?>?> آخر کوئی شرم ہوتی ہے! - اسلام ٹائمز
3
1
Tuesday 16 Oct 2018 20:30

آخر کوئی شرم ہوتی ہے!

آخر کوئی شرم ہوتی ہے!
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

آپ کوئی چھوٹا سا کام فرض کر لیجئے، فرض کریں کہ آپ کا شناختی کارڈ گم ہوگیا ہے، آپ رپورٹ درج کرانے تھانے چلے گئے، ڈیوٹی پر مامور پولیس والا آپ کو ایک لکھی لکھائی درخواست تھما دے گا۔ اس میں خالی جگہ پر آپ نے اپنا نام، اپنے والد کا نام، گمشدہ شناختی کارڈ کا نمبر اور گم ہونے کی تاریخ لکھنی ہے۔ اس کے بعد جب آپ واپس درخواست جمع کروانا چاہیں گے تو پولیس والا کہے گا کہ درخواست تو آپ کی جمع ہو جائے گی، بس آپ تھوڑا سا تعاون کر دیجئے۔ پاکستان کے سرکاری دفاتر میں ایک معمولی سا کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ بعض دفاتر میں جب سائل رجوع کرتا ہے تو آفیسر صاحب اس کا مسئلہ سننے کے بعد اسے کہتے ہیں کہ جی نہیں آپ کا مسئلہ بہت سنگین ہے اور آپ کا کام نہیں ہوسکتا، مثلاً فلاں فلاں وجوہات کی بنا پر آپ کا پاسپورٹ نہیں بن سکتا۔ جب بندہ مایوس ہو جاتا ہے تو پھر اسے کہتے ہیں کہ ساتھ والے کمرے میں جائیں، وہاں فلاں صاحب آپ کو مسئلے کا کوئی حل بتائیں گے۔ جب وہاں جاتے ہیں تو آگے موجود شخص منہ مانگی رشوت وصول کرکے وہ کام کر دیتا ہے۔

بالکل اسی طرح زائرین کو تفتان روٹ پر لوٹا جاتا ہے، زائرین سے تعاون مانگا جاتا ہے، جو بروقت تعاون کر دیتے ہیں، ان کے قافلے گزر جاتے ہیں اور جو تعاون کرنے کا مطلب نہیں سمجھتے یا بروقت منہ مانگا تعاون نہیں کر پاتے، انہیں سکیورٹی اور این او سی کے نام پر اتنا تنگ کیا جاتا ہے کہ بالآخر ان سے کچھ نہ کچھ نچوڑ کر نکالا جائے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق زائرین کا ایک قافلہ منگل 16 اکتوبر 2018ء کو جب سندھ اور بلوچستان کے بارڈر جیکب آباد پہنچا تو پولیس نے روک کر چائے پانی اور کچھ تعاون مانگا۔ ذرائع کے مطابق سالار کاررواں سے پولیس نے بطور رشوت دس ہزار روپے مانگے، جو سالار نے مسافروں سے جمع کرکے دینے تھے، اس پر مسافروں نے احتجاج کیا۔ اب احتجاج تو پولیس کو ناگوار گزرنا ہی تھا۔ احتجاج پر پولیس طیش میں آئی اور ایس ایچ او نے ایک خاتون پر گاڑی چڑھا دی۔ جس سے محترمہ موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اب کیا ہوگا؟ وہی ہوگا جو  2017ء میں اسلام آباد ایئرپورٹ میں خواتین پر تشدد کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ہوا تھا، محض کچھ دن اخبار میں سرخیاں لگیں اور بعد ازاں کسی ایک معمولی اہلکار کو ذمہ دار قرار دیکر سارا ملبہ وقتی طور پر اس پر ڈال دیا گیا۔ اسی طرح یہاں بھی کچھ نہیں ہوگا، دو دن خبریں چلیں گی ایک آدھ دن کوئی احتجاج وغیرہ ہوگا اور ایک آدھ پولیس والے کو ذمہ دار قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جائے گا۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اصل مسئلہ ہمارے اس رشوت خور کلچر کا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں اپنے واجبات، مستحبات اور عبادات کی انجام دہی کے لئے بھی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے اس رشوت خور کلچر کے خاتمے کے لئے سوچنا چاہیئے، جو اب عوام کی جانیں لینے کے درپے ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ سمجھدار لوگ سرکاری اہلکاروں کی اس رشوت خوری اور حرام خوری کی وجہ سے تھانے کچہریوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔ یہ سمجھداری ہے لیکن نصف سمجھداری ہے، پوری سمجھداری یہ ہے کہ کترانے کے بجائے اداروں کی اصلاح کے لئے زور لگایا جائے اور رشوت خور مافیا کا مقابلہ کیا جائے۔ اب پاکستان میں یہ دن بھی آنے تھے کہ مقدس مقامات کی زیارت کے لئے جانے والے لوگوں سے بھی راستے میں رشوت مانگی جاتی ہے۔ اگر اب بھی ہم بیدار نہ ہوئے تو پھر وہ دن دور نہیں، جب رشوت لینے والا مسجد کے دروازے پر بھی کھڑا ہوگا۔
آخر کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 756255
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

حافی صاحب بات بلکل درست لکن اب تک رشوت نه دینے پر کسی خاتون کو شهید نه کیا گیا تها اور اب یه الزام خان نیازی کے نئے پاکستان کی نئی سوغات اور تحفه کو قبول کرنا هوگا!!
Iran, Islamic Republic of
الراشی والمرتشی کلاھما فی النار جیسی احادیث پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور ملت کے ذمہ دار افراد کے میدان میں اترنے کی. ظاہرا نیازی صاحب بھی نواز شریف اور اس سے پہلے زرداری کو ہی اپنے لئے نمونہ عمل سمجھ رہے ہیں.
Iran, Islamic Republic of
یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا، یہ طاقتور جابر اور ظالم کا ملک ہے، یہ چاپلوسوں لوٹوں اور ٹاوٹوں کا ملک ہے، یہاں اصول پرست انسان ایک دن بھی نہیں گزار سکتا۔ یہاں اگر آپ رشوت نہیں دیں گے اور اصولوں کی بات کریں گے تو مار دیئے جائیں گے۔ جن لوگوں نے ہماری رہبری کرنی تھی اور اصولوں کی پاسداری کرنی تھی، وہ مدرسوں اور جلسوں کے اسیر ہوکر رہ گئے ہیں۔ خوشامدیوں کی بارات ہے اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے علاوہ ہم کسی اور موضوع پر قوم کو گھاس ہی نہیں ڈالتے۔ آپ کا شکریہ کہ عام آدمی کو بھی انسان سمجھتے ہیں اور عام آدمی کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔
ہماری پیشکش