2
0
Wednesday 9 Jan 2019 08:28

ایک تاریخی دن

ایک تاریخی دن
اداریہ
19 دی ماہ 1357 بمطابق 9 جنوری 1978ء یعنی انقلاب اسلامی سے تقریباً ایک سال پہلے ایران کے مذہبی شہر قم میں، جسے آج کل علم و اجتہاد کا روحانی مرکز بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے اسلامی انقلاب کی چنگاری کو شعلہ ور کر دیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے اکثر غیر ملکی مورخین اس واقعہ کو نظرانداز کر دیتے ہیں، لیکن تاریخ انقلاب پر گہری نظر رکھنے والے محققین اور مورخین کا ماننا ہے کہ اگر یہ واقعہ رونما نہ ہوتا تو ایران کا اسلامی انقلات 11 فروری 1979ء کی بجائے مزید کئی سال تاخیر کا شکار ہو جاتا۔ 9 جنوری 1978ء کی تاریخ میں ایران کے معروف اخبار "اطلاعات" نے امام خمینی کے خلاف ایک مقالہ شائع کیا، جس کا عنوان تھا "ایران و استعمار سرخ و سیاہ۔" یہ مضمون شاہ ایران کی خفیہ پولیس کی ایما پر شائع کیا گیا اور اس کا بنیادی مقصد امام خمینی کی شخصیت کو ایرانی معاشرے میں خراب کرنا تھا۔

شاہ کی خفیہ پولیس ساواک نے اس بات کا احساس کر لیا تھا کہ امام خمینی نجف اشرف میں رہ کر بھی ایرانی عوام کے دلوں میں بس رہے ہیں اور اگر ان کی شخصیت کو داغدار کرکے متنازعہ نہ بنایا گیا تو وہ وقت دور نہیں، جب اس مذہبی رہنما کا بول بالا ہوگا اور شاہ کی حکومت کی بجائے ایران میں امام خمینی کا سکہ چلے گا۔ مقالہ شائع ہوتے ہی قم میں کہرام مچ گیا، علماء اور طلباء میدان عمل میں آگئے اور انہوں نے مختلف مراجع کے گھروں اور دفاتر کا رخ کرکے اپنی صدائے احتجاج بلند کی۔ شاہ کی پولیس کے لیے ہرگز گوارہ نہ تھا کہ ان کی حکومت میں کوئی فرد شاہ کے اقدامات کے خلاف معمولی آواز بھی اٹھائے، قم کے علماء اور طلاب پر شاہی کارندوں نے فائر کھول دیا اور چند لمحوں میں 6 افراد شہید اور 14 زخمی ہوگئے۔ اس احتجاج کو "قم کے خونی انقلاب" سے تعبیر کیا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے ایران بھر میں ظالم شاہ مردہ باد کے نعرے گونجنے لگے، خوف کا بیرئیر ٹوٹ گیا۔

عوام میدان میں آگئے اور انقلابی اقدامات میں سرعت آگئی۔ بظاہر ان مظاہروں میں شہید ہونے والوں کی تعداد ماضی کے مظاہروں میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد سے زیادہ نہ تھی، لیکن انقلابی قیادت ان شہادتوں اور شہداء کی وارث بن کر میدان میں نکلی۔ شہداء کا خون رائیگان نہیں جاتا۔ انقلابی کارکنوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔ وقت کے فرعونوں اور یزیدیوں کے زندانوں اور ٹارچر سیلوں میں تشدد سے بلکتے اسراء کی چیخیں زندانوں سے ٹکرا کر ہوا میں تحلیل نہیں ہوتیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ان شہداء اور اسراء کا کوئی والی وارث بنے۔ 9 جنوری 1978ء کے شہداء کے وارث امام خمینی بنے اور 11 فروری 1979ء کو اڑھائی ہزار سالہ تخت شہنشاہی ماضی کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ ان شاء اللہ دنیا بھر کے شہداء اور اسراء کے والی و وارث جب میدان میں آئین گے تو سامراجی طاقتیں اور ان کے ایجنٹ نیست و نابود ہو جائیں گے اور عالمی اسلامی انقلاب کا خورشید طلوع کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 771073
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

توقیر ساجد
Pakistan
خوبصورت سلسلہ ہے، جاری رکھیں
Iran, Islamic Republic of
رھبر معظم نے بھی اس دن کو بہت اہم قرار دیا ہے۔