0
Monday 7 Jan 2019 19:59

خطے کے احمق کھلاڑیوں کے ذریعے نئی امریکی سازش

خطے کے احمق کھلاڑیوں کے ذریعے نئی امریکی سازش
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

گذشتہ ایک دو ہفتے کی خبروں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق اور شام میں امریکہ کی مرکزیت میں ایک نئی سازش جنم لے رہی ہے۔ عراق میں فوجی اور سیاسی شکست قبول کر لینے کے باوجود امریکہ عراق اور شام میں بدامنی اور کشمکش پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ اس طرح اپنی مداخلت کا بہانہ فراہم کر سکے۔ واشنگٹن ترکی، عراقی کردوں اور داعش کے مطالبات کو ایکدوسرے سے گرہ لگا کر ایک ایسی بڑی سازش شروع کرنا چاہتا ہے جس میں خود اسے کوئی بڑا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ اسی طرح امریکہ خطے سے متعلق گذشتہ منصوبہ جو "آستانہ منصوبے" کے نام سے معروف تھا اور اس میں ایران اور روس مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں کو ناکام بنانے کا خواہاں ہے۔ اس بارے میں موجود کچھ اہم خبریں، شواہد اور تجزیات درج ذیل ہیں:
 
1۔ امریکہ کی جانب سے شام سے فوجی انخلا کے اعلان کے دو ہفتے بعد فوجی گاڑیوں، اسلحہ، انجینئرنگ آلات اور فوجی جیپوں پر مشتمل تقریباً 1000 ٹرک شام کے شمال میں واقع شہر دیر الزور سے صوبہ حسکہ کی طرف گئے۔ شام کے کردوں سے وابستہ ایک باخبر ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ یہ ٹرک "سیمالکا" درے سے گزر کر عراق کے کرد نشین علاقے کردستان جائیں گے۔ اس کے بعد عراق آرمی کی سنٹرل آپریشنل کمانڈ کے ترجمان یحیی رسول نے چند دن پہلے ضمنی طور پر اعتراف کیا کہ فوجی سازوسامان کی یہ منتقلی عراقی حکام کو اعتماد میں لئے بغیر اور حتی انہیں آگاہ کئے بغیر انجام پائی ہے۔ انہوں نے عراق آرمی کی جانب سے موثر ردعمل ظاہر نہ کرنے کی توجیہہ کرتے ہوئے کہا: "امریکی فورسز شام سے نکلنے کے بعد پہلے اربیل جائیں گی اور اس کے بعد اپنے ملک یا کسی اور مقصد کی جانب روانہ ہو جائیں گی اور اربیل میں ان کا قیام محض "ٹرانزٹ پوائنٹ" کے طور پر ہو گا۔" یحیی رسول نے ساتھ ہی یہ خبر بھی دی کہ بہت جلد امریکی فوجیوں کے کچھ اور دستے صوبہ الانبار کے جنوب میں واقع بیس کیمپ میں پڑاو ڈالنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکی فوجی بھی خطے میں باقی نہیں رہیں گے۔
 
دوسری طرف صوبہ الانبار میں عراق کی وزارت داخلہ کے انسپکٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صوبہ الانبار کے مرکز سے 35 کلومیٹر دور واقع شہر "الرمادی" میں دھماکہ خیز مواد، بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے اسپیئر پارٹس ضبط کئے ہیں جنہیں عراق کے شمالی حصوں میں اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یہ خبریں مل کر ظاہر کرتی ہیں کہ حالیہ چند دنوں میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی سامان عراق کے شمالی اور جنوبی حصوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس مسئلے کے ساتھ ساتھ بعض ایسی خبریں بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ چار ماہ کے دوران تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو زیادہ آزادی عمل فراہم ہوئی ہے اور اس گروہ نے شام کے شمال مشرقی حصوں اور عراق کے جنوب مغربی علاقوں میں وسیع سرزمین پر قبضہ قائم کر لیا ہے۔ یہ امر ترکی اور امریکہ کی حمایت سے وقوع پذیر ہوا ہے۔ مثال کے طور پر شام کی کرد فورسز نے چار مہینے پہلے دریائے فرات کے مشرقی علاقوں سے داعش کے خاتمے کیلئے امریکہ کے تعاون سے "طوفان الجزیرہ" نامی ایک فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے کے بعد اسے انجام دیا۔ اس آپریشن کے دوران امریکہ اور ترکی کے اقدامات کے باعث یہ آپریشن مکمل ناکامی سے روبرو ہوا اور داعش نے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس آپریشن میں امریکہ نے کرد فورسز کو ہوائی مدد اور بمبار طیارے استعمال کرنے کا وعدہ دیا تھا لیکن عین وقت پر اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گیا جس کے باعث کردوں کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ناکام آپریشن میں کرد فورسز کے 300 افراد ہلاک جبکہ 1000 کے قریب زخمی ہو گئے۔
 
دوسری طرف ترکی نے بھی ایسے وقت جب کرد فورسز داعش کے خلاف آپریشن میں مصروف تھیں، کردوں کو حملوں کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ترکی نے دو کرد اکثریتی شہروں تل ابیض اور راس العین پر حملے کی دھمکی دی۔ اگرچہ اس دھمکی پر عمل نہیں کیا گیا لیکن اس کا نتیجہ کرد فورسز کی توجہ داعش سے ہٹ جانے اور ان کا کمزور ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ترکی کی اس دھمکی کے باعث کردوں نے اپنی فورسز کا بڑا حصہ تل ابیض اور راس العین منتقل کر دیا اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش نے شط فرات پر واقع تیل کے ذخائر سے مالا مال علاقے عمر پر قبضہ کر لیا۔ اس بارے میں شام کے کرد قبیلوں کے ایک سردار نے فاش کیا ہے کہ شام کے امور کیلئے امریکہ کے خصوصی مشیر جیمز جفری نے گذشتہ سال نومبر میں کرد فورسز کے کمانڈرز کو حکم دیا تھا کہ وہ داعش کے افراد کو غذائی اشیا اور اسلحہ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ لہذا یہ کہنا درست ہو گا کہ یہ تمام خبریں مجموعی طور پر اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ خطے میں ایک انتہائی گہری سازش جاری ہے جس کے پیچھے امریکہ، ترکی، داعش اور عراقی کرد فورسز کارفرما ہیں اور اس کی کمانڈ امریکی فوج کے ہاتھ میں ہے۔
 
2۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ ان تمام گروہوں کے مفادات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں فریب دے کر اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن امریکہ کا مطلوبہ ہدف کیا ہے؟ صدر بشار اسد کی سربراہی میں شام کی حکومت سرنگون کر کے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی قومی سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے میں واضح ناکامی کے بعد اب امریکہ کا مقصد شام میں پائیدار امن کے قیام اور حالات معمول پر آنے میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔ درحقیقت واشنگٹن اس حقیقت کو درک کرنے کے بعد کہ شام اور عراق کے موجودہ سیاسی اور سکیورٹی سیٹ اپ میں اس کا کوئی کردار اور اثرورسوخ نہیں اور اس کے مخالفین اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں، سیاسی اہداف کی خاطر ایک سکیورٹی مربع تشکیل دے کر کھیل خراب کرنے کا قصد رکھتا ہے۔ یہ سکیورٹی مربع اس گذشتہ سکیورٹی مربع کے مقابلے میں ہے جس میں ایران اور روس کو مرکزیت حاصل تھی۔ امریکی حکام نے بتدریج ترکی کو آستانہ مربع سے علیحدہ کرنے کی کوشش انجام دی ہے اور موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کام میں کچھ حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔ امریکہ اس وقت ایک ایسا سکیورٹی مربع تشکیل دینے کے درپے ہے جس میں دوسرے اخراجات اور شکست کے خطرے کا سامنا کریں جبکہ ممکنہ فائدہ واشنگٹن کو حاصل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 دسمبر 2018ء کے دن عراق کے خفیہ دورے کے دوران ڈھکے چھپے لفظوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ہم عراق سے نہیں نکلیں گے اور اسے شام کے خلاف آپریشن کیلئے استعمال کریں گے۔
 
سوال یہ ہے کہ امریکہ کے علاوہ اس سکیورٹی مربع میں شامل دیگر تین اضلاع کے کیا مطلوبہ اہداف ہیں؟ ترکی کا مقصد شام میں باقی رہنا اور زیر قبضہ علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانا ہے اور اگر ممکن ہو تو اپنے زیر تسلط علاقوں کی وسعت میں اضافہ کرنا شامل ہے۔ لہذا داعش اور النصرہ فرنٹ سے مقابلہ اور ان کا خاتمہ نہ صرف ترکی کی اسٹریٹجی میں شامل نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر ان سے بھی اتحاد کیا جا سکتا ہے۔ ترکی کی نظر میں یہ گروہ ترکی کیلئے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں رکھتے۔ دوسری طرف عراقی کردوں خاص طور پر "مسعود بارزانی" کا مقصد کرکوک کو واپس لینا اور کردستان کی خودمختاری کی سازش کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ وہ اس راستے میں ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہے جیسا کہ اب تک رونما ہونے والے واقعات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ مسعود بارزانی کی نظر میں عراق یا شام کی تقسیم میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلامی مزاحمتی بلاک ہے لہذا کرکوک کو واپس حاصل کرنے اور کردستان کی خودمختاری کیلئے امریکہ اور ترکی کا تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مخالف ہیں۔ امریکی سکیورٹی مربع کا چوتھا رکن یعنی داعش بھی اپنے مدنظر کچھ مقاصد اور اہداف لئے ہوئے ہے۔ داعش کا مقصد عمل میں آزادی حاصل کرنا اور دریائے فرات کے مشرقی حصے میں اپنے مخالف گروہوں کو پیچھے دھکیلنا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی حکام نے ترکی، داعش اور عراقی کردوں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ منصوبے کے ذریعے شام اور عراق میں مطلوبہ تبدیلیاں ایجاد کر سکتے ہیں لہذا انہیں ایک "نئی تباہی" میں وارد ہونے پر تیار کر چکا ہے۔
 
3۔ اس ہنگامے میں امریکہ کا مدنظر منصوبہ یہ ہے کہ داعش کے ذریعے پہلے کرکوک کو عراقی حکومت کے اختیار سے باہر نکالا جائے اور اس کے ساتھ ہی جنوبی عراق میں واقع صوبہ الانبار میں بھی داعش سعودی عرب کی مالی اور لاجسٹک سپورٹ کی مدد سے بعض علاقوں پر قابض ہو جائے۔ آخرکار امریکہ شام میں ایران اور روس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور شام کے مختلف علاقوں میں شام حکومت کی قائم ہوتی رٹ کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات انجام دے سکے۔ امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ شام کے حالات ایران کے تعاون کے بغیر اور صرف روس اور شام حکومت کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کے ذریعے سنبھلنے کے قابل نہیں۔ لہذا امریکہ نے ایران کی توجہ شام سے ہٹا کر عراق میں مبذول کرانے کی سازش تیار کی ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ جب کرکوک اور صوبہ الانبار میں بدامنی کی آگ جل اٹھے گی تو ایران اور عراق کی حکومتوں کو اپنی پوری توجہ ان علاقوں پر مرکوز کرنی پڑ جائے گی۔ دوسری طرف عراق میں طاقت کی تقسیم کچھ ایسی ہے کہ وہ اکیلا اپنے خلاف انجام پانے والی سکیورٹی اور سیاسی سازشوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا لہذا اس بدامنی سے مقابلہ کرنے کا پورا دباو ایران پر آئے گا۔
 
دوسری طرف کردستان حکومت اور خود مسعود بارزانی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ کرکوک واپس حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پہلے داعش اس پر قبضہ کرے اور اس کے بعد داعش سے مذاکرات کے ذریعے کرکوک عراقی کردوں کے حوالے کر دیا جائے اور داعش کو کرکوک کے بدلے صوبہ الانبار پر قبضہ کرنے کیلئے عراقی کردوں، امریکہ اور ترکی کی جانب سے غیر سرکاری لیکن موثر مدد اور حمایت فراہم کی جائے۔ اسی طرح ترکی کا خیال ہے کہ کرکوک اور صوبہ الانبار میں جنگ شروع ہونے کا نتیجہ شام کے صوبہ ادلب کی آزادی کیلئے شام آرمی کے قریب الوقوع ملٹری آپریشن پر پڑے گا۔ اس آپریشن کا مقصد صوبہ ادلب کو دہشت گرد عناصر اور ترکی کے قبضے سے آزاد کروانا ہے۔ ترکی سمجھتا ہے کہ عراق میں دوبارہ بدامنی شروع ہونے کے بعد یہ آپریشن یا تو ہمیشہ کیلئے کینسل کر دیا جائے گا یا ایک یا دو سال کیلئے ملتوی کر دیا جائے گا اور اس طرح ترکی کو شام کے شمال میں زیر قبضہ علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع میسر آ جائے گا۔
 
4۔ اس منصوبہ بندی میں امریکہ، ترکی، عراقی کرد اور داعش انتہائی سادہ لوحی کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے عراقی حکومت، ایرانی حکومت، شام کی حکومت اور روس کی حکومت کے کردار سے غفلت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکام نے انتہائی سادہ لوحی اور جذبات کا شکار ہو کر ترکی، عراقی کردوں اور داعش کی بنیاد پر یہ سازش تیار کی ہے۔ امریکی حکام نے انہیں "احمق کھلاڑیوں" کے طور پر تصور کیا ہے۔ امریکہ کو گذشتہ دو تین برس کے واقعات پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے تھا جس دوران اسلامی مزاحمتی بلاک نے ایک ساتھ اس مربع کے تمام اضلاع سے مقابلہ کیا اور ان کے شیطانی مقاصد کو ناکامی کا شکار کر دیا۔ مسعود بارزانی کو ایک سال پہلے والے حالات کا مطالعہ کرنا چاہئے اور اس ذلت آمیز شکست کو یاد کرنا چاہئے جو اسے ریفرنڈم کے بعد نصیب ہوئی تھی اگرچہ اس وقت بھی امریکی حکام نے اسے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ترکی کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ شام کے شمالی حصوں میں اس کی محدود فوجی موجودگی صرف الباب میں روس کی اسٹریٹجک غلطی کا نتیجہ ہے ورنہ ترکی کی فوج ہر گز شام میں داخل ہونے کی جرات نہ کرتی۔ اگر ترکی شام میں امریکی سازش کا حصہ بننے کی کوشش کرے گا تو صورتحال تبدیل ہو جائے گی اور ایران، روس اور شام بھی مختلف پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آستانہ امن پراسس ترکی کے نکل جانے سے اختتام پذیر نہیں ہو گا بلکہ زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ سکے گا۔
خبر کا کوڈ : 770788
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے