0
Sunday 3 Feb 2019 06:42

طالبان سے داعش تک

طالبان سے داعش تک
اداریہ
آجکل طالبان کے بارے میں کوئی رائے دیتے ہوئے انسان مخمصے کا شکار رہتا ہے کیونکہ سیاسی فضا میں اتنی دھند ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ طالبان کا کونسا گروپ ہے اور کس کی ایما پر بیان جاری کر رہا ہے۔ بہرحال چند دن پہلے افغان طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ اور افغان حکومت سے کوئی جنگ نہ ہو تو داعش کا کام ایک ماہ میں تمام کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی فوجی انخلا کے بعد افغانستان میں امن کے لیے داعش کوئی بڑا خطرہ ثابت نہیں ہوسکتی، افغان طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا یہ بھی کہنا ہے کہ داعش کو افغان حکومت اور امریکہ دونوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے اور امریکی حکام بالخصوص سابق امریکی وزیر خارحہ ہیلری کلنٹن اپنی کتاب میں اس بات کا اعتراف کرچکی ہیں کہ داعش کو امریکہ نے وجود بخشا ہے، اس سے پہلے القاعدہ کے بارے میں بھی بہت سے رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ اس کے پیچھے بھی سی آئی اے کا ہاتھ ہے، جبکہ چند ماہ پہلے آل سعود اور بالخصوص بن سلمان نے کھلم کھلا اعتراف کیا تھا کہ ہم نے انتہا پسندی اور تکفیریت کو امریکہ کے کہنے پر شروع کیا تھا، لہذا طالبان بھی آل سعود کا ایک پراڈکٹ تھا، جسے افغانستان کے لیے تخلیق کیا گیا اور پاکستان کے خفیہ اداروں نے بھی اس میں فرنٹ مین کا کردار ادا کیا تھا، جس کی ایک اعلانیہ دلیل پاکستان اور سعودی عرب کا افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا تھا۔

طالبان اور داعش کے شام اور عراق میں گٹھ جوڑ کی کئی مثالیں موجود ہیں، پاکستان میں طالبان کو منطم کرنے والوں نے شام اور عراق میں داعش کی مدد کے لیے باقاعدہ افرادی قوت میسر کی اور پاکستانی جیلوں کو توڑ کر طالبان کے جنگجوئوں کو داعش کے لشکر میں شامل کرانے کی خبریں ڈیرہ اسماعیل خان والوں کو ابھی بھولی نہیں ہیں۔ کیا طالبان میں کوئی جوہری تبدیلی آئی ہے؟
سعودی عرب تکفیریت اور انتہا پسندی کی مدد سے ہاتھ کھینچنا چاہ رہا ہے یا امریکہ کوئی نیا کھیل کھیلنے کے موڈ میں ہے۔؟
طالبان کے ذریعے داعش کے خاتمے کا طالبان کا یہ اعلان اقتدار کی جنگ ہے؟
خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بارے میں اختلاف ہے؟
روس، چین، ایران سے نئی بارگینگ ہے یا طالبان کا پاور شو ہے؟
افغانستان میں نئے ڈرامے کا اسٹیج سج گیا ہے اور پردہ اٹھںے کی منتظر ہے نگاہ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
خبر کا کوڈ : 775850
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے