0
Wednesday 30 Jan 2019 16:40

امریکہ، افغان طالبان اور خطے کا مستقبل

امریکہ، افغان طالبان اور خطے کا مستقبل
تحریر: طاہر یاسین طاہر

جنگوں میں لاشوں کے انبار لگتے ہیں، فریقین اپنی اپنی ہمت جمع کرتے ہیں، رجز پڑھتے ہیں اور خون گرماتے ہوئے آسمان کی طرف لہو رنگ گرد اٹھاتے رہتے ہیں، انسانی تاریخ یہی ہے۔ جدید جنگی تاریخ، رحجانات اور سائنسی انداز نے اگرچہ طریقہ واردات بدل دیا مگر تباہی کا انداز بالکل وہی ہے۔ انسان اپنی سرشت میں بہت عجیب شے ہے۔ تاریخ کا مطالعہ فہیم انسانوں کے لیے دردناک نتائج رکھتا ہے۔ کس قدر الم ناک بات ہے کہ امن کے لیے جنگ کا سہارا لیا جائے؟ تاریخ کی گرد، اب کوئی نہیں ہٹاتا۔ شارٹ کٹ راستے کا انتخاب، سوشل میڈیا، دائیں بائیں سے پوسٹوں کی نقل اور روا روی میں کویہ سا بھی چلتا بیانیہ نتیجے کے طور پر دے دیا جاتا ہے۔ افغان سخت جان ضرور ہیں، لیکن وہ ابھی تک امریکہ یا نیٹو فوررسز کو شکست نہیں دے پائے، نہ ہی ابھی وہ دو چار عشرے یہ کام کرسکتے ہیں۔ دفاعی ماہرین، خطے کی عسکری انگڑائیوں پر نظر رکھنے والے دانشور اور طاقتوروں کے رحجانات و مزاج کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت اب بھی افغان طالبان پر بہت بھاری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر جدید ترین اسلحہ اور نیٹو اتحادیوں سمیت امریکہ فتح سے ہم کنار کیوں نہ ہوسکا؟

سوال یہ بھی ہے کہ اپنی تمام تر جدید ٹیکنالوجی کے باجود امریکہ 17 برس سے افغانستان کے خشک پہاڑوں میں ٹھوکریں کیوں کھا رہا ہے؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر امریکہ فوری طور پر اپنی فوجیں واپس بلا لیتا ہے تو کیا افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ کیا تمام افغان، قبائلی دشمنیاں، اپنے خاص فہم اسلام اور جہادی مزاج کو فراموش کرکے باہم شیر و شکر ہو جائیں گے؟ قطعی نہیں، ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا۔ جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو سامنے کی حقیقت یہی تھی کہ امریکہ تباہ کن حملہ کرے گا افغانستان پر، حتیٰ کہ یہ خدشہ تک موجود تھا کہ پاکستان بھی امریکی لپیٹ میں آئے گا۔ یہ سوال کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اس وقت پاکستان کے حق میں بہتر فیصلہ کیا یا غلط؟ اور اگر بہتر فیصلہ کیا تو پھر اس فیصلے کی جزئیات تک پر عمل کیوں نہ کیا؟ اور کالعدم تحریک طالبان کو جڑ پکڑنے کی چھوٹ کیوں دی؟ شاید جنرل مشرف کے لئے یہ ضروری تھا۔ بالکل ایسے جیسے جنرل ضیاء الحق کے لئے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ روسی فوجوں کے خلاف امریکی ڈالروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے افغان مجاہدین کا بیس کیمپ پاکستان بنائے۔ کیا یہ تاریخی اعتبار سے سچ بات نہیں ہے۔؟

افغانوں کی تباہی میں ان کے اپنے مزاج کی گرمی، اسلام اور افغان قبائلی روایات کی گڈ مڈ اور سب سے بڑھ کر اسلام کی ظواہر پرستانہ تعبیر نے افغانوں سمیت خطے کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ رہی سہی کسر ہم نے نکال دی۔ ہمارے نعرے باز لکھاریوں اور مقررین نے "کوہسار باقی افغان باقی" کی اس قدر تکرار کی کہ اب کہسار تو زخم زخم ہی سہی، مگر باقی ہیں، لیکن ہر افغانی کے گھر سے چار چار چھ چھ جنازے اٹھ چکے ہیں۔ جو بچ گئے وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اپاہج ہوچکے ہیں اور کئی سماجی برائیوں کے سربراہ تک بنے ہوئے ہیں۔ فاتح طاقتیں مفتوح قوموں پر رحم نہیں کرتیں، تاریخ یہی ہے۔ یہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی بات نہیں، اوبامہ نے بھی کہا تھا کہ ہم افغانستان سے فوجیں واپس بلائیںگے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ ہاں شاید امریکی تھینک ٹینک ان فوجیوں کو واپس بلاتے ہوں، جو دو چار سال افغانستان میں جنگی پریکٹس سے تھک چکے ہوں اور ان کی جگہ نئے دستے رات کی تاریکی میں اتار دیئے جاتے ہوں۔ یہ موضوع اس قدر آسان نہیں کہ دو چار کالم لکھ کر افغانستان میں امن قائم ہونے کی نوید سنا دی جائے، یا امریکہ کو یوں شکست خوردہ دکھایا جائے، جیسا کہ روس کو شکست ہوئی تھی۔ روسی فوجوں کی واپسی کی وجوہات اور تھیں، امریکہ لیکن ابھی پانچ سے سات سال تک افغانستان سے نہیں جائے گا۔ ابھی تک تو میرا خیال یہی ہے۔ امریکہ نائن الیون کے بعد خاص مقاصد لے کر افغانستان کی طرف حملہ آور ہوا ہے۔ امریکہ اگر چاہتا تو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دو سے تین ماہ میں پورے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیتا۔ لیکن اس کی جنگی حکمت عملی یہی ہے کہ افغان طالبان کو مسلسل دبائو میں رکھا جائے۔

افغان طالبان نے بھی اب حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے افغان فورسز پر حملے تیز تر کر دیئے ہیں۔ وہ دانشورانِ خوش خیال کہاں ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ یا نیٹو شکست کا بوجھ اٹھائے افغانستان سے نکل جانے کو تیار ہیں؟ افغانستان میں کم و بیش چار دہائیوں سے جنگ جاری ہے، جسے جہاد کا نام دیا جا رہا ہے، جبکہ حملہ آور فریق اسے دہشت گردی کہتا ہے۔ بالخصوص نائن الیون کے بعد تو امریکی حملوں نے افغانوں کا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا، اکانومی برباد ہو کر رہ گئی، ہر روز جنگی حملوں میں مرنے والے افغان مسلمانوں، بچوں اور عورتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ افغانوں کے مقابل کتنے نیٹو اور کتنے امریکی مرے؟ جنگوں کے فیصلے فریقین کے نقصانات پر ہوتے ہیں۔ ایک پورا سماج نفسیاتی دبائو کا شکار ہو کر نیم پاگل ہوچکا ہے۔ اس کے باجود خواب فروش، بڑے بڑے ہوٹلوں میں، قرآنی آیات پڑھ کر افغان طالبان کی فتح کے نغمے سنا رہے ہوتے ہیں۔ گذشتہ دنوں افغان طالبان کے ترجمان نے جنگی حکمت کے تحت یہ بیان بھی دیا کہ شیعہ مسلمان ہمارے بھائی ہیں، تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان نے ٹیک اوور کیا تو ان بھائیوں کے خون کو ثواب سمجھ کر بہایا۔

جنگی حالات یکساں نہیں رہتے۔ امریکہ ہو یا یورپ کے دیگر فیصلہ ساز ممالک، ترقی پذیر ممالک کے لیے لانگ ٹرم پالیسیاں بناتے ہیں۔ قطر میں طالبان کا دفتر کھلتا اور بند ہوتا رہتا ہے، ایک بار تو اس وجہ سے بند کر دیا گیا کہ طالبان قطر میں قائم مذاکراتی دفتر پر اپنا جھڈا لگانا چاہتے تھے۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل نے یہ کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان حکام افغانستان سے دہشت گردوں کو باہر نکالنے، تمام امریکی فوجیوں کے انخلا، جنگ بندی اور کابل، طالبان مذاکرات جیسے تمام اہم معاملات پر راضی ہوگئے ہیں، جبکہ اگلے ہی روز کہا کہ تمام امور پر اتفاق قائم ہونے تک کوئی بات حتمی نہیں ہوگی، جبکہ ابھی کئی معاملات پر کام کرنا باقی ہے۔ دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں۔ لیکن طالبان کا موقف یہ ہے کہ موجودہ افغان حکومت کٹھ پتلی ہے، اس لیے اس حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ پھر ہوگا کیا؟

میرا خیال ہے دونوں فریقین اپنی اپنی بات منوانے کے لئے جنگی حکمت عملی تبدیل کریں گے، افغان طالبان غیر ملکی فوجیوں اور افغان فورسز پر حملوں کو تیز کریں گے جبکہ نیٹو اور امریکی فوجی فضائیہ کی مدد سے ٹارگٹس کو نشانہ بنائیں گے۔ یہ ایک جنگی چال ہوسکتی ہے، لیکن اس داعش نامی دہشت گرد گروہ کا کیا کِیا جائے گا، جسے امریکہ نے پاک افغان سرحد کے قریب لا بٹھایا ہے، تاکہ پورے خطے کا موحول داعشی جہادی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا جائے اور پھر سے انگڑائی لے کر داعش کی سرکوبی کے لئے کمر کس لی جائے؟ بارِ دگر عرض ہے کہ پاکستان، روس، چین اور ایران مل کر نہ صرف داعش کو یہاں سے نکال سکتے ہیں بلکہ خطے میں مزید جنگی خطرات کو بھی کم کرسکتے ہیں۔ ہاں قطر میں ہونے والے مذاکرات ابھی سفارتی پیچیدگیوں کے کئی پیچ و خم دیکھیں گے۔ افغانستان امن سے ابھی بہت دور ہے اور اس کی "جنگی حکمت" سے خطہ بھی، لیکن حکمت اور منصوبہ بندی سے کم از کم پاکستان اب دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کی سرحدوں میں متحرک نہیں ہونے دے گا۔
خبر کا کوڈ : 775187
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے