0
Thursday 20 Dec 2018 17:28

امریکہ طالبان مذاکرات، مسئلہ افغانستان پر اہم پیشرفت

امریکہ طالبان مذاکرات، مسئلہ افغانستان پر اہم پیشرفت
رپورٹ: ایس اے زیدی

افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی طالبان کیخلاف گذشتہ 17 سال سے جاری جنگ میں اب تک کئی نشیب و فراز آئے ہیں، کبھی امریکی افواج نے جنگجووں کو پیچھے دھکیلا تو کبھی افغان شدت پسند گروہ نے اتحادی افواج کو دن میں تارے دکھائے، کبھی مذاکرات کی باتیں ہوئیں تو کبھی دفتر کھولے گئے، کبھی پاکستان پر الزام تراشی کی گئی تو کبھی بھارت کی مداخلت کو بڑھایا گیا۔ لیکن اب تک یہ جنگ اپنے کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ تاہم گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ افغانستان کے مسئلہ کو لیکر سنجیدہ ہوا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح افغان جنگ کا کوئی آبرومندانہ حل نکالا جائے، جس میں یہ تاثر بھی نہ جائے کہ امریکہ 17 سال گزار کر، کھربوں ڈالر خرچ کرکے اور اپنے بعض اتحادی ممالک کی ناراضی مول لیکر بھی بغیر کچھ پائے واپس جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف طالبان کی مزاحمت کو فتح ٹیگ بھی نہیں لگنا چاہیئے۔ ادھر طالبان سمیت دیگر افغان جنگجوو گروہ بھی شائد یہ سمجھ چکے ہیں کہ اس طویل جنگ کا نتیجہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی نکلے گا۔ گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں افغانستان کے مسئلہ پر امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان باضابطہ ملاقات اور مذاکرات ہوئے، اس مذاکراتی عمل میں عرب امارات اور سعودی حکام بھی موجود تھے۔ اس بیٹھک میں فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور فریقین اس حوالے سے کافی مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔

ان مذاکرات میں شریک طالبان نمائندے اپنی شوریٰ سے بات کریں گے اور شوریٰ سے بات چیت کے بعد دوبارہ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد سے دوبارہ ملاقات کریں گے، جبکہ امریکی نمائندہ برائے مذاکرات زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کی پیش رفت پر امریکہ سمیت افغان حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اس بات چیت میں امریکی اور نیٹو فورسز کی افغانستان سے مرحلہ وار واپسی اور اس کے بعد افغانستان کے نظام حکومت اور سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ واضح رہے کہ مذاکرات کی اس میز کو سجانے میں پاکستان کا انتہائی اہم رول تھا، جس کا اعتراف افغانستان اور امریکی حکام نے بھی کیا۔ افغان وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ طالبان مذاکرات کرانا افغان امن عمل میں پاکستان کا عملی قدم ہے، پاکستانی تعاون فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں ترجمان امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستانی حکومت کی طرف سے تعاون بڑھانے کے کسی بھی اقدام بشمول طالبان، افغان حکومت اور دیگر افغانوں کے درمیان مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان سمیت دیگر فریقین سے ملاقاتیں کی ہیں اور افغان مسئلے کے حل کے لئے وہ یہ ملاقاتیں جاری رکھیں گے۔

گذشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط لکھا تھا، جس میں پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے تعاون مانگا گیا تھا، جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم افغانستان میں امن لانے کے لئے خلوص کے ساتھ پوری کوشش کریں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ بارہا یہ کہتا آیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں موجود طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو سپورٹ کرتا ہے، ان کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں، تاہم اب واشنگٹن شائد یہ باور کرچکا ہے کہ پاکستان کے بغیر جنگجوو گروہوں کو بھی مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جاسکتا۔ افغانستان مسئلہ پر ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ افغان مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں، کیونکہ بلاشبہ افغان جنگ امریکہ پر ایک بہت بڑا معاشی دباو بھی ہے اور دوسری طرف اتحادیوں کا خرچہ بھی اب امریکہ کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے، ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں اور وہ اپنے مستقبل کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ کی عسکری اسٹبلشمنٹ کی یہ کوشش ہے کہ یک دم افغانستان سے نہ نکلا جائے اور کسی نہ کسی طرح یہاں اپنی موجودگی رکھی جائے، اسی سوچ کے تحت امریکہ افغانستان میں بھارت کو اہم رول دے رہا ہے، اگر افغان جنگ کو دیکھا جائے تو زمینی حقائق یہی ہیں کہ موسم سرما شروع ہونے کے بعد سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان میں مزید پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے اور طالبان کے زیر اثر علاقہ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات کے بارے میں ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ طالبان نمائندوں کی امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے علاوہ سعودی، پاکستانی اور اماراتی حکام سے بات چیت ہوئی ہے، جس میں افغانستان میں قیام امن اور تعمیر نو، قابض افواج کے افغانستان سے انخلا اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ظالمانہ کارروائیاں روکنے کے بارے میں بات ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات میں تیزی رواں سال ستمبر سے آئی ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں مفاہمت کے لئے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کیا تھا۔ زلمے خلیل زاد اب تک پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، قطر اور روس سمیت خطے کے کئی ممالک کے دورے کرچکے ہیں۔ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے معتبر ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا ہے کہ امریکہ طالبان پر چھ ماہ کے لئے جنگ بندی اور مستقبل میں افغانستان کی ممکنہ نگران حکومت میں اپنے نمائندے نامزد کرنے پر زور دے رہا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ ان مذاکرات کا امریکہ کی جانب سے سب سے اہم یہی دو نکات تھے تو غلط نہ ہوگا۔ طالبان امریکہ اور اتحادی افواج کے مکمل انخلا کے بغیر کسی قسم کی بات چیت پر آنے کو تیار نہیں تھے، تاہم اب جنگ بندی کے معاملہ کو لیکر طالبان نے کچھ لچک دکھائی ہے اور آئندہ افغانستان میں تشکیل پانے والی حکومت میں طالبان کو حصہ بھی دیا جاسکتا ہے، تاہم اس معاملہ پر موجودہ افغان حکومت کو تحفظات ہیں۔

دوسری جانب یہ خبریں بھی منظر عام پر آئی ہیں کہ طالبان نے ان مذاکرات میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ طالبان کے تمام گرفتار قیدیوں کو رہا کرے، طالبان کمانڈرز پر عائد کی جانے والی سفری پابندیوں کا خاتمہ کرے اور افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کی حتمی ڈیڈ لائن دی جائے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان امریکہ اور طالبان کے مابین معاہدہ کے ضامن بنیں تو طالبان جنگ بندی پر آمادہ ہوسکتے ہیں، تاہم اس کیلئے یہ گارنٹی دینا ہوگی کہ آئندہ منتخب ہونے والی حکومت میں بھی طالبان کی جانب سے نامزد کئے جانے والے نمائندے مکمل اختیارات کے حامل ہوں گے۔ افغانستان میں متعین رہنے والے پاکستانی سابق سفیر رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ طالبان امریکہ کی ایما پر پاکستان کے اس موقف کو قبول نہیں کریں گے کہ طالبان جنگ بندی کریں اور ہتھیار ڈال کر مذاکرات کی میز پر آئیں، اس سے ان کی تحریک ختم ہو جائے گی۔ طالبان اب بھی غیر ملکی فوجوں کے انخلا کو اولین ترجیح بنائے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کو تبھی کامیاب سمجھا جائے گا، اگر فریق افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام پر متفق ہو جائیں، افغانستان میں انتخابات کو ملتوی کرتے ہوئے عبوری حکومت کے قیام، غیر ملکی فوجوں کے انخلا پر رضامندی افغانستان میں امن کی راستہ بن سکتی ہے۔ امریکہ کی سوچ میں تبدیلی نظر آتی ہے، اگر عبوری حکومت بنا دی جائے تو جنگ اپنے اختتام کو پہنچ سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 767798
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے