0
Saturday 8 Dec 2018 22:59

اسرائیل کا نادرن شیلڈ آپریشن

اسرائیل کا نادرن شیلڈ آپریشن
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

اسرائیل نے چند دن پہلے آپریشن "نادرن شیلڈ" کے آغاز کا اعلان کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد حزب اللہ لبنان کی جانب سے تیار کی گئی زیر زمین سرنگوں کا سراغ لگانا ہے۔ اسرائیل کے چینل 10 کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن پیر 3 دسمبر کی رات شروع کیا گیا۔ اس آپریشن کی منصوبہ بندی اسرائیل آرمی کے مرکزی ہیڈکوارٹر میں "سکیورٹی کابینہ" کی جانب سے کی گئی ہے۔ یہ خبر شائع ہونے کے فوراً بعد میڈیا میں ایک لہر نے جنم لیا جس میں اسرائیل کے اس اقدام کے بارے میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں کی گئیں۔ بعض نے اسے ایک باقاعدہ جنگ کے آغاز کی کوشش قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے ایک معمولی اقدام کہا۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور اسلامی مزاحمت کے بعض گروپس کے درمیان تازہ ترین ٹکراو کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے۔ ابھی تین ہفتے پہلے ہی اسرائیلی حکومت نے غزہ میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس سے 36 گھنٹوں پر مشتمل مختصر جنگ کے بعد جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ یہ جنگ بندی اس قدر اہم تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق ملک میں اندرونی سیاسی زلزلے کے مقابلے میں اس کا پلڑا بھاری تھا۔ لہذا نادرن شیلڈ نامی آپریشن کے بارے میں یہ تجزیہ کہ یہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ لبنان کے خلاف باضابطہ جنگ کی شروعات ثابت ہو سکتا ہے ہمارے ماضی کے مشاہدات کی روشنی میں زیادہ معتبر نظر نہیں آتا۔
 
2)۔ اسرائیل آرمی کا دعوی ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصے میں لبنان کی سرحد کے قریب حزب اللہ لبنان کی خفیہ سرنگیں موجود ہیں لہذا اس نے مستقبل میں حزب اللہ لبنان کی مسلح کاروائیوں سے بچنے کیلئے نادرن شیلڈ نامی آپریشن شروع کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ شام جنگ کے دوران بھی ثابت ہو چکا ہے حزب اللہ لبنان اپنے مدمقابل کا مقابلہ اور اس پر غلبہ پانے کیلئے ضروری نہیں سرنگوں کا ہی استعمال کرے۔ شام کی جنگ میں حزب اللہ لبنان نے اپنے مدمقابل پر سرنگوں کے استعمال کے بغیر غلبہ پایا جبکہ مدمقابل نے بھرپور انداز میں سرنگوں کا استعمال کیا تھا۔ ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ اسرائیل آرمی اس حقیقت سے بے خبر ہو گی۔ دوسری طرف چند سال پہلے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے واضح اعلان کیا تھا کہ مستقبل میں اسرائیل سے ممکنہ جنگ کے دوران ماضی کی 33 روزہ جنگ میں بروئے کار لائے گئے ٹیکٹکس استعمال نہیں کریں گے بلکہ نئے طریقہ کار اختیار کئے جائیں گے۔ حزب اللہ لبنان کی نظر میں "سرنگوں" کا استعمال ایسا ہتھکنڈہ ہے جو اوپن ہو چکا ہے۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے نادرن شیلڈ آپریشن کا اصلی مقصد کیا ہے؟ اگرچہ اسرائیل نے اس کا مقصد حزب اللہ لبنان کی سرنگوں کا سراغ لگانا بیان کیا ہے۔
 
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس آپریشن میں اسرائیل کئی مقاصد ایک ساتھ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ جس علاقے میں آپریشن انجام دیا جا رہا ہے وہ حیفا کے شمال سے لے کر لبنان کی سرحد تک ایک پٹی ہے جس کی لمبائی 80 کلومیٹر جبکہ اس کی چوڑائی 40 کلومیٹر کے قریب ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک قسم کی فوجی مشق نظر آتی ہے جس کا مقصد اس اہم علاقے پر فورسز کا کنٹرول قائم کرنا اور اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر کے اسے جدید سکیورٹی صورتحال سے مطابقت دینا ہے۔ حماس کے ساتھ اسرائیل کی حالیہ جھڑپ کے دوران حماس نے مقبوضہ فلسطین کے 30 سے 50 کلومیٹر اندر تک کے علاقے کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اس اقدام نے اسرائیل کو یہ حقیقت یاد دلا دی کہ حزب اللہ لبنان سے ممکنہ جھڑپ کی صورت میں وہ مقبوضہ فلسطین کے زیادہ اندر تک انہیں حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے جس کا عملی نتیجہ شمالی حصے اور مرکزی حصے کے درمیان سکیورٹی رابطہ منقطع ہونے کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے جس طرح حماس سے جنگ کے دوران غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع علاقے کا سکیورٹی رابطہ مرکز سے منقطع ہو گیا تھا۔
 
لہذا نادرن شیلڈ آپریشن کا ایک اہم مقصد حزب اللہ لبنان سے 33 روزہ جنگ کے بعد ان 12 برس کے دوران آرمی میں بھرتی ہونے والے نئے افسران اور افراد کو وار زون سے آشنا کروانا ہے تاکہ وہ خود کو مستقبل میں درپیش ہونے والی سکیورٹی صورتحال کیلئے تیار کر سکیں۔ لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقہ اسرائیل کیلئے غزہ کی پٹی کے ہمراہ واقع علاقے سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اس علاقے کو حزب اللہ لبنان جیسی قوت سے خطرہ درپیش ہے جبکہ غزہ کی پٹی میں سرگرم اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس مکمل طور پر اسرائیل کے محاصرے میں ہے۔ مزید برآں، حزب اللہ لبنان کے زیر کنٹرول علاقے اونچائی پر واقع ہیں جس کے باعث مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصے مکمل طور پر ان کی نظروں میں ہیں جبکہ غزہ کی پٹی گہرائی میں واقع ہے اور اس کے قریب چوٹیوں پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل حزب اللہ لبنان کی جانب سے جنگ کے آغاز کا انتظار کر رہا ہے یا خود اس کے خلاف جنگ شروع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے؟
 
3)۔ 2006ء میں 33 روزہ جنگ نے اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان ایک سکیورٹی توازن برقرار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان ایک طرح کی دفاعی اور فوجی برابری پیدا ہو گئی تھی لہذا اس کے بعد دونوں فریقین نے "ڈیٹرنس" پر مبنی اسٹریٹجی اختیار کر رکھی تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت دونوں فریقین نئی جنگ شروع کرنے میں ہچکچاہٹ اور احتیاط برت رہے تھے۔ جب شام میں سکیورٹی بحران نے جنم لیا، جسے مغربی ممالک نے خانہ جنگی ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے دعوے کے برخلاف وہ درحقیقت ایک شدید اور طولانی مدت عالمی جنگ تھی، تو اسرائیل نے گمان کیا کہ یہ جنگ حزب اللہ لبنان کی طاقت میں شدید کمی کا باعث بنے گی جس کے نتیجے میں لبنان کے اندر اس کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔ اس بارے میں اسرائیل کے سابق انٹیلی جنس سربراہ معیر ڈاگان نے یہاں تک کہہ دیا کہ شام کا بحران حزب اللہ لبنان کو نگل جائے گا اور تاریخ میں اس کے بارے میں صرف داستانیں رہ جائیں گی۔ لیکن شام کی جنگ اس طرح آگے نہ بڑھی جس کی توقع اسرائیلی اور مغربی حکام کر رہے تھے اور حزب اللہ لبنان اس جنگ میں شاندار کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ شام کے بحران میں حزب اللہ لبنان کے موثر اور مقتدرانہ کردار کے دو اہم سکیورٹی اور سیاسی نتائج برآمد ہوئے جو اسرائیلی حکام خاص طور پر ان کے فوجی کمانڈرز کیلئے ناقابل یقین تھے۔
 
شام میں حزب اللہ لبنان کی کامیابیوں کا پہلا نتیجہ سکیورٹی میدان اور فوجی پوزیشن میں ظاہر ہوا۔ شام کی جنگ سے پہلے حزب اللہ لبنان اس ملک کے کچھ حصے پر اثرورسوخ کی حامل تھی۔ یہ اثرورسوخ حتی لبنانی اہل تشیع میں موثر موجودگی کا سبب نہیں بنتا تھا جبکہ دوسری طرف لبنان کی حکومت میں موجود حزب اللہ لبنان کے سخت مخالف عناصر کے باعث حزب اللہ حکومت پر بھی تکیہ نہیں کر سکتی تھی جس کا مجموعی نتیجہ محدود حزب اللہ کی صورت میں نکلتا تھا۔ شام کے بحران میں حزب اللہ لبنان کی موثر موجودگی اور دہشت گرد عناصر کے خلاف فوجی کامیابی کے بعد یہ دو محدودیتیں ختم ہو گئیں۔ اس وقت حزب اللہ لبنان انتہائی مطلوب جغرافیائی پوزیشن سے برخوردار ہے جبکہ اسے شام حکومت کی بھرپور اور مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔ لہذا شام میں سرگرم حزب اللہ اور لبنان میں موجود حزب اللہ میں فرق پایا جاتا ہے۔
 
شام میں حزب اللہ کی کامیابی کا دوسرا اہم نتیجہ لبنان میں اس کی عظیم سیاسی فتح کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ اس سے پہلے لبنان کی پارلیمنٹ اور کابینہ میں حزب اللہ کی نمائندگی بہت کم تھی اور ان اداروں میں اسے اپنی موجودگی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اپنے مخالفین کے سکیورٹی فیصلوں کا سدباب کر پاتی تھی۔ لہذا 33 روزہ جنگ کے بعد حزب اللہ لبنان کے پاس صرف اسی حد تک طاقت تھی اور اسے اس سے زیادہ توقع بھی نہیں تھی۔ اگر شام کے شدید فوجی بحران میں حزب اللہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا تو اس کا سیاسی مستقبل مکمل طور پر ختم ہو جاتا۔ لیکن اس جنگ میں حزب اللہ کی غیرمتوقع فتح نے نہ صرف اس کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنایا بلکہ اس کی سطح میں بھی ترقی آئی۔ اس وقت لبنان کی پارلیمنٹ کے کل 120 اراکین میں سے 75 شیعہ، سنی اور عیسائی اراکین ایسے ہیں جو حزب اللہ کے بھرپور حامی تصور کئے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لبنان کے سیاسی نظام میں حزب اللہ کی مشارکت 33 فیصد سے بڑھ کر 62.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے یعنی تقریباً دو گنا ہو چکی ہے۔ لہذا اسرائیل لبنان اور شام میں حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت سے شدید خوفزدہ ہے۔
 
4)۔ اسرائیلی حکام کی نظر میں جنگ بندی خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی طاقت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ لہذا اگرچہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے سے گریزاں ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سکیورٹی استحکام کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ لہذا اس نے "معرکہ بین الحروب" کا فارمولا اپنا رکھا ہے یعنی جنگ اور اس کے سنگین اخراجات سے بھی بچاو کیا جائے اور دوسری طرف طولانی مدت کیلئے جنگ بندی بھی نہ کی جائے کیونکہ اس سے اسلامی مزاحمتی گروہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اس فارمولے کے تحت اسرائیل اس حد تک سکیورٹی بحران اور بدامنی کو ہوا دیتا ہے جب تک جنگ کا خطرہ پیدا نہیں ہو جاتا تاکہ اس طرح اسلامی مزاحمتی بلاک کی طاقت بڑھنے سے روک سکے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں وہی کام کرتا ہے جو گولان ہائٹس میں انجام دیتا ہے اور گولان ہائٹس میں وہی کام کرتا ہے جو جنوبی لبنان میں انجام دیتا ہے۔ یعنی جارحانہ اقدام اور فوراً جنگ بندی۔ ان تینوں مقامات پر اسرائیل نے کم از کم فوجی قوت تعینات کر رکھی ہے۔
 
اسرائیل کے اعلی سطحی فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طولانی مدت اور شدید جنگ کا منصوبہ نہیں رکھتا۔ غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی کابینہ اور حتی خود اویگڈور لیبرمین جنہوں نے جنگ بندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفی دے دیا تھا، نے جنگ روکنے اور حماس سے مذاکرات شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اسرائیل آرمی کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصوں میں "نادرن شیلڈ" نامی آپریشن میں بھی اگرچہ حزب اللہ کا نام لیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے تاکید کی ہے کہ یہ آپریشن صرف حزب اللہ کی زیر زمین سرنگوں کو تباہ کرنے تک محدود رہے گا۔ اسرائیل کی غاصب فوج کی جانب سے شام میں انجام پانے والے اقدامات کی بھی یہی نوعیت ہے۔ اسرائیل آرمی نے روسی جہاز سرنگون کرنے کے بعد جس میں 18 روسی فوجی مارے گئے تھے، شام کی حدود میں اپنے جنگی طیاروں کی پروازیں روک دی تھیں۔ یہ تمام اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل محدود پیمانے پر جارحانہ اقدامات انجام دینے اور مدمقابل کو خوفزدہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہ حکمت عملی ایسی رژیم اور فوج کی ہے جو اپنے مدمقابل پر برتری حاصل نہیں کر سکتی اور اس کے پاس اپنے حریف کو کنٹرول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔  
 
خبر کا کوڈ : 765639
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے