1
Tuesday 2 Oct 2018 22:04

دہشت گردوں پر ایران کے میزائل حملے میں مضمر پیغامات

دہشت گردوں پر ایران کے میزائل حملے میں مضمر پیغامات
تحریر: امیر حسین یزدان پناہ

22 سمبر کے دن ایران کے جنوبی شہر اہواز میں یوم دفاع کی مناسبت سے منعقد ہونے والی پریڈ پر چند دہشت گرد عناصر نے فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں 26 افراد شہید جبکہ دسیوں زخمی ہو گئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے ایران کے سکیورٹی اداروں کو حکم دیا کہ وہ جلد از جلد اس حملے میں ملوث دہشت گرد گروہوں کو منہ توڑ جواب دیں۔ ابھی اس سانحے کو دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ ایران کے سکیورٹی اداروں نے اس میں ملوث دہشت گرد عناصر کے مربوطہ نیٹ ورک اور تانے بانے ڈھونڈ نکالے اور شام کے مشرقی حصے میں واقع قصبے ہجین میں داعش کے ہیڈکوارٹر اور اسلحے کے گودم اور چند دیگر ٹھکانوں کو مڈل رینج گائیڈڈ میزائلوں اور بغیر پائلٹ پرواز کرنے والے ڈرون طیاروں سے نشانہ بنا ڈالا۔ ایران کی یہ جوابی کاروائی اپنے اندر کئی پیغامات لئے ہوئے ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
 
1)۔ دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایران کی یہ انتقامی کاروائی اہواز سانحے سے صرف نو دن بعد انجام پائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے سیکورٹی اداروں نے واقعے میں ملوث دہشت گرد عناصر کی تفتیش، ان کے مربوطہ نیٹ ورک کی تشخیص اور دہشت گرد عناصر کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کیلئے مناسب جوابی کاروائی کیلئے مناسب وقت کے تعین میں صرف نو دن صرف کئے ہیں۔ اتنے کم وقت میں یہ تمام اقدامات انجام دینا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ علاقے پر ایران مکمل سکیورٹی تسلط رکھتا ہے اور خاص طور پر عراق اور شام میں جاری سرگرمیوں کے بارے میں پوری طرح باخبر ہے۔
 
2)۔ میزائل حملوں کیلئے لانچر پیڈز کو مناسب جگہ پر نصب کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ میزائل کم ترین وقت میں اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکے اور اسی طرح راستے میں کم ترین رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے۔ داعش کے ٹھکانوں پر ایران کے حالیہ میزائل حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی مسلح افواج اپنی سرحدوں کو درپیش کسی بھی قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ اسی طرح انتہائی کم وقت میں اس میزائل آپریشن سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ ممکنہ خطرات کے مقابلے میں ردعمل ظاہر کرنے کیلئے ایران کی مسلح افواج پوری طرح چوکنی ہیں۔
 
3)۔ خطے میں ہم نے امریکہ اور اسرائیل جیسے دیگر ممالک کی جانب سے بھی مختلف ممالک جیسے فلسطین، افغانستان، عراق، یمن اور شام میں ہوائی حملوں کا مشاہدہ کیا ہے لیکن ایران کی جانب سے انجام پانے والے اس میزائل حملے اور امریکہ اور اسرائیل کے ہوائی حملوں کے درمیان ایم بڑا اور اہم فرق پایا جاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے انجام پانے والے ہوائی حملوں میں عام شہریوں کا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے لیکن ایران کے میزائل حملے اس قدر دقیق تھے کہ مقررہ وقت پر مقررہ عمارتوں اور حتی ان عمارتوں کے مقررہ کمروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ امر ایران کے پاس موجود انتہائی ترقی یافتہ اور جدید میزائل گائیڈنگ ٹیکنالوجی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران دشمن طاقتیں ان حملوں سے سبق سیکھیں گی اور جان لیں گی کہ ایران کی میزائل طاقت صرف دعووں کی حد تک نہیں بلکہ ہر قسم کے خطرے کو نابود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
 
4)۔ جس جگہ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں سے کاروائی کی ہے وہ شام کے علاقے البوکمال میں واقع ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں امریکہ کی سربراہی میں مغربی اتحاد کے اڈے موجود ہیں۔ درحقیقت ایران کے میزائل اور ڈرون ان علاقوں سے عبور کر کے اپنے ٹارگٹ تک پہنچے ہیں جہاں امریکہ کی فوجی موجودگی ہے اور وہ وہاں فضائی کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے۔ کل رات امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایران کے میزائل علاقے میں موجود امریکی فوجی اڈے سے صرف تین میل دور گرے ہیں۔ یہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کیلئے ایک اہم پیغام کا حامل ہے۔ امریکہ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایران کی قومی سلامتی کے خلاف کسی قسم کی گستاخی کا جواب پورے خطے میں دیا جا سکتا ہے اور ایران جہاں بھی چاہے اس کے فوجیوں اور فوجی اڈوں کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
 
5)۔ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایران نے دہشت گرد عناصر کے خلاف تین میزائل حملے انجام دیئے ہیں جن کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام میزائل کسی خطا کے بغیر ٹھیک اپنے نشانے پر جا کر لگے ہیں۔ ایرانی میزائلوں کی اس accuracy سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتوں نے کیوں ایران کے میزائل پروگرام کے خلاف اس قدر شور مچا رکھا ہے۔ وہ ایران کے میزائل پروگرام کو اس کی دفاعی طاقت سمجھتے ہیں لہذا مختلف بہانوں سے اسے محدود اور کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔
خبر کا کوڈ : 753527
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش