0
Saturday 2 Feb 2019 17:17

فلسطین و مشرق وسطیٰ کے بعد اسرائیل کا نیا ہدف افریقا

فلسطین و مشرق وسطیٰ کے بعد اسرائیل کا نیا ہدف افریقا
تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے کہ عرب دنیا یا اس طرح کہا جائے کہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے بر اعظم ایشیاء کے ایک ایسے مرکز پر اسرائیل کی جعلی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا کہ جہاں سے مغرب و یورپ کے ایشیاء سے سمندری راستوں سے جوڑا جانا سرمایہ دارانہ نظام کے لئے مفید تھا، جی ہاں نہر سوئز یعنی سوئز کنال۔ سنہ48ء سے جب سے اسرائیل کی جعلی ریاست سرزمین فلسطین پر قائم ہوئی ہے، اس کے بعد سے گذرنے والے ستر برسوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو اس پورے خطے میں جس قدر بدامنی اور دہشت گردی فروغ پائی ہے، وہ صرف اور صرف اسرائیل کی ایماء پر اور اسرائیل کی اعلانیہ اور پس پشت حمایت کے نتیجہ میں ہی سامنے آئی ہے۔ حالیہ دور کی تازہ مثال دیکھنی ہو تو داعش اور النصرۃ جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیموں کو وجود بخشنے میں امریکہ اور اسرائیل کا کردار واضح طور پر ایک کھلی مثال ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ستر برس میں اسرائیل نے نہ صرف فلسطین میں تباہی و بربادی پھیلائی ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں بدامنی اور دہشت گردی کو فروغ دیا ہے اور اسی طرح اسرائیل کی ہمیشہ یہ سازشیں رہی ہیں کہ پورے ایشیاء کے وسائل پر اپنا براہ راست یا بالواسطہ تسلط قائم اور حکمرانی کرے، اس کام کے لئے ان ستر برس میں اسرائیل نے جہاں دہشتگرد گروہوں کی پرورش کرکے خطے کو غیر مستحکم کیا ہے، وہاں ساتھ ساتھ خطے کی چند عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو بھی سنہرے خواب دکھلا کر رام کر لیا ہے، اب صورتحال یہ ہے کہ وہ عرب ممالک اور حکومتیں جو سنہ48ء سے ہی اسرائیل کی جعلی ریاست کے قیام کے مخالف تھے، آج کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا رہے ہیں، چند ایک ایسے بھی ہیں، جو خفیہ طور پر یہ تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں، شاید ان کے اندر اب بھی عوام کی اس بیداری کا خوف ہے کہ جو کسی بھی وقت ان حکمرانوں کے تاج و تخت کو تاراج کرسکتی ہے۔

ایشیاء کے علاقوں میں بدامنی اور دہشت کا راج پھیلانے کے بعد اب اسرائیل کی نظریں افریقا پر بھی گڑھ چکی ہیں، افریقا بھی آبادی کے لحاظ سے بڑے بر اعظم میں شمار ہوتا ہے۔ جہاں تک عرب ممالک سے تعلقات کی دوڑ کے بعد اب اسرائیل نے افریقی ممالک کا رخ کیا ہے، اس کے بارے میں سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ امریکہ نے جو گذشتہ برس فلسطین کے مسئلہ پر ’’صدی کی ڈیل‘‘ نامی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے نتیجہ میں پہلے مرحلہ میں امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ القدس پر اسرائیل کا حق ہے اور پھر اس کے بعد دنیا بھر کے دوسرے ممالک کو کہا گیا کہ اپنے سفارتخانوں کو تل ابیل سے بیت المقدس شہر میں منتقل کر لیں، تاہم اس معاملے پر زیادہ پیشرفت تو نہ ہوسکی، تاہم صدی کی ڈیل کا یہ ایک اہم ترین اعلان و فیصلہ تھا، اس کے ساتھ امریکہ نے یروشلم شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا یکطرفہ اعلان کر دیا، جس کو دنیا نے مسترد کر دیا۔

اب کہا یہ جا رہا ہے کہ اسرائیل کے عرب ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات جہاں امریکی پلان صدی کی ڈیل کا حصہ ہیں تو وہاں افریقی ممالک میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور نفوذ بھی اسی امریکی صدی کی ڈیل کا ہی حصہ ہے کہ جس کو فلسطینی عوام اور تمام سیاسی و مزاحمتی دھڑوں نے مسترد کر دیا ہے نیز دو ٹوک موقف دیا ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور امریکہ سمیت کسی کو فلسطین کے مستقبل اور مسائل کے فیصلوں کا حق نہیں ہے۔ بہرحال اب اسرائیل صدی کی ڈیل کے منصوبوں کے تحت افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات بنانے میں مصروف عمل ہے اور اس کوشش میں ہے کہ ان تعلقات کے نتیجہ میں افریقی مسلمان ممالک سے اسرائیل کے حق میں تسلیم کا اعلان کروائے اور ساتھ ساتھ اگلے مرحلہ میں افریقی ممالک می موجود وسائل پر بھی اپنا براہ راست یا پھر بالواسطہ تسلط حاصل کرے۔

یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ جس طرز پر مشرق وسطیٰ میں امریکی و صہیونی حمایت سے دہشت گرد گروہوں نے جنم لیا تھا، ٹھیک اسی طرح افریقی ممالک میں بھی ان گروہوں کی موجودگی پائی جا رہی ہے، جس میں داعش کا افریقی ورژن بوکو حرام منظر عام پر آچکی ہے جبکہ مزید نہ جانے کتنے ایسے دہشت گرد گروہ پنپ رہے ہیں کہ جن کو براہ راست اسرائیل سپر وائز کر رہا ہے۔ گذشتہ دنوں اسرائیلی جعلی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے یکے بعد دیگر افریقی ممالک کا دورہ کیا، ان میں سے ایک افریقی ملک چاڈ تھا کہ جہاں دو طرفہ تعلقات کو عادی سازی پر لانے کے لئے اہم پیش رفت کی گئی۔ یہ بات یاد رہے کہ چاڈ جو کہ مسلم اکثریت کا ملک ہے، جس نے 1972ء میں غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو ختم کر دیا تھا، تاہم اس کے بعد اب از سر نو تعلقات کی بنیاد رکھی گئی ہے، جسے ماہرین سیاسیات نے امریکی منصوبہ صدی کی ڈیل کی کڑی قرار دیا ہے۔ اس سے قبل چاڈ کے صدر ادریس دیبی نے نومبر 2016ء میں مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ملاقات کی تھی اور یہ اس وقت گذشتہ سینتالیس برس کسی چاڈ کے سیاسی حکمران کی پہلی ملاقات تھی۔

دوسری طرف فلسطینی سیاسی و مزاحمتی دھڑوں نے عرب اور افریقی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی قربت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور گذشتہ دنوں اسرائیلی جعلی ریاست کے وزیراعظم کے چاڈ کے دورہ کو افریقی ممالک کے لئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے، اپنے ایک بیان میں فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے چاڈ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فلسطینی حمایت کے موقف پر قائم رہے اور اسرائیل جیسی خونخوار اور دہشت گرد جعلی ریاست کے ساتھ تعلقات بنانے کے فیصلہ پر نظرثانی کرے، تاہم چاڈ حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے لئے تاحال کوئی مثبت پیغام سامنے نہیں آیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیلی جعلی ریاست کے اس وقت مصر اور اردن کے ساتھ اعلانیہ سفارتی تعلقات قائم ہیں، البتہ نیتن یاہو مسقط کا دورہ بھی کرچکے ہیں جبکہ اسرائیلی عہدیدار ابوظہبی، سعودی عرب، عرب امارات، دبئی، شارجہ، بحرین، کویت اور قطر سمیت دیگر عرب ممالک کے دورے بھی کرتے رہتے ہیں، حتیٰ بعض مقامات پر اسرائیلی ثقافت پر مبنی پروگرام بھی منعقد کئے گئے ہیں۔

دوسری طرف اب اسرائیل نے انگولا، سوڈان اور چاڈ جیسے افریقی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرنا شروع کر دیئے ہیں جبکہ نیجیریا میں بھی اسرائیلی مداخلت کے شواہد موجود ہیں، جو کہ نیجیرین حکومت اور فوج کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بہرحال افریقی ممالک کو عرب دنیا کے حالات سے سبق حاصل کرنا چاہیئے اور اس بات کو سمجھ لینا چاہیئے کہ آج جو کچھ خطے میں اسرائیل اور امریکہ کی دوستی کے باعث ہو رہا ہے، شاید ایسا سب کچھ ان عرب حکمرانوں کی طرف سے امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی کے نتیجہ میں نہ ہوتا۔ آج جو بھی عرب حکومت امریکہ اور اسرائیل کی دوستی کا دم بھرتی ہوئی نظر آرہی ہے، اس کی ذلت و تحقیر بھی اسی قدر زیادہ ہے جبکہ جن چند ایک حکمرانوں نے اسرائیل کو دشمن قرار دیا ہے، وہ آج بھی عزت کے ساتھ سربلند ہیں اور فخر و حمیت کے ساتھ قائم و دائم ہیں۔ اب فیصلہ افریقی عوام اور ان کے حکمرانوں کو کرنا ہے کہ آیا وہ اسرائیلی نوکری کرکے اپنے ممالک کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں یا دنیا بھر کے مسلمانوں کے دفاع اور بالخصوص مظلوم فلسطینی ملت اور القدس کے دفاع کی خاطر اسرائیل کی دوستی کو ٹھکرائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 775792
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب