0
Sunday 17 Feb 2019 22:43

انقلاب مستقبل کے آئینے میں(1)

انقلاب مستقبل کے آئینے میں(1)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

معروف نظریہ پرداز کرین برینٹن(Crane Brinton) کا کہنا ہے کہ ہر انقلاب میں نشیب و فراز سامنے آتے ہیں، لیکن تمام انقلابوں کی حتمی تقدیر ایک دوسرے سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہے۔ اس نظریئے کے مطابق جب تک عوام میں انقلاب کا جوش و جذبہ ہوتا ہے، وہ آگے کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور بالآخر یہ سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے، جس کے بعد جوش و جذبہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور سرعت عمل میں سستی و کوتاہی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات داخلی تضادات کی بدولت انقلابی قوتیں آپس میں ٹکرانا شروع کر دیتی ہیں، جس کا حتمی نتیجہ انقلاب کے سقوط کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اس طرح معاملات ماضی کی ڈگر پر واپس آ جاتے ہیں۔ یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیا یہی نظریہ ایران کے اسلامی انقلاب پر بھی صادق آتا ہے یا نہیں۔ چالیس سال کا ماضی اور موجودہ صورت حال کس طرح کے مستقبل کا پتہ دے رہی ہے۔ آج کل ماہرین سماجیات اور مختلف نظریہ پرداز "انقلاب اسلامی" سے زیادہ ایران کے اسلامی انقلاب کے مستقبل کے بارے میں زیادہ تحقیق کر رہے ہیں۔

اسلامی انقلاب کے مستقبل کی تھیوری کے حوالے سے تین طرح کی نظریاتی صورت حال کے تناظر میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلا امکان یہ ہے کہ ایران کا انقلاب تبدیل ہو جائے اور اس کی داخلی ترقی و ارتقاء رک جائے، دوسرا یہ کہ بیرونی طاقتیں اس کو باہر سے کنٹرول کرکے اپنی مرضی کے راستے پر گامزن کر دیں اور تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ یہ انقلاب پہلے کی طرف مضبوط و مستحکم رہے اور انقلاب ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ترقی و پیشرفت کی منزلیں طے کرتا رہے۔ غیر جانبدار تجزیہ نگار کے مطابق ان تینوں امکانات میں تیسرا امکان قوی و مضبوط نظر آتا ہے اور اس کے لئے مختلف دلائل بھی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ایران کے چالیس سالہ ماضی کی تاریخ بھی اس کی شاہد و مشہود نظر آتی ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے جس طرح گذشتہ چالیس برسوں میں ترقی و پیشرفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے  نئے تمدن اسلامی کی طرف قدم بڑھائے ہیں اور اس تسلسل میں کسی موقع پر بھی کمی اور سستی نہیں آنے دی۔ اسی موضوع نے عوام میں امید کو زندہ و تابندہ کر رکھا ہے اور ان کے انقلابی جوش و جذبے میں کمی نہیں آرہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب اپنے دور کا منفرد انقلاب اور ایسا تاریخی واقعہ ہے، جس کا آغاز، دوران اور نتیجہ دنیا کے دیگر انقلابوں سے بہت مختلف ہے نیز اسکی تاثیر چالیس برسوں کے بعد بھی قلب و ذہن پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس اثر و رسوخ کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات کا آفاقی اور ہر دور کے لئے قابل عمل ہونا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی انقلاب کے بعد جس جدید تمدن اسلامی نے تشکیل پائی ہے، اسے زمان و مکان کی قید میں لانا ممکن نہیں ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں انجام پانے والی تحقیقات کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تمدن اسلام مستقبل کے تمدنوں میں سب سے مضبوط تمدن ہے اور اس میں عصر حاضر اور آئندہ کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے کی بہترین صلاحیت ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب اور اسکا تشکیل کردہ اسلامی تمدن اس وقت اسلامی تمدن کا حقیقی نمائندہ تصور بن کر ابھرا ہے اور اسکا کوئی دوسرا رقیب بھی نہیں ہے۔

ایران کا اسلامی انقلاب دراصل ان الہیٰ تحریکوں کا تسلسل اور ماحصل نظر آتا ہے، جن کی قیادت و امامت انبیاء و رسل نے کی ہے، ایران کے اسلامی انقلاب کا انبیاء کی الہیٰ تحریکوں سے منسلک ہونا ایسی حقیقت ہے، جس کو ارادہ الہیٰ کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس کی بدولت انسان اپنی حقیقی فطرت کی طرف پلٹے اور انہوں نے دینی اقدار کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیا۔ مغربی دانشوروں نے اسلامی انقلاب کو خداوند عالم کی انسانیت کی طرف واپسی سے تعبیر کیا ہے۔ مغربی دانشوروں کے مطابق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک پرسکون انقلاب مضبوط نظریئے اور دلیل کی بنیاد پر برپا ہوا اور اس کی بدولت خدا انسانی زندگی میں پلٹ آیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی اس بات کے قائل تھے کہ ایرانی ملت کو خداوند عالم نے پیدا کیا اور یہ انسانوں کے بس کی بات بھی نہیں، کیونکہ ماضی کی تاریخ میں اس طرح کے انقلاب کی مثال نہیں ملتی۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی اسی حوالے سے فرماتے ہیں: یہ انقلاب ناقابل شکست ہے اور اس کو زوال سے دوچار نہیں کیا جاسکتا،  اس انقلاب کی ترقی و پیشرفت کو روکا نہیں جا سکتا، کیونکہ ہمارا معاشرہ  ایک مومن اور مذہبی معاشرہ ہے اور لوگ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے دین اور نظریات پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ نظریہ معاشرے کے تمام طبقات میں اثر و نفوذ کا حامل ہے۔ عوام حقیقی معنوں میں اپنے دین پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی اس انقلاب کے چالیس سالوں کو اس انقلاب کی بلوغت، پختگی اور سنجیدگی کی علامت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے چالیس سال اس انقلاب کے بڑھاپے کی علامت اور انقلاب کی واپسی و پسپائی نہیں بلکہ پختگی و نشاط کا ثبوت ہیں۔ ایران کا اسلامی انقلاب الحمداللہ خدا کی قدرت و طاقت سے اپنے انقلابی سلوگن کا تحفظ کرتے ہوئے اپنے پرچم کو بلند کئے ہوئے بدستور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔

ایران کی چالیس سالہ روشن تاریخ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ دشمن اپنے مقصد  میں کامیاب نہیں ہوسکا، دشمن طاقتیں ایرانی عوام کو نہ صرف اپنے اہداف اور الہیٰ امنگووں سے دور نہیں کرسکی ہیں بلکہ اس ملت کو مغربی طاقتوں کے سامنے  جھکانے کی تمام سازشیں بھی نقش بر آب ثابت ہوئیں۔ اگر عالمی طاقتیں ایران کے اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت پر قابو پانے میں کامیاب ہوچکی ہوتیں تو وہ انقلابی سرگرمیوں کو روکنے میں کامیاب ہو جاتیں اور ایران میں اسلام کی رشد و ترقی کا باب بند ہو جاتا۔ البتہ یہاں پر اس بات کو بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کی بقاء ایران کے انقلاب اسلامی سے ہرگز وابستہ نہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں اسلام کی رشد و ترقی میں ایران کے اسلامی انقلاب کا بنیادی کردار ہے۔ دنیا میں مختلف انقلاب وقوع پذیر ہوئے ہیں، لیکن ایران کے انقلاب کی بنیادی خصوصیت اس کا دینی و اسلامی ہونا ہے۔ امام خمینی کی تعبیر کے مطابق ہمارا انقلاب سب سے منفرد اور الگ ہے، لہذا اس کا قائم و دائم رہنا بھی ایک استثنائی خصوصیت ہے۔

اس انقلاب پر مشرق و مغرب کے مفکرین عرصے سے تجزیہ و تحلیل کر رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے اپنے پروگرام میں ایران کے اس انقلاب کے اثر و رسوخ کو اپنی توقعات اور تصورات سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 1979ء میں ایران میں کامیاب ہونے والا انقلاب صرف ایرانیوں کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ تمام ادیان الہیٰ کے لئے ایک اہم موڑ کی حثیت رکھتا ہے، جس کی بدولت دنیا کے لاکھوں مذہبی فکر رکھنے والے افراد اپنے بنیادی اصولوں کی طرف پلٹے ہیں۔ بی بی سی کی اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں من جملہ عیسائیت، یہودیت اور ہندوؤں میں مذہبی تعلیمات کی طرف رجحان میں اضافہ ہوا۔ بی بی سی کے مطابق یہاں تک کہ  ترکی میں بھی لوگوں کی توجہ اسلام کی طرف بڑھی، جہاں گذشتہ ستر سالوں سے اتاترک کے سیکولر نظریات کی وجہ سے مذہب کے خلاف جنگ جاری تھی۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی تاریخ گواہ ہے کہ جوں جوں اس انقلاب نے اپنا سفر آگے بڑھایا، دشمن نے اپنی ساری سازشوں کو سرعت دی اور اس انقلاب اور نظام کو نابود کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کیں۔ ان تمام سازشوں کا نتیجہ شکست اور پیشمانی کے علاوہ کچھ برآمد نہ ہوا۔
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 778580
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب