0
Wednesday 6 Feb 2019 09:42

پاکستان میں اہل تشیع کو تقسیم کرنیکی سازش کا انکشاف

پاکستان میں اہل تشیع کو تقسیم کرنیکی سازش کا انکشاف
لاہور سے ابو فجر کی رپورٹ

پاکستان میں ملت جعفریہ کیخلاف گھناونی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں شیعہ سنی تفرقہ بازی میں ناکامی کے بعد دشمن نے اب اہل تشیع کے درمیان تفرقہ پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اس حوالے سے علماء اور ذاکرین جبکہ مقلد اور غیر مقلد کی تفریق پھیلائی جا رہی ہے۔ سٹیج حسینی پر گمراہ کن نظریات کے فروغ کیخلاف علماء کرام کی جانب سے جامعۃ المنتظر لاہور اور جامعۃ الکوثر اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا، جن میں تشیع کے عقائد کے دفاع کا فیصلہ کیا گیا۔ علماء کرام نے مذکورہ کانفرنسز میں فیصلہ کیا کہ سٹیج حسینی پر تشیع کے مسلمہ عقائد سے ہٹ کر گمراہ کن نظریات کو فروغ دینے والوں کا سختی سے محاسبہ کیا جائے گا۔ علماء کے اس فیصلے کے بعد غیر مقلد طبقے کو شہ دی گئی اور انہوں نے بھی "جوابی وار" کرتے ہوئے علماء کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کیا۔

اس حوالے سے لاہور میں "شعیان حیدر  کرار امامیہ (غیر مقلد)" کا اجلاس امام بارگاہ قصر بتول ہنزہ بلاک علامہ اقبال ٹاون میں منعقد ہوا۔ جس میں سید ابوذر بخاری متولی امام بارگاہ قصر بتول ہنزہ بلاک، سید حسنین حیدر کاظمی صدر "شیعان حیدر کرار  اثناء عشریہ امامیہ غیر مقلد پاکستان، سید ابوذر بخاری، مخدوم سید کلیم حیدر گیلانی سجادہ نشین ڈھیری پیراں، علامہ موسیٰ حیدر زیدی، رائے مزمل حسین، علامہ رضوان ترابی، علامہ سید علی ضیغم، علامہ آغا سبط حسن، سید رزق نقوی، سید ظہیر حیدر زیدی، وحید مصطفیٰ نقوی، سید رضا عباس زیدی، سید کاشف گردیزی، سید سکندر رضوی، سید سعادت حسین رضوی، سیٹھ قمر، سید کاشف نقوی، سید علی حسین شاہ، ندیم جعفری کربلائی، سید ثمر عباس، سید میثم تمار بخاری، سید سجاد شاہ، سید حسن رضا نقوی، سید اکرم بخاری ایڈووکیٹ، علی مرتضیٰ اولکھ ایڈووکیٹ، سید حسن رضا ایڈووکیٹ، علمدار قریشی، سید زین نقوی ایڈووکیٹ، سید تقی شاہ ایڈووکیٹ سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب میں سید حسنین حیدر کاظمی صدر شیعان حیدر کرار اثناء عشریہ غیر مقلد نے سربراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ ساجد علی نقوی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری امام حسین پر نقب لگائی جا رہی ہے اور غیر ملکی وظیفہ خور مولوی ہمارے عقائد خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علامہ ساجد نقوی اپنے بیان کو فوری طور پر واپس لیں اور معذرت کریں، انہوں نے کہا کہ علامہ ساجد نقوی نے جامعۃ المنتظر میں آئمہ جمعہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجالس کو الٹانے اور بانیان کیخلاف مقدمات درج کروانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام علماء کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور علامہ ساجد علی نقوی کو اپنا لیڈر تسلیم نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ عزاداری کیخلاف کوئی سازش قبول نہیں کریں گے اور ہر سٹیج پر ان کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم غیر مقلد ہیں، ہم کسی نظام کو تسلیم  نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مقلد شیعان کا پہلے صوبائی اور پھر ملک گیر کنونشن بلایا جائے، اس میں ہمارے ذاکرین کیخلاف مقدمات درج کروانے والوں کیخلاف لائحہ عمل کا تعین کیا جائے۔ مبصرین کے مطابق اہل تشیع میں پیدا ہونیوالی یہ تفریق انتہائی خطرناک ہے، جس کے سدباب کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ملت کے ذمہ دار عمائدین کا بھی کہنا ہے کہ یہ بیرونی سازش ہے، جو نظام ولایت فقیہ کیخلاف ہے، اس کے سدباب کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 776399
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے