0
Thursday 27 Sep 2018 17:27

ترکی اور مشرقی فرات میں کردوں کا مسئلہ

ترکی اور مشرقی فرات میں کردوں کا مسئلہ
تحریر: محمد علی دستمالی

حالیہ چند دنوں کے دوران ترکی کے صدر رجب طیب اردگان بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ دریائے فرات کے مشرقی حصے میں موجود کرد ایک خطرہ ہیں جس کا مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ترکی خود کو اس خطرے سے مقابلے کیلئے تیار کر چکا ہے۔ البتہ انہوں نے تہران میں منعقد ہونے والے سہ طرفہ سربراہی اجلاس میں بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں اس موقف کا اظہار کیا تھا۔ لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ روس کے شہر سوچی میں ان کے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان انجام پانے والے معاہدے کے بعد وہ زیادہ خوداعتمادی سے اپنے موقف کا اظہار کرنے لگے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان کچھ ان لکھے معاہدے بھی انجام پائے ہیں۔ ان دنوں ترکی کی حکمران جماعت عدالت و انصاف پارٹی کے قریبی جس بھی اخبار یا چینل پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تجزیہ کاران اور مولفین مشرقی فرات میں کردوں کے خلاف ترکی کے فوجی آپریشن کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
 
ترکی کے خبررساں ادارے اور ذرائع ابلاغ اس میدان میں خاص مہارت رکھتے ہیں جبکہ عوام میں ان کا اثرورسوخ بھی بہت گہرا ہے۔ صدر رجب طیب اردگان نے اسی نرم طاقت کے بل بوتے پر فرات شیلڈ اور شاخ زیتون جیسے فوجی آپریشنز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حکمران جماعت سے وابستہ میڈیا کی اس مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دریائے فرات کے مشرقی حصے میں ایک نئے فوجی آپریشن کیلئے رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔ ملک کے اندر اس فوجی آپریشن کی مخالفت کا امکان نہیں پایا جاتا کیونکہ اسے قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت اس کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کرے گی۔ حتی حکومت مخالف جماعتیں بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیں گی کیونکہ دوسری صورت میں ان پر قومی سلامتی سے غفلت کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔ شام کے شمالی علاقوں میں کرد باشندے تین مختلف اور ایکدوسرے سے دور علاقوں میں مقیم ہیں۔ دو علاقے دریائے فرات کی دائیں جانب واقع ہیں جہاں کردوں کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے۔ یہ علاقے قامشلو کی مرکزیت میں کوبانی اور جزیرہ نامی شہروں پر مشتمل ہیں۔
 
دریائے فرات کے مغرب میں مقیم کرد عفرین شہر میں آباد ہیں جہاں ان کی پوزیشن کمزور ہے۔ مشرقی فرات میں کردوں کے اہم شہروں میں کوبانی، عین عیسی، سرکانی، گری سپی، قامشلو، دیرک، رمیلان اور عامودا شامل ہیں۔ ان شہروں میں فوجی اور مالی لحاظ سے کردوں کی پوزیشن کافی مضبوط ہے جبکہ امریکہ بھی ان کی فوجی اور مالی امداد کر رہا ہے۔ اگرچہ شام کے شمالی علاقوں میں مقیم پی کے کے سے وابستہ کرد عناصر نے اب تک ترکی کے خلاف کوئی مسلحانہ اقدام انجام نہیں دیا لیکن پی کے کے کے کمانڈرز اور سربراہان نے قندیل پہاڑی سلسلے میں اڈے بنا رکھے ہیں۔ اسی طرح انقرہ اور دیاربکر میں سرگرم ڈیموکریٹک ریپبلکن پارٹی یا ایچ ڈی پی کے رہنما بھی شمالی شام کے بارے میں ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ترکی، شام اور ایران کے کرد علاقوں کو ملا کر ایک آزاد کرد ریاست تشکیل دینے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ ترکی کی حکومت انہیں منصوبوں کو اپنے خلاف خطرہ تصور کرتی ہے۔
 
اس وقت دریائے فرات کے مغرب میں واقع شہروں عفرین اور اعزاز میں ترکی کے فوجی آپریشن کی وجہ سے کرد تقریباً کنٹرول ہو چکے ہیں اور صرف منبج میں امریکہ کے حمایت یافتہ کرد کچھ فوجی طاقت کے حامل ہیں۔ لہذا ترکی مغربی فرات میں پی کے کے سے وابستہ عناصر کی موجودگی کے بارے میں خاص پریشانی نہیں رکھتا اور انہیں کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکا ہے لیکن مشرقی فرات کی صورتحال مختلف ہے اور وہاں پی کے کے بہت زیادہ اثرورسوخ رکھتی ہے۔ مشرقی فرات میں پی کے کے سے وابستہ بڑی تعداد میں سیاسی، فوجی، عدالتی، تعلیمی، صحت اور فلاحی مراکز پائے جاتے ہیں۔ دریائے فرات کے مشرق میں موجود کرد آبادیوں میں پی کے کے خام تیل کی پیداوار اور تجارت کرنے میں بھی مصروف ہے۔ پی کے کے سے وابستہ کرد عناصر نے بارزانی کی جماعت کے حامی تمام کردوں کو ان علاقوں سے باہر نکال دیا ہے۔ صرف صوبہ حسکہ خاص طور پر قامشلو شہر میں بہت محدود حد تک شام کی سکیورٹی فورسز موجود ہیں اور باقی تمام علاقوں میں پی کے کے کا ہولڈ ہے۔
خبر کا کوڈ : 752558
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب