن میں اقدامات کرے گی۔

عوام کے پیسوں سے حکمران عیاشی نہیں کرینگے
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں 534 ملازم، 80 گاڑیاں اور 4 ہیلی کاپٹر تھے، گورنر ہاؤس مری کی تزئین و آرائش پر 70 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور وہ بھی ایسے ملک میں جہاں ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہوں اور بچے غذائی قلت سے مرتے ہوں، تو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ایسی عیاشی کی ضمیر اجازت دیتا ہے؟ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔

تبدیلی نیچے سے نہیں اوپر سے آتی ہے
عمران خان نے مزید کہا کہ تبدیلی مائنڈ سیٹ کا نام ہے، ہمیں لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنا ہے، جن حکمرانوں نے ملک کو تباہ کیا، وہ ہمارے پیسوں سے شاہانہ محلوں میں رہتے تھے اور ہمیں غلام سمجھتے تھے، یہ مائنڈ سیٹ آزادی کے باوجود تبدیل نہیں ہوا، حکمرانوں کا ایسا شاہانہ طرز زندگی کسی اور ملک میں نہیں، تبدیلی اوپر سے آتی ہے اور نیچے جاتی ہے، ملک کا سربراہ تبدیل ہوگا تو وزراء، بیوروکریٹس بھی تبدیل ہوں گے، اس کے بعد عوام میں تبدیلی آئے گی اور عوام حکومت کو اپنا سمجھیں گے۔
خبر کا کوڈ : 750528
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے