0
Tuesday 19 Feb 2019 12:15

انقلاب مستقبل کے آئینے میں(2)

انقلاب مستقبل کے آئینے میں(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
معروف یہودی دانشور بیچلین اپنے تجزیئے میں لکھتا ہے کہ امریکہ اپنی تمام تر فوجی اور اتحادی طاقت نیز یورپ اپنی تمام تر بے وفائیوں کے باوجود اسلام کے فروغ کی لہر کو روکنے میں ناکام رہا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام مستقبل بعید نہیں بلکہ مستقبل قریب میں یورپ میں سب سے آگئے ہوگا۔ 2000ء میں پاپ نے اعلان کیا تھا کہ 2015ء تک تمام براعظم افریقہ عیسائیت میں تبدیل ہو جائیگا، اس ہدف کی تکمیل کے لئے دنیا بھر کے عیسائی مبلغین اور پادری وغیرہ افریقہ بھر میں پھیل گئے۔ اس وقت افریقہ میں کیتھولک عیسائیوں کی تبلیغ کا بہت بڑا نیٹ ورک عیسائیت کی تبلیغ میں مشغول ہے، لیکن اس تمام کاوش، محنت اور سرمایہ گزاری کے باوجود اسلام اس خطے کا سب سے پسندیدہ اور ہر دلعزیز دین ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی بدولت آج صرف تیسری دنیا یا مظلوم اقوام میں اسلام کی محبوبیت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی دین اسلام کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت مغرب میں اسلام کی ترویج کے صحیح اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں ہیں، لیکن وہ حلقے جو مغرب میں آبادی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہر سال ہزاروں مرد و خواتین دین اسلام کو اختیار کر رہی ہیں۔

اخبار ڈیلی گراف نے یورپ میں مسلمانوں کی آبادی کے بارے میں موجود اعداد و شمار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 2050ء میں یورپ کا ایک بڑا حصہ مسلمان آبادی پر مشتمل ہوگا۔ گارڈین نے بھی کچھ عرصے پہلے پیو نامی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کی روشنی میں یورپ میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح نمو کو 35 فیصد لکھا ہے۔ اس رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ  2030ء میں تمام یورپی ممالک میں مسلمانوں کی آبادی دس فیصد سے تجاوز کر جائیگی۔ آخر میں اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ ایران کے اسلامی انقلاب کو ہر طرح کے ہتھکنڈوں سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ جنگ کے ساتھ اقتصادی پابندیاں نیز نرم و سخت جنگ سمیت ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا، لیکن ایران کا انقلاب اپنے کامیاب سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس انقلاب اور اسلامی حکومت کا مستقبل روشن و پرامید ہے۔ یہ انقلاب ایران سمیت دنیا کے تمام آزاد منش اور حریت پسندوں کو امید و نشاط کا پیغام دے رہا ہے۔ ایران 1979ء میں بھی محروموں کے لئے ایک امید اور حوصلہ تھا اور آج چالیس سال کے سفر کے بعد بھی بدستور محروموں اور مستضعفوں کا حامی و ناصر ہے۔

رہبر انقلاب نے امریکہ کے اس شکست خوردہ منصوبے کے بارے میں فرمایا تھا کہ امریکہ اور ایران دشمن طاقتوں کا یہ ہدف تھا کہ اقتصادی پابندیوں اور سلامتی کے خلاف اقدامات سے ایرانی عوام میں اختلافات پیدا کر دیں اور ایران میں مختلف گروہ   ایک دوسرے سے متصادم ہو جائیں، اسی وعدے پر بعض لوگوں کو سڑکوں پر لایا گیا اور اس کو  Hot summer "انتہائی گرم موسم گرما" کا نام دیا گیا، لیکن دشمن کے دعووں کے بجائے اس سال کا موسم گرما بہترین موسم گرما تھا۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی اس منصوبے اور ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے نیز انقلاب کی چالیسویں سالگرہ نصیب نہ ہونے کے امریکی دعوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سال بھی ایرانی عوام ایران کی سڑکوں پر انقلاب کا جشن منائیں گے۔ آج ایرانی عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ انقلاب کی امنگوں اور اہداف سے مکمل متفق اور ہم آہنگ ہیں اور اس کے لئے ہر طرح کی ایثار و قربانی کے لئے بھی تیار ہیں۔ گیارہ فروری کی عظیم الشان ریلیوں میں عوام کی وسیع  و بے مثال شرکت ایک بار پھر انقلاب دشمن طاقتوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب چالیس سال پہلے بھی اور اب بھی ایرانی عوام کے قلب و ذہن میں بستا ہے اور وہ اس انقلاب کو دل و جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے گذشتہ چالیس سالوں میں ترقی و کمال کے راستے کو جاری رکھتے ہوئے سامراجی سازشوں کے مقابلے میں مقاومت و استقامت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے نظریات، امنگیں اور اہداف نیز ان اہداف اور امنگوں سے ایرانی عوام کی محبت اور قیادت کی وابستگی و عقیدت بے مثال و بے نظیر ہے۔ ایرانی قیادت اور عوام نے گذشتہ چالیس سالوں میں اسکا بارہا اظہار بھی کیا ہے۔ ایرانی قیادت اور عوام آج بھی اپنی امنگوں اور انقلابی اہداف سے مخلص ہے اور اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد نے اس انقلاب کا بیمہ کر دیا ہے اور مستقبل بھی اس انقلاب کو کوئی گزند و نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جس انقلاب کا نظریہ آقاقی ہو، جسکی قیادت اپنے نظریئے پر ایمان رکھتے ہوئے انقلاب کے اہداف کے حصول کو اپنا فریضہ سمجھتی ہو اور جس انقلاب سے عوام کی محبت و عقیدت چالیس برسوں کے بعد بھی پہلے کی طرح بے مثال ہو، تو اس انقلاب اور اس نظام کو شکست دینا اگر ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہے۔

جب تک نظریئے، قیادت اور عوام کی مثلث مکمل رہے گی، یہ انقلاب زندہ و تابندہ رہے گا۔ دوسرے لفظوں میں جس نظریئے پر انقلاب برپا ہوا، وہ نظریہ اگر نصب العین اور  بنیادی ہدف رہا نیز انقلاب کی قیادت بھی پورے خلوص کے ساتھ انقلاب کے نظریئے  سے جڑی رہی اور اس کے ساتھ ساتھ عوام بھی نظریئے پر ایمان اور قیادت پر یقین  رکھتے ہوئے نظریئے اور قیادت کے ساتھ کھڑی رہی تو اس انقلاب اور اسلامی حکومت کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس آرٹیکل کا اختتام رہبر انقلاب اسلامی کے اس بیان سے کرتے ہین، جس مین آپ نے مستقبل کے آئینے میں اسلامی انقلاب کی تصویر دکھائی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے بیان میں آیا ہے کہ ایرانی عوام کا پرشکوہ انقلاب عصر حاضر کا سب سے بڑا اور عوامی ترین انقلاب ہے اور وہ واحد انقلاب ہے، جس نے اپنی امنگوں سے خیانت کئے بغیر چالیس برس کا قابل فخر راستہ طے کیا ہے اور تمام تر وسوسوں کے مقابلے میں جو بظاہر ناقابل شکست دکھائی دیتے تھے، اپنے اصل نعروں کو محفوظ رکھا اور اب خود سازی، سماج پروری اور تہذیب سازی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

رہبر انقلاب نے اپنے اس پیغام میں ایرانی عوام کے اسلامی انقلاب کو طاقتور، لیکن مہربان اور حتیٰ مظلوم انقلاب قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی انقلاب ایران نے کسی بھی معرکے میں چاہے امریکہ کے ساتھ ہو یا صدام کے ساتھ، پہلی گولی نہیں چلائی اور ہر معاملے میں دشمن کے حملے کے بعد اپنا دفاع کیا اور البتہ دشمن کے حملے کا ٹھوس جواب بھی دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایک زندہ اور باعزم انقلاب ہے اور اپنی لچک کے ذریعے اپنی غلطیوں کی  تصحیح کرنے کے لیے آمادہ ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب اصولوں سے ہٹنا نہیں اور نہ ہی کمزوری کا اس میں کوئی گزر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کہ اسلامی انقلاب، حکومت کے قیام کے بعد جمود اور خاموشی کا شکار ہوا نہ ہوگا اور انقلابی جوش و جذبے اور سیاسی و سماجی نظم کے درمیان کوئی تضاد اور ناسازگاری محسوس نہیں کرتا، بلکہ انقلابی نظام کے نظریئے کا تا ابد دفاع کرتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی کے بیان میں آیا ہے کہ آج کا طاقتور ایران بھی آغاز انقلاب کی مانند، سامراجی طاقتوں کی محاذ آرائی سے روبرو ہے، لیکن اس میں معنی خیز فرق پایا جاتا ہے۔ اگر ان دنوں اغیار سے چھٹکارہ پانے، تہران میں اسرائیل کے سفارت خانے کی بندش اور امریکی جاسوسی کے اڈے کی رسوائی کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی تھی تو آج اسرائیل کی سرحدوں کے قریب ایران کی طاقتور موجودگی، مغربی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کی بساط لپیٹنے، ایران کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کے قلب میں فلسطینی جیالوں کی مجاہدانہ کارروائیوں کی حمایت اور اس علاقے میں حزب اللہ اور تحریک مزاحمت کے دفاع کے معاملے پر کشمکش ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امریکی ایک زمانے میں یہ سمجھ رہے تھے کہ چند خود فروختہ ایرانیوں یا چند ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہ ایران کے اسلامی نظام اور ملت ایران پر قابو پا لیں گے، تو آج انہیں اسلامی جمہوریہ کا سیاسی اور سکیورٹی بنیادوں پر مقابلہ کرنے کے لئے خطے کے معاند اور مرعوب ملکوں کے بڑے اتحاد کی ضرورت ہے، البتہ اس مرحلے میں بھی امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 778578
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب